ڈَچ باشندے نے اسرائیلی میڈل لوٹا دیا

Henk Zanoli

دوسری جنگ عظیم میں ایک یہودی لڑکے کی جان بچانے پر اسرائیلی حکومت کی طرف سے دیا جانے والا ایک ایوارڈ ہالینڈ کے ایک باشندے نے اسرائیلی سفارت خانے کو لوٹا دیا ہے۔ ۹۱ سالہ ہنک زنولی کے چھ رشتہ دار غزہ پر اسرائیلی بمباری میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہنک زنولی نے ’’رائٹیس اَمنگ دی نیشنز‘‘ میڈل اسرائیلی سفارت خانے کو لوٹانے کے ساتھ ہی ایک خط بھی دیا ہے جس میں لکھا ہے کہ اس میڈل کو اپنے پاس رکھنا ایک ایسا فیصلہ ہے جو وہ کسی بھی حال میں نہیں کرسکتے۔

اسرائیلی اخبار ’’ہاریز‘‘ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ہنک زنولی نے میڈل کے ساتھ جو خط لکھا ہے اس میں واضح طور پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ میڈل اپنے پاس رکھنا اب اس کے لیے ممکن نہیں اور یہ کہ وہ انتہائی دکھ کے ساتھ یہ میڈل واپس کر رہا ہے۔

زنولی اور اُس کی والدہ جوہانا زنولی اسمتھ کو ۲۰۱۱ء میں ییڈ ویشم ہولوکاسٹ میوزیم نے یہ میڈل دیا تھا۔ اُنہوں نے ہالینڈ پر جرمنی نازیوں کے قبضے کے دوران ۱۹۳۲ء میں پیدا ہونے والے ایلہانن پنٹو کو ۱۹۴۳ء سے ۱۹۴۵ء تک اپنے پاس رکھا تھا جبکہ اُن کے لیے ایسا کرنا اپنی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا کیونکہ نازیوں نے اُن لوگوں کی نگرانی بھی کی تھی جو یہودیوں کو پناہ دیا کرتے تھے۔ زنولی فیملی اس لیے بھی خطرے کی زد میں تھی کہ اس نے ہالینڈ پر نازیوں کے قبضے کی شدید مخالفت اور مزاحمت کی تھی۔ اپنے خط میں زنولی نے واضح طور پر لکھا ہے کہ آج، چار نسلوں کے بعد، اس کے اپنے خاندان کے چھ افراد کو غزہ کے سرحدی علاقوں میں اسرائیلی ریاست کی بمباری سے موت کا مزہ چکھنا پڑا ہے۔

زنولی کا فلسطینیوں سے ناتا اُن کی ایک بھتیجی کی بیٹی سفارت کار انجلیق ایلیپے کے ذریعے قائم ہوا ہے جس نے غزہ کے البریج پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہونے والے ماہر معاشیات اسماعیل زیاد سے شادی کی ہے۔

اسرائیلی طیاروں نے ۲۰ جولائی ۲۰۱۴ء کو البریج پناہ گزین کیمپ پر حملہ کیا جس میں زنولی خاندان بھی بچ نہ سکا۔ اس خاندان کے چھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں ۷۲ سالہ خاتون اور ۱۲ سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔ ’’ہاریز‘‘ کے مطابق زنولی نے لکھا ہے کہ ’’اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی بمباری سے میری والدہ کے پڑپوتوں کے بچوں نے اپنی (فلسطینی) دادی، تین چچاؤں، ایک چچی اور ایک کزن کو کھودیا‘‘۔

خط میں لکھا ہے کہ جن حالات میں خاندان کے افراد جان سے گئے ہیں، ان کی روشنی میں اسرائیل کے دیے ہوئے ایوارڈ کو اپنے پاس رکھنا اُن تمام افراد کی حسین یادوں کی انتہائی توہین ہوگی۔ ساتھ ہی بہادر ماں کی حسین یادوں اور چار نسلوں کی بھی توہین ہوگی۔

زنولی نے اپنے خط میں اسرائیلی حکومت سے کہا ہے کہ وہ غزہ اور غرب اردن کے علاقوں میں فلسطینیوں پر مظالم ڈھانا ترک کرے اور اپنی حدود میں بسنے والے تمام لوگوں کو بھی مساوی حقوق دے اور یہ کہ اگر اسرائیلی حکومت قتل و غارت کا سلسلہ روکتی ہے اور فلسطینیوں سمیت تمام افراد کو مساوی حقوق دیتی ہے تب اگر وہ کوئی اعزاز دینے کے لیے رابطہ کرتی ہے تو بہت خوشی ہوگی۔ دنیا بھر کی طرح ہالینڈ میں بھی لاکھوں افراد نے غزہ کے نہتے مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ یورپ میں فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جو چند بڑی ریلیاں ہوئی ہیں، ان میں سے ایک ۲۹ جولائی کو ہالینڈ میں ہوئی جس میں بارہ ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی تھی۔ اس ریلی کے شرکا نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ فلسطینیوں کے خلاف بمباری فی الفور بند کی جائے تاکہ خطے میں امن کی راہ ہموار ہو۔

“91 years old Dutch man returns Israeli WWII medal after Gaza strike kills 6 of his relatives”. (“rt.com”. Aug. 15, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*