Abd Add
 

شاہراہِ ریشم کا احیاء: امکانات اور خدشات

ستمبر ۲۰۱۳ء میں قزاقستان کے دورے میں چین کے صدر شی جن پنگ نے قدیم سلک روٹ (شاہراہِ ریشم) کے احیاء سے متعلق خواب اور جذبے کو بے نقاب کیا۔ یہ خواب پورے وسط ایشیا کو ایک لڑی میں پرونے سے متعلق ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر سلک روڈ اکنامک بیلٹ SREB کی بات کہی۔ یہ آئیڈیا وسط ایشیا کے ممالک کو ایک لڑی میں پروکر ایشیا و بحرالکاہل کے خطے اور یورپ میں ابھرنے والے غیر معمولی معاشی امکانات کو حقیقت کی شکل دینے کے لیے تھا۔ اکتوبر ۲۰۱۳ء میں صدر شی جن پنگ نے اپنے انڈونیشیا کے دورے میں میری ٹائم سلک روڈ آف دی ٹوئنٹی فرسٹ سینچر MSR کا آئیڈیا پیش کیا۔ بیلٹ اور روڈ دونوں کا آئیڈیا ایک ہوکر پورے جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کو معاشی طور پر اس قدر مضبوط کرنے سے متعلق ہے کہ کوئی بھی بیرونی قوت ان کی طرف بُری نیت سے دیکھنے کی ہمت اپنے اندر نہ پائے۔ اب یہ آئیڈیا ون بیلٹ ون روڈ OBOR کہلاتا ہے۔ چین تیزی سے ابھر رہا ہے اور اس کی خارجہ پالیسی میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھیے تو OBOR غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ چین کے صدر نے جو آئیڈیا پیش کیا ہے وہ پورے ایشیا کو حقیقی اکنامک انجن میں تبدیل کرنے اور باقی دنیا کے لیے ایک بہترین مثال کا درجہ اختیار کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چین عالمی سیاست میں اپنے لیے اب کیا کردار چاہتا ہے اور وہ کس حد تک دوسرے خطوں کی تقدیر پر بھی اثر انداز ہوسکے گا۔

چین نے چند برسوں کے دوران ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ دو بر ہائے اعظم کو ملانے والی ریلوے لائنیں بھی تیزی سے حقیقت کا روپ دھارتی جارہی ہیں۔ چین سے جرمنی کے کاروباری مرکز ڈوئز برگ تک دی یکسینو انٹرنیشنل ریلوے کام کر رہی ہے۔ اس ٹرین روٹ کے ذریعے لیپ ٹاپس، جوتے، ملبوسات اور دوسری ایسی اشیا کی ترسیل ہو رہی ہے جو آسانی سے خراب نہیں ہوتیں۔ طبی آلات اور بہت سے اہم شعبوں کی مشینری بھی اسی ریلوے لائن کے ذریعے ایک خطے سے دوسرے خطے میں بھیجی جارہی ہے۔

وسط ایشیا کی ریاستوں نے چین کے صدر کو یقین دلایا ہے کہ اگر وہ پورے وسط ایشیا کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے معاملے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں بھرپور حوصلہ افزا ریسپانس ملے گا۔ چینی صدر کے آئیڈیا کا خیرمقدم کرنے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وسط ایشیا کی ریاستیں ہر طرف سے خشکی میں گھری ہوئی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ باقی دنیا سے ان کا فعال رابطہ ہو اور وہ کاروبار کے علاوہ ثقافت اور علم و فنون کے حوالے سے بھی روابط کی حامل ہوں۔ وسط ایشیا کی چند ایک ریاستیں ذرا محتاط ہوکر چل رہی ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ OBOR کے حوالے سے تمام امور کھل کر بیان نہیں کیے گئے ہیں۔ ہر ملک چاہتا ہے کہ اسے اس پورے منصوبے میں اپنے کردار کے بارے میں بتادیا جائے۔ چینی اسکالر ژونگ شینگ کہتے ہیں کہ بیلٹ اور روٹ کا آئیڈیا بنیادی طور پر کسی سے آگے نکل جانے سے کہیں زیادہ مل جل کر کام کرنے سے متعلق ہے۔ SREB کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ متعدد فریقوں کے مفاد سے وابستہ آئیڈیا نہیں۔ یہ بھی کئی ممالک سے ہوکر گزرے گا۔ اس حوالے سے جامع مشاورت کی ضرورت ہے۔ بہت کچھ ہے جو کہا نہیں گیا ہے اور بہت کچھ ہے جس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

ماہرین کو پوری توقع ہے کہ سلک روڈ اکنامک بیلٹ کے آئیڈیا کو وسط ایشیا کے بیشتر ممالک کی حمایت حاصل ہوگی۔ اس حقیقت کو وسط ایشیا کی کوئی بھی ریاست نظر انداز نہیں کرسکتی کہ چین کے پاس سرمایہ ہی نہیں مشینری اور انتہائی تربیت یافتہ و مستعد افرادی قوت بھی ہے۔ اب تک چین نے جو کچھ کہا ہے اس پر عمل بھی کر دکھایا ہے۔ وسط ایشیا کی ریاستیں اپنی سالمیت کے برقرار رہنے کی ضمانت ضرور چاہیں گی اور چین انہیں یہ ضمانت فراہم بھی کرے گا۔

شاہراہِ ریشم کے ماضی پر ایک نظر

پانچویں صدی عیسوی کے دوران شاہراہِ ریشم کی جو کیفیت تھی اور اس تجارتی راستے کے ذریعے جتنے بڑے پیمانے پر کاروبار ہوا کرتا تھا اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے معاملات کھل کر سامنے آئیں گے۔

قدیم ریشم ۲۰۶ قبل مسیح سے ۲۲۰ عیسوی کے دوران چین پر حکومت کرنے والے تینگ اور ہان خاندانوں کے ادوار میں معرض وجود میں آیا۔ پہلی صدی قبل مسیح کے چینی مؤرخ سیما قیان نے لکھا ہے کہ چین کے طول و عرض میں قدرتی وسائل بھی ہیں اور ملک بھر میں سونے اور جواہر کی شکل میں غیر معمولی دولت بھی موجود ہے۔ سیما قیان نے جو کچھ بیان کیا اس کے مطابق چین میں جو دولت اُس وقت تھی وہ آج کے پیمانے پر پرکھیے تو ہزاروں ارب ڈالر کی تھی۔ سیما قیان نے جو کچھ لکھا تھا وہ برطانوی اخبار فناشنل ٹائمز نے ۱۲؍اکتوبر ۲۰۱۵ء کی اشاعت میں شائع کیا تھا۔ چین کی غیر معمولی دولت نے بھرپور اعتماد پیدا کیا اور اس نے مغرب کی سمت توسیع شروع کی۔ تجارت کے لیے راستے درکار تھے۔ جب چینی تاجروں نے مغرب پر توجہ دی تو موجودہ وسط ایشیا، افغانستان، بھارت اور پاکستان تک تجارتی راستوں کا قیام بھی عمل میں آتا چلا گیا۔ یوں شاہراہِ ریشم کو تقویت بہم پہنچتی رہی۔ چین میں کیان کے مقام سے یورپ تک کم و بیش چار ہزار میل کا تجارتی راستہ بنا جس نے مشرقی ایشیا، وسط ایشیا، بحیرۂ روم اور دیگر خطوں کو جوڑ دیا۔ یہ ۸۰۰ سال پہلے کی بات ہے۔ تجارتی قافلوں کی معرفت ثقافتوں اور تاریخی ورثے کا بھی پھیلاوا ممکن ہوسکا۔

شاہراہِ ریشم کے پنپنے سے سیاسی تفاعل بھی بڑھا۔ کئی خطے ایک دوسرے کے نزدیک آئے۔ لوگ ایک دوسرے سے آشنا ہوئے تو بہت کچھ تبدیل ہوا۔ نئی سوچ پیدا ہوئی۔ لوگوں نے ایک دوسرے کے خطے میں جانا شروع کیا تو نئی روایت اور علوم و فنون سے آشنا ہوئے اور یوں ذہنوں میں وسعت پیدا ہوئی۔ اس وسعت نے زندگی کا کینوس بھی وسیع کردیا۔ ہر تجارتی مرکز بہت حد تک علوم و فنون کے تبادلے کا بھی مرکز تھا۔ جہاں تجارت پنپتی تھی اور مالدار لوگ رہا کرتے تھے وہاں اہل علم و فن بھی ڈیرے ڈالتے تھے اور ان کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ ان سے بہت کچھ سیکھ کر اپنے اپنے خطوں میں جاتے تھے اور انہیں بتاتے تھے کہ کس خطے میں کون کون سے علوم و فنون پروان چڑھ رہے ہیں۔

تاریخی اعتبار سے وسط ایشیا غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ تجارتی راستوں کا مرکز بھی تھا جس کی بدولت مشرق اور مغرب کی منڈیوں کو ایک دوسرے تک رسائی میسر آتی تھی۔ تجارت کے بڑھنے سے دولت بھی وسعت پاتی تھی۔ لوگ تجارت کے ذریعے بہت کچھ کماتے تھے اور یوں ان کی زندگی میں بہت سی تبدیلیوں کی راہ ہموار ہوتی تھی۔ ہزاروں سال سے بھارت مسالوں، اعلیٰ درجے کے کپڑے، ہاتھی دانت کی مصنوعات اور دوسری بہت سی اشیا کا مرکز رہا ہے۔ بھارت کے مسالے، ملبوسات، ہاتھی دانت کی مصنوعات کے علاوہ زیورات بھی دنیا بھر میں مقبول تھے۔ شاہراہِ ریشم کے ذریعے بھارت کا تجارتی سامان یورپ اور عرب تک پہنچتا تھا۔ چین کے لوگ زیورات، ہاتھی دانت کی مصنوعات اور دوسری بہت سی قیمتی اشیا کے شوقین اور قدر دان تھے۔ پہلے ہزاریے میں شاہراہِ ریشم غیر معمولی اہمیت کی حامل رہی۔ ان دس صدیوں میں رومن اور اس کے بعد بازنطینی سلطنتوں کی قیادت میں شاہراہِ ریشم کے ذریعے بہت بڑے پیمانے پر تجارت ہوتی رہی۔ تب چین میں تینگ خاندان کی حکومت تھی۔ ۶۰۰ سے ۹۰۰ عیسوی تک کی بات ہے۔

پانچویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگوں اور ان کے بعد وسط ایشیا سے اٹھنے والے منگول لشکر نے شاہراہِ ریشم کی رونق ختم کردی۔ یہ تجارتی راستہ غیر محفوظ ہو گیا۔ تجارتی قافلے لُوٹے جانے لگے تو تجارت بھی کم ہوگئی۔ چھٹی صدی عیسوی تک یورپ سے چین اور وسط ایشیا کی تجارت بہت حد تک سمندری راستوں پر منتقل ہوگئی۔ بحری راستے تیز بھی تھے اور سستے بھی۔

آج وسط ایشیا کی ریاستیں خطے سے باہر کے ممالک سے رابطوں میں انتہائی دشواری محسوس کرتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ باقی دنیا سے ان کا رابطہ بحال ہو اور وہ معاشی امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ یہ ریاستیں عالمی معیشت میں اپنا کردار چاہتی ہیں۔ عالمی تجارتی تنظیم کی رکنیت تو انہیں ملی ہوئی ہے مگر تجارت کے معاملے میں انہیں اب تک روس ہی پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ روسی معیشت میں پیدا ہونے والی کسی بھی خرابی کا اثر پورے وسط ایشیا کی معیشت پر مرتب ہوتا ہے۔ روسی کرنسی کی قدر میں تبدیلی آتی ہے تو وسط ایشیا کی ریاستوں کو بھی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہم عالمگیریت کے دور میں جی رہے ہیں۔ ایسے میں تجارت اور سرمایہ کاری کسی بھی ملک کے لیے حقیقی معنوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں معاشی تعلقات اور امکانات کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ لازم ہوگیا ہے کہ ایک خطے کے ممالک آپس میں جڑے ہوئے ہوں اور مختلف خطوں کی تجارتی، سیاسی اور سفارتی تنظیمیں روابط رکھیں تاکہ کسی بھی پیچیدہ صورتحال کو بہتر انداز سے درست کیا جاسکے۔ مشرق اور مغرب کے درمیان تجارتی اور دیگر روابط کی غیر معمولی اہمیت برقرار ہے۔ اسی طور شمال اور جنوب کے درمیان رابطوں کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ چند برسوں کے دوران ان خطوں کو جوڑنے سے متعلق متعدد منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ وسط ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان بہتر تجارتی روابط یقینی بنانے کے لیے متعدد منصوبوں کا آغاز اس یقین کے ساتھ کیا گیا ہے کہ اب یہ تمام خطے ایک لڑی میں پروئے جاسکیں گے۔

دی سلک روڈ اکنامک بیلٹ

قومی ترقی اور اصلاحات سے متعلق چینی کمیشن NDRC نے ۲۰۱۵ء میں ایک دستاویز شائع کی جس میں اس امر کا جائزہ لیا گیا تھا کہ اکیسویں صدی میں شاہراہِ ریشم سے جڑے ہوئے اکنامک بیلٹ اور بحری راستوں میں اس حوالے سے امکانات کیوں کر تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ اس دستاویز میں اس امر کا بھی جائزہ لیا گیا تھا کہ اگر چین خطے کے تمام ممالک سے بہتر روابط کے ذریعے ایک بڑا تجارتی راستہ تیار کرتا ہے تو اس کی تعمیر کے لیے فولاد، سیمنٹ اور دیگر اشیا کی بڑے پیمانے پر ضرورت پڑے گی۔ اس میں ایک طرف تو معاشی امکانات ہیں اور دوسری طرف متعلقہ ممالک سے تعلقات غیر معمولی حد تک بہتر ہونے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ دی سلک روڈ اکنامک بیلٹ SREB چین میں شیان سے شروع ہوکر روس میں ختم ہوتی ہے۔ ۸۴۰۰ کلومیٹر کے اس روٹ میں ۳۴۰۰ کلومیٹر چین میں، ۲۸۰۰ کلومیٹر قزاقستان میں اور ۲۲۰۰ کلومیٹر روس میں ہے۔ اس تجارتی راہداری کی تعمیر کی صورت میں عوامی سطح پر رابطوں کی گنجائش میں بھی اضافہ ہوگا۔ NDRC کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ SREB کے قیام سے ایک طرف تجارت بڑھے گی، مالیاتی استحکام پیدا ہوگا، خطے کے ممالک ایک دوسرے پر اپنے انحصار میں اضافہ کرسکیں گے، ان کے درمیان اختلافات کم سے کم ہوتے چلے جائیں گے اور اضافی فائدہ یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ چین، منگولیا، روس تجارتی راہداری بھی قائم ہوسکے گی۔ اس صورت میں یوریشیا کا خطہ زیادہ تیزی سے ترقی کرنے کی پوزیشن میں آسکے گا۔ چین، پاکستان، بنگلادیش، میانمار، افغانستان اور دیگر بہت سے ممالک تجارتی امکانات کی ایک نئی دنیا سے متعارف ہوں گے۔ ان کے درمیان تعاون بھی بڑھے گا اور بہتر انداز سے معاشی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت بھی پروان چڑھے گی۔

چین کے لیے شاہراہِ ریشم کے احیاء کا معاملہ ناگزیر حیثیت اختیار کرچکا ہے اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ مستقبل کے لیے بہت سی تیاریوں میں اس تجارتی راستے کو کلیدی حیثیت دینا چاہتا ہے۔ وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کو اپنے ساتھ ملاکر وہ معاشی اعتبار سے انتہائی مستحکم خطہ یقینی بناتے ہوئے عالمی سیاست میں نیا، ٹھوس اور جامع کردار ادا کرنے کا خواہش مند ہے۔ چین چونکہ ’’نرم قوت‘‘ پر یقین رکھتا ہے اس لیے وہ امریکا یا یورپ کی طرز پر عسکری مہم جوئی کے بجائے تجارتی امکانات کے ذریعے اپنی پوزیشن بہتر بنانا چاہتا ہے۔ چین دو بڑے خطوں (وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا) کو ملاکر ایک ایسا تجارتی راستہ تیار کرنے کا خواہش مند ہے جس کی مدد سے عالمی سیاست میں اپنی پوزیشن فیصلہ کن بنائی جاسکے۔ اس صورت میں خطے کے ممالک کو بھی بہت سے فوائد کا پہنچنا ممکن ہوسکے گا۔ ساتھ ہی ساتھ چینی قیادت اپنے ملک کے مغربی حصے کو بھی نمایاں کرنا چاہتی ہے۔ چین کی ترقی کا زور مشرقی اور جنوبی حصوں کی طرف رہا ہے۔ مغربی چین کا بیشتر رقبہ غیر ترقی یافتہ پڑا ہے۔ چین اور روس کے تعلقات بہت اچھے نہیں رہے۔ عالمی سیاست میں دونوں ایک دوسرے کے مقابل رہے ہیں مگر اب معاملات کو تبدیل کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ چین چاہتا ہے کہ روس اُسے مخالف ملک کے روپ میں نہ دیکھے۔ جارجیا سے ہوکر وہ ایک ایسی ریلوے لائن بچھانا چاہتا ہے جو روس تک جاتی ہو۔ جارجیا میں بحیرۂ اسود کی متعدد پرکشش بندرگاہیں ہیں۔ یوں سلک روڈ اکنامک بیلٹ SREB اور میری ٹائم سلک روٹ MSR چین کے فلیگ شپ پروجیکٹس ہیں۔

عالمی سیاست میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے چین اب تک عسکری مہم جوئی سے گریز کرتا آیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ’’نرم قوت‘‘ کے ذریعے اپنی پوزیشن بہتر بنائے اور زیادہ سے زیادہ ممالک کو اپنے ساتھ ملاکر چلے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اس نے تجارت، صنعت، مالیات اور ثقافت کا راستہ اپنایا ہے۔ وہ خطے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ وسط ایشیا کو چین کسی بھی طور نظر انداز نہیں کرسکتا کیونکہ یہ خطہ چین کے بہت نزدیک ہے۔ تھوڑی سی توجہ سے بہت سے امکانات کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ خشکی اور سمندری راستوں پر تجارت کو فروغ دینا چینی خارجہ پالیسی کا بنیادی جُز ہے۔ ایسے میں چین کا وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا میں غیر معمولی دلچسپی لینا حیرت انگیز ہے نہ تشویشناک۔ آکسفرڈ کے وورسٹر کالج کے سینئر ریسرچ فیلو اور آکسفرڈ یونیورسٹی کے سینٹر فار بائزنٹائن ریسرچ کے ڈائریکٹر پیٹر فرانکوپن کہتے ہیں کہ چین کو ترقی کا سفر جاری رکھنے کے لیے قدرتی وسائل کی بڑے پیمانے پر ضرورت ہے۔ اس کے لیے لازم ہے ہر اس ملک سے روابط بہتر بنائے جائیں جس کے پاس یہ وسائل بڑی مقدار میں ہوں۔ یہی سبب ہے کہ چین وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لے رہا ہے۔ وہ متعلقہ ممالک کی بندرگاہوں، شہروں اور آبی راستوں سے بھی کماحقہ مستفید ہونا چاہتا ہے۔ افریقا میں بھی چین نے حیرت انگیز تیزی سے غیر معمولی سرمایہ کاری کی ہے۔ قدرتی وسائل نکالنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ تیل کے ساتھ ساتھ چین کو خام لوہا اور دیگر دھاتیں بھی درکار ہیں۔ افریقا کے متعدد انتہائی پس ماندہ ممالک میں چین نے نمایاں حد تک سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ معاملہ اب اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ یورپ اور امریکا کو بھی افریقا میں اپنے مفادات خطرے میں دکھائی دے رہے ہیں۔ سرمایہ کاری بڑھتی ہی جارہی ہے۔ چین نے اب تک یہی تاثر دیا ہے کہ وہ کسی بھی ملک سے کسی معاملے میں زیادتی کا خواہش مند نہیں۔ عسکری مہم جوئی کے بجائے وہ معاشی امکانات کو بروئے کار لاکر صورتحال کو اپنے حق میں کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ OBOR کی مدد سے چین فولاد سازی اور تعمیراتی ساز و سامان کی صنعت کو قابل رشک حد تک فروغ دے سکتا ہے۔ نئے تجارتی راستوں کی تلاش یا تیاری چین کی اندرونی ضرورت کے لیے بھی ہے۔ چین میں بہت سے علاقے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان پر متوجہ ہونا لازم ہے۔ اگر ایسا نہ کیا تو ملک غیر متوازن ہوکر رہ جائے گا۔ آبادی کا حجم اور نوعیت دیکھتے ہوئے صورتحال کو بہتر بنانا وقت کی ضرورت ہے اور چینی قیادت وقت ضائع کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ چین کو تیل، گیس، یورینیم، تانبے اور سونے کی بڑے پیمانے پر ضرورت ہے۔ وہ کسی بھی ایسے ملک کو نظر انداز نہیں کرسکتا جہاں یہ قدرتی وسائل وافر مقدار میں پائے جاتے ہوں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چینی صدر نے ملک کے نمایاں آجروں سے کہا ہے کہ وہ دس سال میں OBOR ممالک سے کم و بیش ڈھائی ہزار ارب ڈالر کی تجارت ممکن بنانے کے حوالے سے تیاری کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں کلیدی کردار وسط ایشیا کے ممالک کو ادا کرنا ہے۔

چینی قیادت اس بات کو سمجھتی ہے کہ تمام انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھنے چاہئیں۔ سرمایہ کاری کے حوالے سے تنوع کو غیر معمولی اہمیت دی جارہی ہے۔ کوشش کی جارہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تنوع کے ساتھ سرمایہ کاری کی جائے تاکہ کسی بھی پریشان کن صورت حال میں بہت کچھ داؤ پر نہ لگے اور معاملات کو درست کرنے کی گنجائش موجود رہے۔ برآمدات میں بھی تنوع لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چین گارمنٹس، کھلونوں اور چھوٹے موٹے گھریلو آئٹمز کا بڑا برآمد کنندہ رہا ہے۔ اب اس حوالے سے نئی سوچ اپنائی جارہی ہے۔ ہیوی مشینری اور بھاری قیمت کی دیگر اشیا اور متعلقہ خدمات برآمد کرنے پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔

چینی قیادت اس نکتے پر بھی توجہ دے رہی ہے یوریشیا کے جن ممالک سے بہتر تجارتی اور صنعتی روابط استوار کرنے ہیں ان کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ رہے۔ محض تجارتی فوائد سمیٹنے پر توجہ نہیں دی جارہی بلکہ متعلقہ ممالک کو بھی کسی نہ کسی حد تک مضبوط بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ بہت سے ممالک کے لیے خوراک اور توانائی بنیادی مسائل کا درجہ رکھتے ہیں۔ چین اس حوالے سے ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ بھی چینی قیادت کے عزائم پر بھروسہ کریں اور کسی بھی مخالف ملک کے پروپیگنڈے کا اثر قبول نہ کریں۔ چین وسط ایشیا کو عالمی سیاست میں قابل ذکر کردار دلانے پر بھی کام کر رہا ہے۔ شلر انسٹی ٹیوٹ کے بانی ہیلگا زیپ لا روچے کہتے ہیں کہ چین نے بے مثال تیزی سے ترقی کی ہے۔ ہر وہ ملک ایسی ہی ترقی یقینی بنانا چاہتا ہے جو چین کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ اور خود چین بھی چاہتا ہے کہ جن ممالک سے وہ بہتر تجارتی روابط چاہتا ہے وہ ترقی کریں اور اتنے مضبوط ہوں کہ ان سے تجارتی تعلقات مزید فوائد کا حصول یقینی بنائیں۔ قزاقستان، جارجیا، ازبکستان، آذر بائیجان اور کرغیزستان میں ترقی کی گنجائش موجود ہے۔ ان ممالک سے گزرتا ہوا تجارتی راستہ روس سے ہوکر یورپ تک پہنچے گا۔ اسی روٹ پر ترکی بھی واقع ہے جو خاصا ترقی یافتہ ہے اور چین کے لیے خاصا معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ جنوبی تجارتی راستہ ترکمانستان اور ایران سے ہوتا ہوا خلیج فارس کی ریاست عمان تک پہنچتا ہے۔

چین کی ترقی پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ چین کے ۳۱ صوبے ہیں اور یہ تمام کے تمام مساوی سطح پر ترقی یافتہ نہیں۔ مشرقی صوبوں میں ترقی کی رفتار تیز رہی ہے۔ یہی حال جنوب کا ہے۔ مشرقی اور جنوبی چین میں وہ بڑے شہر ہیں جو سرمایہ کاری، مالیات اور صنعت و تجارت کا مرکز ہیں۔ چینی قیادت اس بات کو پوری شدت سے محسوس کرتی ہے کہ ترقی کا سفر پورے ملک میں یکساں مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ معاشی ناہمواری بڑھتی جارہی ہے۔ ایسے میں لازم ہے کہ مغربی اور شمالی چین کی ترقی یقینی بنانے پر خاطر خواہ توجہ دی جائے۔ یہی سبب ہے کہ عالمی تجارت میں چین کا کردار وسیع تر کرنے پر محنت کی جارہی ہے۔ چین کے کئی صوبے بھی وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا سے بہتر تجارتی روابط کی راہ دیکھ رہے ہیں کیونکہ ایسا ہوا تو خود ان کی ترقی کی راہ بھی ہموار ہوگی اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز تر کی جاسکے گی۔ کنچیانگ اور گوانگ زو دو ایسے صوبے ہیں جو اپنی ترقی کے لیے مرکزی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب وہ عالمی معیشت میں اپنا کردار وسیع تر کرتی ہے اور کب امکانات کی بارش ہوتی ہے۔

ارمقی، کاشغر اور خورگوز کے علاقے شاہراہِ ریشم کا حصہ ہوں گے۔ OBOR سے یہ تمام شہر اور ان سے ملحق علاقے تیز رفتار ترقی ممکن بنا سکیں گے۔

چین کے لیے صرف معاشی معاملات ہی اہم نہیں۔ وہ سیکورٹی کے حوالے سے بھی متعدد امور میں الجھا ہوا ہے۔ مغربی چین کے کئی علاقے سلامتی کے اعتبار سے خطرناک شکل اختیار کرچکے ہیں۔ بہتر تجارتی امکانات ان علاقوں کے لیے بھی تبدیلی لے کر آئیں گے اور وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوکر منفی سرگرمیوں سے کماحقہ آزاد ہوسکیں گے۔ سنکیانگ میں اوغور نسل کے مسلمانوں میں بعض عناصر علیٰحدگی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ چین انہیں کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ اوغور نسل کے مسلمانوں کی بڑی تعداد وسط ایشیا میں رہتی ہے۔ چین اس حوالے سے اپنا اطمینان یقینی بنانا چاہتا ہے تاکہ امکانات کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔ شاہراہِ ریشم کی بحالی سے چین کے مغربی علاقوں کے باشندے بھی ترقی سے ہم کنار ہوں گے۔ بہتر معاشی امکانات ان میں منفی رجحانات کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

چین جو کچھ کر رہا ہے وہ یورپ اور امریکا دونوں کے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔ یورپ تو بہت حد تک نرم قوت کی طرف آچکا ہے مگر امریکا اب تک عسکری مہم جوئی کی راہ ہی پر گامزن ہے۔ اس نے چین کو کنٹرول کرنے کے لیے ۲۰۲۰ء تک ایشیا میں افواج کی نئی تعیناتی کا شیڈول جاری کیا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ چین کو الگ ہٹاکر ایشیا و بحرالکاہل کے خطے کے ممالک سے تجارتی معاہدے کے حوالے سے بات چیت شروع کی ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طور چین کو گھیر لے یعنی اسے معاشی امکانات سے زیادہ مستفید نہ ہونے دے۔ اس معاملے میں وہ مشرق اور جنوب پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ امریکا اور یورپ کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ OBOR سے وسط ایشیا اور یوریشیا کے بیشتر ممالک کے لیے محض تجارت نہیں بلکہ ہمہ گیر ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔ یہ بات چین کے حق میں جائے گی۔ جو ممالک چین کی مدد سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے ان کا جھکاؤ فطری طور پر چین کی طرف ہوگا۔ کسی بھی مشکل صورت حال میں وہ چین ہی کی طرف دیکھیں گے۔ دوسری طرف روس بھی چین کی طرف جھک رہا ہے۔ روس بڑی معیشت ہے۔ اگر وہ چین کو مخالف سمجھنا ترک کردے تو خطے میں حقیقی امن کی راہ ہموار ہوکر رہے گی۔ روس اور چین مل کر ایک ایسا بلاک تشکیل دے سکتے ہیں جو امریکا اور یورپ کے لیے امکانات کو محدود کرتا جائے گا۔ وسط ایشیا ایک زمانے سے پس ماندگی کا شکار ہے۔ اگر چین اور روس مل کر اس خطے کو مضبوط بنادیں تو ایک بڑے معاشی اور سفارتی بلاک کی تشکیل کوئی نہیں روک سکتا۔ اس سے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے کہ عشروں سے پس ماندگی کا شکار رہنے والے خطے حقیقی ترقی اور استحکام سے ہم کنار ہوکر عالمی سیاست میں کوئی اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آجائیں؟

عالمی بینک کی ریجنل ڈائریکٹر (وسط ایشیا) سروج جھا کہتے ہیں کہ ہائیڈرو کاربن اور دیگر کلیدی اشیاء (کپاس، المونیم وغیرہ) کے علاوہ وسط ایشیا میں بیشتر ممالک کا پیداواری ڈھانچا محدود ہے۔ یہ آپس میں تجارت سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ اگر انہیں دوستانہ ماحول میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا راستہ مل جائے تو اس سے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے؟

یہ نکتہ بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وسط ایشیا اور یوریشیا کے بیشتر ممالک چین کی طرف دیکھنے پر اس لیے بھی مجبور ہیں کہ کسی اور قوت نے کبھی ان کے استحکام پر توجہ نہیں دی۔ روس، امریکا اور یورپ نے وسط ایشیا اور یوریشیا کو محض استعمال کیا ہے۔ امریکا آج بھی ان ممالک کو اپنے فوجی اڈوں کے لیے دستیاب سرزمین سے بڑھ کر کچھ بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے میں اگر چین کی طرف سے ترقی کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں تو آزمانے میں کیا ہرج ہے؟ چین چاہتا ہے کہ یہ خطے ایک خاص حد تک ترقی یافتہ اور مستحکم ہوجائیں۔ ان کی ترقی سے چین کے لیے بھی امکانات بہتر ہوں گے اور وہ عالمی معیشت میں شاندار کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ سلک روڈ اکنامک بیلٹ کسی ایک تجارتی راستے کا نام نہیں۔ اس راستے پر کئی تجارتی راستوں کے لیے شاخیں پھوٹتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بڑا تجارتی راستہ تمام جڑے ہوئے علاقوں کی ترقی کا وسیلہ ثابت ہوسکے گا۔ معاملات سائبیریا، منگولیا اور قزاقستان تک پہنچتے ہیں۔ اگر یہ پورا خطہ ڈھنگ سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو تو خطے میں چین کو احترام کی نظر سے دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ کئی تجارتی راستے ایک زمانے سے فعال ہیں مگر اب انہیں فعال تر کیا جارہا ہے۔ دنیا بھر سے جدید ترین اشیاء، گاڑیاں اور مشینری وغیرہ چین بھیجنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے اور دوسری طرف چین سے سستی اشیاء کے ہزاروں کنٹینرز بھی ایشیا اور یورپ کے ممالک بھیجے جاتے رہے ہیں۔ اس صورت حال سے روس کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔ اس کے کئی علاقے تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی بدولت بہتر امکانات سے ہم کنار ہوئے ہیں۔

ایران سے بھی چین کے تجارتی روابط رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے کسٹمز کے حوالے سے پیچیدگیاں دور کرنے پر توجہ دی ہے۔ ایرانی قیادت چین کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو سمجھتی ہے اور اب اس بات کے لیے رضامند دکھائی دیتی ہے کہ پاک چین راہداری سے جڑے ہوئے منصوبوں میں اُسے بھی کسی نہ کسی حد تک شریک کیا جائے۔ خطے کے چند ممالک پاک چین راہداری منصوبے کو اب تک شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں مگر ایرانی قیادت بظاہر اس بات کے لیے تیار ہے کہ بڑھتے ہوئے معاشی امکانات سے کماحقہ استفادہ کیا جائے۔

یوکرین اور روس دونوں ہی نے چین کے ساتھ کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جو اس امر کی غماز ہے کہ انہیں چینی قیادت کے عزائم پر بھروسہ ہے۔ روس کے لیے خاص طور پر یہ معاملہ بہت اہم ہے کیونکہ وہ اب تک یہ طے نہیں کرسکا ہے کہ اسے اپنے آپ کو یورپی طاقت شمار کرنا چاہیے یا ایشیائی۔ چین کے ساتھ مل کر وہ یورپ اور امریکا دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔

چین نے شاہراہِ ریشم کے احیاء سے متعلق اپنے وژن کے چند ایک نکات اب تک کھل کر بیان نہیں کیے ہیں جس کے باعث تھوڑا بہت ابہام پایا جاتا ہے۔ مگر یہ واضح نہیں کہ تجارتی حوالے سے جڑے ہوئے ممالک اپنی انفرادی ترقی اور استحکام کو کس طور برقرار رکھ سکیں گے اور علاقائی و عالمی سیاست میں ان کا کردار کیا ہوگا۔ روس اس حوالے سے فکر مند ہے کہ چین کے وژن میں سب کچھ دو طرفہ بنیاد پر دکھایا گیا ہے۔ اس امر کی وضاحت نہیں کہ کوئی بھی ملک معاشی امکانات سے کس حد تک مستفید ہوسکے گا۔ روس بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرتا کہ چین جو کچھ کرنا چاہتا ہے اس کے نتیجے میں بہت بڑے پیمانے پر تجارتی اور صنعتی سرگرمیاں شروع ہوں گی اور معیشت کا پہیہ بہت تیزی سے گھومے گا۔ شنگھائی تعاون تنظیم، جنوب مشرقی ایشیائی اقوام تنظیم کی تنظیم آسیان، ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن ایپیک اور ایشیا یورپ میٹنگ جیسی تنظیمیں اور گروپ موجود ہیں جو امکانات کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ خطے میں جاپان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جاپان اب تک خطے میں تنہا کھڑا ہے۔ وہ یورپ اور امریکا پر انحصار پذیر ہے۔ چین سے اس نے تعلقات بہتر بنانے پر غیر معمولی محنت نہیں کی۔ اس حوالے سے ماضی بھی بہت منفی کردار ادا کر رہا ہے۔ جاپانیوں نے چین کو فتح کرنے کے بعد چینیوں پر بہت مظالم ڈھائے ہیں۔ ایسے میں چینیوں کے لیے جاپان پر بہت زیادہ بھروسہ کرنا ممکن نہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک پر جاپان کا اثر زیادہ ہے۔ جاپان کے زیر اثر بھی کئی تجارتی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ انہیں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

وسط ایشیا کا ریسپانس اب تک تو خاصا حوصلہ افزا رہا ہے۔ چینی ادارے وسط ایشیا کے قدرتی وسائل سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونا چاہتے ہیں۔ تیل، گیس، یورینیم، سونا اور تانبا نکالنے کے ساتھ ساتھ چینی اداروں نے ان ممالک میں سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولتیں بھی تعمیر کی ہیں۔ ریل روڈ، آئل ریفائنری اور دیگر تنصیبات کا معیار بلند کرنے کے ساتھ ساتھ چین نے ٹیلی مواصلات پر بھی خاص توجہ دی ہے۔

چین کو اپنے اکنامک وژن اور بالخصوص شاہراہِ ریشم کے احیاء سے متعلق ہر تصور کو کھل کر بیان کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی ملک کی نظر میں کوئی بھی معاملہ مشکوک یا وضاحت طلب نہ رہے۔ چین جو کچھ کرنا چاہتا ہے اس میں ہر ملک اس لیے دلچسپی لے رہا ہے کہ معاملات صرف تجارت تک محدود نہیں رہیں گے، متعلقہ ممالک میں بنیادی ڈھانچا بھی مضبوط ہوگا اور وہ اپنی ترقی یقینی بنانے میں زیادہ کامیاب رہیں گے۔

چند ایک ممالک اپنی سلامتی، سالمیت اور خود مختاری کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہیں۔ چینی قیادت کے لیے لازم ہے کہ ان کے خدشات دور کرے اور تمام معاملات کو کھل کر بیان کرے تاکہ وہ چین کے ساتھ ہر منصوبے میں شرح صدر کے ساتھ شریک ہوں۔ چینی قیادت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس حوالے سے پروپیگنڈا بھی کیا جارہا ہے۔ چین کے عزائم سے چھوٹے ممالک کو ڈرایا جارہا ہے۔ امریکا اور یورپ کے ہاتھ سے بہت کچھ نکل رہا ہے۔ ایسے میں اُن کی طرف سے خطوں اور ممالک کو ڈرانا اور چین کے حوالے سے تحفظات میں مبتلا کرنے کی کوشش کرنا ذرا بھی حیرت انگیز نہیں۔ ترقی تو ہر ملک کرنا چاہتا ہے مگر اپنی سلامتی اور سالمیت کی قیمت پر نہیں۔ ساتھ ہی قومی معیشت کے تمام پہلو بھی ذہن نشین رکھنا ہوتے ہیں۔ ایک بڑا خطرہ یہ ہے کہ چین معاشی اعتبار سے سب کو ہڑپ نہ کرلے۔ ترکمانستان اور ازبکستان نے اس طرف زیادہ توجہ دی ہے۔ ترکمانستان میں چینی کمپنیاں کام تو کرسکتی ہیں مگر ان کی ۷۰ فیصد لیبر ملک سے آئے گی۔ اور ازبکستان کی حکومت کہتی ہے کہ چینی ادارہ صرف سینئر منیجمنٹ بھیجے، افرادی قوت تو ملک ہی کی رہے گی۔

وسط ایشیا اور یوریشیا کی ریاستوں کے لیے بہت کچھ بہت خوش نما ہے مگر وہ بہت محتاط ہوکر آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ غیر ضروری جذباتی پن چند ایک غلط فیصلے بھی کراسکتا ہے۔ قزاقستان، ترکمانستان اور دیگر ممالک میں تجارتی روابط بہتر بنانے کے لیے راہداری کی تعمیر جاری ہے۔ بہت کچھ بنایا جارہا ہے، گویا ایک نیا عہد جنم لے رہا ہے۔ قزاقستان اور ترکمانستان کے درمیان پایا جانے والا ریل روڈ لنک ایران تک لایا جارہا ہے۔ اسی طور تاجکستان، افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان بھی لنک تیزی سے تکمیل کی طرف گامزن ہے۔ خطے کے بیشتر ممالک پہلے ہی ایک دوسرے سے جڑنے کو بے تاب ہیں۔ ایسے میں چین اگر بہتر امکانات فراہم کرے تو معاملات تیزی سے تکمیل کی طرف بڑھیں گے۔

کرغیزستان اور تاجکستان میں چین کے بہت سے تجارتی اور صنعتی ادارے تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ ان دونوں ممالک میں چینی مزدور بھی بڑی تعداد میں دکھائی دے رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ سب تھوڑی تشویش کا باعث ہوسکتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ چین اپنے لیے شاہراہِ ریشم کے احیاء کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک کو بھی زیادہ سے زیادہ مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ ۷۰ فیصد افرادی قوت کے ساتھ ساتھ ۶۰ فصد خام مال بھی چین سے آرہا ہے۔ بنیادی ڈھانچا مضبوط کرنے کا عمل ہوش ربا تیزی سے جاری ہے۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ امریکا اور یورپ کے زیر اثر کام کرنے والے بڑے مالیاتی ادارے (عالمی بینک، آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک) چین کے عزائم کی راہ میں دیواریں کھڑی کرسکتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ IMF نے تو ایسا شروع بھی کردیا ہے۔ کرغیرستان، تاجکستان اور ترکمانستان وغیرہ کو IMF نے ایک بار پھر کم شرح سود پر بڑے قرضوں کی پیشکش کی ہے۔ اگر یہ پیشکش قبول کرلی جائے تو ان کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ممالک میں چین کے اثرات کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ IMF جیسا ادارہ محض سود کی وصولی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے کہیں آگے جاکر متعلقہ ممالک کو ڈکٹیٹ کرے گا اور ان سے اپنی مرضی کے فیصلے کرائے گا۔ یہ مرضی کے فیصلے چین کی ناراضی کا سبب بن سکتے ہیں۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“China’s Silk Road Economic Belt and the Central Asian Response”. (“russiancouncil.ru”. April 11, 2017)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*