حزب اﷲ کی بڑھتی ہوئی طاقت

Battle-hardened

ایک لبنانی قبرستان میں قبروں کے کتبے حزب اللہ کی کہانی سناتے ہیں۔ شام کی سرحد کے ساتھ واقع پتھریلی پہاڑیوں کے نیچے واجبی قبریں جوان آدمیوں کی تصاویر کے ساتھ موجود ہیں، ان قبروں پر خوبصورت خطاطی میں ان کے نام بھی کندہ ہیں۔ حزب اللہ کے ابتدائی دور میں بھرتی ہونے والوں میں سے ایک کی قبر پر لکھا ہے ’’ایک مکروہ صیہونی فضائی کارروائی میں وفات پائی‘‘۔ یہ تیس سال پہلے یہاں وادی بقاع میں مارے گئے تھے۔ کئی میٹر کے فاصلے پر ایک خاندان اپنے پیارے کی موت کا غم منا رہا ہے جو ایک دن پہلے شام کے قصبے زابادانی میں انتقال کر گیا۔

یہ پراسرار فوج جو کبھی کار دھماکوں اور قتل کی کارروائیوں کی وجہ سے جانی جاتی تھی، اب بہت آگے آگئی ہے۔ اس کے ابتدائی ارکان کو ایران کے انقلابی محافظوں نے تربیت دی تھی۔ حالیہ برسوں میں یہ شام کی خانہ جنگی میں سب سے واضح مرکزی کرداروں میں سے ایک کے طور پر سامنے آئی ہے، جو حکومت کے لیے لڑ رہی ہے۔ غالباً یہ اب عرب دنیا کی سب سے زیادہ تجربہ کار اور قابل عسکری قوت بن چکی ہے۔ مگر یہ صلاحیت زندگیوں اور عرب وحدت کی قیمت کے بدلے حاصل ہوئی ہے۔ شام میں جنگ کے گزشتہ تین سالوں میں اس کے نقصانات کا تخمینہ ۱۵۰۰؍افراد ہے، جو ایک ایسی فوج کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے جس کے کُل ارکان (جز وقتی افراد کو چھوڑ کر) ۱۵۰۰۰ سے زیادہ نہیں ہے۔ حزب اللہ کے آزمودہ کاروں کا کہنا ہے کہ اموات اور کارروائیوں کے لیے بڑھتے ہوئے رقبے نے اسے مجبور کیا ہے کہ بھرتی کے مطلوبہ معیارات کو نرم کرے۔

عرب شہروں کا ٹینکوں کے ساتھ محاصرہ کرنا اور شامی فضائیہ کی حمایت کبھی حزب اللہ کے لیے اجنبی اقدام تھے۔ مگر آج یہ جنگجو فوج نہ صرف دفاعی آلات اور نشانہ باز میزائلوں کو استعمال کر رہی ہے، بلکہ اس کے پاس ہتھیار بند ڈرونز کا بیڑا بھی موجود ہے، جسے شام میں ہونے والی کارروائی کی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے۔ ایک تھنک ٹینک ’واشنگٹن ادارہ برائے مشرق قریب پالیسی‘ کے جیفری وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ ایک گوریلا فوج سے بڑھ کر ایک ایسی قوت بن گئی ہے، جس کے پاس وسیع پیمانے پر کارروائیاں کرنے کی بہت بہتر صلاحیت ہے۔

شام میں ملوث ہونے کے باوجود، حزب اللہ کا اہم ترین محاذ اب بھی اسرائیل کے ساتھ سرحد ہے۔ جنگجوئوں کا اصرار ہے کہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت حزب اللہ کی اولین ترجیح ہے اور یہ کہ جنوبی لبنان میں اس کے بنکر اور سرنگوں کے جالوں میں تجربہ کار اور آزمودہ کار آدمی تعینات ہیں۔ ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ زیر زمین وہ لوگ ہر دن ایسے گزارتے ہیں جیسے اگلی جنگ کل ہی شروع ہو جائے گی۔

لیکن ابھی یہاں شام توجہ کا مرکز ہے۔ جنوبی بیروت میں فوج میں بھرتی ہونے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ نئے جنگجوئوں سے بھری گاڑیاں ہر روز شام کے لیے نکلتی ہیں، جہاں سولہ سال کی عمر تک کے بچے بھی قصبوں کا دفاع کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔ اس شخص نے کہا کہ ’جس بڑی تعداد میں ہم لوگوں کو تربیت دے رہے ہیں اور شام بھیج رہے ہیں وہ غیر مثالی ہے‘۔

حال میں وادی بقاع کی سڑکیں حزب اللہ کی گاڑیوں، زنگ زدہ ویگنوں اور ایمبولینسوں سے بھر گئی ہیں۔ جو آدمی اور سامان شام پہنچاتی ہیں۔ گزشتہ ہفتے قصبہ بریتال کے باہر ایک بے نشان جیپ دھول سے اٹی سڑک پر دوڑ رہی تھی، اس کی کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں جس میں سے دھوپ کے چشمے لگائے اور ہتھیار بند لباس پہنے تنومند آدمی جھانک رہے تھے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حزب اللہ بیرونِ ملک کارروائی میں ملوث ہوئی ہے، لیکن یہ سب سے زیادہ متنازع ہے۔

گزشتہ دہائی میں حزب اللہ نے عراق کے شیعہ جنگجو گروپوں اور شام کی قومی دفاعی افواج، جو ریاست کی ایک حمایت یافتہ فوج ہے کو تربیت دی ہے۔ حزب اللہ کے چند تربیت کار شیعہ باغیوں کی یمن میں بھی مدد کر رہے ہیں۔

بعض تجزیہ کار سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا حزب اللہ اپنے ایرانی سرپرستوں کے اثر سے نکل کر خودمختاری حاصل کر رہی ہے۔ ممکن ہے ایسا ہو، مگر روابط ابھی بھی مضبوط ہیں۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اگست کے وسط میں بیروت میں موجود اپنے بنکر میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات کی تھی۔

مسٹر نصراللہ تقریروں میں ایران کے مذہبی راہ نمائوں کی تعریف کرتے ہیں اور زمین پر موجود جنگجوئوں کا کہنا ہے کہ ایران ابھی بھی ہدایتیں جاری کرتا ہے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ جب اسرائیل کی بات آئے گی تو وہ ہدایتیں کیا ہوں گی؟ اپنے جوہری منصوبے پر مغرب کے ساتھ کسی سودے پر پہنچنے سے پہلے ایران نے حزب اللہ کو طویل فاصلے تک مارے جانے والے میزائلوں سے مسلح کیا تھا تاکہ اسرائیل کو اپنی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے باز رکھا جاسکے۔

۱۴؍اگست کو حسن نصراللہ نے اپنے گروہ کی اسرائیل سے ۲۰۰۶ء میں ’’والہامی فتح‘‘ کی تعریف کی اور حزب اللہ کے ’المنار سیٹلائٹ چینل‘ نے اس جنگ کے بارے میں ایک متاثر کن دستاویزی فلم نشر کی، یہ جنگ برابر رہی تھی۔ مگر جیسے جیسے شام میں جنگ پُرپیچ ہوتی جارہی ہے، حزب اللہ کے پرانے مداح یہ دیکھ کر بددل ہو رہے ہیں کہ وہ گروہ جو اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، اپنے ہی ہم مذہب مسلمانوں سے لڑ رہا ہے۔ ایران کی جانب سے حزب اللہ پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کم ہوتا دبائو اور راکٹوں کا بڑھتا ہوا ذخیرہ، اسرائیل کے ساتھ تصادم کے خطرے کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ شام میں تجربے کے بعد حزب اللہ کافی دشوار ثابت ہوسکتی ہے۔

(ترجمہ: طاہرہ فردوس)

“Hizbullah’s learning curve, deadly experience”. (“The Economist”. August 22, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*