Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

حماس اور اسرائیل مذاکرات، ’’جمودکا تسلسل‘‘

October 1, 2018 // 0 Comments

دنیا بھر کے سفارت کار اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ اسرائیل اور فلسطین آپس میں مذاکرات نہیں کررہے ہیں، لیکن اب اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سفار ت کاروں اور خبر رکھنے والوںکا ایک وفدخطے کا دورہ کر رہا ہے، یہ وفد یروشلم، رام اللہ، غزہ سمیت عرب ممالک سے گزرتے ہوئے قاہرہ سے خلیج کی طرف روانہ ہوگا۔ ان کے درمیان مذاکرات کے تین ادوار طے ہیں۔ پہلا دور اسرائیل اور فلسطین کے مابین جنگ کی روک تھام کے لیے ہوگا، دوسرا دور حماس اور فتح میں مصالحت کے لیے ہوگا، جب کہ تیسرا دورٹرمپ کی طرف سے اسرائیل اور فلسطین کے لیے پیش کیے گئے ’’حتمی معاہدے‘‘ پر بات چیت کے لیے ہوگا۔ اگر مذاکرات کے ان تینوں ادوار [مزید پڑھیے]

نجی شعبے کے ہاتھوں ایم کیو ایم کا ’’قتل‘‘

September 16, 2018 // 0 Comments

ایم کیو ایم نے ایک طویل مدت تک کراچی اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں غیر معمولی مینڈیٹ حاصل کیا۔ اس کے قیام اور بقا کے کئی اسباب تھے۔ ایک بڑا سبب یہ وعدہ تھا کہ وہ اردو بولنے والے طبقے کی نئی نسل کو معاش کے بہتر مواقع فراہم کرے گی۔ یہ مواقع سرکاری شعبے میں تلاش کیے جانے تھے۔ جب نجی شعبہ پروان چڑھا تو مسابقت کا معاملہ اٹھ کھڑا ہوا، جس کے نتیجے میں سندھ کے شہری علاقوں میں سرکاری ملازمتوں کی گنجائش کم ہوگئی اور نجی شعبے میں مسابقت بڑھنے سے امکانات محدود ہوتے چلے گئے۔ حالیہ عام انتخابات نے اور کچھ واضح کیا ہو یا نہ کیا ہو، ایک بات تو بالکل واضح ہوگئی کہ متحدہ قومی موومنٹ کی [مزید پڑھیے]

کشمیر: ’خالی میدان میں الیکشن کی ڈفلی‘

September 16, 2018 // 0 Comments

جنوبی کشمیر کے حساس ترین ضلع شوپیاں آرش گنا پورہ گاؤں کی ایک چھوٹی سی پہاڑی پر پاکستانی جھنڈا لہرا رہا ہے۔ پہاڑی کے دامن میں گاؤں کا پنچایت گھر ہے، جو دو سال سے مقفل ہے۔ پنچایت گھر کے سنگِ بنیاد پر سبز اور سفید رنگ سے پاکستانی جھنڈا پینٹ کیا گیا ہے۔ ۲۰۱۶ء تک ولی محمد اسی پنچایت کے سرپنچ رہے ہیں۔ جموں وکشمیر کی آٹھ ہزار پنچایتوں کے لیے انتخابات طویل مدت کے بعد ۲۰۱۱ء میں ہوئے تھے۔ ان پنچایتوں کی مدتِ کار کا خاتمہ ۲۰۱۶ء میں عین اُسی وقت ہوا، جب مقبول مسلح کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت نے کشمیر میں ہندمخالف احتجاجی لہر بھڑکا دی۔ ولی محمد کہتے ہیں حکومت انتخابات کا اعلان تو کر رہی ہے، لیکن انتخابات میں [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 166