Abd Add
 

چین اور مشرقِ وسطیٰ

سیکڑوں برسوں تک مسافر قاہرہ کے روایتی بازار خان الخلیلی کی چکر دار گلیوں میں قالینوں، زیورات، مسالوں اور تانبے کی بنی اشیاء پر بھاؤ تاؤ کرتے رہے۔ آج ان اشیاء کا دستکاری کے کسی مقامی کارخانے کی بہ نسبت چین کی کسی فیکٹری میں بڑے پیمانے پر تیار ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

چین اور مشرقِ وسطیٰ کے بڑھتے تعلقات میں تجارت کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ گزری دہائی میں اس میں ۶۰۰ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ۲۰۱۴ء میں یہ ۲۳۰؍ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ بحرین، مصر، ایران اور سعودی عرب سب سے زیادہ چین سے مال درآمد کرتے ہیں۔ ایران، عمان اور سعودی عرب سمیت خطے کے کئی ممالک کی سب سے بڑی برآمدی منڈی بھی چین ہے۔ اپریل میں قطر نے چینی کرنسی یو آن میں معاملات طے کرنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کا پہلا کلیئرنگ بینک کھولا۔

تجارت کے پیچھے چین کی تیل کی پیاس کارفرما ہے۔ ۲۰۱۵ء میں چین خام تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ بن گیا۔ اس تیل میں سے نصف، ۳ ملین بیرل یومیہ، وہ مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کر رہا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا اندازہ ہے کہ ۲۰۳۵ء تک اس خطے سے چین کی برآمدات دوسری اقوام کو کہیں پیچھے چھوڑتے ہوئے تقریباً دگنی ہو جائیں گی۔ کارنل یونیورسٹی کے چاولنگ فینگ کا کہنا ہے کہ یہ حجم کی تبدیلی نہیں بلکہ رُخ کی تبدیلی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے غریب ترین ممالک بھی چین کے سستے سامان کے لیے ایک زرخیز منڈی ہیں۔ ۲۰۱۳ء میں چین کے صدر شی جن پنگ نے سِلک روڈ کے احیا کی تجویز دی، جو چین کو فارس اور عرب دنیا سے ملانے والی ایک قدیم گزرگاہ ہے۔ مصر، شام اور ایران کے دارالحکومتوں کی سڑکوں پر چینی گاڑیوں کا اژدہام ہے۔ چینی ساختہ کپڑے، کھلونے اور پلاسٹک کی بنی اشیاء ہر جگہ نظر آتی ہیں۔ واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف پیس کے مطابق چین بے شمار چھوٹے ہتھیار بھی فروخت کرتا ہے۔

جیسے ہی چین نے اپنا رُخ مغربی جانب کیا ہے، عرب ممالک بھی مشرق کی طرف مڑ گئے ہیں۔ جزوی طور پر یہ رجحان توانائی منڈی میں فریکنگ کی وجہ سے آنے والے انقلاب کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکا اپنے ہی سلیٹی (شیل) تیل اور گیس پر زیادہ انحصار کر رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے کم ایندھن خرید رہا ہے۔ ۲۰۰۰ء میں یہ خطہ ۵ء۲ ملین بیرل تیل امریکا کو یومیہ برآمد کرتا تھا، ۲۰۱۱ء میں یہ کم ہو کر صرف ۹ء۱؍ملین رہ گیا۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے پیش گوئی کی ہے کہ ۲۰۳۵ء تک امریکا یومیہ صرف ایک لاکھ بیرل تیل خریدے گا اور مشرقِ وسطیٰ کے ۹۰ فیصد تیل کا بہاؤ ایشیا کی جانب ہوگا۔

بیشتر عرب راہ نما جیسے مصر کے عبدالفتاح السیسی چینی سرمایہ کاروں کو اپنے ملک لانے کے لیے بے چین ہیں۔ انہیں اپنی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور خستہ حال بندرگاہوں کو ٹھیک کرنے کے لیے نقد رقم کی ضرورت ہے۔ السیسی اور کم و بیش ہر دوسرے عرب سربراہِ ریاست نے ۲۰۱۲ء کے بعد سے بیجنگ کا دورہ کیا ہے۔ چینی کمپنیاں تہران میٹرو، مصر میں دو بندرگاہیں اور سعودی عرب کے مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کے درمیان تیز رفتار ریلوے تعمیر کر رہی ہیں۔ نہرِ سوئیز پر خصوصی اقتصادی زون میں چینی سرکردگی میں چلنے والی فیکٹریاں پلاسٹک، قالین اور کپڑے اُگل رہی ہیں۔ ۱۵؍جون کو مصر اور چین نے ۱۰؍ارب ڈالر مالیت کے منصوبوں پر دستخط کیے ہیں۔

اب تک ایک خالص اقتصادی شراکت داری اچھی طرح نبھی ہے۔ چند عربوں کو یہ پریشانی ہے کہ چین خطے کا استحصال کر رہا ہے، یہ احساس صحرا کے جنوب میں بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ رشتہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کئی راہ نما خطے سے امریکا کی ممکنہ واپسی پر مضطرب ہیں۔ اگرچہ حکام جانتے ہیں کہ چین کے پاس امریکا جیسا عسکری و سفارتی اثر نہیں، لیکن بعض چاہتے ہیں کہ چین خلا کو پُر کرنے میں مدد کرے۔ لبنانی وزیر الان حکیم کہتے ہیں کہ چین کو خطے میں ’’سرکردہ سیاسی کردار‘‘ ادا کرنا چاہیے۔ چھ ریاستوں کی تنظیم خلیج تعاون کونسل کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ خلیج، جس نے سلامتی کے لیے طویل عرصے تک امریکا پر انحصار کیا ہے، اب اپنے سیاسی تعلقات کو دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی فروغ دینے کا متلاشی ہے، جن میں چین اولین ہدف ہے۔

چین کے پاس امریکا جیسی ’نرم طاقت‘ نہیں ہے، باوجود سرکاری نشریاتی ادارے کے تحت عربی ٹیلی ویژن چینل چلانے اور چین میں عربی بولنے والوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہونے کے۔ مگر کچھ حلقوں میں چین کو پذیرائی مل رہی ہے۔ آمریت پسند جیسے کہ سیسی، جنہوں نے ۲۰۱۳ء میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سنبھالا تھا، سیاسی تنوع کے بغیر معاشی ترقی کے چینی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے استحصالی حکمرانوں کو یہ بات پسند ہے کہ چین انسانی حقوق کے بارے میں انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرکے پریشان نہیں کرتا۔ جواب میں وہ بھی چین کا خیال رکھتے ہیں۔ ۱۹۸۹ء میں بیجنگ میں جمہوریت کے حق میں ہونے والے احتجاج میں مظاہرین کے قتلِ عام کے محض چند ماہ بعد سعودی عرب نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔

بیجنگ طویل عرصے سے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں ’عدم مداخلت‘ کی پالیسی پر کاربند رہا ہے۔ اس نے ۲۰۰۳ء میں امریکی سربراہی میں عراق پر حملے کی مخالفت کی اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کو روکنے کے لیے روس کے ساتھ ووٹ دیا۔ اس نے فلسطین اور اسرائیل دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے اور ایک دوسرے کے علاقائی دشمنوں ایران اور سعودی عرب کے ساتھ بھی۔ یہ داعش کے خلاف لڑنے والے کم و بیش ۶۰ ممالک کے اتحاد کا ساتھ نہیں دے رہا، جبکہ عراق میں اس کے تیل کے مفادات موجود ہیں اور ایسی غیر مصدقہ رپورٹیں بھی آئی ہیں کہ ۳۰۰ چینی مسلمان وہاں لڑ رہے ہیں۔ شنگھائی ادارہ برائے بین الاقوامی علوم کے لی وی جیان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس مشرقِ وسطیٰ کے معاملات سلجھانے کے لیے آگے بڑھ کر کام کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، نہ ہی ہم نے کبھی اس بارے میں سوچا ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ نہ شی جن پنگ، نہ ہی ان کے وزیراعظم لی کے کیانگ نے اب تک مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کیا ہے۔ جبکہ دنیا بھر میں وہ دورے کر چکے ہیں۔ شی جن پنگ نے اپریل میں سعودی عرب کا دورہ مؤخر کیا۔ شاید اس لیے تاکہ انہیں یمن پر سعودی فضائی حملوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہ کرنا پڑے۔

مگر چین کو اب الگ تھلگ رہنے میں پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر شام پر پیش کی جانے والی قراردادوں کو ویٹو کرنے کی وجہ سے اسے بشار الاسد کا حمایتی سمجھا جانے لگا ہے۔ کئی عرب ممالک میں چینی جھنڈے نذرِ آتش کیے گئے، جب ۲۰۱۲ء میں اس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسد کو ہٹانے کی قرارداد ویٹو کی۔ ویٹو استعمال کرنے کے باوجود وہ شام میں حزبِ اختلاف کے ساتھ بات چیت بھی کر رہا ہے۔

چین نے خطے کے دیگر حصوں میں بھی زیادہ سرگرم کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ان چھ ممالک میں سے ایک ہے جو ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے کسی سودے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ پچھلے سال اس نے ایران کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں میں بھی حصہ لیا۔ اس کی بحریہ خلیجِ عدن میں صومالی قزاقوں سے تجارتی بحری قافلوں کی حفاظت بھی کرتی ہے۔

عرب بہار کے بعد کے ہنگامے نے ایک خطرے کو فروغ دیا ہے۔ چین اپنے تیل کے ذخیروں کو بڑھا رہا ہے اور خطے میں مزید دوستیاں پیدا کرنے کی کوشش میں ہے۔ شی جن پنگ کہتے ہیں کہ وہ جوہری توانائی، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید توانائی میں تعاون کے خواہاں ہیں۔ بعض چینی سرمایہ کار شورش زدہ ممالک جیسے یمن میں سرمایہ لگانے سے خوفزدہ ہیں، جہاں سے تقریباً ۶۰۰ چینی شہریوں کو مارچ میں لڑائی کے دوران واپس چین منتقل کیا گیا تھا جبکہ دوسرے کئی لوگ دبئی جیسے پُرامن مقامات چلے گئے تھے۔ چینی کمپنیوں کی نگاہیں ایران میں نئے مواقعوں پر لگی ہوئی ہیں، جو اس ماہ جوہری سودا طے پانے کے بعد سرمایہ کاری کے لیے کھل جائے گا۔

جیسے جیسے چین کے اقتصادی مفادات بڑھیں گے، وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مشرقِ وسطیٰ کی پُرپیچ سیاست میں پھنس جائے گا۔ پچھلے سال براک اوباما نے داعش کے خلاف لڑائی میں حصہ نہ لینے پر چین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چین بہت عرصے سے ایک ’مفت سوار‘ ہے، جو تیل کی ہموار فراہمی کے بدلے کچھ بھی نہیں کررہا۔ بعض عرب راہنمائوں کو بھی اس سے اتفاق ہے۔

“China and the Arab world: The great well of China”. (“The Economist”. June 20, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*