Abd Add
 

چین، بھارت بنتے بگڑتے تعلقات

چین کے وزیر اعظم وین جیا باؤ بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ایسے میں چین کے حوالے سے بھارت کا رویہ سخت تر ہوتا جارہا ہے۔ ذرا ان معاملات پر غور کیجیے جن میں بھارت کا رویہ سخت رہا ہے۔ دونوں ممالک ایک طویل مدت سے کشیدہ تعلقات کے حامل ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتے آئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع غیر معمولی نوعیت کا حامل رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب بھارت کی حکومت چین کے سامنے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے خم ٹھونک کر میدان میں نکل آئی ہے۔

من موہن سنگھ کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ بیشتر معاملات میں خاصے نرم خو ہیں۔ اب تک کی کارکردگی سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے تاہم ستمبر میں انہوں نے چین کے خلاف حیرت انگیز طور پر سخت رویہ اپنایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ چین اب خطے میں اپنے قدم زیادہ مضبوطی سے جمانا چاہتا ہے اور اسی لیے اپنی بات زیادہ زور دے کر منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے متعدد ممالک کے دورے کیے جن کا مقصد چین میں ابھرتی ہوئی قوم پرستی سے پریشان ہم خیال ممالک سے رابطے بہتر بنانا تھا۔ اکتوبر میں من ہوہن سنگھ نے جاپان سے ایک تجارتی معاہدے پر دستخط کیے۔ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی مختلف سطحوں پر تجارتی معاہدے ہوچکے ہیں۔ ۱۰؍ دسمبر کو چین نے بھارت سے کہا کہ وہ ایک چینی منحرف کو امن کا نوبل انعام دیے جانے پر احتجاج کے طور پر تقریب میں شریک نہ ہو۔ بھارت نے اس فرمائش پر عمل سے انکار کردیا۔ ۱۳؍ دسمبر کو بھارت کی سیکریٹری خارجہ نروپما راؤ نے ایک تقریب میں چینی سفیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھارت کی متحرک اور سرگرم جمہوریت کا عادی ہو جانا چاہیے۔ چینی سفیر نے کہا تھا کہ ۱۵؍ سے ۱۷؍ دسمبر کے دوران چینی وزیر اعظم کے دورہ بھارت کے دوران اختیار کیے جانے والے تنقیدی رویے سے دو طرفہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ چین بار بار انتباہ کر رہا ہے کہ دو طرفہ تعلقات کی خرابی دور کرنا بہت مشکل ہوگا۔ دوسری طرف بھارتی قیادت بظاہر کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ جب وین جیا باؤ نئی دہلی پہنچے تو چند سو تبتی باشندوں کو مظاہرے کے لیے دہلی لایا گیا۔ انہیں مظاہرہ کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وین جیا باؤ کی آمد کے ساتھ ہی تبتی باشندوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کا بھارتی ریاست سکم کا آٹھ روزہ دورہ بھی شروع ہوا۔ یہ ریاست تبت سے ملحق ہے۔ چین نے اس اقدام کو جذبات بھڑکانے والی کارروائی سے تعبیر کیا۔ گزشتہ سال اروناچل پردیش میں بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کہتے ہوئے اپنے علاقے سے تعبیر کرتا ہے۔

چین بھی ایسے اقدامات کرتا رہا ہے جن کا مقصد بظاہر بھارت کو مشتعل ہی کرنا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر میں سڑکوں کی تعمیر کے لیے چین نے ہزاروں فوجی بھیجے۔ مقبوضہ کشمیر کے باشندوں کو بھارتی پاسپورٹ پر ویزا دینے سے انکار کیا گیا۔ پاسپورٹ کے ساتھ علیحدہ کاغذ پر ویزا ضرور دیا گیا۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک بھارتی جرنیل کو ویزا دینے سے بھی چین نے انکار کیا۔

بھارت نے جوابی کارروائی کے طور پر دفاعی امور سے متعلق دو طرفہ اجلاسوں کو مؤخر اور منسوخ کرنا شروع کردیا۔ مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ تو ایک قدم آگے گئے اور تجویز پیش کی کہ ’’جب چین ایک بھارت کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں تو ہم کیوں ایک چین کی پالیسی اپنائیں اور کیوں نہ تبتی باشندوں کو ویزا دینا شروع کردیں۔ اس تجویز پر نئی دہلی کی جانب سے عمل کا بظاہر کوئی امکان نہیں تاہم اتنا ضرور ہے کہ اس تجویز سے چین مشتعل ہوا ہوگا۔

بھارت نے امریکا سے تعلقات بہتر بنائے ہیں۔ ان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کی بدولت بھارت میں نیا اعتماد پیدا ہوا ہے اور وہ چین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔ امریکی صدر براک اوباما نے گزشتہ ماہ بھارت کا دورہ کیا جس کے دوران انہوں نے غیر معمولی تجارتی تعاون اور سرمایہ کاری پر زور دیا۔ انہوں نے بھارت کے لیے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی بات بھی آگے بڑھانے کا وعدہ کیا۔ یہ سب کچھ چین کو مزید مشتعل اور ناراض کرنے کے لیے کافی ہے۔ بھارت اور امریکا کے تعلقات میں یہ گرم جوشی چین کے لیے کسی نہ کسی حد تک ضرور پریشان کن ہے۔

چین اور بھارت تجارت کا دائرہ وسیع تر کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ بھارت بھی چاہتا ہے کہ چین سے تعلقات بہتر بنائے جائیں تاہم وہ اس بات کی شکایت بھی کرتا ہے کہ چین اپنی مارکیٹس کو بھارتی مصنوعات کے لیے کھولنے کے موڈ میں نہیں۔ یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے۔ چین سے تجارت میں بھارت کو بیس ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔ بھارت خام مال بھیج رہا ہے اور جواب میں اسے چین سے تیار شدہ مصنوعات درآمد کرنی پڑ رہی ہیں۔ وین جیا باؤ نے بھارت کے دورے میں اربوں ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ انہوں نے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ فراہم کرنے کا بھی یقین دلایا۔ یہ تمام اعلانات بھارت کی شکایات دور کرنے کے لیے کافی تھے۔ مگر لگتا ہے کہ بھارت کی تشفی نہیں ہوئی۔ چین در اصل بھارت سے آزاد تجارت کا معاہدہ چاہتا ہے۔ ایسا کوئی بھی معاہدہ بھارتی مینوفیکچررز کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کرے گا۔

بھارت بہت سی باتوں سے پریشان ہے۔ تبت میں چین بڑی تعداد میں ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ ان ڈیموں کی مدد سے دریاؤں کا بیشتر پانی چین میں روک لیا جائے گا اور بھارتی دریاؤں کو خاطر خواہ حد تک پانی نہیں مل سکے گا۔

بھارت نے آئی ٹی کے شعبے میں غیر معمولی ترقی کی ہے مگر اب بھی وہ چین سے بہت پیچھے ہے۔ چین کے ہیکرز نے بھارتی کاروباری اداروں اور سرکاری محکموں کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ہیکرز سائبر اٹیکز کے ذریعے بھارت کو غیر معمولی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ چینی پریس میں سرحدی تنازعات کے حوالے سے خاصے انتہا پسندانہ مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ بھارت چاہتا ہے کہ اس حوالے سے چینی میڈیا کا رویہ تبدیل ہونا چاہیے۔

چین کے اخبار گلوبل ٹائمز نے حال ہی میں چین کی اکیڈمی آف ملٹری سائنسز کے ایک محقق کا مضمون شائع کیا ہے جس میں اس بات پر دکھ ظاہر کیا گیا ہے کہ ’’پڑوسیوں نے جو زمین لوٹ لی تھی وہ اب تک واپس نہیں لی گئی۔ اور جب تک یہ زمین واپس نہیں لے لی جاتی، چین اپنی عظمت کا بھرپور یقین کیسے کرسکتا ہے!‘‘

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘لندن۔ ۱۸؍دسمبر ۲۰۱۰ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.