Abd Add
 

رپورٹ

بنگلادیش: جمہوری اشاریے کی پست ترین سطح پر!

March 1, 2018 // 0 Comments

اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق آزادی اظہار رائے پر پابندی، انسانی اور جمہوری حقوق پر قدغن اور ان معیارات کی تنزلی کی وجہ سے بنگلادیش عالمی جمہوری اشاریہ بندی میں گزشتہ دس سال کے پست ترین درجے میں موجود ہے۔ حالیہ درجہ بندی میں ۱۶۷؍ممالک میں بنگلادیش کا نمبر۹۲ ہے۔ جبکہ گزشتہ سال ۸۴ تھا۔ EIU کے مطابق دنیا کی آبادی کے صرف ۵ فیصد انسانوں کو مکمل جمہوری حقوق حاصل ہیں۔ رپورٹ میں صرف ۸ ویں درجے سے اوپر ممالک کو مکمل جمہوری نظام کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال امریکی ووٹروں کے اپنی حکومت، منتخب نمائندوں اور سیاسی جماعتوں پر عدم اعتماد کے باعث، امریکا مکمل جمہوری آزادی کے حامل ملک [مزید پڑھیے]

ایشیا ’’ارب پتی‘‘ افراد میں سب سے آگے

March 16, 2013 // 0 Comments

دنیا بھر میں سب سے زیادہ ارب پتی اس وقت چین میں ہیں۔ یہ بات دولت مند افراد کے بارے میں شائع ہونے والے ایک چینی جریدے نے بتائی ہے۔ ’’ہورون رپورٹ‘‘ نے بتایا ہے کہ کسی بھی براعظم کے مقابلے میں زیادہ ارب پتی چین میں ہیں۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ شمالی امریکا سے زیادہ ارب پتی کہیں اور پائے گئے ہوں۔ ’’ہورون رپورٹ‘‘ کے مطابق جنوری ۲۰۱۳ء تک دنیا بھر میں ایک ارب ڈالر یا اس سے زائد کی ذاتی املاک رکھنے والے افراد کی تعداد ۱۴۵۳ ہے۔ جریدے کے مطابق ایشیا میں ۶۰۴ ؍ ارب پتی، شمالی امریکا میں ۴۴۰؍ اور یورپ میں ۳۲۴؍ ارب پتی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سب سے زیادہ ارب پتی ایشیا میں پائے [مزید پڑھیے]

عقیدۂ توحید و رسالت، مسلم اُمت کی مستحکم بنیاد ہے!

October 16, 2012 // 0 Comments

پیو ریسرچ سینٹر کے تازہ مطالعے کے مطابق دنیا میں اس وقت ایک ارب ساٹھ کروڑ مسلمان ہیں، جو کرۂ ارض کے مختلف خطوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ان کی بہت بڑی اکثریت (۸۵ سے ۱۰۰ فیصد) اسلام کے بنیادی عقائد پر متحد و متفق ہے۔ توحید، رسالتِ محمدیؐ، رمضان کے روزے۔ البتہ دیگر امور میں اسلامی احکام کی تعبیر و تشریح میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ سینٹر نے تمام براعظموں کے ۳۹ ملکوں میں اس مطالعے کا کام ۲۰۰۸ء میں شروع کیا تھا، جس کی رپورٹ، اگست کے دوسرے ہفتے میں جاری کی گئی۔ (ایشین ایج ۱۰؍ اگست) اس رپورٹ میں عالمی مسلم آبادی کے ۶۷ فیصد حصے کا احاطہ کیا گیا۔ مختلف ممالک کے ۳۸ ہزار افراد سے ۸۰ زبانوں میں سوالات [مزید پڑھیے]

اسرائیلی بچوں پر جنسی تشدد

April 1, 2008 // 0 Comments

حالیہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں کم سے کم ۴۲۱ بچوں کو جن کی عمر ۱۴ سال سے کم ہے، جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل کے فلاحی امور کے وزیر Yitzhak Herzog کا کہنا ہے کہ معاملے کو صیغۂ راز میں رکھنے کے حوالے سے عوام کے اندر بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔ Yitzhak کا مزید کہنا ہے کہ بیداری مسئلے کی شناخت کرنے اور مستقبل میں طویل المیعاد نفسیاتی اثرات کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انھوں نے عوام سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی اور تاکید کی کہ حکام کو جنسی تشدد کے کسی بھی واقعے کی اطلاع فوراً دی جائے۔ Yitzhak نے سماجی کارکنوں سے بھی تاکید کی ہے کہ وہ مسئلے کی شناخت میں حکومت کی مدد [مزید پڑھیے]

’بلوچستان ‘ایک فراموش شدہ مسئلہ

January 16, 2008 // 0 Comments

تعارف: اہم ترین جغرافیائی پوزیشن پرواقع اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبے میں جاری تشدد کی لہر کا خاتمہ پاکستانی حکومت کے لیے مشکل ہوتا جارہا ہے یہاں پاکستان کی (فوجی) حکومت صوبے کی سیاسی اور معاشی خود مختاری کا مطالبہ کرنے والے بلوچ قبائل کو بزور قوت کچلنے میں مصروف ہے ۔ صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ مٹھی بھر قبا ئلی سردار معاشی ترقی اورخوش حالی نہیں چاہتے اور وہ اس راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اس کے برعکس بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ فوجی حکمران ہر مخالف رائے اور عقیدے کو بزور قوت کچلنا چاہتی ہے اس کی انہی کوششوں کی وجہ سے صوبہ اس حال کو پہنچ گیا ہے۔ اگر ملک میں حقیقی جمہوریت نافذ ہو [مزید پڑھیے]

’’راہنمائے صحت‘‘ کی تقریبِ رونمائی

December 16, 2007 // 0 Comments

یکم دسمبر ۲۰۰۷ء کی شام ’’اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی‘‘ میں ڈاکٹر سید احسن حسین کی نئی کتاب ’’راہنمائے صحت‘‘ کی تقریبِ رونمائی ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی جنرل (ر) ڈاکٹر سید اظہر احمد (وائس چانسلر بقائی میڈیکل یونیورسٹی) تھے جبکہ صدارت پروفیسر اعجاز وہرہ (چیئرمین ڈپارٹمنٹ آف میڈیسن ضیاء الدین میڈیکل یونیورسٹی) نے کی۔ نظامت کے فرائض معروف فیملی فزیشن ڈاکٹر فرخ ابدالی نے انجام دیے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور ترجمہ سے ہوا۔ اس کے بعد ’’اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی‘‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید شاہد ہاشمی نے اپنے ادارہ کی کارکردگی کا مختصر جائزہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ ’’راہنمائے صحت‘‘ میں کوئی اسلامی بات نہیں ہے، صحت کے موضوع پر کتاب ہے، پھر [مزید پڑھیے]

تیسری کراچی بین الاقوامی کتب نمائش میں ’اکیڈمی‘ کا اسٹال

December 16, 2007 // 0 Comments

تیسری کراچی بین الاقوامی کتب نمائش ۳۰ نومبر سے ۴ دسمبر ۲۰۰۷ء اختتام پذیر ہو گئی۔ دو لاکھ سے زائد افراد نمائش میں شریک ہوئے۔ اکثریت خواتین، طالبات اور بچوں کی تھی۔ پبلشرز کو اپنے ملک کی جانب سے “Travel Advisory” کی پابندی کے باعث غیرملکی ناشران کے اسٹالوں کی کمی رہی۔ نمائش کی خاص بات یہ تھی کہ بین الاقوامی سطح کی کسی کتب نمائش میں پہلی بار مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تمام کتابیں ’’اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی‘‘ کے اسٹال پر متعارف کرائی گئیں جو نہ صرف شرکاء کی توجہ کا باعث رہیں بلکہ لوگوں کی بڑی تعداد بالخصوص خواتین، طالبعلم، اساتذہ، دانشور اور علمائے کرام نے انھیں پذیرائی بخشی۔ زندگی کے ہر طبقۂ فکر اور نظریات و خیالات کے حامل لوگوں کا [مزید پڑھیے]

’’ریسرچ میتھوڈولوجی کورس‘‘ کی اختتامی تقریب

August 1, 2007 // 0 Comments

اسلامک ریسرچ اکیڈمی، کراچی کے شعبہ تحقیق کے تحت چھ لیکچرز پر مشتمل ’’ریسرچ میتھوڈولوجی کورس‘‘ کے اختتام پر گذشتہ دنوں کورس کے شرکا میں تقسیم اسناد کی تقریب کا انعقاد ہوا جس میں شرکاء کورس کے علاوہ اہل علم شریک ہوئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامک ریسرچ اکیڈمی کے ڈائریکٹر سید شاہد ہاشمی نے کہا کہ علم کے ساتھ عمل لازم وملزوم ہے، دنیا میں وہی غلبہ پاتا ہے جو کم از کم دو چیزوں یعنی علم اور ایمان میں توانا، مستحکم اور راسخ ہو۔ اس کی مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج دنیا پر جن لوگوں کا قبضہ ہے وہ بھی راسخ العقیدہ ہیں، چاہے باطل پر ہی ان کا ایمان کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا ’’مغربی ترقی‘‘ [مزید پڑھیے]

تقسیمِ عطیات میں امریکیوں کا سب سے اونچا ریکارڈ

July 16, 2007 // 0 Comments

امریکیوں کی طرف سے ۲۰۰۶ء میں عطیات کی مد میں دی جانے والی رقوم ۲۹۵ء۰۲ ارب ڈالر ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے خصوصاً ایسے وقت میں جبکہ ایک سال قبل ہی امریکی تیسرے طوفان کی تباہ کاریوں کے موقع پر انسانی ہمدردی کے کاموں میں فراخ دلی سے عطیات دینے والوں میں سرِفہرست رہے ہیں۔ Giving USA Foundation کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تیسرا سال تھا کہ جس میں امریکیوں کی عطیات میں مسلسل اضافہ ہوا اور جزوی طور سے اس اضافے کا سبب Warren Buffett کی طرح کے کھرب پتیوں کی جانب سے ملنے والی عظیم عطیات ہیں لیکن اس کا سبب عام سطح کے امریکیوں کی مختلف کاز کے لیے عطیات بھی ہیں جو ایک سرسری اندازے کے [مزید پڑھیے]

’’تاریخی تحقیق‘‘ کیوں؟ اور کیسے؟

May 1, 2007 // 0 Comments

گزشتہ دنوںاسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی کے شعبۂ تحقیق کے تحت ’’ریسرچ میتھوڈولوجی‘‘ کے کورس کا دوسرا لیکچر ہوا۔ جس کا عنوان ’’تاریخی تحقیق‘‘ تھا۔ جامعہ کراچی شعبہ ابلاغ عامہ کے استاد پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد زبیری نے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوںنے اس لیکچر میں بتایا کہ تاریخی تحقیق افسانہ (Myth)نہیں ہے اور کسی بھی محقق کو ایسی باتیں اپنے مقالے میں شامل نہیں کرنی چاہئیں، اور یہ کہ تاریخی تحقیق کے دوران جذبات، تعصب اور جانبداری کو مکمل طور پر نہ سہی صرف تحقیق کے دوران الگ رکھنا چاہیے لیکن بہر طور پر ایک محقق کو غیر جانبدار ہی ہونا چاہیے۔ تاریخی تحقیق میں خطِ زمانی (Time line) کی اہمیت بتاتے ہوئے ڈاکٹر نثار احمد زبیری نے کہا کہ اس کے بغیر Historiography [مزید پڑھیے]

1 2 3