Abd Add
 

شمارہ 16 فروری 2010

پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی
جلد نمبر:3، شمارہ نمبر:04

طالبان کو مرکزی دھارے میں لانا

February 16, 2010 // 0 Comments

سوال یہ ہے کہ جب طالبان اتحادی اور بالخصوص امریکی افواج سے انتقام لینے پر تلے ہوئے ہیں تو کیا انہیں مرکزی دھارے میں لایا جاسکتا ہے؟ برطانیہ کے میجر جنرل رچرڈ بیرنز کی رائے یہ ہے کہ افغانستان کے حالات درست کرنے کے لیے طالبان کو پولیس اور فوج میں بھرتی کرنا پڑے گا اور طالبان رہنمائوں کو حکومت کا حصہ بنانا پڑے گا۔ ہوسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں طالبان رہنما بھی کرزئی کابینہ میں دکھائی دیں۔ میجر جنرل رچرڈ بیرنز نیٹو کی اس ٹاسک فورس کے سربراہ ہیں جسے طالبان کو مرکزی دھارے میں لانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ شمالی آئر لینڈ، بوسنیا اور عراق کے تجربے کو افغانستان میں کسی خوف کے بغیر اپنانا چاہیے۔ [مزید پڑھیے]

’’بھارتی تسلط سے آزادی کا یقین دلاتا ہوں!‘‘

February 16, 2010 // 0 Comments

سید علی گیلانی اپنی ذات میں خود ایک تحریک ہیں۔ بھارتی ظلم و ستم کے سامنے عظمت و استقامت کے اس پہاڑ کی زندگی کا بیشتر حصہ جیل میں گزرا۔ اپنے مقصد سے سچے لگائو اور اس کے لیے مثالی جدوجہد کے اعتراف میں بھارتی فوج نے انہیں ’’ضمیر کا قیدی‘‘ کا خطاب دیا۔ سید علی گیلانی ۲۹ ستمبر ۱۹۲۹ء کو زورمنگ‘ بانڈی پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور میں حاصل کی‘ گریجویشن اورینٹل کالج لاہور سے کی۔ لاہور کی گلیوں سے ان کو آج بھی خصوصی لگائو ہے۔ ان کے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ آپ مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ علم و ادب سے شغف رکھنے والی شخصیت بھی ہیں۔ آپ کی ۳۰ سے زائد تصانیف ہیں‘ آپ آج کل کُل [مزید پڑھیے]

ہیلری کلنٹن اور ہنری کسنجر آمنے سامنے

February 16, 2010 // 0 Comments

ہنری کسنجر سے کون واقف نہیں۔ وہ امریکی وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔ عملی سیاست سے کنارہ کش ہونے کے بعد ہنری کسنجر نے تجزیہ نگار کی حیثیت سے شہرت پائی۔ وہ آج بھی مختلف اخبارات اور جرائد کے لیے تجزیے تحریر کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں انہیں پڑھنے اور سننے والوں کی خاصی بڑی تعداد ہے۔ ہیلری کلنٹن خاتون اول رہ چکی ہیں۔ اب وہ امریکی وزیر خارجہ ہیں۔ وزارت خارجہ میں اہم ذمہ داریاں کیا کیا ہوتی ہیں، ترجیحات کا تعین کس طرح ہوتا ہے، امریکی صدور کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کسی بھی جنگ کو کس طور سمیٹا جاتا ہے، ان امور پر ہنری کسنجر اور ہیلری کلنٹن نے امریکی جریدے نیوز ویک سے جو گفتگو کی [مزید پڑھیے]

مختصر مختصر

February 16, 2010 // 0 Comments

خانۂ کعبہ کی چابی شاہِ یمن تبع اسد حمیری نے اپنے زمانے میں خانہ کعبہ میں دروازہ اور قفل لگوایا اور اس کی چابی کا اہتمام کیا۔ اس وقت سے یہ چابی شیبی خاندان کے پاس ہے۔ یہ ایک مہتمم بالشان اعزاز ہے جو اس خاندان کو حاصل ہے۔ شیبی خاندان قبیلہ قریش ہی کی ایک شاخ ہے جبکہ حضوراکرمؐ کا تعلق قبیلہ قریش کی دوسری شاخ سے تھا۔ زمانۂ قدیم سے غلاف کعبہ کے ساتھ ہی ایک مخصوص تھیلی بھی تیار کی جاتی تھی جو خانۂ کعبہ کی چابی رکھنے کے لیے ہوتی تھی۔ یہ تھیلی سبز ریشمی کپڑے کی ہوتی تھی جس پر زردوزی کا کام ہوتا تھا۔ اس تھیلی کے ایک طرف سورۂ نساء کی آیت ۵۸‘ دوسری طرف سورۂ نمل کی [مزید پڑھیے]