امت مسلمہ، بدلتے حالات، درپیش چیلنج اور دستیاب مواقع

(جناب محمد اصغر ابراہیم نے گزشتہ دنوں برمنگھم، برطانیہ میں اسلامی تحریکوں کی کانفرنس سے خطاب کیا، جو نذرِ قارئین ہے)


یوکے اسلامک مشن کے چیئرمین، صدر اور عہدے داران، مہمانانِ گرامی، بہنو، بھائیو، خواتین و حضرات۔۔۔

السلام علیکم

سب سے پہلے میں یوکے اسلامک مشن کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ مجھے اس عظیم الشان کانفرنس میں مدعو کیا اور موقع دیا کہ میں مسلم دنیا کے بدلتے حالات، درپیش چیلنج اور دستیاب مواقع آپ کے سامنے رکھوں، جو دو عشروں کے دوران دنیا بھر خصوصاً مسلم دنیا پر اثر انداز ہوئے۔

۱۔ برصغیر میں دو قومی نظریے (ہندو اور مسلم) کی بنیاد پر خطے کے مسلمانوں کی پُرامن جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ ہندوستان کے مسلمان واضح طور پر جانتے تھے کہ مذہبی عبادات، ثقافت اور طرزِ زندگی کے معاملے میں وہ الگ حیثیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ وہ ہندوستان میں دوسری بڑی اکثریت تھے، برسوں کے تجربے کے بعد وہ جان گئے تھے کہ ہندو اور مسلمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، اس لیے وہ ایسا ملک چاہتے تھے جہاں کسی دباؤ کے بغیر آزادی سے عقائد پر عمل کرسکیں، جہاں وہ اپنے نمائندے آزادی سے منتخب کر سکتے ہوں، قرآن پاک اور حضرت محمدﷺ کی تعلیمات کے مطابق نظام نافذ کرسکیں۔ وہ اس بات میں حق بجانب تھے کہ ان کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی مسائل کا حل اسی صورت میں نکل سکتا ہے جب ان کا اپنا ملک، حکومت اور اسے چلانے کا اپنا نظام ہو۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شرحِ خواندگی میں کمی، کم علمی، غربت، افلاس، روزگار کے قلیل مواقع، تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں مناسب نمائندگی نہ ملنے کے باعث مسلمانوں میں احساسِ محرومی نے جنم لیا تھا۔ یورپ کے اسکولوں اور جامعات سے فارغ التحصیل دو اعلیٰ تعلیم یافتہ قائدین محمد اقبال اور محمد علی جناح نے مسلمانوں کی امنگوں کی ترجمانی کی، وہ قانونی، جمہوری اور پرامن طریقے سے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

۲۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے۔ اس کے سیاسی قائدین کے ذہنوں میں ذرا برابر بھی شک نہیں تھا کہ پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ بنے گا اور مذہبی ریاست نہیں ہوگا۔ تحریک آزادی کے دوران عام مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ بات واضح تھی کہ ایسا اسلامی نظامِ حکومت قائم کیا جائے گا جہاں وہ پُرامن زندگی گزار سکیں۔ اس وقت کا مقبول ترین نعرہ، ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ‘‘ تھا۔ اس نعرے نے پاکستان کی تحریک کو قوت بخشی اور آخر کار علیحدہ مسلم ریاست کا مطالبہ تسلیم کرلیا گیا۔

۳۔ آپ کی معلومات کے لیے بتاتا چلوں کہ ۱۹۴۰ء میں قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ پاکستان کو ایسے جامع اسلامی نظام کی ضرورت ہوگی جو نہ صرف قرآن و سنہ کی تعلیمات کو سیاسی، جمہوری اور پُرامن انداز میں نافذ کرسکے بلکہ مسلمانوں کی اقتصادی، سماجی اور سیاسی بہتری کی ضمانت بھی دے۔ اسی دوران مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اگست، ۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے متعدد تحریریں لکھیں اور نئی اسلامی ریاست کے خدوخال بیان کیے۔ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۴۷ء میں قائداعظم محمد علی جناح کی درخواست پر مولانا مودودیؒ نے ریڈیو پاکستان کے ذریعے قوم کو اسلامی ریاست کے خدوخال سے آگاہ کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اخوان المسلمون کے نام سے ایک اور پُرامن اسلامی تحریک مصر میں زور پکڑ رہی تھی اور پھر وہ دیگر عرب ملکوں تک بھی پھیلی۔

۴۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب دیکھا تھا، بدقسمتی سے بانیٔ پاکستان کے انتقال کے باعث یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔ یوں پاکستان جاگیرداروں، سول اور فوجی حکمرانوں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ جماعت اسلامی کو پُرامن جمہوری جماعت ہونے کے باوجود بڑے پیمانے پر پھلنے پھولنے نہیں دیا گیا، پابندیاں لگائی گئیں، مولانا مودودیؒ کو جیل میں ڈالا گیا اور غیرمسلم لابی کو خوش کرنے کے لیے انہیں پھانسی کی سزا تک سنائی گئی، کیوں کہ مولانا مودودیؒ نے اپنی کتاب میں آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے دفاع اور پاکستان میں شریعت کے نفاذ کامطالبہ کیا تھا۔ یہاں تک کہ حکمرانوں نے بھی ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، عوامی اجتماع پر حملہ اور جماعت اسلامی کے ایک کارکن کو قتل کرایا گیا۔ پھر بھی جماعت اسلامی نے ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے اپنی سرگرمیاں پُرامن، قانونی اور جمہوری اقدار کی روایات کے مطابق جاری رکھیں۔ جماعت اسلامی پر دباؤ ڈالا گیا کہ پُرامن جدوجہد کے بجائے دیگر طریقوں سے مقاصد اور اہداف حاصل کیے جائیں لیکن مولانا مودودیؒ اور جماعت اسلامی نے واضح کردیا کہ جماعت جمہوریت پر یقین رکھنے والی مذہبی سیاسی جماعت ہے، زیر زمین کام کرنے کے بجائے زمین کے اوپر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہم گوریلا تحریک نہیں بلکہ سیاسی لوگ ہیں، تشدد اور انارکی پر یقین نہیں رکھتے۔

۵۔ سرد جنگ کے دوران جماعت اسلامی وہ واحد جماعت تھی جس نے خطے میں کمیونزم اور سوشلزم کو علمی، مذہبی اور سیاسی محاذ پر چیلنج کیا۔ یوں دنیا بھر کے لوگوں کو عموماً اور مسلم اُمّہ کو خاص طور پر اس کے اثرات سے محفوظ رکھا، اسی وجہ سے مخالفین جماعت اسلامی پر امریکا نواز ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ جماعت اسلامی کی ٹھوس، انتھک کوششوں اور قربانیوں کی بدولت ساری دنیا سفید بھیڑیے کے غیظ و غضب سے محفوظ رہی، اس وقت کی عالمی قوتوں میں سے ایک قوت اب ماضی کا حصہ ہے۔ اس وقتـ ’’جہاد‘‘ کو مقدس لفظ کے طور پر استعمال کیا گیا، لغت اور انسائیکلوپیڈیا میں اضافہ کیا گیا۔ جہادیوں کو حریت پسند قرار دیا گیا اور سرکاری مہمان بنایا گیا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اس سے کیا حاصل ہوا؟

۶۔ جیواسٹریٹجک مفادات اور دیگر فوائد حاصل کرنے کے بعد افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا گیا، اس کی جانب توجہ نہ دی گئی اور قبائلی سرداروں کو آپس میں لڑنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ آخرکار اس صورت حال میں ایک نیا تصور ’’طالبان‘‘ کے نام سے سامنے آیا۔ اس کی تشکیل میں نہ ہم نے حصہ لیا اور نہ مسلم اُمہ نے۔ پھر ان کی حمایت کس نے کی؟ انہیں اسلحہ کس نے پہنچایا؟ ان کی حکومت کو کس نے تسلیم کیا؟ اور یہ سب کس کی ایما پر کیا گیا؟ یہ سب جانتے ہیں۔ جب طالبان قابو سے باہر ہوئے، انہوں نے اپنی طرز کا ایک نظام وضع کیا اور اس میں قبائلی رسوم و رواج متعارف کرائیں تو بین الاقوامی برادری نے اپنے زیر اثر میڈیا کے ذریعے انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے کئی کتابیں لکھی گئیں۔ اس طرح مغرب اور دیگر ملکوں کے معصوم لوگوں میں اسلام کے خلاف نفرت پروان چڑھائی گئی۔ بین الاقوامی سطح پر تہذیبوں کے درمیان تصادم کا تصور متعارف کرایا گیا، ہمارے خطے میں مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کو فروغ دیا گیا۔ مرحوم قاضی حسین احمدؒ کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں جماعت اسلامی نے پاکستان میں مختلف فرقوں کو متحد کیا اور قومی یکجہتی کے لیے ملی یکجہتی کونسل کے نام سے اتحاد تشکیل دیا۔

۷۔ نائن الیون کا افسوسناک واقعہ امریکا میں پیش آیا، لیکن تباہی افغانستان اور پاکستان میں لایا۔ سوویت یونین نے دس سال کی جنگ میں بیس لاکھ افغانوں کا خون بہایا، نائن الیون کے بعد نیٹو فورسز نے افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں کو نشانہ بنایا۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے جابرانہ تسلط اور ڈرون حملوں کی وجہ سے ہمارا خطہ معصوموں کا قبرستان بن گیا۔ جس کے نتیجے میں ردعمل سامنے آیا، کچھ گروپس نے بندوق اٹھالی اور قابض فورسز، حتیٰ کہ پاکستانی فوج کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ اس جنگ میں پچاس ہزار معصوم پاکستانی اور فوجی شہید ہوئے۔ پاکستانی معیشت کا بیڑہ غرق ہوا، ساتھ ہی انفرا اسٹرکچر بھی برباد ہوگیا، صنعتی ترقی رک گئی، بے روزگاری میں اضافہ ہوا، ساتھ ہی سماجی اور نفسیاتی مسائل نے معاشرے میں تناؤ پیدا کردیا۔ اس ساری صورت حال میں جماعت اسلامی نے بیرونی مداخلت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی اور عوام میں شعور بیدار کیا۔ جماعت اسلامی نے بیرونی قوتوں سے خطے سے نکل جانے کا مطالبہ بھی کیا، کیوں کہ ان کی موجودگی میں نہ صرف خطہ، بلکہ دنیا میں امن ممکن نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغانوں نے برطانیہ کو تسلیم کیا، نہ سوویت مداخلت کو برداشت کیا اور نہ ہی اب نیٹو کا قبضہ قبول کریں گے۔

۸۔ ہمیں خوشی ہے کہ افغانستان میں جمہوریت، قوم و ملت کی تعمیر اور مفاہمت کے سفر کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ جمہوریت کا ہی حسن ہے کہ دو سیاسی حریف اب ایک ساتھ ریاستی امور چلارہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ مغرب کی ثالثی سے ہی یہ مفاہمت ممکن ہوئی اور اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک مغرب چاہے گا۔ لیکن ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جمہوری عمل اُسی وقت معنی خیز اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا، جب دیگر افغان گروپس کو بھی اس کا حصہ بننے کی اجازت ہوگی۔

۹۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ افغان طالبان کی سوچ میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ وہ بیسویں صدی میں نظر آنے والے طالبان سے مختلف ہیں۔ انہوں نے خود کو بڑی حد تک تبدیل کیا ہے۔ اب انہیں کئی باتوں کا ادراک ہے۔ یہی وقت ہے کہ افغانوں کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے معاملات خود طے کریں۔ جماعت اسلامی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ پُرامن اور مستحکم افغانستان ہی عالمی امن کا ضامن ہے۔

۱۰۔ ان مشکلات اور چیلنجز کے درمیان، میں یہاں چند اہم تبدیلیوں کے بارے میں بات کرنا چاہوں گا جنہوں نے پاکستان کو مزید متحرک کیا۔ یہاں پاکستانی عوام کے سیاسی شعور میں اضافہ ہورہا ہے۔ پارلیمان، عدلیہ، سیاسی جماعتوں، فعال میڈیا اور سول سوسائٹی جیسے ادارے مزید بہتر اور مضبوط ہورہے ہیں۔ اسی طرح معتدل مذہبی جماعتیں سیاست میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں اور ان کی توجہ تعلیم پر مرکوز ہے۔ نچلی سطح پر اسکول ہوں یا اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے لیے جامعات، تعلیم کا شمار کامیاب کاروباری شعبوں میں کیا جارہا ہے۔ الخدمت فاونڈیشن، ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ اور دیگر اداروں کی جانب سے فلاحی اور خیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

۱۱۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز میں سیاسی عدم استحکام، جس میں اندرونی عناصر (سول ملٹری تعلقات، حکومتی بدانتظامی، امن و امان اور سلامتی کے امور، بدعنوانی وغیرہ شامل ہیں) کے ساتھ ساتھ بیرونی عناصر میں خاص مثال این آر او میں برطانیہ کا کردار، اس کے علاوہ برطانوی شہری الطاف حسین، جو برطانیہ سے فاشسٹ تنظیم چلارہا ہے، ٹونی بلیئر کو الطاف حسین کا خط بھی ایسی ہی ایک مثال ہے۔ اسی طرح پاکستان کے ہر، ہر معاملے میں امریکا کی مداخلت اور پاکستانی قوانین کا احترام نہ کرنا بھی شامل ہے۔ اس کی مثال امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں لاہور میں دن دیہاڑے دو معصوم پاکستانیوں کا قتل ہے۔ ان چیزوں سے صرف پاکستان کے لیے ہی مسائل کھڑے نہیں ہوئے، ان لوگوں کے لیے اپنے ملکوں میں بھی مشکلات رہیں۔

۱۲۔ جماعت اسلامی، منظم مذہبی سیاسی جماعت ہے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں رہتے ہوئے کام کررہی ہے۔ اس آئین کے گیارہ آرٹیکل ملک میں اسلامی شرعی نظام کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان میں دیگر طریقوں کو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ لبرل ہوں، سوشلسٹ، قوم پرست یا پھر مذہبی جماعتیں ہوں، تمام ہی سیاسی جماعتوں نے اس آئین پر دستخط کیے ہیں۔ اصل مسئلہ قانونی نہیں بلکہ آئین کا نفاذ اصل چیلنج ہے۔ اس لیے جماعت اسلامی نے تمام ہی حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ آئین میں کیے گئے وعدوں کے مطابق اسلامی قوانین نافذ کرائیں۔

۱۳۔ جماعت اسلامی کے امیر، سراج الحق نے پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے ۲۱ نومبر ۲۰۱۴ء کو قومی ایجنڈے کا اعلان کیا۔ ان شاء اللہ امید ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کے عوام، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔ لاہور میں جماعت اسلامی کا تین روزہ اجتماع عام نومبر میں کیا گیا، جہاں ایک عام فرد کے سماجی اور اقتصادی مسائل پر بات کی گئی اور اس بات پر زور دیا کہ تمام مسائل کا حل اسلام کے فلاحی نظام میں ہے جو شہریوں کے درمیان امتیاز نہیں رکھتا۔ اس میں بدعنوانی، وی آئی پی کلچر اور اسٹیٹس کو کا کوئی تصور نہیں۔ جہاں تمام شہریوں کو تعلیم، طبی سہولتوں اور روزگار کے یکساں مواقع ہوں گے۔

۱۴۔ جماعت اسلامی نے ۲۴ نومبر ۲۰۱۴ء کو لاہور میں دنیا بھر کی اسلامی تنظیموں کی بین الاقوامی کانفرنس بھی بلائی۔ جس میں تیس ملکوں سے اسلامی تحریکوں کے پچاس رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس کا اعلامیہ عالمی میڈیا میں شائع ہوا جو عموماً ہماری سرگرمیوں کو اپنے ہاں جگہ نہیں دیتا۔ کانفرنس میں واضح طور پر اعلان کیا گیا کہ اسلامی تحریکوں کی سرگرمیاں پُرامن ہوں گی اور تشدد کا راستہ ہرگز اختیار نہیں کیا جائے گا کیوں کہ مسلم دنیا میں تبدیلی صرف بیلٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اسلامی تحریکوں کے رہنماوں نے کہا کہ امت مسلمہ کے خلاف سازشوں اور ان کے معاملات میں مداخلت سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اس سے دنیا بھر میں انتقام، دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ ملتا ہے۔ جموں اور کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت ملنا چاہیے۔ مصر میں اسلام پسندوں اور برما میں مسلمانوں کی نسل کشی رکنی چاہیے۔ عالمی برادری کو حسینہ واجد کی جماعت اسلامی مخالف پالیسیوں اور اس کے رہنماؤں کے عدالتی قتل کا نوٹس لینا چاہیے اور فلسطین کے مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔

۱۵۔ آخر میں، امیر جماعت اسلامی پاکستان برادر سراج الحق کا پیغام آپ تک پہنچانا چاہوں گا۔ سراج الحق کا یہی پیغام ہے کہ اسلامی تحریکوں کے ارکان قرآن پاک کے احکامات اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق زندگی گزاریں، جس معاشرے میں رہتے ہیں، اسے سمجھیں۔ دعوت کا کام عام شہری کے اقتصادی مسائل، خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق سے جڑا ہو۔ آپ کو اسلام مخالف لابی اور مغربی میڈیا کے اس تاثر کو ختم کرنا ہوگا کہ چوروں اور قاتلوں کو سزا دینا ہی اسلام ہے۔ اسلام تو انسانی عظمت، اقتصادی ترقی اور خوشحال معاشرے کا تحفظ کرتا ہے۔ سراج الحق کا کہنا ہے کہ اسلامی تحریکوں کے کارکن اپنے رویے اور تعمیری گفتگو پر خاص توجہ دیں کیوں کہ دوسروں کو اسلام کی طرف راغب کرنے اور اسے اختیار کرانے میں یہ اہم لوازم ہیں۔ امیر جماعت اسلامی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی اسلام مخالف لابی مسلمانوں کو زبردستی محاذ جنگ پر کھینچ لانا چاہتی ہے۔ وہ ہمارے ہاتھوں میں ہتھیار اور خودکش جیکٹ دیکھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم علم اور ٹیکنالوجی کے میدان سے دور رہیں۔ وہ جانتے ہیں مسلمان اگر علم اور ٹیکنالوجی کے زیور سے آراستہ ہوئے تو دنیا ان کی مٹھی میں ہوگی۔ اسی طرح ہمیں انسان، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، کی نفسیات سمجھتے ہوئے اس کی بہتری کے لیے مربوط پروگرام ترتیب دینے چاہئیں۔ جماعت اسلامی پاکستان نے ایک نعرہ، ’’اسلامی پاکستان، خوشحال پاکستان‘‘ متعارف کرایا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ اسلامی تحریکیں بھی اپنے ملکوں کے حساب سے یہ نعرہ متعارف کرائیں۔ جیسے اسلامی مصر۔خوشحال مصر، اسلامی بنگلادیش۔ خوشحال بنگلادیش، اسلامی یمن۔خوشحال یمن، اسلامی شام۔ خوشحال شام، اسلامی افغانستان۔خوشحال افغانستان۔

۱۶۔ میں ایک بار پھر اسلامک مشن یوکے کا شکریہ ادا کروں گا جس نے مجھے اس فورم میں مدعو کیا اور آپ سب کا بھی شکریہ جنہوں نے صبر و تحمل سے مجھے سنا۔ اللہ پاک آپ سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔

(مترجم: سیف اللہ خان)

○○○

Leave a comment

Your email address will not be published.


*