Abd Add
 

ایمان و معنویت سے عاری ترقی یافتہ علمی معاشروں کی مشکلات

آیت اﷲ سید علی خامنہ ای کا دینی درسگاہ کے طلبہ سے خطاب

ایک ایسے معاشرے میں جو ترقی کی طرف گامزن ہو اور اعلیٰ علمی‘ معاشرتی اور عالمی اہداف و مقاصد کا بھی حامل ہو‘ اگر ایک ایسا قومی و موثر ثقافتی چشمۂ فیض جاری ہو جو معاشرے کی کوشش و حرکت کی صحیح سمت میں رہنمائی کرتا رہے تو یہ معاشرہ خیر و ترقی اور کامیابی و کامرانی حاصل کر لے گا لیکن اگر اس طرح کا کوئی الٰہی و معنوی‘ مذہبی‘ ثقافتی چشمۂ فیض‘ علمی توسیع و ترقی کی طرف گامزن معاشرے میں موجود نہ ہو تو نتیجے میں وہی چیز دیکھنے کو ملتی ہے جو آج مغرب کے ترقی یافتہ معاشروں میں نظر آرہی ہے۔ یہ جس قدر زیادہ ترقی یافتہ ہیں‘ اتنا ہی زیادہ انسانیت‘ بھلائی اور عدل و انصاف سے دور ہیں۔ آج آپ امریکا میں دیکھ سکتے ہیں۔ علم‘ دولت و ثروت‘ فوجی قوت اور سیاسی و سفارتی کوششوں کے لحاظ سے وہ مادی تہذیب و تمدن کے اوج پر ہے۔۔۔ لیکن انسانیت‘ معنویت اور اخلاق و فضیلت سے دوری بھی آپ کو امریکی معاشرے میں اس اوج پر نظر آئے گی کہ اس سے قبل کوئی دوسرا معاشرہ وہاں تک نہ پہنچ سکا ہو گا۔ آج انسانی نقطۂ نگاہ سے نفرت انگیز ترین اخلاقی‘ جنسی اور معاشرتی امور اسی امریکا اور اس کے جیسے دوسرے ترقی یافتہ معاشروں میں قانونی شکل میں عام طور پر رائج اور مقبول ہو چکے ہیں۔ گناہ تقریباً سبھی انسانی معاشروں میں ہے لیکن کوئی گناہ عام اور قانونی ہو جائے اور اس پر سرمایہ کاری ہو اور اس کو تحفظ عطا کیا جائے وہ انحراف ہے‘ جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ آج یہ انحراف امریکی معاشرے میں‘ سب سے زیادہ علمی‘ صنعتی‘ معاشی‘ اقتصادی اور سیاسی ترقی یافتہ معاشرے کے عنوان سے نمایاں طور پر قابلِ مشاہدہ ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ایک مرد یا ایک عورت بظاہر ہر طرح آراستہ و پیراستہ اس قدر مکمل شکل کہ اگر کوئی مرد یا اس عورت کو سڑک یا کسی دوکان پر دیکھے تو اس کے اخلاق و رفتار کے بارے میں دور تک کسی بدگمانی کا تصور بھی پیدا نہ ہو لیکن یہی مرد اور یہی عورت بغداد کے ابو غریب جیل میں ایک درندہ نما بھیڑیے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ بظاہر اس صاف ستھری‘ منظم و مرتب خوشبو سے معطر ٹائی اور پنس لگائے انسان کے اندر ایک جنگلی کتا سو رہا ہے۔ ابو غریب جیل کی تصویروں نے جو منظرعام پر آئی ہیں‘ مغربی معاشروں کے غافل ترین سماجی طبقوں کو جھنجھوڑ اور چونکا دیا ہے۔ اذیت رساں‘ ایک عورت‘ ان لطیف احساسات کے ساتھ جو ایک عورت میں ہونے چاہیے‘ ایک طرف سے دوسری جانب اذیتوں میں مبتلا کئی عراقی مرد اور ان بے چارے کا جرم کیا ہے؟ مشکوک ہونا اور بس۔۔۔ اور اذیتیں؟ درندگی کی انتہا کو پہنچی ہوئی اور وہ برادری جوان جرائم کی مرتکب ہوئی ہے ایک ترقی یافتہ علمی‘ صنعتی‘ متمدن بڑے بڑے دعوے کرنے والی برادری ہے۔ دراصل عالمِ بشریت کی قیادت کے دعویدار معاشرہ کی رگوں میں جب معنوی رہنمائی کا ایک صحیح و سالم موثر ثقافتی خون کا سیلان مفقود ہو جاتا ہے تو نتیجہ یہی ہوتا ہے۔ اس عظیم الشان مغربی تہذیب و تمدن کا گناہ بھی یہی ہے۔

یہ جو کہتے ہیں کہ اسلامی رجحان رکھنے والے روشن خیال و روشن نظر افراد مغربی تہذیب کے مخالف ہیں‘ اس کو اسلام دشمن مغربی عناصر الٹا کر کے پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لوگ علم و ترقی کے مخالف ہیں۔ حالانکہ اسلام پر ایمان رکھنے والے مغربی تہذیب کی مخالفت اس لیے نہیں کرتے کہ وہ علمی ترقی اور خرافات سے جنگ کے حامی اور تمام سماجی تعلقات کو علمی بنانے کے خواہشمند ہیں بلکہ ان کی مخالفت پوری مغربی دنیا میں معنویت اور انسانی اخلاق و فضائل کے فقدان کے سبب ہے۔ یقینا یورپ میں بیداری کی تحریک ’’ریناسنس‘‘ سے قبل ان کی مذہبی قیادت جس کج فکری اور انتہا پسندی کی شکار ہوئی اور وہ عقل و منطق سے دور جس طرح مکمل طور پر دشمنانہ تعصبات کی زندگی بسر کر رہی تھی‘ اس کا ردِعمل یہی ہونا چاہیے تھا۔ یہ ان کی سرنوشت ہے جو اس تباہی سے دوچار ہے۔ جب انہوں نے علم و ترقی کی مخالفت کی اور انسانوں کو اوہام و خرافات پر مبنی جرائم کی بنیاد پر زندہ آگ میں جھونک دیا اور یہ ابھی سو سال قبل کا یورپ ہے‘ بہت زیادہ پرانی بات نہیں ہے‘ جب مذموم ترین خرافات یورپ اور اس زمانے میں حکمراں کلیسا کے فکری اور معنوی پہلوئوں پر اس طرح سوار رہے ہوں تو اس کا نتیجہ یہی سب کچھ ہوتا ہے جو یورپ میں ہوا اور جس نے یورپ کو تباہی کے اس دہانے تک پہنچا دیا ہے۔

عزیز مسلمان طلبہ! آپ جوان ہیں۔ وہ دن بھی آپ دیکھیں گے جب یہ مغرب کی مہذب دنیا معنویت سے محرومی کے باعث ہلاکت اور تباہی سے دوچار ہو گی۔ قوت و اقتدار اور توانائیوں کے جس اوج پر وہ آج پہنچے ہوئے ہیں‘ وہاں سے ذلت و ناتوانی کے گڑہوں میں گر جائیں گے۔ یاد رکھیے تاریخی عمل و ردِعمل کے نتائج بہت زیادہ تیزی سے رونما نہیں ہوا کرتے۔ جس دن یہ نتائج آشکار ہوں گے‘ ان کا علاج ممکن نہیں ہو گا۔ البتہ وہ دن مغربی تہذیب کو ضرور دیکھنا ہو گا۔ یہ بات مغرب کے روشن نظر افراد اس وقت بھی محسوس کر رہے ہیں اور ان کو خبردار کیا کرتے ہیں۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو ہم طلبہ کی ہے اور ہم دور بیٹھے یہاں کر رہے ہیں۔ جی نہیں! یہ باتیں خود ان کا خیال ہیں۔ البتہ ہم بھی یہی سمجھ رہے ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہوا؟ ان کے یہاں علم کی کمی نہیں تھی‘ علمی ذرائع سے انہوں نے دولت و ثروت کے بے انتہا خزانے کشف کیے اور خداداد زمینی ذخائر پر قبضہ کیا اور جس قدر فوائد کا امکان تھا‘ فائدہ اٹھایا۔ فضائوں میں بھی گئے اور اجرامِ فلکی کا بھی گہرائی سے انکشاف کیا۔ وہ علمی ترقیوں میں بہت زیادہ آگے ہیں اور اپنے علم سے قوت و اقتدار اور سیاسی برتری کے حصول میں جتنا بھی ممکن تھا‘ جائز و ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ اسی علم کے ذریعے سامراجیت قائم کی‘ مختلف عالمی قتلِ عام کیے‘ دسیوں لاکھ انسانوں کا یورپیوں کے گذشتہ چند صدیوں کے دوران مختلف جنگوں میں اور مختلف حادثوں میں قتلِ عام کیا۔ بنا بریں ان کے یہاں کوئی علمی کمی نہیں تھی‘ لیکن علم ہدایت کے بغیر‘ فضیلت و معنویت اور انسانیت کے بغیر صرف دنیا کو نظر میں رکھنے اور آخرت سے آنکھیں پوری طرح بند رکھنے والے علم کا نتیجہ یہی ہے۔ معنویت سے عاری علمی ترقی پہلے زندگی کو جلوے‘ دولت و اقتدار اور حسن و رنگینی عطا کر دیتی ہے لیکن بعد میں اس کا انجام اسی طرح کا ہوتا ہے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا چلا جائے گا۔ آپ سن لیں ترقی یافتہ تمدن معاشروں کا کہ جنہوں نے معنویت کی بو بھی نہیں سونگھی ہے‘ اخلاقی جنگلی پن روز بروز بڑھتا جائے گا اور یہی جنگلی پن مغربی تہذیب کی سب سے بڑی لغزش گاہ ہے جو ان کو سرنگوں کرے گی۔ معاشرہ میں یہ معنویت فراہم کرنا کس کا کام ہے؟ عاقل و فرزانہ فعال و پابند مذہبی پیشوائوں کا یہ کام ہے کہ جن سے اہلِ مغرب محروم تھے۔ اگر معاشرے میں ان خصوصیات کے حامل مذہبی رہنما اور علماے دین موجود ہوں جو علمِ دین جانتے ہوں‘ حسبِ ضرورت تقویٰ و تقدس رکھتے ہوں‘ ضروری شجاعت پائی جاتی ہو اور خدا کے لیے میدان میں اتر آئیں‘ عقل و تدبیر سے کام کریں تو جس قدر بھی معاشرے کی دنیوی ترقی میں اضافہ ہو گا‘ اس کی معنویت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔ یہ عدم توازن جو آج مغربی دنیا پر حکمراں ہے اور ان کو ہلاکت کی طرف لے جارہا ہے‘ پھر نہیں پیش آنا چاہیے۔ آپ لوگ جو جوان ہیں اور ہمارے ملک و معاشرے کے نونہالوں میں شمار ہوتے ہیں‘ ملک و قوم بلکہ اس عظیم اسلامی برادری اور اس سے بھی بلند ہو کر پوری انسان برادری کو نجات دلایئے۔ آپ اسی نگاہ سے دیکھیے اور اسی تصور کے ساتھ میدانِ عمل میں اتر کر کام کیجیے۔ صحیح طرزِ فکر یہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم علما و طلبہ کے درمیان کمی اور کوتاہی نہیں ہے کیونکہ کمیاں بہت زیادہ ہیں لیکن اس امن و سلامتی کو ہمارے علماے سلف نے محفوظ رکھا ہے اور علم و تقویٰ کی راہ میں تندہی کے ساتھ کوششیں کی ہیں اور رشتۂ معنویت کو برقرار رکھا ہے۔ آج یقینا ہمارا ملک اور اسلامی معاشرہ دوسرے تاریخی ادوار سے بہت مختلف ہے اور اسی اعتبار سے علما کا کردار بھی دوسرے زمانوں سے زیادہ غیرمعمولی اور ممتاز ہے۔

زمانۂ گذشتہ میں علماے اسلام حکومت اور نظم و تدبر مملکت سے دور ایک ایسے مجموعہ کی حیثیت رکھتے تھے کہ جس نے تمام ادوار میں خود ایک مغلوب گروہ کے ہاتھوں مغلوب جماعت کی سی زندگی گزاری ہے۔ علما کا گروہ مکمل طور پر گوشہ نشیں تھا۔ گویا ایک سیلاب رواں دواں ہے لیکن اس کے کنارے ایک نہر ہے جو اس سے متصل ہونے کے باوجود سیلاب کی روانی میں کسی بھی بنیادی اور اصولی کردار و عمل سے عاری ہے۔ نہ صرف علما بلکہ خود مذہب کا بھی یہی عالم تھا۔ آج ہمارے ملک کی تاریخ میں بلکہ تمام اسلامی ملکوں کی تاریخ میں صدرِ اسلام کے بعد پہلی مرتبہ مذہب حکومت و اقتدار کا منبع و سرچشمہ بنا ہے اور علماے دین معاشرے کا انتظام چلا رہے ہیں۔ علما کا نمایاں اور مقدم ہونا اہم نہیں ہے۔ اہم دین کا مقدم ہونا یا نہ ہونا ہے۔ ہماری قانون ساز اسمبلی ایک اسلامی پارلیمنٹ ہے یعنی ہمارے (فقہا و زعما کی سپریم کونسل) شورائے نگہبان‘ کابینہ کے اراکین یعنی قوہ مجریہ (اور عدلیہ) وغیرہ ملک کا نظام چلانے والے تمام دست و بازو اور ذمہ دار حکام ایک مذہبی سرچشمے سے وابستہ ہیں۔ یہ ہمارے موجودہ معاشرے کی بنیادی ترین خصوصیت ہے۔ اگر آپ دیکھ رہے ہیں کہ کفر و استکبار کے عظیم مورچے اپنی طرح طرح کی تمام شکلوں کے ساتھ ان مذہبی نقطوں سے شدت کے ساتھ برسرِپیکار ہیں تو یہ اسی لیے ہے۔ شورائے نگہبان کے سخت مخالف ہیں۔ پارلیمنٹ کے جو اسلامی پارلیمنٹ ہے‘ سختی سے مخالف ہیں‘ صدر جمہوریہ جو اسلام کا دم بھرے اس کے سخت مخالف ہیں اور بطریق اولیٰ اسلامی قیادت و رہبری اور ولایتِ فقیہ کے سوفیصدی مخالف ہیں کیونکہ یہ سب وہ بنیادی نقطے ہیں جو اسلامی نظام کی راہ و روش‘ موقف اور حکمتِ عملی کا تعین کرتے ہیں۔ اگر یہ ملک مادی ترقی و تحرک کے میدانوں میں کامیابیاں حاصل کر سکا ہے‘ اگر علم و ٹیکنالوجی اور صنعت میں یہ ملک آگے بڑھا ہے‘ اگر یہاں ایک بین الاقوامی سیاست اور قومی و مستحکم سفارتی عمل پایا جاتا ہے‘ اگر یہ معاشرہ کے اقتصاد کو منظم کر سکا ہے اگر زمینی سرمایوں کے عظیم ذخائر سے خواہ معدنی ہوں یا زراعتی‘ یہ ملک بھرپور فائدہ اٹھانے کے قابل بنا ہے‘ اگر مختلف خصوصیات کی حامل ایران کی وسیع سرزمینوں سے جو فوجی اور تجارتی محلِ وقوع کے لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل ہیں‘ ملک پوری طرح فائدہ اٹھا سکا ہے اور مختصر یہ کہ اگر اس تہذیبی روایات کو عالمی ترقیوں کے معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے تو یہ اسلامی نظام کی جامعیت سے صحیح فائدہ اٹھانے کی وجہ سے ہے۔ ہمارا ملک وہ ملک ہے جس نے مادی ترقیاں فضیلت و معنویت کے درخشاں چراغ کی روشنی میں حاصل کی ہیں۔ یہ ایک نئی تہذیب بنے گی جس کی تاریخ میں بہت ہی کم مثال مل سکے گی۔ یہ مغربی تہذیب کو چیلنج کرنے اور سختی سے خبردار کرنے والا ایک ممتاز وجود ہے۔ اگر اس مجموعہ میں آپ نے روحانیت و معنویت کے کردار کا ممتاز ہونا ثابت کر دیا تو دیکھیں گے کہ آپ نے اس تہذیب و ارتقا کی کس قدر قیمتی خدمت انجام دی ہے۔ نئے علوم بہت زیادہ قابلِ ستائش ہیں۔ ہمارے جوان جو یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں‘ ہم ان کے علم و تحقیق اور تجربوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور تعریف و تشویق کرتے ہیں۔ میں نے یونیورسٹیوں کا دورہ کیا ہے اور وہاں کے طلبہ و اساتذہ سے باتیں کی ہیں اور انہیں موجودہ علمی سرحدیں توڑنے کی دعوت دی ہے کہ سرحدوں سے نکلیں۔ نئے علوم کا انکشاف کریں اور علم کی پیداوار کریں۔ یہ وہ کام ہیں جو ضرور ہونے چاہییں۔ ہم ملک کے حکام اور اس کے فعال و سرگرم دست و بازو کی ٹیکنالوجی‘ صنعت و زراعت اور قومی سرمائے کی پیداوار اور صحیح تقسیم کی طرف تشویق و ترغیب کرتے ہیں اور اس راہ میں کوششیں اور سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہ سب چیزیں لازمی اور ضروری ہیں۔ شرط یہ ہے کہ بہترین رخ سے انجام پائیں۔ لیکن اگر آپ (دینی طلبہ و اساتذہ) کہ جنہوں نے مذہب اور فضیلت و معنویت کی روشنی جلائے رکھنے کا عزم کر رکھا ہے‘ غائب ہو جائیں تو یہ تمام ترقیاں بے قیمت ہو جائیں گی بلکہ اقدار مخالف وسائل میں تبدیل ہو جائے گی۔ حوزات علمیہ اور مذہبی درسگاہوں کی اہمیت اسی منزل میں معلوم ہوتی ہے۔ اس زاویے سے آپ کا کام ان تمام کاموں سے جو ہو رہے ہیں‘ زیادہ اہم ہے۔ روشن خیال‘ روشن نظر‘ شجاع‘ متقی‘ پاک دامن‘ علم و آگہی سے سرشار‘ خوفِ خدا سے لبریز عوام دوست علما کی ایک جماعت کی موجودگی ترقی کی طرف گامزن معاشرے میں یہ نوید و خوش خبری دیتی ہے کہ یہ ترقیاں گمراہی و تیرگی کی راہ میں‘ جو تاریخی عمل و ردِعمل میں زوال و انحطاط کا باعث بن جاتے ہیں‘ استعمال نہیں ہوں گی۔ یہ آپ جو ان طلبہ اور دینی علوم کے محصلین کا کردار ہے جو کہ بہت اہم ہے اور اس کی قدر کی جانی چاہیے۔ یقینا مشکلات آپ کی راہ میں حائل ہیں۔ آج ہمارے طلبہ اور علما بہت سی مشکلات سے دوچار ہیں۔ مادی مشکلیں ہیں‘ مقام و حیثیت کی مشکلیں ہیں‘ طرح طرح کی سختیاں ہیں‘ محرومیاں ہیں لیکن یہ سب کچھ اس عظیم مقصد کے سامنے زیرو ہے۔ معاشرہ کا کوئی بھی گروہ مشکلات سے جنگ کیے بغیر ایک موثر اور جاوداں کردار نہ تو ادا کر سکا اور نہ ہی وجود میں لاسکا ہے۔ انسانی مزاج میں یہ چیز نہیں ہے کہ وہ عیش و آرام اور مکمل آسائش کا حامل ہو اور کسی بلند مقام تک پہنچ جائے۔ سختیوں سے گزرنا ضروری ہے۔ یہ وہی رضاے الٰہی کی طرف بڑھنا اور ایک معاشرے کی نجات و ترقی میں موثر کردار ادا کرنا ہے۔ جانفشانی کے ساتھ خود کو مقامِ تحقیق تک پہنچائیے۔ یونہی بیٹھے بیٹھے‘ کسی کد و کاوش کے بغیر برف کا ڈھیر لگانے سے انسان محقق‘ فقیہہ اور فلسفی نہیں ہو جاتا۔ ایک ایک اینٹ برابر سے رکھ کر ستون چنتے ہیں پھر آگے بڑھتے ہیں تب کہیں جاکر اوج نصیب ہوتا ہے۔ علم و تقویٰ کے میدان میں آپ کے یہاں نورانیت موجود ہے‘ آپ کے قلوب پاک ہیں اور جانیں پاکیزہ ہیں۔ آپ ابھی صاف و شفاف ہیں۔ اس شفافیت کی حفاظت کیجیے۔ گناہ سے دور رہیے۔ خدا کے ذکر و توجہ پر زور دیجیے۔ ’’فمن شاء اتخذ الی ربہ مابا‘‘ (جو شخص چاہے خدا کی طرف قدم بڑھائے) یعنی خدا سے خود کو آشنا بنائے اور تقرب حاصل کرے۔ نماز میں اپنے حقیقی معنی میں احساس کرے کہ کس سے مخاطب ہے اور کس سے بات کر رہا ہے‘ مدد طلب کر رہا ہے اور اس کی پناہ میں ہے‘ اس سے روشنی اور ہدایت چاہتا ہے۔ فضل و رحمت کا خواہاں ہے۔ ایسے شخص کے لیے پہلا مرحلہ گناہوں سے پرہیز ہے پھر واجبات و نوافل کی ادائیگی۔ آپ سب جوان ہیں‘ عظیم سرمائے کے مالک ہیں‘ ذرا سی کوشش و ہمت سے کام لیں تو آگے بڑھ جائیں گے۔ بنا بریں علم و تقویٰ دو بنیاد ستون ہیں۔ پاکیزگی‘ پرہیزگاری‘ پاکدامنی‘ علم و آگہی‘ روشن نظری‘ روشن خیالی‘ معاشرے اور دنیا کے مسائل سے واقفیت یہ سب بنیادی ستون ہیں۔ ممکن ہے ایک انسان عالم اور پرہیزگار بھی ہو لیکن چونکہ دنیا پر نگاہ نہیں رکھتا‘ سر جھکا کر راستے سے گزر جاتا ہے اور یک بیک خود محسوس کرتا ہے کہ راستے سے بہت دور نکل آیا ہے۔ ہمارے یہاں ایسے افراد رہے ہیں‘ بڑے ہی اچھے انسان‘ مومن و مخلص عالم باعمل لیکن اپنے محاذ کی راہ کھوئے ہوئے۔ اگر انسان کے پاس قطب نما نہ ہو تو راستہ جلدی بھول جاتا ہے۔ آپ میں زیادہ تر جوانوں نے جنگ کا زمانہ نہیں دیکھا۔ محاذِ جنگ پر انسان جلد راہ گم کر جاتا ہے۔ ایک دفع سوچتا ہے کہ دشمن پر گولیاں چلا رہا ہے لیکن چونکہ صحیح رخ پر کھڑا نہیں ہوتا‘ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ خود اپنی ہی فوج پر گولیاں چلا رہا تھا۔ ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ وہ بجائے اس کے کہ اپنی معنوی گولیاں دشمن کی طرف چلائیں اپنی توپوں کے گولے خود اپنے محاذ کی طرف پھینکنے لگتے ہیں‘ خود اپنے مورچے والوں کو جہاں موقع ملا نشانہ بناتے ہیں‘ ہم نے یہ چیز اپنی انقلابی جدوجہد کے دوران بھی دیکھی ہے اور اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ وہ حقیقت سے آگاہ نہیں تھے‘ غلط فہمی کا شکار تھے۔ لہٰذا علم و آگہی حاصل کرنا ضروری ہے۔ اپنی روشن خیالی اور روش نظری کی حفاظت کیجیے اور اپنے عزم و ارادہ اور انتھک جستجو کے جذبے کو قوی و مستحکم کیجیے۔

خداوندِ تعالیٰ اپنے فضل و عنایات میں روز بروز اضافہ فرمائے۔

(بشکریہ: مہر نیوز ڈاٹ کام)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*