Abd Add
 

شمارہ 16 جون 2013

پندرہ روزہ معارف فیچرکراچی
جلد نمبر:6، شمارہ نمبر:12

حسن روحانی کی مختصر سوانح حیات

June 16, 2013 // 0 Comments

نومنتخب ایرانی صدر ۱۳ نومبر ۱۹۴۸ء کو ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا پیدائشی شہر ’’سرخہ ‘‘صوبہ سمنان میں واقع ہے ۔ جناب حسن روحانی نے اپنی دینی تعلیم کا آغاز سمنان کے مدرسے سے ۱۹۶۰ء میں کیا۔ ایک سال بعد وہ مقدس شہر قم چلے گئے۔ ۱۹۶۹ء میں آپ نے تہران یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور تین سال بعد یہاں سے قانون میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ۔جناب روحانی نے گیلسگو کیلیڈونین یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ روحانی پہلوی حکومت کے خلاف ایک نوجوان کی حیثیت سے جدوجہد میں شامل رہے۔ ۱۹۷۹ء میں جلاوطنی کی زندگی ترک کرنے کے بعد جب امام خمینیؒ فرانس سے ایران واپس لوٹ آئے تواُس وقت روحانی یورپ [مزید پڑھیے]

’’جدید ترک جمہوریہ‘‘ ایک نئی بحث

June 16, 2013 // 0 Comments

خلافتِ عثمانیہ کے باقاعدہ خاتمے کو اب ۹۰ برس ہو چکے ہیں، اکتوبر کی ۲۹ تاریخ کو ہر سال اس ’’عظیم الشان‘‘ کارنامے کو یاد کیا جاتا ہے اور ’’جدید ترکی‘‘ کے معماروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس سفر کے سنگ ہائے میل کو بھی اس غرض سے لوگوں کے سامنے لایا جاتا ہے تاکہ ’’جدید‘‘ ترکی کے معماروں نے جو آئیڈیل ان کے سامنے رکھا تھا وہ ذہنوں سے کہیں اوجھل نہ ہو جائے۔ اس موقع پر اس ’جدید ترک جمہوریہ‘ کو لاحق خطرات سے بھی آگہی حاصل کی جاتی ہے۔ اس دوران ترکی بہت سے نشیب و فراز سے گزرا ہے۔ ۱۹۲۳ء میں اس کے لیے جو ماڈل تیار کیا گیا تھا، اس سلسلے میں سوالات بھی اٹھے۔ عام [مزید پڑھیے]

قطر کی جمہوریت؟۔۔۔ دوسروں کے لیے!

June 16, 2013 // 0 Comments

قطر خطے میں سب سے بڑی مالیاتی حقیقت اور اصلاحات کا علمبردار بن کر ابھرا ہے مگر قطریوں کو اُس وقت خفت کا سامنا ہوسکتا ہے، جب کوئی پوچھے کہ تمہارے اپنے ملک میں جمہوریت کیوں نہیں ہے؟ جبکہ تمہارے قائدین دیگر ممالک میں سیاسی اصلاحات اور بالخصوص جمہوریت پر زور دیتے رہتے ہیں۔ قطر میں صرف سیاسی جماعتوں ہی پر نہیں بلکہ مظاہروں، مزدور انجمنوں اور عوامی امور کی نگرانی کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں پر بھی پابندی عائد ہے۔ مجلس شوریٰ نے اعلان کیا تھا کہ انتخابات ۲۰۰۴ء میں ہوں گے۔ پھر یہ ہوا کہ معاملات ٹلتے رہے۔ شاید قطر میں کوئی ایک بھی نہیں جو یہ مشورہ دے کہ مجلسِ شوریٰ کے پاس قانون سازی کا اختیار بھی ہونا چاہیے۔ قطر سے [مزید پڑھیے]

ڈھاکا میں فاشزم

June 16, 2013 // 0 Comments

نومبر۹ اور ۱۰ ۱۹۳۸ء کی شب جرمنی اور آسٹریا میں یہودیوں پر حملوں کا آغاز ہوا۔ یہ حملے نازی فوج اور شہریوں نے شروع کیے۔ ان دونوں کو ایڈولف ہٹلر نے بہت عمدگی سے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا اور بالآخر اس تباہی کی راہ ہموار ہوئی جو جرمنی کا مقدر بنی۔ ڈھاکا میں ۵ اور ۶ مئی کی درمیانی شب وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے نازی فاشزم کی تاریخ دہرائی۔ پولیس، نیم فوجی دستوں اور فوجیوں کو گہری نیند میں ڈوبے ہوئے، حالات سے بے خبر احتجاجیوں کے خلاف بہت سفاکی سے استعمال کیا۔ حسینہ واجد کا ایک ہی مقصد ہے : ریاست پر قبضہ اور اپوزیشن کا مکمل خاتمہ۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہم اور آپ ۲۰۱۳ء میں جی رہے ہیں، [مزید پڑھیے]

برطانیہ: اسلام مخالف پروپیگنڈا

June 16, 2013 // 0 Comments

پہلی تصویر ۲۲ مئی ۲۰۱۳ء کو جنوبی لندن کی ایک آبادی میں ایک بیس سالہ برطانوی فوجی پر دو افراد نے حملہ کر کے اس کا سر کاٹ دیا۔ یہ خبر اگلے روز ٹائمز آف انڈیا سمیت کئی اخباروں میں شائع ہوئی۔ نفسِ خبر یہی ہے لیکن آگے کی تفصیل اخباروں نے یہ بتائی ہے کہ دونوں حملہ آور ’’اسلامی نعرے‘‘ لگا رہے تھے، یعنی ’’اسلامی دہشت گرد ‘‘ تھے۔ پولیس نے ان پر فائر کیا اور زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کردیا۔ وہ پولیس کی تحویل میں ہیں۔ اس کے بعد سے یہ خبر تسلسل کے ساتھ آرہی ہے کہ پورے برطانیہ میں مسلم مخالف جذبات تیزی سے فروغ پارہے ہیں، مسلمانوں پر جابجا حملے بھی ہو رہے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگ اسے [مزید پڑھیے]