Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

چٹاگانگ کا چوہدری

December 1, 2018 // 0 Comments

ہمارے ہاں کوئی بندہ بات بھول جائے تو طنزیہ کہا جاتا ہے:آپ بوڑھے ہورہے ہیں۔ بھول جانے سے انسان ڈرتا ہے۔ باتیں یاد رہ جائیں تو بھی۔ کہیں پڑھا تھا:بھولنا بھی نعمت سے کم نہیں۔ اگر آپ تلخ یادیں یا تکلیف دہ لمحات نہیں بھولیں گے تو ہر لمحہ اذیت میں گزرے گا لہٰذا خدا نے انسان کے اندر بھولنے کی صلاحیت رکھی ہے۔ انسان پرانی باتیں نہیں بھولے گا تو نئی چیزیں دماغ میں کیسے جگہ بنائیں گی؟ دوسری طرف یہ حالت ہے کہ بعض تکلیف دہ یادیں بھولنا چاہیں تو بھی فیس بک آپ کو بھولنے نہیں دیتی۔ اسی فیس بک نے یاد دلایا: ۲۲ نومبر ۲۰۱۵ء کو میں نے ایک ٹویٹ کیا تھا، جو ان دنوں فیس بک پر بھی اپ لوڈ [مزید پڑھیے]

’نیا ۱۰۰ دن، پرانا ۹ دن‘

December 1, 2018 // 0 Comments

تبدیلی کے پہلے ۱۰۰؍دنوں میں پاکستان کتنا تبدیل ہوا ہے؟ امید اور ناامیدی کے پنڈولم پر جھولتے عوام کی قسمت میں صرف دلفریب وعدے ہی ہیں یا پھر ملک کی سمت درست کرنے کے لیے پہلی اینٹ رکھنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی کی گئی؟ ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کی سعی کرنا اور پھر اس سعی لاحاصل کو عوام کے سامنے پیش کرنا، پیشہ ورانہ مجبوری کا تقاضا ٹھہرا مگر ہائے افسوس! واچ ڈاگ کے دعوے پر پورا اترنے کی کوششوں اور تنقید برائے تنقید کے ’بلٹ ان‘ فارمولے پر عمل کرنے کی ’جزِ لاینفک‘ مجبوریوں نے صحافی کو میڈیا مین بنا کر، اس سے تجزیے کی صلاحیت چھین کر ہاتھوں میں قلم کے بجائے فیصلے کا ہتھوڑا تھما دیا ہے۔ معاشی حالت انفرادی [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 169