Abd Add
 

شمارہ 16 جون 2017

پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی
جلد نمبر:10، شمارہ نمبر:12

ایران کے ’’آزاد خیالوں‘‘ کی فتح

June 16, 2017 // 1 Comment

جب آزاد دنیا کے رہنما عرب شہزادوں کے ساتھ تلوار لہراتے رقصاں تھے اور قدیم فارسی دشمن کی مذمت کررہے تھے تو خلیج کے دوسری طرف ایرانی ووٹر بے فکر رقص کررہے تھے، مردوں اور عورتوں سے سڑکیں بھری ہوئی تھیں اور جشن رات بھر جاری رہا، یہ لوگ صدر حسن روحانی کے دوبارہ منتخب ہونے کا جشن منا رہے تھے، وہ ایران کے مغرب سے تعلقات بہتر بنانے کے وژن پر اور سخت گیروں کے مقابلے میں کامیابی پر خوش تھے۔ ۱۹مئی کو حسن روحانی نے ۵۷ فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ مقابل ابراہیم رئیسی کو محض ۳۸ فیصد ووٹ ملے، اسی دن منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں قدامت پسندوں کو تہران کی تمام ۲۱ نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، قدامت [مزید پڑھیے]

مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال

June 16, 2017 // 0 Comments

اسے بہت بری طرح پیٹا گیا تھا اور وہ شدید زخمی حالت میں پڑا تھا، فاروق ڈار کوفوجی جیب کے بمپر کے ساتھ باندھ کر جیپ کومقبوضہ کشمیر کے سب سے بڑے شہر سرینگر میں گھمایا گیا۔ بھارتی فوج نے اس پر یہ الزام لگایا کے وہ بھارتی فوجیوں پر پتھر پھینکتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتاہے۔ ۹؍اپریل کو فاروق ڈار کی یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر پھیل گئی اس ویڈیو کے پھیلتے ہی سرینگر میں غم و غصہ کی لہر دوڑگئی۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت انتخابات ہورہے ہیں اور ان انتخابات کو پُرامن رکھنے کے لیے بھا رتی فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے، انتہائی شرمناک بات تو یہ ہے کہ وادی میں رہنے والے شہریوں میں سے صرف سات [مزید پڑھیے]

امریکا تباہی کے راستے پر

June 16, 2017 // 0 Comments

جوہری پھیلاؤ اور ماحول کی تبدیلی موجودہ دور کے انتہائی تشویش ناک مسائل ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی اب تک کی کارکردگی نے اسے ناگہانی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ ان دونوں مسائل کی سنگینی بڑھتی جارہی ہے۔ ’’ٹروتھ آؤٹ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ مفکر نوم چومسکی نے حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے چند اہم واقعات (مثلاً شام کی ایئر بیس پر امریکی بمباری اور روس، ایران اور شمالی کوریا سے امریکا کے تناؤ) پر بات کی ہے۔ یہ انٹرویو ڈینیل فالکن نے لیا۔ اس انٹرویو کے اقتباسات پیش خدمت ہیں۔[مزید پڑھیے]

چین کے خلاف چُنی جانے والی دیوار

June 16, 2017 // 0 Comments

چین کی ابھرتی ہوئی قوت اگر کسی سے نہیں دیکھی جارہی تو وہ بھارت ہے۔ اِدھر چین چاہتا ہے کہ ایشیا کو کسی نہ کسی طور ایک بھرپور بلاک کی شکل میں عالمی معیشت کے بڑے عنصر کے طور پر سامنے لائے اور دوسری طرف نئی دہلی کے پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ چین کی قوت میں اضافے کی رفتار روکی جائے۔ سوال چین کی ترقی روکنے کا ہے مگر اِس کے نتیجے میں خود بھارتی ترقی بھی متاثر ہوسکتی ہے مگر فی الحال اس کا خیال کسی کو نہیں۔ بھارت نے جنوب مشرقی ایشیا کے چند ممالک کے ساتھ مل کر چین کے خلاف اتحاد بنانے کی سمت پیش قدمی شروع کردی ہے۔ سنگا پور کے ساتھ حالیہ فوجی مشقیں اِسی سلسلے کی ایک [مزید پڑھیے]

’’چینی بیلٹ اور روڈ: نیا نام، وہی شبہات‘‘

June 16, 2017 // 0 Comments

بیجنگ شاہراہِ ریشم پر ہونے والے اقدامات پر نیا بیانیہ تیار کررہا ہے۔ مگر وہ شکوک و شبہات کو دور کرنے میں ناکام ہے۔ چین نے شاہراہ ریشم پر جب پہلی کانفرنس (Summit) کی میزبانی کی تو ۱۴،۱۵ مئی کو تومہمانوں کی فہرست میں اعلیٰ مناصب پر فائزحکام کے نام شامل تھے۔ ان میں اقوام متحدہ، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، یورپ کے صف اول کے ممالک اور یہاں تک کہ امریکا بھی۔ غرض ۱۰۰ ممالک کے ۱۰۰۰ مندوبین اس کانفرنس کا حصہ بنے۔ اس کانفرنس کا مقصد ان تمام معاملات پر گفتگو کرنا تھا جو شاہراہ ریشم کے حوالے سے ضروری تھے۔ ایشیا سے یورپ اور یورپ سے افریقا تک تمام ممالک اس پر تقسیم ہیں کہ چین کی جانب سے ۲۰۱۳ء میں نئی [مزید پڑھیے]