Abd Add
 

شمارہ یکم ستمبر 2005

شمارہ نمبر: 121

بوسنیا سے وابستہ وحشتناک یادیں

September 1, 2005 // 0 Comments

نورا السفیک اور اسکی بالغ بیٹی مقبولا (Magbula) Tuzla میں واقع اپنے گھر سے سربرانیکا مہینے میں دو بار بذریعہ بس بوسنیا کے پہاڑیوں میں واقع معدنیات سے مالا مال شہر کو جاتی ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں نازی موت کے کیمپوں کے بعد یورپ کا بدترین قتلِ عام دیکھنے میں آیا تھا۔ ۱۱ جولائی ۱۹۹۵ء کو سربیائی فوجیں جن کی قیادت جنرل راٹکو ملادک (Ratko Mladic) کر رہے تھے‘ نے سربرانیکا میں کم و بیش ۷۸۰۰ مسلمان مردوں اور بچوں کو قید کر کے ذبح کر دیا۔ انہی کی طرح اور بھی بہت ساری عورتیں۔ بیوہ‘ یتیم اور بھائیوں سے محروم ہو گئیں۔ وہ قصبہ جہاں صرف ۳۵۰۰ مکین رہتے ہیں‘ وہاں روزانہ چار بسیں Tuzla اور سراجیو کے لیے چلتی ہیں‘ جو [مزید پڑھیے]

جاپانی خواتین۔۔۔ ضائع شدہ سرمایہ

September 1, 2005 // 0 Comments

ٹائم کے کالم نگار Hannah Beech کا خیال ہے کہ جاپانی خواتین اسمارٹ ہوتی ہیں نیز کاروباری‘ انتظامی‘ تنظیمی و تدبیری صلاحیتوں سے آراستہ ہوتی ہیں لیکن نہ معلوم کیوں ان کی صلاحیتوں کو مہمیز دینے کی کوشش نہیں کی جاتی؟ Yuka Tanimoto کو چائے پیش کرنے کا خوب سلیقہ ہے۔ وہ یقینا اس کے علاوہ بھی بہت کچھ انجام دے سکتی ہے لیکن اس ۳۳ سالہ جاپانی نیوز کاسٹر کا کہنا ہے کہ اس کے جاپانی باس جو سب کے سب مرد ہیں‘ چائے کے علاوہ اس کی صلاحیتوں میں بہت زیادہ دلچسپی کا اظہار نہیں کرتے۔ Yamaichi Securities نامی فرم جسے Tanimoto نے ۱۹۹۷ء میں نیوز کاسٹر کی حیثیت سے جوائن کیا تھا‘ خبروں پر اپنی رائے اور تبصرہ دینے کی وجہ سے [مزید پڑھیے]

بحیرہ قزوین (Caspian Sea) کی بیش بہا دولت کو اسرائیل تک پہنچانے کا منصوبہ

September 1, 2005 // 0 Comments

گزشتہ سے پیوستہ امریکا کے عراق سے متعلق رویے نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی عالمی صیہونی استعماریت کو دنیا پر مسلط کرنے کے لیے کسی بھی کارروائی سے دریغ نہیں کر رہا۔ ذرائع کے مطابق وسطی ایشیا کے بعد عراق کے امریکی عسکری اڈے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ اس سلسلے میں شمالی عراق میں کرکوک کے مقام پر نیا فوجی اڈا قائم کیا گیا ہے‘ جس کا اول ہدف ایران ہو سکتا ہے۔ امریکی وزارتِ دفاع کے حوالے سے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اڈے پر ایٹمی اور کیمیائی وار ہیڈ سے مسلح میزائل نصب کیے جارہے ہیں۔ یہ میزائل اس سے پہلے ترکی میں انجرلیک کے امریکی اڈے پر نصب ہیں‘ جبکہ امریکا پہلے شمالی عراق کے اہم [مزید پڑھیے]

جماعت اسلامی ہند: سیاست میں سرگرمِ عمل ہونے کو ہے!

September 1, 2005 // 0 Comments

ڈاکٹر محمد نجات اﷲ صدیقی بین الاقوامی شہرت کے ماہر اقتصادیات اور معروف اسکالر ہیں‘ وہ اسلامی تحریکوں کے فکری قائد ہیں۔ دہلی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ’’ریڈی اینس‘‘ کے مہتاب عالم سے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ جماعت اسلامی ہند اور اسلامی تحریکوں کو درپیش مسائل پر گفتگو کی ہے۔ ڈاکٹر نجات اﷲ صدیقی پوری دنیا کے مسلمانوں اور اسلامی تحریکات میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کے افکار و نظریات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے‘ لیکن ان کی علمی بصیرت اور دینی خدمات کے بارے میں دورائے نہیں ہو سکتیں۔ پاکستان کے حالات میں ڈاکٹر صاحب کے خیالات پوری طرح فٹ نہیں بیٹھتے لیکن بھارت کے مسلمان جو ہندو جبر کا سامنا کر رہے ہیں‘ [مزید پڑھیے]

فکری اور نظریاتی میدان کو فعال بنانے کی ضرورت!

September 1, 2005 // 0 Comments

ایک جریدہ کی اشاعت کے ذریعہ ہم نئے سرے سے اپنی جدوجہد کا آغاز کر رہے ہیں اور اس موقع پر ہمیں علامہ اقبال کا یہ مصرعہ یاد آرہا ہے: ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں ہمارے پیش نظر اس کا مقصد آج بھی ’’فروغِ فکر و آگہی‘‘ ہے۔ اسلامی نظریہ کی اشاعت کی راہ میں حائل رکاٹوں اورمسائل کا ذکر کیا جائے تو بات طویل ہو جائے گی اور ہم یہ بھی نہیں چاہیں گے کہ ہم اپنے مہربانوں میں سے کسی کا شکوہ کریں۔ ہمیں اللہ ہی پر بھروسہ ہے اور وہی بھروسہ کے لائق ہے۔ ماضی میں ہم نے ایسے مضامین شائع کیے ہیں جن کا ایک اہم مقصد امتِ مسلمہ میں ہم آہنگی اور اخوت کے فروغ کے لئے افکار [مزید پڑھیے]

۱۴؍ اگست ۲۰۰۵ء

September 1, 2005 // 0 Comments

پاکستان کا یوم آزادی ۱۴ اگست ۲۰۰۵ء کو تھا۔ اس روز قیام پاکستان کو ۵۸ برس پورے ہو گئے۔ اس نصف صدی سے زائد کا حساب لگانا ہو یا ماقبل سے تقابل کرنا ہو تو کچھ پیچھے کی طرف جانا ہو گا۔ پھر ہی ہم کچھ صحیح فیصلہ کرنے کے قابل ہوں گے۔ اسی آئینہ تقابل میں دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان بننے سے مجموعی طور پر مسلمانوں کی زندگی میںبہت مثبت فرق دیکھنے میں آتا ہے۔ انگریزوںنے مسلمانوں سے حکومت حاصل کی تھی۔ ہندو اکثریت کے ساتھ ہم آہنگی اس کے ہر طرح سے مفاد میں تھی۔ یوں آہستہ آہستہ دونوں قومیں سینئر اور جونیئر پارٹنر بن گئیں۔ مسلمان سماجی، سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے بہت پیچھے رہ گئے۔ قیام پاکستان سے [مزید پڑھیے]

تعلیم کی عالمگیریت

September 1, 2005 // 0 Comments

برطانوی ناول نگار Kingsley Amis کہتا ہے، زیادتی کا مطلب معیار میں کمی ہے۔ اس نے پیش گوئی کی کہ یونیورسٹیز کا پھیلائو اس کے معیار کو کم کرے گا۔ سال کے اس حصے میں جب بہت سے طلبہ کالج جانے کے لئے تیار ہوتے ہیں، یہ موزوں ہو گا کہ ہم یہ معلوم کریں کہ آیا بات درست ہے؟ اعلیٰ تعلیم کی ابتدا عالمگیریت کا مظہر ہے۔ ۴۵ سال پہلے جب Amis نے اپنی پیش گوئی کی‘ اس وقت صرف ۵ فیصد برطانیہ کے طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے تھے۔ آج یہ ۴۵ فیصد کے قریب ہے اور امریکی کالجز میں داخلے کی شرح میں بھی برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ ۱۹۶۰ء میں ۴۵ فیصد اسکول کے بچے کالج میں میں enroll ہوتے [مزید پڑھیے]

میں مسلمان کیوں ہوا۔۔۔؟

September 1, 2005 // 0 Comments

عرصہ دراز سے مختلف ممالک کے لوگ بڑی تعداد میں سعودی عرب آرہے ہیں تاکہ یہاں کام کر کے کچھ سرمایہ جمع کر لیں اور اپنی معاشی زندگی بہتر بنا سکیں۔ اس لحاظ سے یہ ملک نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیرمسلموں کے لیے بھی پرکشش ہے۔ صالح ایچان بھی اسی وجہ سے فلپائن سے سعودی عرب آئے، ان کا پیدائشی نام جوپال ایچان تھا۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران انہیں مختلف تہذیبی اور معاشرتی مسائل سے دوچار ہونا پڑا، جن سے نمٹنے کے لیے انہیں بے حد جدوجہد کرنی پڑی۔ ان کی فراست، محنت اور اخلاص سے عجیب و غریب نتائج سامنے آئے، جو کہ ان کے خواب و خیال میں بھی نہ تھے۔ ان کی دلچسپ کہانی ہر بنی نوع انسان [مزید پڑھیے]