اسلام کے خلاف مغرب کی سازش

تاریخ کے تناظر میں

یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ مغرب جس نے اسلام سے صلیبی جنگوں میں شکست کھائی اپنی شکستوں سے بہت کچھ سیکھنے میں کامیاب ہوا۔ اسلام کے کارناموں سے متاثر ہوکر یہ اپنے اندرونی احتساب و جائزے پر آمادہ ہوا اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ یہ نشاۃ ثانیہ اور پھر روشن خیالی کے دور سے ہمکنار ہوا۔ تعقل کے دور میں قدم رکھتے ہوئے اس نے مذہب کی بالادستی کو کنارے لگادیا اور سائنسی و تکنیکی علم کے ساتھ دنیا کے سامنے نمودار ہوا ۔یہ وہ مغرب تھا‘ یہ وہ عیسائی دنیا تھی جس نے دنیا کو فتح کرنے کے واسطے اب استعماریت کا روپ دھار لیا تھا۔ یہ ۱۷ ویں صدی کا زمانہ تھا جب سلطنت عثمانیہ اپنے زوال کے نقطہ عروج پر تھی۔۱۸۳۰ء تک فرانسیسی سامراج نے الجزائر پر قبضہ کرلیاتھا۔ (ابونصر۔۳۱۱:۱۹۷۳ء)

سلطنتِ عثمانیہ کی پسپائی کا عروج اعلان بالفور تھا جس نے فلسطین کو یورپی یہودیوں (یا زیادہ مناسب الفاظ میں نسل پرست صہیونیوں) کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا تاکہ ان کے لیے ایک فرض کردہ قومی وطن کو وجود میں لایا جاسکے۔ ۱۹۴۷ء میں بالآخر ایک ناجائز صہیونی مملکت اسرائیل کے نام سے معرضِ وجود میں آگئی اور تب سے فلسطین کا مسئلہ اسرائیل عرب جنگ کا سبب بنا ہوا ہے۔ لہٰذا پہلے استعماریت کے ذریعہ پھر سامراجیت کے ذریعہ اور اب جدید نوآبادیاتی نظام کے ذریعہ عیسائی دنیا نے اسلامی دُنیا کو محاصرے میں لے لیا ہے جو کہ صدیوں سے مظلومیت کا شکار ہے۔ ان حالات سے جو عظیم سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان ایک ایسی صورتحال میں جاگھرے ہیں جس سے اُن کا وجود خطرے میں پڑگیا ہے۔ یہ صورتحال ملک بن بنی کے الفاظ میں ’’نوآبادیائے‘‘ جانے کی ہے۔ بہ الفاظ دیگر لوگ اُسی وقت نوآبادیائے جانے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں جب وہ اس حالت کو پہنچ جاتے ہیں۔

سازش اور اس کے لوازمات:

مجھے یقین ہے کہ ہم نے اسلام کے خلاف سازش کی شناخت کرلی ہے جو کام باقی رہتا ہے وہ اس کے مختلف مظاہر کا شمار کرنا ہے ۔ عسکری کوششوں سے قطع نظر جو کہ بری طرح ناکام ہوگئیں (Oluwatoki 2001:16) سازش کے ظہور کے کچھ دوسرے میدان مندرجہ ذیل ہیں۔

تعلیم:

نوآبادیاتی عمل کے توسط سے مغرب کی یہ کوشش رہی کہ مسلمانوں کو اپنے تعلیمی نظام کے ذریعہ مغربی ثقافت کا پیرو بنایا جائے جو اسلامی اصولوں کو کم مایہ ظاہر کرکے یورپی امریکی ثقافت کو اختیار کرنے کے لیے اُن میں جوش و جذبہ پیدا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس کے ذریعہ مغرب نے بہت سارے مسلم ممالک میں ایک مغرب زدہ طبقۂ اشراف پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی اور یہی طبقہ پھر مسلمان ممالک میں یورپی ثقافت کے نفوذ کے لیے ہراول دستہ ثابت ہوا۔ اس تعلیم کا آغاز تو لکھنے‘ پڑھنے کا ہنر اور ریاضی کا علم سکھانے کے بہانے ہوا۔اس طرح یہ تعلیم انہیں مشنری اسکولوں میں دی جانے لگی۔ یہ مشنری اسکول دراصل لوگوں کو عیسائی بنانے کا ایک آلہ تھا اور ساتھ ہی اس کے ذریعہ مقامی آبادی کو پہلے یورپی اور پھر بعد میں امریکی ثقافت میں رنگ دینے کی حکمت تھی۔ یہ شاید مغرب کا سب سے مضبوط اور کارگر اسلحہ تھا۔

قانونی نظام:

بیشتر مسلم ممالک میں جہاں مغرب کو پیر جمانے کا موقع مل گیا تھا۔ ا س نے اسلامی اصول و قوانین کو ختم کردیا اس طرح کہ شریعت کی مقرر کردہ عدالتی تعزیری نظام کے بعض پہلوؤں کو ہٹا کر اپنا نظام اس کی جگہ نافذ کردیا اورنیا قانون جرم و سزا اس کی جگہ نافذ کردیا۔ اس نے بہت بادل ناخواستہ شرعی قوانین کے سول پہلوؤں کو برقرار رکھنے کی اجازت دی۔ شریعت کا اس منظم انداز میں قلع قمع کا مقصد مسلم زندگی پر اسلام کے جامع اور ہمہ جانبہ اثرات کو زائل کرنا تھا۔ اپنے نظامِ تعلیم کے ذریعہ اور اپنی تہذیب کے اثر و نفوذ کے ذریعہ مغرب نے اپنی ہر چیز کو بہترین ثابت کرکے پیش کیا۔ مغربی قانون جو انسانوں کا بنایا ہوا تھا اپنی تمام فطری کمزوریوں کے باوجود اعلیٰ وارفع قرار دیا گیا۔ اپنے تمام تر تضادات کے ساتھ اور اقتدار کو تحفظ دینے کی تمام تر بے شرمنانہ شقوں کے ساتھ اس نظام قانون کو اسلامی قانون پر مسلط کردیا گیا اس تسلط اور نفاذ میں جو مسائل پوشیدہ تھے بیشتر مسلم ممالک میں تو آج یہی تنازعات کا سرچشمہ ہیں۔

مالیاتی نظام:

چونکہ استعمار کا حتمی مقصد ایسی فضا تیار کرنا ہے جس میں سرمایہ داری کو فروغ ملے چنانچہ نوآبادیائے جانے کا عمل استعماریت کی اعلیٰ سطح قرار پایا۔ اصل زور اس امر پر تھا کہ دنیا کے مختلف حصوں کو دنیائے سرمایہ داری سے جوڑ دیا جائے۔ سود ‘بے لگام منافع خوری یا نفع اندوزی سرمایہ داری کی اصل خصوصیات ہیں اور یہ اسلام کی مالیاتی نظام کی ضد ہیں۔ ملٹی نیشنل کارپوریشن کی اجارداری پر مبنی دور کے بعد اب ہم گلوبلائزیشن کے دور میں ہیں جہاں ریاستوں کی سرحدوں کو ماورائے قومی (Transnational) سرمائے کے نفوذ کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ یہ مغرب کے ماورائے قومی طبقۂ اشراف کی سازش ہے جو دنیا کے دیگر حصوں میں اپنے معاونین اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر دنیا کی دولت کے عظیم تر حصے کو انتہائی مختصر ہاتھوں میں مرتکز کرچکا ہے۔ AB Robinson کا کہنا ہے کہ ۱۹۹۲ء کی ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ اُس دائمی عدم توازن کو پہلے سے زیادہ واشگاف کردیتی ہے جو جدید لبرازم اور جمہوریت کے امریکی برانڈ ’مخصوص برائے تیسری دنیا‘ (Polyarchy) کے مابین تضادات کے سبب پیدا ہوا ہے۔ درحقیقت اس رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کی کل آمدنی کا ۷ء۸۲ فیصد حصہ دنیا کے صرف ۲۰ فیصد امیر ترین لوگوں کے ہاتھوں میں جاتا ہے۔ دُنیا کے ۲۰ فیصد غریب ترین لوگوں کے حصے میں اس آمدنی کا صرف ۴ء۱ فیصد حصہ آتا ہے۔ یہ صورتحال اُس وقت اور سنگین ہوجاتی ہے جب مخصوص ممالک میں محرومیوں اور مراعات یافتہ طبقے کے مابین خلیج بڑی ہوتی ہے۔ اسلام کی معاشرتی تنظیم کی نفی اس سے زیادہ اور کسی چیز سے نہیں ہوتی ہے۔ (Robinson 1996:340-41) دوسرے لوگوں کی طرح مسلمان بھی اس عدم توازن کے شکار ہیں۔ یہ کہنا کافی ہے کہ یہ معاشی جبر دُنیا کے مختلف حصوں میں ۱۹ ویں صدی سے ہی مغربی مداخلت کی خبر دیتا ہے۔ بیسویں صدی کے آخری نصف میں مغرب نے اپنے مالیاتی نظام کو Brcton wood اداروں یعنی ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی صورت میں مشخص اور مستحکم کرنے کی سخت کوشش کی جس کا نکتہ عروج اکیسویں صدی میں گلوبلائزیشن کی صورت میں ظہور پذیر ہوا۔

اطلاعات کا دور:

جس کا آغاز پہلے ریڈیو سے ہوا پھر سینما ‘ ٹیلی ویژن اور اب انٹرنیٹ کی شکل میں ترقی کے اہم ترین مرحلہ میں پہنچ چکا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نام نہاد عالمی گاؤں (Global Village) کو ایک عالمی نشست گاہ (Global Sitting Room) میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اس نسل کے ذریعہ دُنیا کے بعید ترین حصوں سے آپ کو اطلاعات لمحوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ لہٰذا اس نالی کے ذریعہ ثقافتی اثرات بھی اپنے تمام تر مظاہرکے ساتھ آپ اور آپ کے بچوں تک منتقل کیے جاتے ہیں جو بہرحال زمانے سے چلی آرہی قدروں اور روایتوں کو چیلنج پیش کرتے ہیں اور اہم اداروں پر شب خون مارتے ہیں۔ اس آلہ کی سب سے زیادہ توجہ لباس (خاص طور سے عورتوں کے ) شراب‘ جوا اور اس طرح کی بہتیری ثقافتی قدروں پر ہے جن کو اسلام بہت زیادہ بری نظروں سے دیکھتا ہے۔ جس رفتار سے مغرب یہ برائیاں نوجوانوں میں فروغ دے رہا ہے وہ سمجھداروں کے لیے تشویشناک ہے۔ ٹیبلوائڈ میں‘ ٹیلی وژن پر‘ سینما میں اور اب انٹرنیٹ پر قارئین اور ناظرین اپنے سسٹم میں ایسی مناظر اور مواد محفوظ کرلینے میں آزاد ہیں جو انسانی اخلاق کے لیے انتہائی تباہ کن اثرات کے حامل ہیں۔ مثلاً تشدد‘ عریاں اور فحش نظارے‘ شراب نوشی ‘ سٹہ بازی اور اس طرح کے سینکڑوں بے ہودہ اقدامات کی تماش بینی اس آلہ کے ذریعہ آسان ہے۔ ان سب باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مواصلاتی میڈیا نے انفرادی خریدار کو تقریباًبے بس و لاچار بنادیا ہے۔ مواصلات نے مغرب کو اس لائق بنادیا ہے کہ وہ اسلام پر میڈیا جنگ مسلط کرسکے خاص طور سے عقیدہ وایمان کے حوالے سے منفی رپورٹنگ کو فروغ دیتے ہوئے۔ ہم اُن منفی تعبیروں سے بہ خوبی واقف ہیں جو لفظ ’’بنیاد پرستی‘‘ سے ماخوذ کرتے ہوئے انہیں اسلام اور اسلامی تحریکوں سے منسوب کیا گیا ہے۔

جدید نوآبادیاتی نظام:

سیاسی میدان میں مغربی ممالک امریکا کی قیادت میں اپنی بالادستی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جہاں یہ حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں اور اس طرح مسلم عوام کی زندگیوں کو اپنے زیر اثر رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات اس کی زندہ مثال ہیں۔ جس کسی مسلم ملک میں اس یورپی و امریکی بالادستی کے خلاف مزاحمت ہوئی انہوں نے اس سے فوجی جارحیت کے ذریعہ‘ فضائی بمباری کے ذریعہ یا تبدیلٔی حکومت کے ذریعہ یا کچھ دیگر ذرائع کے ذریعہ نمٹ لیا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس طرح کے ممالک کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے اس طرح کی چند مثالوں کے لیے آیت اللہ خمینی کے ایران‘ صدر ناصر کے مصر‘ لیبیا اور افغانستان کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔

فلسطین:

اسلام کے خلاف مغرب کی سازش اور مغرب کے دوہرے معیار کی علامت کا مشاہدہ مسئلہ فلسطین میں اچھی طرح کیا جاسکتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے موقع پر برطانیہ نے جو اس وقت کی عظیم ترین طاقت تھی عربوں سے آزادی کا وعدہ کیا اس شرط پر کہ وہ اپنے اوپر حکمراں سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف جنگ کریں۔ اس وعدے کا اطلاق فلسطینی عربوں (مسلمان اور عیسائی) پر بھی ہوتا تھا اس کے ساتھ ساتھ مغرب اپنے دورُخاپن کی صفت سے مجبور ہوکر یورپ یہودیوں کو بھی سرزمین فلسطین میں ایک یہودی قومی مملکت خلق کرنے کا وعدہ کر بیٹھا۔ یہ وعدہ مغرب کی جانب سے برطانیہ نے کیا او ریہ ۱۹۱۷ء میں اعلان بالفور کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ نکتہ خاص طور سے قابلِ توجہ ہے کہ یہ وعدہ عالمی صہیونیت کے دباؤ میں آکر کیا گیا اور یہ دباؤ ردعمل تھا اُس غیر انسانی سلوک کا جو یہودیوں کے ساتھ یورپ یا مغرب میں روا رکھا گیا۔ لہٰذا یہودی‘ عیسائی تہذیب کے نامناسب عنصر اور اپنے برادریہودیوں کو عیسائی دنیا کی طرف سے تحفظ کی فراہمی میں ناکامی کی تلافی اس طرح کی گئی کہ اسلام اور مسلمانوں کو ان کے حق سے محروم کردیاگیا۔

نتیجہ اور سبب:

مسلمانوں پر دو صدیوں تک مغربی تسلط‘ مسلم سرزمینوں پر ان کا قبضہ اور ثقافتی یلغار کی صورت میں اُن کا مسلسل حملہ بہت نمایاں تھا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کا خود اپنے آپ پر سے اعتماد ختم ہوگیا یعنی ان کی خود اعتمادی سلب ہوگئی۔ انہوں نے یہ غلط تجزیہ کیا کہ مغرب کی کامیابی اس کی محض سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے سبب ہے۔ اس طرح وہ لالچ اور مادیت کے جال میں آگئے جو کہ مغربی تہذیب کے متحرک و فعایت کا بنیادی فلسفہ ہے۔ وہ اُس بے لگام آزادی کے پرستار ہوگئے جو انفرادیت اور لیبرل ڈیمو کریسی میں رَچی بَسی ہے اور جو فری مارکیٹ پر مبنی اقتصادی نظام کے ذریعہ سرمایہ کو ترقی دینے کا پروگرام رکھتی ہے۔ مسلمان اپنی ثقافت کی برتری نیز اسلامی تہذیب‘ سائنس‘ لٹریچر ‘ سیاسیات فوجی حکمت عملی‘ خاندانی تعلقات‘ معاشرتی ہم آہنگی اور اجتماعی جدوجہد میں اپنے اہم کارناموں پر شک کرنے لگے۔ سب سے زیادہ تباہ کن بات اُن کا بڑی بے چارگی کے ساتھ مغربی قومی ریاست کے فیصلے کے سامنے سپر انداز ہونا تھا اور اسلام کی آفاقی ریاست کے تصور سے دستہ بردار ہونا تھا۔ اس کا نتیجہ بہت ہی بھیانک تھا۔ اس نے مسلمانوں کو ٹکڑیوں میں تقسیم کردیا ان کے احساسات کو اس قدر ماؤف اور کند کرتے ہوئے کہ انہیں سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کریں۔ صورتحال اس قدر سنگین ہوگئی ہے کہ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بقاکی خاطر اللہ کی راہ میں اٹھنے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔ یہ فی سبیل ا للہ جہاد کی پکار ہے۔

ضروری ہے کہ مسلمان اپنے فرض کے تئیں بیدار ہوں جائیں تاکہ وہ مغرب کے خطرناک حملوں سے اپنی آبادیوں کا دفاع کرسکیں۔ یہ بیداری تمام محاذوں پر ہونی چاہیے ۔ تمام مسلم سرزمینوں میں نظامِ تعلیم کو دانستہ طور پر وہ پالیسی کنٹرول کرتی ہو جس کا مقصد ایسے تعلیم یافتہ مسلمان پیدا کرنا ہیں جو اللہ کی راہ میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہوں۔ تعلیم ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ یہ سماجی شیرازہ بندی کے لیے بنیادی فلسفے کا کام دیتی ہے۔ تعلیم ہی کے ذریعہ ایک نسل کی ثقافتی قدریں دوسری نسلوں تک منتقل کی جاتی ہیں۔ کوئی بھی قوم جو تعلیم کو نظرانداز کردیتی ہے‘اور اپنے نوجوانوں میں کسی اور کے نظریے کو فروغ پانے اور پروان چڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہے گویا اپنے آپ کو سخت خطرے میں مبتلا کرلیتی ہے۔ مسلمان ناامیدی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اسلام نے ہمیشہ سے تعلیم کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ موجودہ نسل اس اعتبار سے بہت ہی لاپرو ا اور غیرذمہ دار واقع ہوئی ہے کہ اس نے اپنے جوانوں کو ہر اس بُری بھلی تعلیم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جو ان کے دشمنوں کی طرف سے تجویز کی گئی ہے۔ تمام مسلم ممالک میں شریعت کو ہی اعلیٰ ترین قانون کے طور پر نافذ ہونا چاہیے۔ ایسے ممالک کو اس حوالے سے محتاط ہونے کی ضرورت نہیں ہے جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد مسلمان ہے لیکن جہاں عیسائی آبادیوں کی جانب سے مضبوط اسلام مخالف جذبات کا اظہار ہوتا رہتا ہے جس کی ایک مثال نائیجیریا ہے۔ لیکن ہم اپنی مزاحمت ترک نہیں کرسکتے ہیں تاآنکہ اب ہمیں ایک قانونی نظام قائم کرنے کا حق جو الٰہی آئین سے ماخوذ ہو دے نہیں دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو اپنا مالیاتی نظام ترتیب دینے اور پھر اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں سودسے پاک مالیاتی نظام چلانے کے امکان کو واضح کرنا چاہیے۔ نائیجریا میں JAIZ کی کوششیں صحیح سمت میں ایک قدم ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کو ان امکانات کو بھی بروئے کار لانا چاہیے جو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں مضمر ہے۔ ہر مسلمان کو کمپیوٹر آشنا ہونا چاہیے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی فعال دنیا میں اسے پوری سرگرمی کے ساتھ حصہ لینا چاہیے۔

سائبر ورلڈ سے استفادہ ہر ایک کا حق ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسلامی کاز کو فروغ دینے کے لیے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ اسلامی افکار و نظریات کو پھلائیں‘ اسلام کی ثقافتی قدروں کو پروان چڑھائیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پورے شعور کے ساتھ سیاست میں سرگرم حصہ لیں۔ انہیں یہ کام اس ذہن کے ساتھ کرنا ہے کہ وہ عوام کی حالت کو بہتر بنائیں گے اور اپنے رویوں سے یہ ثابت کریں گے کہ اسلامی طرزِ حکومت کا قیام ممکن ہے۔ ہر صورت میں مسلمانوں کو سیاسی و اقتصادی طور سے طاقتور ہونا ہوگا تاکہ وہ جدید نوآبادیاتی نظام اور فروغِ جمہوریت (جو کہ آج ہے)کی مشکوک مہم کے پیدا کردہ مسائل کا سامنا کرسکیں۔ یہ کہنے کا کوئی حاصل نہیں ہے کہ امریکا جمہوریت کے فروغ کے نام پر ’’امریکی برانڈ جمہوریت‘‘کو حقیقتاً فروغ دے رہا ہے (Robinson 1996) مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ فلسطینی عربوں کے ساتھ اپنی شناخت کریں جو مغرب نواز اور مغرب کی پروردہ صہیونیت کے ۱۹۱۷ء سے زیر محاصرہ ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو ہم محض اپنے عرب بھائیوں کے کاندھے پر ڈال کر اس سے جان چھڑانے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔ عرب بہت زیادہ منقسم ہیں ۔ مغرب نے عرب مزاحمت کی صف میں مضبوط شگاف ڈال دی ہے۔ اس کے علاوہ بھی پوری دنیا کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ بطور امت مسئلہ فلسطین کے لیے کچھ کریں۔ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جسے ضرور انجام دیا جانا چاہیے۔ اگر اپنے اپنے ملک میں تمام مسلمان اپنی متعلقہ حکومت کو یہ باور کرادیں کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ ہیں تو یہ حکومتیں اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دیتے وقت اس مسئلے کا خیال رکھیں گی۔

ماحصل:

اس مضمون کا مقصد مغرب کی اسلام کے خلاف عسکر ی‘ تعلیمی ‘ قانونی‘ مالیاتی ‘ اطلاعاتی‘ نیز قومی سیاسی و بین الاقوامی سیاسی نظاموں کے میدان میں سازش کی شناخت کرنا تھا۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ ان مسائل کا حل بھی پیش کریں جو بطورامتِ مسلمہ اپنے وقار کو بحال کرنے اور پھر سے آزادی سے اپنے آپ کو ہمکنار کرنے میں ہمارے لیے موثر ہوسکتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی کی ہی طرح ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم محاصرہ کاروں کا محاصرہ کریں۔ یہ کام اگر ہم نے اچھی طرح کرلیاتو ہم عمدہ طریقے سے فتح یاب ہوں گے اور ہم اپنی آزادی کے ازسرنو حصول میں بھی کامیاب ہوں گے لیکن یہ کام قربانی‘ عزم و حوصلہ اور محنت شاقہ کا متقاضی ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ’’خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔ نہ ہو جس کو خیال خود آپ اپنی حالت بدلنے کا‘‘ اور ٹھیک اسی طریقے سے کہ ’’ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہواس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے طرز عمل کو بدل نہیں لیتی۔‘‘ (۵۳:۸ قرآن)

(بشکریہ: سہ ماہی انگریزی مجلہ” “Echo of Islam تہران)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*