Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

اٹل بہاری واجپائی: دیتے ہیں دھوکا، یہ بازیگر کھلا!

September 1, 2018 // 0 Comments

بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی موت پہ بہت ساری تحریریں لکھی گئیں۔ سادہ لوح قلم کاروں نے ان کی شخصیت کے منفی پہلوؤں کو لفظوں کے پردے سے ڈھانپنے کی بھرپور کوشش کی۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ’’سَنگھی ذہن‘‘ کے مالک ایک انتہا درجے کے شاطر انسان کا نام تھا: ’’اٹل بہاری واجپائی‘‘۔[مزید پڑھیے]

جرمنوں نے اپنی تاریخ سے بہت کم سیکھا ہے۔۔۔!

September 1, 2018 // 0 Comments

نازی دور کے جنگی مجرم ہانس فرانک کے بیٹے نکلاس فرانک کو اپنے ہم وطن جرمن باشندوں کی ’جمہوری قابلیتوں‘ پر شبہ ہے۔ ان کے بقول مہاجرین کے حالیہ بحران سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمنوں نے اپنی تاریخ سے بہت کم سبق سیکھا ہے۔ نکلاس فرانک کے مطابق وہ اپنے نام کی وجہ سے بطور انسان اپنے بہن بھائیوں کی طرح شخصی ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہو سکتے تھے۔ ان کا ایک بھائی عادی شراب نوش بن گیا تھا اور ایک بہن نے خود کشی کر لی تھی۔ یہ دونوں اپنی اپنی ذات پر اس خاندانی نام کا بوجھ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، جو انہیں ان کے والد ہانس فرانک نے ورثے میں دیا تھا۔ نکلاس فرانک کے والد ہانس [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 5 166