بچے اور کمپیوٹر گیم

شروع شروع میں کمپیوٹر گیم بہت سیدھے سادھے ہوتے تھے اسی لیے ان کو کھیلنے کے لیے نہ زیادہ مہارت چاہیے ہوتی تھی نہ ہی بہت ذہین ہونا ضروری تھا۔ اس کے علاوہ گرافکس بھی زیادہ پیچیدہ نہیں تھیں۔ لہٰذا بچے بھی ہنستے کھیلتے کمپیوٹر پر وقت گزارا کرتے تھے۔ یہ کھیل اتنے سادہ ہوتے تھے کہ بچے کچھ دیر بعد بور ہو جاتے تھے اور کچھ اور کھیلنے لگتے تھے لیکن آج کل کے کمپیوٹر گیم بہت پیچیدہ اور بھرپور ہو گئے ہیں بالکل ایسا لگتا ہے کہ فلم چل رہی ہے۔ نتیجے میں بچے تو بچے، بڑوں کے بھی کئی گھنٹے ضائع ہو جاتے ہیں۔

کمپیوٹر گیم کے فوائد:

بعض کمپیوٹر گیم اچھی سرگرمیوں پر مشتمل ہیں جس سے ہاتھوں کی حرکت اور آنکھوں کی رفتار بہت بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں ایک انسان اپنے کاموں کو زیادہ توجہ، مہارت اور تیزی سے انجام دے سکتا ہے۔ اس سے یہ صلاحیت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ ایک جیسی چیزوں کی گروہ بندی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ مثلاً کھیل میں جب دوراہا آتا ہے تو ہم سوچتے ہیں کہ پچھلی دفعہ جس راستے پر گئے تھے وہ غلط تھا لہٰذا اب نیا راستہ ڈھونڈنا ہے۔ یہ جملہ عموماً کھلاڑی دہراتے رہتے ہیں۔

ان کھیلوں کو کھیلتے کھیلتے جب آپ اگلے مراحل میں پہنچتے ہیں تو کامرانی کا احساس ہوتا ہے۔ عموماً گیم میں اس بات کو بار بار بتایا جاتا ہے کہ اب کیا کریں اور اس کے بعد کیا کریں تاکہ خود سے سوچ کر صحیح جواب حاصل کریں۔ اس سے ہمارے لیے اپنی روز مرہ کی زندگی میں مشکلات اور الجھنوں سے مقابلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

* آپ اپنے دوستوں کے ساتھ کمپیوٹر گیم کھیل سکتے ہیں جس کے نتیجے میں نئی ٹیکنیک اور نئی مہارت حاصل ہو گی، نئے نظریات اور فلسفے سامنے آئیں گے۔ اس کے علاوہ نئے نئے دوست بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ اجتماعی دوستیوں میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔

* آپ دنیا کی دوسری طرف رہنے والوں سے انٹرنیٹ سے رابطے میں آجاتے ہیں، ان کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ خیالات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔

* جو لوگ کسی بیماری یا معذوری کی وجہ سے بستر پر ہیں یا گھر پر ہی رہتے ہیں ان کے لیے بھی کمپیوٹر گیم ایک اچھی تفریح مہیا کرتا ہے۔

کمپیوٹر گیم کے نقصانات:

آج کل کمپیوٹر کے زیادہ تر کھیل نقصان دہ ہیں مثلاً فائرنگ وغیرہ۔ اس سے بچوں کی اعصاب پر برا اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جن کھیلوں میں غصہ، جنون، بے صبری کا مظاہرہ ہوتا ہے، وہ کھیل بچوں اور بڑوں دونوں کے دل و دماغ کو متاثر کرتے ہیں اور نفسیاتی طور پر انسان کو صحت مند نہیں رہنے دیتے۔

* جب کمپیوٹر گیم پر بچے کھیل کے دوران زور زور سے بٹن دبا کر کوئی بازی جیت جاتے ہیں یعنی کھیل میں اپنے مخالف کو قتل کر دیتے ہیں تو ان کو بونس یا انعام کے نمبر ملتے ہیں جس سے یہ عادت پختہ ہونے لگتی ہے۔ اب عام زندگی میں بھی یہ حالت ان پر طاری ہو جاتی ہے۔ دوسروں کو مارنا یا نقصان پہنچانا ان کو ایک معمولی بات لگتی ہے۔ چیخ چیخ کر بولنا، ہاتھ پیر ہلاتے رہنا، بدتمیزی کرنا، ماں باپ، بھائی بہن، استاد یا بڑوں کا ادب نہ کرنا۔ بچہ ان تمام باتوں کو ایک کارآمد چیز سمجھنے لگتا ہے۔

* جب کوئی خوفزدہ ہوتا ہے یا ہیجان زدہ ہوتا ہے تو بدن میں گردے کے پاس Adrenaline نامی کیمیکل پیدا ہوتا ہے جس سے انسان لڑائی یا فوری بھاگ جانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اب کمپیوٹر گیم پر یہ صورت بار بار پیش آتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کا دل زیادہ خون پھینکنے لگتا ہے جس کی حقیقت میں بدن کو ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ لہٰذا پورے جسم کے اعصاب تن جاتے ہیں، پنڈلیاں اور بازو Ready حالت میں آجاتے ہیں مگر کرنے کو کوئی کام ہوتا ہی نہیں ہے۔ بار بار اس حالت کا طاری ہونا بدن کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ اس سے بچے اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ وہ لوگ جو کمپیوٹر گیم نہیں کھیل رہے ہوتے، وہ بھی ہیجان کا شکار ہو جاتے ہیں۔

* بہت سے کمپیوٹر گیم صرف مار دھاڑ سے بھرپور ہوتے ہیں۔ بہت کم کھیل ایسے ہوں گے جو اچھی باتیں سکھاتے ہوں گے یعنی ایک دوسرے کی مدد کرنا یا کسی کے کام آنا وغیرہ۔ آج کل کے والدین اس بات سے پریشان ہیں کہ ان کے بچے پڑھائی لکھائی پر توجہ نہیں دیتے یا بہت جھگڑالو اور غصیلے ہوتے جارہے ہیں۔ بدتمیزی تو اب قوی صفت کا روپ دھار چکی ہے۔

* کمپیوٹر گیم سے بچے ورزش اور صحت مند کھیل کود سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ نتیجے میں جسمانی عارضے اور کمزوری عام سی بات ہے۔

* ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچوں میں موٹاپا اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ وہ پہلے نمبر پر کھیل کود سے دور ہیں اور ہر وقت TV کے سامنے ہوتے ہیں یا کمپیوٹر گیم میں مصروف رہتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر نامناسب غذا جیسے چپس، سینڈوچ یا مشروبات نے ان کے جسم کو موٹا کر دیا ہے۔

* اس کے علاوہ جو چیز بھیانک شکل اختیار کر گئی ہے وہ یہ کہ کمپیوٹر گیم بچوں پر اتنا طاری ہو گیا ہے کہ جب وہ نہیں کھیل رہے ہوتے ہیں تب بھی ان کی سوچوں کا رخ کمپیوٹر گیم کی چالوں کی طرف ہوتا ہے۔ یعنی یہ کھیل ’’مشغلے‘‘ سے زیادہ ’’لت‘‘ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ بچے اپنی پڑھائی سے غافل ہوتے جارہے ہیں۔ ماں باپ کی بات نہیں مان رہے۔ خاص طور پر باہمی میل جول میں کمی کی وجہ سے ادب آداب سے بے بہرہ ہو رہے ہیں۔ ایسے بچے جہاں ہوتے ہیں، دوسروں کو آزار پہنچاتے رہتے ہیں۔

* بعض دفعہ تو بچے اتنے زیادہ تھک جاتے ہیں کہ ماؤس بھی نہیں چلا سکتے۔ پھر وہ دوسرے ہاتھ سے کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ کمپیوٹر گیم کھیلتے کھیلتے شانوں، گردن اور کمر میں درد ہو جاتا ہے۔ بعض کھیل ایسے ہیں جن سے انسان کے حواس گم ہو جاتے ہیں۔ رات کو عجیب و غریب خواب نظر آنے لگتے ہیں بعض دفعہ تو ایسا لگتا ہے کہ بھوت یا چڑیل ہمارا خون پینا چاہتے ہیں۔

کمپیوٹر بہت مفید اور کارآمد چیز ہے مگر سب سے خاص بات یہ ہے کہ آپ اپنا ٹائم ٹیبل بنا لیں۔ بغیر ٹائم ٹیبل کے نہ کمپیوٹر گیم کھیلیں نہ پڑھائی کریں ورنہ آپ کو پتا ہی نہیں چلے گا کہ کتنا وقت ضائع ہو گیا ہے۔ اس لیے کمپیوٹر پر تھوڑا سا وقت خرچ کریں اور اپنی پڑھائی پر زیادہ۔ اس کے ساتھ ساتھ ورزش، کھیل کود، کھانا پینا، سونا بھی ضروری ہے۔

انٹرنیٹ پر بعض سائیٹ کھیل کود کے لیے بھی ہیں۔ ان میں سے بعض تو سچ مچ بہت مفید ہیں، بچے ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ بعض پروگرام تو اتنے اچھے ہوتے ہیں کہ ان سے بچے اپنے سبق کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ بعض کھیل معمول کی شکل میں ہوتے ہیں اور بعض سوال و جواب کی شکل میں ہوتے ہیں۔ غرض ایسے اچھے پروگرام بھی اس وقت نقصان دہ ہو جاتے ہیں جب ان پر بہت زیادہ وقت لگایا جائے۔

ڈاکٹروں کا مشورہ:

کمپیوٹر گیم کی دنیا بہت بڑی ہے جس سے ہمیں اور ہمارے بچوں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے لیکن یاد رہے کہ کمپیوٹر حرفِ آخر نہیں ہے۔ جب انسان بڑا ہو جاتا ہے اور کہیں ملازمت شروع کرتا ہے تو اسے اپنے کام کو اچھی طرح انجام دینے کے لیے جن صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے ان صلاحیتوں میں سے کچھ کمپیوٹر گیم سے بھی نکھری ہوں گی۔

ڈاکٹروں کا ایک اور مشورہ یہ بھی ہے کہ لازماً اپنا مناسب وقت گھر سے باہر، کمپیوٹر سے دور اپنے دوستوں کے ساتھ چہل قدمی میں گزارنا چاہیے۔ اس سے گھریلو زندگی اور صحت مند ماحول برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ کیونکہ ایک اچھی زندگی کے لیے تحرک، ورزش، کھیل کود، مزے دار کھانے، گپ شپ، پُرلطف باتیں بہت ضروری ہیں۔ یاد رکھیں! انسان کو ایک متوازن اور بھرپور زندگی کی ضرورت ہے صرف کمپیوٹر کی نہیں

Leave a comment

Your email address will not be published.


*