Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

نظریاتی انتہا پسندی کے خلاف امریکا اور یورپ متحد ہوں!

December 16, 2004 // 0 Comments

اپنی صدارت کے دوسرے دور کے آغاز کے موقع سے خطاب کرنے سے پہلے صدر بش کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ روز ویلیٹ‘ چرچل اور ٹرومین میں کیا بات قدرِ مشترک تھی؟ وہ کیا خوبی تھی جس نے انہیں تاریخ کی عظیم شخصیت میں تبدیل کر دیا۔ اگرچہ ان عظیم شخصیات میں سے ہر ایک پر بے شمار عالمانہ کتابیں تصنیف کی گئی ہیں لیکن اس کا جواب بہت مختصر ہے اور وہ یہ کہ ان شخصیات نے تاریخی رخ اور اعتماد کا حوصلہ بخش احساس نمایاں کیا اور جب کبھی انہیں کسی تاریخی چیلنج کا سامنا ہوا تو یہ اپنے سیاسی حریفوں کے پاس بھی جا حاضر ہوئے تاکہ وہ مشترک مقاصد کے لیے مل جل کر کوئی [مزید پڑھیے]

اسلامی فلسفہ: تعریف‘ خدو خال اور عصری موضوعات

December 16, 2004 // 0 Comments

عصری موضوعات اوپر کی سطور میں جو تعریف اور خدوخال پیش کیے گئے ہیں وہ تمام اسلامی فلسفے کی اس صورت سے تعلق رکھتے ہیں جسے ہم ایک طرح سے کلاسیکی اسلامی فلسفہ کہہ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے اس کی وجہ تو یہ ہے کہ وہ ایک ایسے دور اور ایک ایسے معاشرے کی پیداوار تھا جو محل و مقام نزول وحی سے قریب تر تھا اور جس پر بیرونی جبر‘ استبداد اور غلامی کا وہ اثر نہیں پڑا تھا جو پچھلے تین سو برس میں مثلاً برصغیر کے مسلمانوں پر پڑا۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ کچھ ایسے ہی اثرات دیگر بلاد اسلامیہ پر بھی مرتب ہوئے۔ البتہ ان اثرات میں جو بات بظاہر اوجھل مگر سب سے زیادہ دور رس اثرات مرتب کرنے [مزید پڑھیے]

اب کوفی عنان امریکی ہدف پر!

December 16, 2004 // 0 Comments

دوسری مرتبہ منتخب ہونے کے بعد بش یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ امریکی عوام نے انہیں ووٹ اس لیے دیا ہے کہ وہ اپنی یکطرفہ پالیسی کو جاری رکھیں۔ وزیرِ خارجہ کولن پاول کا استعفیٰ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ امریکی حکام کو صرف طاقت پر انحصار کرنے سے روکنے میں ناکام ہو گئے ہیں اور جدید قدامت پرست گروہ (Neo-Cons) کامیاب ہو گئے ہیں جو کہ دنیا کو چلانے میں صرف واحد سپر پاور امریکا کا کردار ہر جگہ نمایاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ڈیمو کریٹ امیدوار نے عراق جنگ سے متعلق امریکا میں پائی جانے والی واضح بے چینی سے فائدہ اٹھانا چاہا تھا۔ عراق مسئلے کی حساسیت اور نزاکت کا احساس کرتے ہوئے بش نے اقوامِ متحدہ [مزید پڑھیے]

امریکا پاکستان میں جمہوری نظام کا حامی ہے‘ نینسی پاول

December 16, 2004 // 0 Comments

حال ہی میں سبکدوش ہونے والی امریکی سفیر نینسی پاول نے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر بش جیتیں یا ڈیمو کریٹ امیدوار سینیٹر جان کیری‘ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔ امریکا کی دونوں جماعتیں ری پبلیکن اور ڈیمو کریٹ پاکستان کی امداد اور تعلقات جاری رکھنے پر متفق ہیں۔ نینسی پاول نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر پاکستان کے سینئر صحافیوں سے ایک ملاقات میں کیا۔ امریکی سفیر نے کہا کہ پاکستان کو نان نیٹو اتحادی کا درجہ دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکا کے ساتھ مل کر حصہ لیا ہے اس لیے [مزید پڑھیے]

پاکستانی نظامِ تعلیم پر ایک عالمی ادارے کا اظہارِ تشویش

December 1, 2004 // 0 Comments

انٹرنیشنل کرائس گروپ‘ برسلز کی اوائلِ اکتوبر میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا نظامِ تعلیم مکمل تبدیلی کا متقاضی ہے جو کہ اس کے خیال میں معاشرے میں بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کے رجحانات کے فروغ کا سبب ہے۔ مزید برآں سیاسی عزم و ارادہ جو کہ اصلاحات کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے‘ کا شدید فقدان پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ حالانکہ اعلیٰ سرکاری افسران کی جانب سے اصلاحات کے حوالے سے نہ جانے کتنے اعلانات اور دعوے کیے گئے ہیں۔ Pakistan: “Reforming the Education Sector” کے زیرِ عنوان رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہادی گروہوں کے طلبہ پر بڑھتے ہوئے اثرات کی ایک وجہ ’’ملک کا بگڑتا ہوا تعلیمی [مزید پڑھیے]

اہلِ فلسطین کے ساتھ اسرائیل کی فریب کاریاں

December 1, 2004 // 0 Comments

فلسطین پر اسرائیلی دعویٰ: اسرائیل فلسطین میں اپنی ریاست کے قیام کی بنیاد جن تین بڑے ماخذوں پر تعمیر کرتا ہے وہ ہیں اول انجیل میں عہدنامہ قدیم کی میراث‘ دوم ۱۹۱۷ء میں حکومت برطانیہ کا اعلان بالفور اور سوم ۱۹۴۷ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سفارش جس میں فلسطین کو عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ فریب: ہم اپنے قدرتی تاریخی حق کی بنیاد پر۔۔۔ (ہم) یہاں ارض اسرائیل میں ایک یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کرتے ہیں یعنی ریاست اسرائیل۔ (۱۹۴۸ء میں اسرائیل کا اعلانِ آزادی) حقیقت: تاریخی لحاظ سے یہودی فلسطین کے قدیم ترین باشندے نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے وہاں اتنا عرصہ حکومت کی جتنی کہ کئی دوسری اقوام نے۔ جدید [مزید پڑھیے]

1 164 165 166 167 168 169