اسرائیل کے خلاف مزاحمت ختم کرنے کا منصوبہ

Al-Ashaal noted that the Egyptian initiative ultimately aims to allow for Israel's expansion in the region thanks to collaboration between Israel and Arab armies, which are now concerned with protecting regimes instead of protection nations

قاہرہ میں سیاسیات کے پروفیسر عبداللہ العشال کا کہنا ہے کہ مصر نے حال ہی میں عرب وزرائے خارجہ کے فورم پر غزہ میں جس جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے، اس کا بنیادی مقصد فلسطینیوں کو غیر مسلح کرکے ان کی طرف سے اسرائیلی مظالم کی راہ مکمل طور پر مسدود کرنا ہے۔ القدس پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے عبداللہ العشال نے کہا کہ عرب وزرائے خارجہ نے جنگ بندی کی جو تجویز پیش کی ہے اس کے نتیجے میں اسرائیلی مظالم کے خلاف عرب دنیا کی مزاحمت بڑھنے کے بجائے غیر معمولی حد تک کم ہوجائے گی اور اسرائیلی مظالم کے سامنے بند باندھنے کی کوئی صورت نہ رہے گی۔ پروفیسر عبداللہ العشال مزید کہتے ہیں کہ اس وقت اسرائیلی نے غزہ کی پٹی پر فلسطینیوں کے خلاف جو زمینی جارحیت برپا کر رکھی ہے، اسے روکنے کے لیے عرب ممالک چاہتے ہیں کہ جنگ بندی کی جائے اور تمام فلسطینی مزاحمت کار غیر مسلح ہوجائیں تاکہ اسرائیل زمینی کارروائی روک دے۔ مگر اس کے نتیجے میں پورا علاقہ غیر مسلح ہوجائے گا اور اسرائیل کسی بھی وقت کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں آجائے گا۔ فلسطینیوں کی طرف سے مزاحمت ختم ہوجانے کی صورت میں اسرائیل کے لیے پوری گنجائش پیدا ہوگی کہ کسی بھی علاقے کو آسانی سے ہتھیالے۔ ایک صورت تو یہ تھی کہ اسرائیل بھرپور طاقت استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کی طرف سے مزاحمت ختم کرے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ عرب دنیا خود ہی یہ کام کرے یعنی فلسطینیوں کو غیر مسلح کرکے مزاحمت کی گنجائش ہی ختم کردے اور اس وقت عرب دنیا یہی کچھ کر رہی ہے۔

پروفیسر عبداللہ العشال کہتے ہیں کہ امریکا اور ایران نے ایک ڈیل کی ہے جس کے تحت حزب اللہ کی طرف سے مزاحمت ختم کی جارہی ہے۔ جب یہ مرحلہ طے ہوجائے گا تو فلسطینی علاقوں کے لیے ’’مقبوضہ‘‘ کی جگہ ’’بحال شدہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جائے گی۔ اس کے بعد عرب دنیا سے اسرائیل کے تعلقات معمول کی سطح پر لانے کی بھرپور کوشش شروع کی جائے گی۔ جو عرب ممالک اپنے مفادات کو اسرائیل کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ دیکھتے ہیں انہیں قریب لایا جائے گا۔ یوں فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیلیوں کے خلاف مزاحمت کو جڑ سے ختم کردیا جائے گا۔ مصر اس حوالے سے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

پروفیسر عبداللہ العشال کہتے ہیں کہ مصر اس پورے کھیل میں بظاہر غیر متعلق ہوکر رہ گیا ہے کیونکہ اس کا سارا مفاد اس امر سے وابستہ ہے کہ سنائی کے علاقے میں انقلابی گروپوں کی سرگرمیاں ختم ہوجائیں۔ یہ گروپ اسرائیل نے کھڑے کیے تھے۔ مصر صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی حدود میں کوئی گڑبڑ نہ ہو۔ مصر کی فوج اس وقت لڑنے کی پوزیشن میں نہیں۔ وہ ملک بھر میں اور سنائی کے علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔ ایسے میں اسرائیل کے لیے اگر کوئی مزاحمتی قوت باقی ہے تو وہ حماس ہے اور مصر میں اخوان المسلمون کی طرف سے کسی بھی وقت فوج کو زبردست مزاحمت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ حماس کو ہمیشہ کے لیے خاموش اور غیر موثر کردیا جائے اور اِدھر مصر کی خواہش ہے کہ اخوان المسلمون کو غیر موثر کردیا جائے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مصر اور اسرائیل کا مفاد یکساں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔ مصر یوں بھی ڈرتا ہے کہ حماس کی طرف سے بھرپور مزاحمت کی صورت میں اخوان المسلمون تحریک پاکر مصری فوج کے خلاف کھڑی نہ ہوجائے۔

اسرائیل، امریکا اور عرب ممالک مل کر جو کچھ کرنا چاہتے ہیں، کیا اس کے نتیجے میں خطے میں مکمل امن بحال ہوجائے گا؟ اس سوال کے جواب میں پروفیسر عبداللہ العشال کہتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ عرب دنیا چاہتی ہے کہ جن علاقوں میں گڑبڑ ہے وہاں امن ہوجائے اور جو لوگ اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں، وہ دوبارہ وہاں آباد ہوجائیں مگر اسرائیل تو جارحیت پر تُلا ہوا ہے۔ ایسے میں بڑے پیمانے پر کسی بہتری کی امید کیوں کر کی جاسکتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ مصر کی حکومت اسرائیل کے حق میں عرب دنیا کو رام کرنا چاہتی ہے۔ فلسطینیوں کی طرف سے مزاحمت کی قوت ختم کیے جانے کی تجویز کا بنیادی مقصد صرف یہ ہے کہ اسرائیل کے لیے معاملات کو درست کردیا جائے۔ عرب دنیا کی بیشتر حکومتیں ملک اور قوم کو بچانے سے کہیں زیادہ اپنی بقا کی فکر میں غلطاں ہیں۔ ایسے میں کسی بھی بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی۔

امریکا اور ایران کے درمیان جو ڈیل ہوئی ہے، اس کے تحت حزب اللہ کی رگوں سے بھی مزاحمت کا لہو نچوڑ کر اسے سیاسی جماعت میں تبدیل کردیا جائے گا تاکہ اسرائیل کے لیے خطے میں کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔

“Egyptian expert: Ceasefire initiative aims to dismantle the Palestinian resistance”.
(“The Middle East Monitor”. July 16, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*