عسکری و سفارتی قوت سے محروم ہوتا برطانیہ

اب جبکہ عام انتخابات میں محض ایک مہینہ رہ گیا ہے، دنیا کی نظریں برطانیہ پر ہیں۔ مگر یہ نگاہیں پیداواری ریاست اور تیزی سے بہتر ہوتی معیشت پر نہیں، جس کی بابت وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بڑھ چڑھ کر بات کررہے ہیں، اور نہ ہی برابری سے متعلق اُس اہم بحث پر ہیں جو لیبر پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ چھیڑنا چاہتے ہیں۔ اس کے بجائے توجہات بین الاقوامی تعلقات کے ریڈار پر موجود اس خلا کی جانب ہیں جسے برطانیہ کو پُر کرنا چاہیے تھا۔

روسی جارحیت صرف یوکرین تک محدود نہیں ہے۔ روس کے بمبار اب برطانیہ کی فضائی دفاع کا امتحان لے رہے ہیں، جیسا کہ انہوں نے سرد جنگ کے عروج میں لیا تھا۔ سیکڑوں شدت پسند برطانوی نوجوان شام میں داعش کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے جاچکے ہیں اور ان کے جہادی ساتھی لیبیا میں بحیرئہ روم کے ساحلوں پر عیسائیوں کو بہیمانہ انداز میں قتل کررہے ہیں۔ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین جان مکین کہتے ہیں، ’’ہنری کسنجر سے لے کر میڈیلین البرائٹ تک، ہماری کمیٹی کے سامنے بیان دینے والے ہر شخص کا کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی کے سب سے زیادہ پریشان کن مواقع ہیں۔‘‘ اس کے باوجود برطانیہ دفاعی بجٹ میں کمی کررہا ہے جو جان مکین کے بقول ’’حالات پر اثر انداز ہونے کی برطانوی صلاحیت کے لیے تباہ کن ہے‘‘۔

مارگریٹ تھیچر خود کو دو امریکی صدور کی قریبی ساتھی سمجھتی تھیں اور عام تاثر بھی یہی تھا۔ انہیں جب لگا کہ ان کے نظریاتی رفیقِ کار رونالڈ ریگن روسیوں کے ساتھ مذاکرات میں مات کھا سکتے ہیں تو انہوں نے جوہری ڈراوے کی پُرزور وکالت کی۔ ٹونی بلیئر نے نیٹو اور بل کلنٹن کو کوسووو میں فوجی کارروائی کی طرف دھکیلا۔ گو کہ بعد ازاں عراق میں فوجی مداخلت کا انجام برا ہوا، بلیئر بہرحال کبھی امریکی کٹھ پتلی نہیں رہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ برطانیہ کو اُن ممالک کی صفِ اول میں ہونا چاہیے جو صدام حسین کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ حتیٰ کہ گورڈن براؤن جیسے ناقد نے بھی ۲۰۰۸ء کے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی ردعمل کا ساتھ دیا۔

ڈیوڈ کیمرون نے ۲۰۱۰ء میں اس وعدے کے ساتھ عہدہ سنبھالا کہ ان کی خارجہ پالیسی مختلف مگر انتہائی متحرک ہوگی۔ انہوں نے اسی سال ایک تقریر میں اس مفروضے کو اس تاثر کو محض ایک مفروضہ قرار دیا کہ برطانیہ اب دنیا میں بڑا کردار ادا نہیں کرسکے گا۔ اُس وقت برطانیہ کا دفاعی بجٹ دنیا میں چوتھا بڑا بجٹ تھا۔ اس کی امریکا کے ساتھ گہری اور قریبی شراکت داری تھی اور وہ یورپی یونین کا فعال رکن تھا۔ اس کے پاس بہترین تجارتی قوت تھی جسے وہ ایک نئے ہتھیار کے طور پر اپنا قد و قامت بڑھانے کے لیے استعمال کرسکتا تھا۔ کیمرون نے زعم بھرے لہجے میں کہا، ’’زمین پر چند ممالک کے پاس اثاثوں کا یہ امتزاج ہے اور ان میں سے بھی کچھ کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ ان کا بہترین استعمال کرسکیں‘‘۔

وہ اثاثے اب ضائع اور رائیگاں ہوچکے ہیں۔ برطانیہ نے فوجیوں کی تعداد میں کمی کردی ہے، اس کا دفاعی بجٹ دنیا کے چوتھے بڑے بجٹ کے بجائے اب چھٹے نمبر پر ہے۔ گزشتہ سال کے اواخر میں افغانستان میں نیٹو کی جنگی مہم کے خاتمے نے دور دراز علاقوں میں انسدادِ بغاوت کی مشکل مہمات کے حوالے سے ایک لکیر کھینچ دی ہے۔ بیرونِ ملک مہم جوئی کی رہی سہی بھوک کو ۲۰۱۱ء میں لیبیا میں مداخلت نے مٹا دیا، جس نے خستگی کا شکار عسکری وسائل اور مکمل منصوبہ بندی کے بغیر ٹانگ اڑانے کے خطرات کو نمایاں کردیا۔

اس کے بعد سے برطانیہ اپنے دستیاب سفارتی و عسکری وسائل کے استعمال کے حوالے سے مزید بیزار ہوگیا ہے۔ یہ ایک ایسے ملک کا واضح زوال ہے جو اپنے سفارتکاروں کی قابلیت، مسلح افواج کی چابکدستی اور پیشہ ورانہ صلاحیت، سیاسی رہنماؤں کی عالمی ساکھ اور اپنے قد سے اونچا ہوکر بات کرنے کی اہلیت کے حوالے سے معزز تھا۔

گزشتہ ستمبر میں ویلز میں نیٹو سمٹ کی میزبانی کرتے ہوئے کیمرون نے دیگر ممالک کو اس وعدے پر رضامند کرنے کی کوشش کی کہ وہ برطانوی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی مجموعی ملکی پیداوار کا محض ۲ فیصد دفاع پر خرچ کریں، جیسی کہ ان سے توقع کی جاتی ہے۔ پھر دسمبر میں ان کے وزیرِ خزانہ جارج اوسبورن نے اگلی پارلیمان کے اخراجات بتاتے ہوئے اعلان کیا کہ برطانیہ نہ صرف آئندہ مالی سال میں نیٹو کے ہدف سے کچھ نیچے ہی رہے گا (۹۵ء۱ فیصد، حالانکہ پہلی دفعہ دفاعی بجٹ میں جنگی پینشن بھی شامل کی گئی) بلکہ وہ اس میں مزید کمی بھی کرتا رہے گا۔

پاؤنڈ فولِش

اس کی وجہ اوسبورن کایہ قرار دینا ہے کہ برطانیہ وزارتی خرچوں میں کمی کا محض آدھا راستہ ہی طے کرسکا ہے اور صحت، تعلیم اور بیرونی امداد کی طرح دفاع کی کٹوتیاں محتاط انداز میں نہیں کی جائیں گی، ۱۸؍مارچ کی بجٹ تقریر کے بعد مختلف انٹرویوز میں انہوں نے یہ کہنے سے بار بار احتراز کیا کہ کنزر ویٹیو حکومت ۲ فیصد کے اپنے ہی وعدے کا پاس رکھے گی۔

لندن میں قائم آر یو ایس آئی نامی تھنک ٹینک سے منسلک میلکم شامرز کا تخمینہ ہے کہ اگر ٹوری حکومت اپنے مالی منصوبوں پر قائم رہتی ہے تو اگلے پانچ سال میں وزارتِ دفاع کے خرچوں میں ۱۰؍فیصد کمی ہوگی، وہ بھی ایسے وقت میں جب اہلکاروں اور سامانِ حرب کے اخراجات افراطِ زر سے بھی زیادہ رفتار سے بڑھیں گے۔ دائرے کو جو چیز مزید تنگ کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس مرحلے کے اختتام تک دو نئے طیارہ بردار بحری جہاز بیڑے میں شامل ہوں گے، جن سے انتہائی مہنگے ایف۔۳۵ طیارے اڑان بھریں گے، اور چار نئی ٹرائیڈینٹ بیلسٹک میزائل آبدوزوں کی تیاری بھی جاری رہے گی۔ اگر حکومت باقی بجٹ کو جوں کا توں رکھ کر حربی سامان کے خرچے اگلے سال سے ایک فیصد بڑھانے کے اپنے پرانے وعدے پر بھی قائم رہی، تب بھی برطانیہ ۲۰۱۹ء تک جی ڈی پی کا محض ۷۵ء۱؍فیصد ہی دفاع پر خرچ کرے گا جو کہ ۲۰۱۰ء میں ۶ء۲ فیصد تھا۔

ہُووَر انسٹی ٹیوشن میں کام کرنے والی ریپبلکن انتظامیہ کی سابق سیکورٹی افسر کوری شاکے ۲ فیصد کی شرح کو قابلِ تقلید علامت قرار دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہم برطانیہ کو اتحادیوں کے طرزِ عمل کا معیار طے کرنے والا سمجھتے ہیں‘‘۔ زیادہ حقیقت پسندی کی طرف جائیں تو امریکی آرمی چیف رے او ڈی ایمو سوچتے ہیں کہ کیا مستقبل میں برطانیہ کے پاس اتنے فوجی ہوں گے کہ وہ ایک امریکی ڈویژن کے ساتھ کام کرسکیں۔ شامرز کا سب سے مایوس کن تجزیہ کہتا ہے کہ برطانوی فوج جو پہلے ہی ۰۰۰,۱۰۲ سے ۰۰۰,۸۲ فوجیوں تک آ چکی ہے، ۰۰۰,۵۰ تک محدود ہوسکتی ہے۔

محدود ہوتا اثر و رسوخ

عسکری و سفارتی، دونوں لحاظ سے برطانیہ بیرونِ ملک بہت کم مصروف ہے۔ کیمرون نے ولادی میر پوٹن سے معاملہ کرنے کی مشکل اور ناگوار ذمہ داری دیگر یورپی رہنماؤں خصوصاً اینگلا مرکل کے لیے چھوڑ دی ہے۔ عراق میں داعش کے خلاف کارروائی میں برطانیہ کا حصہ مشکل سے یومیہ ایک فضائی حملہ ہے۔ وزیرِ خارجہ فلپ ہیمنڈ نے داعش کے خلاف شام میں کارروائی کو کچھ اس طرح کی بات کرکے خارج از امکان قرار دے دیا کہ پارلیمان پہلے ہی اس کے خلاف رائے دے چکی ہے۔ یہ اگست ۲۰۱۳ء کی اُس بے نتیجہ بحث کی طرف اشارہ تھا، جب کیمرون نے صدر بشار الاسد کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر سزا دینے کی اجازت مانگی اور ناکام رہے تھے۔

آر یو ایس آئی کے ڈائرکٹر مائیکل کلارک کہتے ہیں، ’’میں نے اس سلسلے میں بہت سفر کیا اور اندازہ کیا کہ جہاں ضروری ہو، وہاں ہمارے اتحادی ہمیں موجود پانے کی بہت زیادہ توقع رکھتے ہیں۔ جب وہ ہمیں نہیں پاتے تو مایوس ہوتے ہیں اور ہمارے عزم میں کمی کو محسوس کرتے ہیں‘‘۔ ان کے نزدیک یہ چیز مددگار نہیں ہے کہ صدر براک اوباما نے خارجہ پالیسی کا ایک تسلسل کا حامل اور مضبوط طریقہ وضع کردیا ہے جس کی تقلید برطانیہ بھی کرسکتا ہے۔ بہرحال، ماضی میں جب کبھی امریکی قیادت لڑکھڑائی ہے، برطانوی وزرائے اعظم نے ناخن تیز کرنے میں اس کی مدد کی ہے۔

پیرس میں قائم ایک تھنک ٹینک کے رکن فرانکوئس ہیزبرگ ایک مختلف تقابل کرتے ہیں۔ ہرچند کہ ۲۰۱۰ء کے برطانیہ، فرانس معاہدے نے تعاون کو بہت فروغ دیا ہے، جس میں جوہری ہتھیار بھی شامل ہیں، پھر بھی فرانسیسیوں نے فوجی مہمات کی گم کردہ برطانوی خواہش کو نوٹ کیا ہے۔ ہیزبرگ کہتے ہیں، ’’فرانسیسی اب بھی سمجھتے ہیں کہ وہ فرق پیدا کرسکتے ہیں، اور اگر وہ کرسکتے ہیں تو کرنا بھی چاہیے۔ بوکوحرام کی مثال لیجیے۔ نائجیریا میں برطانوی کہاں ہیں؟‘‘ فرانس نے اپنی سابقہ کالونی مالی میں اسلامی باغیوں سے جنگ کی ہے، اور اب بوکوحرام کے خلاف چاڈ اور دیگر ہمسایہ ممالک کو متحد کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

کسی زمانے کے طاقتور دفترِ خارجہ و دولتِ مشترکہ میں مورال گرچکا ہے۔ بلیئر نے خارجہ پالیسی ۱۰؍ڈاؤننگ اسٹریٹ منتقل کرکے اسے نظرانداز کیا۔ ملک کے انتہائی سینئر سابق سفارتکاروں میں سے ایک کا کہنا ہے، ’’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح دفترِ خارجہ کی روسی امور میں مہارت ضائع کی گئی۔ جب یوکرین کا بحران آیا تو سرد جنگ کے زمانے کے لوگ وہاں تھے ہی نہیں‘‘۔ وہ اوسبورن کو معاشی مفادات کی تابع خارجہ پالیسی تھوپنے کا الزام دیتے ہوئے چین کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے کو قابلِ افسوس گردانتے ہیں۔

بیجنگ میں محدود سفارتی وسائل کو استعمال کیا گیا اور آسیان کے لیے ایک سفیر مقرر کردیا گیا۔ مان لینا چاہیے کہ ایشیا سے متعلق برطانیہ کا مرکزی نکتہ صرف تجارت نہیں ہے۔ سفارت کار مِنڈانو اور برما میں تنازعات طے کروانے میں مصروف ہیں۔ اس کے برعکس، ہر سال برطانیہ سے بھاری ترقیاتی امداد لینے کے باوجود ابھرتے ہوئے افریقی براعظم کو سرکردہ سیاستدانوں نے زیادہ تر نظر انداز ہی کیا ہے۔

دفترِخارجہ کے تقریباً ۶ء۱ بلین پاؤنڈ کے برائے نام اخراجات کا (جس میں ۲۰۱۰ء سے اب تک ۱۶؍فیصد اور اگر بی بی سی عالمی سروس کو ملنے والی رقم بھی شامل کی جائے تو تقریباً ۳۰ فیصد کمی ہوئی) بین الاقوامی ترقی کی وزارت سے تقابل کرتے ہیں جسے اس سال ۱۱؍بلین پاؤنڈ کا بجٹ ملے گا اور اس میں مزید اضافہ بھی ہوگا، دفاعی اخراجات کے لیے ۲ فیصد کی بھی ضمانت نہ دینے والی حکومت گزشتہ ماہ اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے خوش تھی کہ حالات کچھ بھی ہوں، بین الاقوامی ترقی کا محکمہ جی ڈی پی کا ۷ء۰ حاصل کرتا رہے گا۔ معروف دانشور پروفیسر سر لارنس فریڈمین کہتے ہیں: ’’سیاست کی اعلیٰ سطح پر بین الاقوامی امور میں دلچسپی تیزی سے زوال پذیر ہے۔ یہ دیکھنا حیران کن تھا کہ سیاسی جماعتوں نے اس انداز میں اپنے ہاتھ باندھ لیے۔ بین الاقوامی ترقی کا محکمہ خارجہ پالیسی نہیں چلاتا‘‘۔

دفترِ خارجہ کے ناکارہ ہونے کے تاثر کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ وہ یورپی یونین سے متعلق حکومتی سوچ کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس تاثر کے بارے میں زیادہ بحث نہیں کی جاسکتی کہ برطانیہ اب یونین کا ادھورا رکن رہ گیا ہے، اور اگر ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے ۲۰۱۷ء میں رکن رہنے یا نہ رہنے سے متعلق ریفرنڈم کے نتائج غلط آگئے تو شاید برطانیہ یونین کا رکن ہی نہ رہے۔ گو کہ برطانیہ نے ہمیشہ یورپی یونین کے ساتھ مل کر چلنے کی سوچ اپنائی ہے، لیکن کیمرون نے معاملات اُن رشتوں کو استوار کیے بغیر چلانے کی کوشش کی ہے۔

۲۰۱۱ء میں مالی معاہدے کے غیر مؤثر ’’ویٹو‘‘ سے لے کر گزشتہ سال یورپی کمیشن کی صدارت کے لیے ژاں کلاڈ جنکر کی مہم کو روکنے کی ناکام کوشش تک، کیمرون سب کچھ غلط سمجھتے رہے اور نتیجتاً اپنی رہی سہی ہٹ دھرمی دکھانے کے لیے اکیلے رہ گئے۔ ان کی ناکامی کا ایک سبب یہ ہے کہ جب ایک دہائی قبل وہ ٹوری پارٹی کی سربراہی کی جنگ لڑ رہے تھے تو انہوں نے یونین سے متعلق خدشات کے شکار عناصر کو اس وعدے پر ساتھ ملایا کہ وہ یورپی پارلیمان میں دائیں بازو کی یورپین پیپلزپارٹی کا گروپ چھوڑ دیں گے، یہ اقدام انہیں فیصلہ کن سیاسی فراست سے محروم کرگیا۔

یورو سے باہر رہنا جہاں بلاشبہ معیشت کے لیے بہتر ہے وہیں برطانیہ کی تنہائی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ لیکن سینٹر فار یورپین ریفارم کے ڈائریکٹر چارلس گرانٹ کے نزدیک یورو اہم معاملہ نہیں ہے: ’’ٹونی بلیئر کو ان کے بہترین مقام پر دیکھیے۔ اب مسئلہ جذبے کی کمی کا ہے، ہم اس قابل ہیں کہ کئی معاملات پر رہنمائی کرسکیں مثلاً: ماحولیات، توانائی، تجارت، مفرد منڈی (Single Market)، دفاع، خارجہ پالیسی، مگر کئی دفعہ ہم کچھ کرتے نہیں حالانکہ کرسکتے ہیں‘‘۔

یورپی یونین نے اپنی دو بڑی کامیابیاں، یعنی ۱۹۸۰ء کی دہائی میں مفرد منڈی کا قیام اور ۲۰۰۰ء کی دہائی میں مشرقی سمت میں وسعت، برطانوی سرکردگی میں حاصل کیں۔ برطانوی آزاد خیالی اور آزادانہ تجارت کی سوچ نے فرانسیسیوں اور دوسرے ممالک کی محدود تجارت کی صلاحیت کو دبایا، جبکہ سلامتی کونسل میں اس کی مستقل نشست اور جوہری ڈراوے نے یورپی یونین کو تذویراتی سبقت عطا کی، وہ دن اب بڑی حد تک بیت چکے ہیں۔ یورپی افسر شاہی کے ارکان کہتے ہیں کہ برطانیہ کی جانب سے قومی مفاد کے حصول کے لیے سخت اور اصولی موقف کی جگہ اب پوائنٹ اسکورنگ اور دکھاوے نے لے لی ہے۔

کیمرون کی جانب سے ریفرنڈم کے وعدے نے اتنا نقصان نہیں کیا جتنا اس کے بعد پیدا ہونے والی سوچ نے کیا۔ کبھی کبھار وہ یورپی شہریوں کی سرحد پار آزادانہ نقل و حرکت کے مسلمہ اصول کو بھی جھٹلانے کے قریب آگئے۔ گرانٹ کے بقول مستقل سکونت کی مخالف حکومتی سوچ نے پولینڈ جیسے قدرتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو بھی نقصان پہنچایا۔ (یہی نہیں بلکہ کھاتے پیتے بھارتی بھی ناراض ہوئے جو پہلے اپنے بچوں کو پڑھنے برطانیہ بھیجتے تھے مگر اب امریکا کو ترجیح دیتے ہیں)۔

ممکنہ اتحادیوں کے ساتھ تعلقات بڑھانے اور یورپی یونین کس طرح کام کرتی ہے، یہ سمجھنے میں ناکامی کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ کیمرون برطانوی رکنیت کی شرائط میں تبدیلیوں کی جو امید رکھتے ہیں، وہ شاید پوری نہ ہوسکے۔ برطانوی وزرا کمزور ارکان سمیت کم از کم اسپین اور فرانس جیسے دو بڑے ارکان کو بھی حقارت کے ساتھ نظر انداز کرنے کی شہرت رکھتے ہیں، اس لیے برطانیہ کو یورپی یونین چھوڑتا دیکھ کر یہ ممالک ناخوش ہرگز نہیں ہوں گے۔ ہیزبرگ کہتے ہیں، ’’فرانسیسی اشرافیہ کے لیے برطانیہ کے ساتھ گزارا کرنا دردناک ہے۔ اخراجِ برطانیہ کا مطلب اگر سرمایہ کاروں کا برطانیہ چھوڑنا ہو تو ان میں سے کچھ کے لیے ناخوشگوار نہیں ‘‘۔

لڑکھڑاتی کرسی

ممکن ہے کہ دفاع پر زیادہ رقم خرچ کی جائے، اگر کنزرویٹیو عام انتخابات جیت جائیں تو یورپی یونین کی رکنیت بحال رکھنے کا ریفرنڈم بھی جیت جائیں۔ ایک دفعہ انتخابات ہوجائیں تو اگلی حکومت یہ ثابت کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے کہ برطانیہ اتحادیوں کے دل دوبارہ جیت سکتا ہے اور دشمنوں کو عزت دے سکتا ہے، لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہونا بھی ممکن ہے اور یہ تصور کرنا محال ہے کہ اقلیتی لیبر حکومت جسے اسکاٹش نیشنل پارٹی کی حمایت حاصل ہو، کوئی اچھا منظرنامہ پیش کرے گی۔ ایڈ ملی بینڈ نے ماضی میں عراق جنگ کی پرزور مخالفت کرتے ہوئے لیبر پارٹی کی سربراہی کی دوڑ میں اپنے بھائی کو ہرایا، جبکہ اسکاٹش پارٹی جوہری ٹرائیڈنٹ پروگرام کا خاتمہ چاہتی ہے۔

لندن میں قائم تھنک ٹینک شیتم ہاؤس میں امریکی امور کی نگران زینیا ویکٹ برطانیہ کے اہم ترین اتحادی کا نقطۂ نظر واضح کرتی ہیں۔ ’’جہاں تک واشنگٹن کا تعلق ہے، تعلقات کا انحصار تین پایوں والی کرسی پر ہے۔ اول برطانوی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی صلاحیت پر اعتبار، دوم برطانیہ کی یورپی یونین کی رکنیت، سوم برطانیہ کی واشنگٹن میں ’نرم طاقت‘۔ عالمی امور پر روایتاً دونوں بااعتماد ساتھی رہے ہیں جن کا نقطۂ نظر کبھی کبھی مختلف ہوتا ہے اور ان میں سے ایک بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام بھیجتا ہے کہ امریکا انفرادی اقدامات نہیں کررہا‘‘۔ وہ مزید کہتی ہیں، ’’دفاع پر محدود اخراجات پہلے پائے کو کمزور کردیں گے اور یورپی یونین سے علیٰحدگی دوسرے کو تباہ کردے گی۔ تیسرا شاید بچ جائے، مگر کرسی ایک ٹانگ پر کھڑی نہیں رہ سکتی‘‘۔

(مترجم: حارث رقیب عظیمی)

“Defence and diplomacy: Little Britain”.
(“The Economist”. April 4, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*