Abd Add
 

چین، جنوبی کوریا کے خلاف عوام کو مشتعل کر رہا ہے!

قوم پرستی کا طوفان

اس ہفتے کے آغاز سے ہی بیجنگ کی ڈسٹرکٹ ویجنگ کے شاپنگ مالز ’’لاٹے‘‘ میں ایک سکوت طاری ہے،مارکیٹ میں اکا دکا خریدار ہی نظر آرہے ہیں، خریدار اس وقت سے خوف کے حصار میں نظر آرہے ہیں جب سے انھوں نے سنا ہے کہ جنوبی کوریا نے ایک معاہدہ کے تحت امریکا کو میزائل مدافعتی نظام نصب کرنے کی اجازت دے دی ہے۔چین کی حکومت عوام کو جنوبی کوریا کے خلاف مشتعل کرنے کی ذمہ دار ہے، نہ صرف چین میں موجود جنوبی کوریا کی دکانوں کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے بلکہ جو کچھ بھی جنوبی کوریا کے خلاف کیاجاسکتا ہے وہ سب کچھ چین کررہا ہے۔

چین قوم پرستی کو اپنے مفادات پورے کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ۲۰۱۲ء میں صدر ژی کے اقتدار میں آتے ہی چین نے جاپان کے جزیرے آئس لینڈ میں قوم پرستی کے حق میں ہونے والے مظاہروں کی حوصلہ افزائی کی تھی۔جنوبی کوریا چین کا ہدف نہیں رہا، لیکن چین اس معاہدے سے پریشان ہے جس میں جنوبی کوریا نے امریکا کو میزائل کا مدافعتی نظام نصب کرنے کی اجازت دی ہے،امریکا کا کہنا ہے کہ میزائل مدافعتی نظام شمالی کوریا کے خلاف پنسلویا کی مدد کرے گا جب کہ چین کا کہنا ہے کہ یہ نظام ریڈارکی مدد سے چین کے میزائلوں کی کھوج لگا کر اس کی کارکردگی کو کم کرے گا اور اسی لیے یہ چین کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

چین کے اخبارات جنوبی کوریا کے اس فیصلے کے خلاف مسلسل اپنی رپورٹس شائع کررہے ہیں۔گلوبل ٹائمز چین کا ایک شدت پسند اخبار اپنے صارف کو اس بات پر تیار کرتا ہے کہ چین کے لیے اب یہ ضروری ہے کہ وہ جنوبی کوریا کی حکومت کو سبق سکھائے۔

کسی بھی ملک کے حالات قابو میں رکھنے کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعے اشتعال انگیز مواد کی روک تھام کی جاتی ہے، لیکن چین کی حکومت نے انٹرنیٹ کے ذریعے جنوبی کوریا کے خلاف مواد شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔ چینی قوم پرستوں کا ایک گروہ انٹرنیٹ پر جنوبی کوریا کے خلاف چین کے عوام کو مسلسل بھڑکا رہا ہے ان کا نعرہ ہے کہ ’’محب وطن لوگو ں کو جنوبی کوریا کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہیے‘‘۔ چین کی ایک مشہور بلاگر جن کے انٹرنیٹ پر بیس لاکھ فالوورز ہیں، لوگوں کو یہ نصیحت کررہی ہیں کہ چینیوں کو جنوبی کوریا کی چیزوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے اور وہاں کا سفر بھی نہیں کرنا چاہیے۔ چین میں موسیقی کا ایک گروہ جنوبی کوریا کے خلاف ان اشعار کے ذریعے لوگوں میں اشتعال پھیلا رہاہے کہ ’’چین کے بیٹوں اب اٹھ کھڑے ہو، لاٹے کی مصنوعات خریدنا بند کرو اور جنوبی کوریا کو چین سے نکال باہر کرو‘‘۔

چین میں لاٹے کی سو سے زائد سپر مارکیٹس اور کاروبار موجود ہے جنہیں بری طرح نشانہ بنایا جارہا ہے، لاٹے کمپنی کو ٹیکس کی بروقت ادائیگی نہ کرنے اور حفاظتی اقدام کو وجہ بنا کر بند کیا جارہا ہے، اس کمپنی کی ویب سائیٹ کو سائبر حملہ کر کے بند کیا جاچکا ہے۔ چین کے زیادہ تر تجارتی اداروں نے لاٹے سے خریدو فروخت بند کر دی ہے۔

خطے میں بگڑتی صورتحال نے جنوبی کوریا میں سیاحت کو بھی نقصان پہنچایا ہے، جنوبی کوریا سیاحت کے لیے مشہور ہے لیکن چین کی ٹریول ایجنسیوں نے جنوبی کوریا کی طرف سفر کرنے سے سیاحوں کو روک دیا ہے ان کے پہلے سے طے شدہ دورے بھی منسوخ کردیے ہیں، دونوں ملکوں کی فضائی کمپنیوں نے اپنے مسافروں کو حالات کی سنگینی سے خبردار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ۱۱مارچ کو جنوبی کوریا میں سیاحت کی غرض سے پہنچنے والے تین ہزار چینیوں نے کشتی سے اترنے سے انکار کردیا دراصل وہ تھاڈ (میزائل مدافعتی نظام) کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

چین میں جنوبی کوریا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ثقافت کو لگام دینے کے لیے یہ وقت بہت مناسب ہے۔ ’’تھاڈ‘‘ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چین نے کوریا کی موسیقی (کے -پاپ) اور ٹی وی ڈراموں پر پابندی لگا دی ہے۔ جنوبی کوریا کے کسی بھی اداکار کو چین میں داخلے کی اجازت نہیں ہے، کوریا کے مشہور موسیقی کے پروگرام، مشہور دھنیں اور پیانو کی تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں، جنوبی کوریاکی کمپنیوں اور ٹی وی چینلوں پر پابندی لگا دی گئی ہے، ٹی وی شوز میں نامور اداکار اور موسیقار کے چہروں کو دھندلا کر کے دکھایا جا رہا ہے اور ان کے ٹی وی شوز اوراشتہارات پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ ’’تھاڈ‘‘ کے حوالے سے عوام میں اشتعال پیدا ہوگا اور جنوبی کوریا کے منتخب ہونے والے صدر کو یہ سمجھنا ہوگاکہ میزائل مدافعتی نظام جنوبی کوریا کے حق میں بہتر نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکام اس حوالے سے پریشان بھی ہیں۔ انھوں نے ’’لاٹے مارکیٹ‘‘ کے اردگرد پولیس تعینات کر دی ہے اورپولیس کی گاڑیاں بھی کسی ناخوشگوار حالات سے نمٹنے کے لیے تیار کھڑی ہیں۔

جیلی میں ۵مارچ کو جنوبی کوریا کے خلاف ہونے والا احتجاج حکومت کے خوف کو ظاہر کرتا ہے، مظاہرین قوم پرست جذبات سے متعلق پوسٹر آویزاں کر سکتے تھے لیکن کچھ مظاہرین نے ماؤزے تنگ کی تصویروں والے پوسٹرآویزاں کر رکھے تھے،ابھی بھی چین کے لوگوں نے ماؤزے تنگ کوایک علامت کے طور پر یاد رکھا ہوا ہے،چینی حکومت کی ان تمام کوششوں کے باوجود یہ ضروری نہیں کہ کمیونسٹ پارٹی حکومت کے موقف کو تسلیم کرلے۔اس وقت صدر ژی کے لیے ’’تھاڈ‘‘ ایک مسئلہ ہے لیکن چین کے اندرونی مسائل کی وجہ سے وہ زیادہ پریشان ہیں۔

(ترجمہ: سمیہ اختر)

“China is whipping up public anger against South Korea”. (“Economist”. March 17, 2017)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*