چین میں قیادت کی تبدیلی

چین میں جب موسم گرما اپنے جوبن پر آتا ہے، یعنی اگست کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو یہاں کی سیاسی اشرافیہ ساحل سمندر کا رخ کرتی ہے۔ جہاں وہ اپنے پسندیدہ موضوع حکومتی جماعت ’’کمیونسٹ پارٹی‘‘ کے مستقبل پر بحث و مباحثہ کرتی ہے۔

ماؤزے تنگ کے دور سے سالانہ بنیادوں پر ہونے والا یہ انتہائی خفیہ اجلاس اس سال بیجنگ سے تقریبا۱۷۵ میل کے فاصلے پرساحلی شہر Beidaihe میں منعقد کیا جا رہا ہے۔یہ سال پچھلے سالوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔کیوں کہ اس سال ملک کی طاقتور ترین سات رکنی’’پولٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی‘‘ کے پانچ ارکان ریٹائر ہونے جا رہے ہیں۔ اس بڑے پیمانے کی تبدیلیاں دس سال میں دو دفعہ ہوتی ہیں۔

صدر شی جن پنگ کے لیے یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ وفادار ساتھیوں کو اس میں شامل کر کے اپنے اقتدارکو مزید طاقتور بنا دیں۔ کون ترقی پا کر اس کمیٹی میں اپنی جگہ بنا پاتا ہے اور کون جگہ بنانے میں ناکام ہوتا ہے،اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے،کیوں کہ دنیا کی اس دوسری بڑی معیشت نے اس صدی کے پہلے حصے میں سست ترین رفتار سے ترقی کی ہے۔

بروکنگز کے John L. Thornton برائے چین کے ڈائریکٹر چینگ لی کا کہنا ہے کہ ’’قیادت کی تبدیلی ہر ملک کے لیے ہی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، لیکن چین میں قیادت کی تبدیلی باہر کی دنیا کے لیے بہت پراسرار ہوتی ہے۔ چین کے اثرورسوخ اور اس کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے ہمیں اس طرف خصوصی توجہ دینا ہو گی‘‘۔

نئی قیادت کا اعلان کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس کے انیسویں اجلاس میں کیا جائے گا(جو کہ ۱۸؍اکتوبر ۲۰۱۷ء کو ہو گا)۔چینی سیاست کے ماہر پروفیسر Mixin Pei کا کہنا ہے کہ ’’اس حوالے سے زیادہ تر چیزیں تو اسی ماہ طے کر لی جائیں گی، لیکن نشستوں پر سودے بازی آخری وقت تک جاری رہتی ہے‘‘۔

قطار میں کون کون کھڑا ہے؟؟

اگرچہ چین میں ایک جماعتی نظام ہے، لیکن ہر قسم کی سیاسی جدوجہد کی طرح پارٹی میں بھی مختلف گروہ ایک دوسرے کے خلاف اور حمایت میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات میں جن باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے ان میں صدر شی سے انفرادی تعلقات، فرد کی حمایت کرنے والے کا اثرورسوخ، موجودہ عہدے میں سنیارٹی، عمر، تجربہ اور قابلیت شامل ہیں۔

اس سارے عمل میں قانون کا زیادہ عمل دخل نہیں ہے۔ یعنی ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ اس کمیٹی کے ارکان کی تعداد سات ہی رکھی جائے،اور ریٹائرمنٹ کی عمر،جو کہ ۶۸ سال مقرر ہے، اسے بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ King’s College لندن میں چینی سیاست کے پروفیسر کیری براؤن کہتے ہیں کہ ’’ایسی تبدیلیوں کے حوالے سے کوئی ادارہ جاتی حدبندی نہیں ہے۔پارٹی جیسا چاہے کر سکتی ہے‘‘۔

چند ناموں پر نظر ڈالتے ہیں جن کا سٹینڈنگ کمیٹی میں شمولیت کا امکان ہے:

Li Zhanshu: یہ کمیونسٹ پارٹی کے دفتر کے ڈائریکٹر ہیں، انہیں صدر شی جن پنگ کا دستِ راست کہا جاتا ہے۔

Zhao Leji: یہ کمیونسٹ پارٹی کے تنظیمی شعبے کے سربراہ ہیں، جو اہم حکومتی عہدوں کے لیے امیدواروں کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور امیدواروں کے نام شارٹ لسٹ کرتے ہیں۔ Zhaoسے پہلے اس عہدے پر رہنے والے آٹھ میں سے پانچ لوگ اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن بنے۔

Wang Huning: یہ چین کے سینٹرل پالیسی ریسرچ کے سربراہ ہیں۔ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ صدر شی کی بیشتر پالیسیوں کے معمار ہیں،’’چینی خواب‘‘ کی مہم کے پیچھے بھی ان ہی کا ذہن کارفرما ہے اور یہ امریکی سیاست کے ماہر ہیں۔

Hu Chunhua: یہ گوانگ ڈونگ صوبے کے پارٹی سیکریٹری ہیں۔یہ امیدواروں میں کم عمر ہیں اور ابھرتے ہوئے ستارے کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔

Han Zheng: یہ شنگھائی کے پارٹی سیکریٹری ہیں۔یہ عہدہ اسٹینڈنگ کمیٹی میں شمولیت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

Wang Qishan: بدعنوانی کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے سربراہ اور صدر شی کے قریبی ساتھی،کافی اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ اب بھی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن ہیں اور ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں، لیکن خبریں یہ ہیں ان کی رکنیت کی مدت میں ایک مدت کی توسیع کر دی جائے گی۔

Wang Yang: یہ چین کے نائب وزیراعظم ہیں، اسٹیٹ کونسل کے رکن ہیں، اور پولٹ بیورو کے دو دفعہ رکن بن چکے ہیں۔

Liu Qibao: یہ پروپیگنڈہ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں جو کہ ایک طاقتور شعبہ ہے،عمومی طور پر اس شعبے کا سربراہ پولٹ بیورو کا رکن بن جاتا ہے۔

طریقہ کار:

یہ ایک مشکل موضوع ہے،کیوں کہ حکومت نے آج تک اس حوالے سے کبھی کوئی سرکاری بیان نہیں دیا۔ اس لیے یہ معاملہ انتہائی خفیہ ہے۔

عموماً ہوتا یہ ہے کہ شی، جو موجودہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سب سے سینئر رکن ہیں، اپنی اشرافیہ سے ممکنہ امیدواروں کے بارے میں رائے لیں گے، اس کے بعد وہ اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے بارے میں لوگوں کو قائل کریں گے۔ صدر شی سابقہ صدور سے بھی رائے لیتے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے کوئی قانون نہیں ہے۔ اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی جب تک کانگریس کا اجلاس نہیں ہو جاتا۔سب سے پہلے تو کانگریس کے عمائدین (جن کی تعداد تقریباً ۲۳۰۰ ہے)نئی سینٹرل کمیٹی(جو کہ ۳۷۰؍ارکان پر مشتمل ہو گی) کو منتخب کریں گے۔نئی سینٹرل کمیٹی کے تقریباً ۲۰۰؍ارکان جن کے پاس ووٹ دینے کے حقوق ہوتے ہیں وہ ’’پولٹ بیورو اور طاقتور اسٹینڈنگ کمیٹی‘‘ کے لیے ووٹ دیتے ہیں۔

ایک بات ذہن میں رہے، یہ بہت ہی کنٹرول ووٹنگ ہوتی ہے۔پہلے جو سینٹرل کمیٹی بنتی ہے اس کے لیے عموماً زیادہ امیدوار ہوتے ہیں،یعنی کہ نشستوں سے تقریباً ۱۰ فیصد زیادہ امیدوار ہوتے ہیں۔

یہ بات یقینی ہے کہ صدر شی ہی اسٹینڈنگ کمیٹی کے مرکزی رکن کے طور پر رہیں گے۔ اور اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ و ہ ایک اور مدت کے لیے پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے سربراہ منتخب ہو جائیں۔ اسی طرح یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ صدر شی اگلے سال کے آغاز میں ہونے والے قانون سازوں کے اجلاس میں دوبارہ صدر منتخب ہوجائیں۔مسئلہ یہ ہے کہ صدر شی کو ووٹ کتنے ملتے ہیں، کیوں کہ اگر کم ووٹ ملے تو یہ صدر شی کے لیے شرمندگی کا باعث ہوگا۔

وزیراعظم لی کیانگ بھی یقینی طور پر اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن رہیں گے۔ اگرچہ ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے کچھ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ۲۰۱۵ء میں اسٹاک مارکیٹ کا ڈوب جانا ان کے لیے مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔

اس سارے عمل میں بہت سے نئے چہرے سامنے آئیں گے۔ اگر ریٹائرمنٹ کی غیر سرکاری طور پر طے شدہ مدت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی تو پولٹ بیورو کے ۲۵ میں سے ۱۱؍ارکان تبدیل ہو جائیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق سینٹرل کمیٹی کی بھی ۷۰ فیصد نشستیں نئے امیدواروں کے لیے خالی ہوں گی۔

ہونے کیا جا رہا ہے؟؟

اس عرصہ میں جو کچھ ہو گا اس سے دنیا کو اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ شی جن پنگ سب روایتوں کو توڑتے ہوئے تیسری مدت تک کے لیے یعنی ۲۰۲۷ء تک صدر رہنے کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں اور کوئی رکاوٹ بھی ان کو تنظیم کا جنرل سیکرٹری رہنے سے نہیں روک سکتی۔اگرچہ قانونی لحاظ سے وہ صرف دو دفعہ یہ عہدہ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں، لیکن شی اس قانون میں ترمیم بھی کر سکتے ہیں۔

Pie کا کہنا ہے کہ تنظیمی طور پر نہ ہی کوئی عمر کی پابندی ہے اور نہ ہی مدت کی پابندی،یہ سب روایتیں ہیں اور آپ کسی بھی قانون کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

ہاکانگ کی Chinese University کے پروفیسر Willy Lam کا کہنا ہے کہ ’’عموماً دوسری مدت کے آغاز میں ہی اس فرد کو ترقی دے دی جاتی ہے، جس کو مستقبل میں عہدہ سنبھالنا ہو،لیکن اگر شی ۱۵ سال کے لیے برسر اقتدار رہنا چاہتے ہیں تو انہیں کسی فرد کو آگے لانے کی ضرورت نہیں‘‘۔

شی جس طرح اختیارات اپنے پاس جمع کر رہے ہیں، یہ چین پر نظر رکھنے والوں کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ خاص طور پر Sun Zhengcai کے منظر عام سے ہٹ جانے کے بعد،جو کہ مستقبل میں اس عہدے کے مضبوط امیدوار تھے اور پولٹ بیورو کے رکن بھی۔

ایک اور علامت جس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ صدر شی تیسری مدت کے لیے صدر رہنے کی بھر پور تیاری کیے ہوئے ہیں وہ گزشتہ ہفتے پیپلز لبریشن آرمی کی ۹۰ ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے وال فوجی پریڈ میں ان کا اعتماد اور جوش تھا۔جو بھی فوج کو کنٹرول کرتا ہے وہی ملک میں مرکزی قوت کا مالک ہوتا ہے۔ ان کا صدر رہنا اس بات پر بھی منحصر ہے کہ چینی عوام ان کو کتنا پسند کرتی ہے۔اگر ملک کی معیشت بہتر ہو رہی ہے اور لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہو رہا ہے، تو شی کا رہنا زیادہ بہتر ہے بجائے ان کے جانے سے۔

(ترجمہ: حافظ محمد نوید نون)

“China’s elite have begun their game of thrones — here are some of the potential winners”. (“cnbc.com”. Aug.3, 2017)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*