ترکی میں بدعنوانی

تین سال قبل جب مشرق وسطیٰ میں عوامی بیداری کی لہر اٹھی تھی، تب پُرامید ڈیموکریٹس نے ترکی کو ایک اچھے ماڈل کی حیثیت سے دیکھنا شروع کیا تھا، جس نے اسلام کو اعتدال پسندی کے ساتھ اپناتے ہوئے معیشت کو بھی مستحکم کیا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اہلِ عرب نے اس راہ پر گامزن ہونے سے گریز کیا ہے، جس پر ترکی گامزن ہے۔ اور دوسری طرف ترکی نے عرب دنیا کی پرانی اور جانی پہچانی راہ یعنی بدعنوانی اور مطلق العنانیت کو اپنالیا ہے۔

دو ہفتوں کے دوران ترکی میں تعمیراتی کمپنیوں کی طرف سے رشوت کی مد میں دی جانے والی رقوم اور سونے کو بیرون ملک منتقل کرنے کے معاملات کی تفتیش کے دوران درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جنہیں اب تک حراست میں رکھا ہوا ہے، ان میں حکمراں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیات، سیاست دانوں اور دیگر افراد کے علاوہ تین وزرا کے بیٹے بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم رجب طیب اردوان اس صورت حال سے سخت برہم ہیں کیونکہ انہیں بتایا گیا ہے کہ کسی بھی وقت ان کے بیٹے کا بھی نمبر آسکتا ہے۔ انہوں نے کابینہ میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ وفادار افراد زیادہ قریب آسکیں، بدعنوانی کے معاملات کی تفتیش کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے اور بدعنوانی کے تحقیقات کے حوالے سے چند ہفتوں کے دوران درجنوں افراد کو گرفتار کرنے والے پبلک پراسیکیوٹر کو اس کیس کی تحقیقات سے الگ کردیا ہے۔ ان تمام اقدامات کو ان کے رفقا نے بالکل درست قرار دیا ہے۔

یہ سب کچھ ترکی جیسے ملک کے لیے خاصا پریشان کن ہے۔ رجب طیب اردوان ترکی پر گیارہ سال سے حکومت کر رہے ہیں۔ اب وہ ایسے الجھے ہیں کہ ڈور کا سِرا ملتا نہیں۔ پولیس اور عدلیہ کے خلاف انہوں نے چند سخت اقدامات کیے ہیں، جس سے قانون کی حکمرانی کا تصور خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ وہ اپنی طاقت اور اختیارات پر کسی بھی قسم کی پابندی قبول کرنے سے صاف انکار کرکے جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

ابھی چند ماہ پہلے تک یہ تصور عام تھا کہ رجب طیب اردوان کو ترکی کی تاریخ میں وہی مقام نصیب ہوگا، جو کمال اتا ترک کو حاصل رہا ہے۔ اردوان کے گیارہ سالہ دور میں فی کس قومی آمدنی حقیقتاً دُگنی ہوچکی ہے۔ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے اصلاحات اس قدر کی گئی ہیں کہ اب یورپی یونین کی رکنیت کا حصول محض خواب محسوس نہیں ہوتا۔ فوج کو بیرکس تک محدود کیا جاچکا ہے۔ مگر اب اردوان کے لیے مشکلات کا دور شروع ہوچکا ہے۔ گزشتہ موسمِ خزاں میں ۲۰۱۱ء کے بعد معاشی نمو کی رفتار سست رہی۔ اسٹاک مارکیٹ میں نشیب و فراز کی کیفیت پیدا ہوئی۔ ترک معیشت کو اب بیرونی سرمائے کا انتظار ہے۔ سیاست جو رخ اختیار کر رہی ہے، اس سے بہت حد تک اس امر کا تعین وابستہ ہے کہ ترک معیشت اب کس طرف جائے گی۔

ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ وزیراعظم اردوان اور فتح اللہ گولن کی تحریک ’’خِذمت‘‘ کے درمیان کشیدگی بڑھ چلی ہے۔ خِذمت کی مدد ہی سے اردوان فوج کو کنٹرول کرنے اور اس کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی صلاحیت کچلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ خِذمت کے تعاون ہی سے سیکڑوں فوجی افسران اور ان کے سویلین حامیوں پر مقدمہ چلایا گیا اور بہتوں کو سزا سنائی جاسکی۔ ان کے خلاف متعدد شواہد خِذمت نے دیے۔ خِذمت سے تعلقات میں کشیدگی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اردوان اب کسی بھی حریف، مخالف یا ناقد کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کشیدگی کا ایک اور سبب اسرائیل کے خلاف سخت معاندانہ رویہ ہے۔ فتح اللہ گولن اگرچہ تردید کرتے ہیں مگر یہ بات کہی جارہی ہے کہ معاملات اس وقت زیادہ خراب ہوئے جب اردوان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کا آغاز ہوا۔

اردوان اور ان کی پارٹی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی کے الزامات ہیں۔ جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کے حامیوں کی نظر میں یہ پارٹی سب سے بہتر ہے اور اس کی حکومت ماضی کی سیکولر حکومتوں سے بہت بہتر ہے۔ بدعنوانی کے شکوک اور الزامات کو اردوان محض پولیس اور عدلیہ کے خلاف اقدامات کے ذریعے ختم نہیں کرسکتے۔ یا وہ گزشتہ موسم سرما میں سیاسی مظاہروں کو کچلنے جیسا کوئی اقدام بھی نہیں کرسکتے کیونکہ اس سے معاملات مزید الجھیں گے۔ اردوان جب بھی اپنے مخالفین اور ناقدین کی طرف سے کی جانے والی تنقید دبانے کی کوشش کرتے ہیں، ترکی میں اختلافات گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔

یہ بات ترک باشندوں کے لیے انتہائی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے کہ ان کی پولیس اور عدلیہ کو حکومت اپنی مرضی کے مطابق یعنی کسی کے خلاف استعمال کرے۔ یہ حقیقت ہے کہ فتح اللہ گولن کی تحریک سے وابستہ چند افراد اپنی تنظیم کے حکومت کے اتحادی رہنے کے زمانے میں بدعنوانی میں ملوث رہے اور معاملات کو دبائے رکھا، اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ ان کی وفاداری آئین سے زیادہ فتح اللہ گولن سے تھی۔

رجب طیب اردوان کے بے لگام اختیارات کو لگام اگر کوئی دے سکتا ہے تو وہ قانونی نظام ہے۔ ترک اپوزیشن کمزور بھی ہے اور اس کی قیادت بھی کمزور ہاتھوں میں ہے۔ جو صحافی حکومت پر تنقید کرتے ہیں، وہ گرفتار کرلیے جاتے ہیں، اور جو تنقید نہیں کرتے وہ اپنی تحریر کی سینسر شپ خود ہی کرتے ہیں۔ حکمراں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی پر رجب طیب اردوان کا کنٹرول غیر معمولی ہے۔ وہ چوتھی بار وزیر اعظم بننے کے بجائے اب صدر بننا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف فتح اللہ گولن کی تحریک سے وابستگی رکھنے والے بھی اہم وزارتوں اور محکموں میں مستحکم پوزیشن رکھتے ہیں۔ ان کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ بھی ترکی کے لیے اچھا شگون نہیں۔ پولیس اور عدلیہ میں فتح اللہ گولن کے پیروکار خاصی بڑی تعداد میں اور نمایاں عہدوں پر ہیں۔ اگر ترکی میں ترقی کا سفر جاری رکھنا ہے تو امن کے قیام کے ذمہ دار اداروں کو غیر جانب دار رہنا ہوگا۔ اگر دیگر وزارتوں، محکموں اور شعبوں کی طرح اردوان نے پولیس اور عدلیہ کو بھی اپنی مٹھی میں بند کرلیا تو یہ ترکی کے حق میں بہت برا ہوگا۔

رواں سال کے آخر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اردوان امیدوار بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر انہوں نے اپنے طور طریقے نہ بدلے تو ترکی کے لیے لازم ہوگا کہ ایک نئی ابتدا کرے۔

(“Corruption in Turkey: The Arab road”… “The Economist”. Jan. 4, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*