Abd Add
 

کراچی حالتِ جنگ میں!

دنیا کے کسی بھی بڑے شہر میں اور بالخصوص ان شہروں میں جو تجارتی اعتبار سے بہت بلند ہیں، آپ کو شہری بھاری ہتھیاروں سے مسلح ہوکر پولیس پر حملے کرتے دکھائی نہیں دیں گے۔ مگر خیر، کراچی کوئی معمولی شہر نہیں۔ گزشتہ ماہ کراچی کے علاقے لیاری میں ایک مضبوط گینگ اور پولیس کے درمیان سخت مقابلہ ہوا اور بظاہر پولیس نے شکست تسلیم کرتے ہوئے لڑائی ختم کی۔ ایک بکتر بند کے ٹائر لوگوں نے گولیاں مار کر چھلنی کردیے اور اس میں بیٹھے ہوئے ایک پولیس افسر کو ہلاک کر ڈالا۔ لیاری میں سات سالہ بچی سمیت ۳۱ شہری اور ۵ پولیس اہلکار مارے گئے۔ بیشتر ہلاک شدگان وہ تھے جو فائرنگ کی زد میں آکر موت کا لقمہ بنے۔ لیاری کی آبادی کا بیشتر حصہ ایک ہفتے تک محصور رہا۔ اس دوران اشیائے خور و نوش، پانی، ایندھن، ادویہ اور دیگر ضروری اشیا کی شدید قلت رہی۔ کئی بیماروں اور زخمیوں کو بر وقت طبی امداد نہ مل سکی۔ پولیس اور کالعدم امن کمیٹی کے ارکان کے درمیان گھمسان کی لڑائی نے لیاری کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ ایک ہفتے کی لڑائی کے بعد شکست خوردہ حکومت نے پولیس کو واپس بلالیا۔ اعلان کیا گیا تھا کہ پولیس ۴۸ گھنٹے بعد لیاری میں دوبارہ آپریشن کرے گی مگر اِس اعلان پر عمل نہیں کیا جاسکا۔ ایک سینئر پولیس افسر نے تقریباً روتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ، بھرّائے ہوئے لہجے میں کہا کہ پولیس کو اندازہ نہیں تھا کہ جن شر پسندوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ان کے پاس جدید ترین ہتھیار ہوں گے۔

لیاری میں جو کچھ ہوا اس سے کراچی میں سیاست دانوں اور جرائم پیشہ گروہوں کے تفاعل کی شدت کا پتا چلتا ہے۔ شہر کی بیشتر بڑی سیاسی جماعتیں نسلی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر استوار ہیں اور پنپ رہی ہیں۔ شہر نسلی طور پر اردو بولنے والوں، سندھیوں، بلوچوں اور پشتونوں اور مسلک کی بنیاد پر سُنّیوں (بریلویوں) کا نمائندہ ہے۔ یہ لوگ کسی بھی سطح کی لڑائی میں مخالف کارکنوں اور عام شہریوں کو یکساں نشانہ بناتے ہیں۔ جب کبھی اندھا دھند فائرنگ سے یا ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں آٹھ دس لاشیں گرتی ہیں، کراچی بد امنی اور جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ مئی کے آخری ہفتے میں کراچی میں سندھیوں کی ایک ریلی پر اندھا دُھند فائرنگ سے ۱۱؍افراد مارے گئے۔ یہی وہ تشدد ہے جو شہر کو یرغمال بنائے رہتا ہے۔ یہ سوچنا سراسر بے بنیاد ہے کہ کراچی کو اسلامی انتہا پسندی نے مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ نسلی اور گروہی بنیاد پر پنپتا ہوا تشدد شہر کے مسائل کی جڑ ہے۔

کراچی کی سیاسی جماعتیں جرائم پیشہ عناصر کو ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ چند گروہوں کو اپناکر، پشت پناہی کرکے دوسرے گروہوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ لیاری کی کالعدم امن کمیٹی میں وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے روایتی طور پر ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کی ہے۔ لیاری پیپلز پارٹی کا سب سے مضبوط گڑھ رہا ہے۔ پولیس نے بظاہر لیاری آپریشن اس لیے کیا کہ حکمراں جماعت کی بعض شخصیات اور کالعدم امن کمیٹی کے چند ارکان میں ٹھن گئی تھی۔ لیاری میں پیپلز پارٹی نے جرائم پیشہ گروہوں کو عشروں تک برداشت کیا ہے، بلکہ ان کے ساتھ کام کیا ہے۔ مگر جب پارٹی نے لیاری کو نظر انداز کرنا شروع کیا تو لوگوں نے کالعدم امن کمیٹی کی طرف دیکھنا شروع کیا اور بالخصوص اس گروپ کی جانب سے بعض سماجی خدمات فراہم کیے جانے کے بعد سے۔ کالعدم امن کمیٹی کے سیکنڈ ان کمانڈ ظفر بلوچ کہتے ہیں ’’ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ لیاری کے عوام چار عشروں سے پیپلز پارٹی کی حمایت کرتے آئے ہیں مگر جب انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز کیے جانے کی شکایت کی اور احتجاج کیا تو انہیں نشانہ بنایا گیا‘‘۔

کراچی میں سیاست شہریوں کی زندگی کی قیمت پر کی جاتی ہے۔ ہلاکت کا بازار گرم ہوتا ہے تو سیاسی دکان چمکائی جاتی ہے۔ ایک طرف تو حزب اختلاف وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہے اور دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ لیاری آپریشن بظاہر حکومت میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا۔ متحدہ نے یہ شکایت کی تھی کہ حکومت اس کے کارکنوں اور حامیوں کو نشانہ بنا رہی ہے جبکہ کالعدم امن کمیٹی سے تعلق رکھنے والوں کو کچھ نہیں کہا جارہا۔

لیاری آپریشن کے حوالے سے سب سے عجیب بات یہ ہے کہ یہ پولیس کے لیے ایک بڑا بحران اور اس سے کہیں بڑھ کر ایک عظیم انسانی المیہ بنتا جارہا تھا کہ اچانک اِتنے بڑے آپریشن کی بساط یوں لپیٹے جانے پر لوگ حیران رہ گئے۔ آپریشن روکے جانے کے بعد سے کالعدم امن کمیٹی نے بھی کچھ نہیں کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی ڈیل ہوئی تھی جس کے نتیجے میں آپریشن روکا گیا یا ختم کردیا گیا۔ یہ سب کچھ زیادہ حیرت انگیز بھی نہیں۔ کراچی میں وقتاً فوقتاً تشدد کی لہر اُٹھتی ہے اور پھر کسی ڈیل کے نتیجے میں اچانک سب کچھ پُرسُکون ہو جاتا ہے۔ مقامی صحافی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور کالعدم امن کمیٹی کے درمیان کوئی ایسی ڈیل ہو جائے گی جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے لیے آئندہ عام انتخابات میں لیاری سے پھر قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست جیتنا ممکن ہو جائے گا۔ کوئی فائنل شو ڈاؤن نہیں ہوا۔ کراچی میں تشدد کی نوعیت اور سطح دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فائنل شو ڈاؤن کیسا ہوسکتا ہے۔

(“City at War”… “Economist”. May 26th, 2012)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.