Abd Add
 

مصر میں قید خاندانوں کی غیر انسانی صورتحال

فوج نے دریائے نیل کے کنارے سے تعمیراتی کارکن ۲۰سالہ لطفی ابراہیم کو ۲۰۱۵ء کے موسم بہارمیں حراست میں لیا، اس وقت وہ مسجد سے گھر جارہاتھا،تین ماہ زیر حراست رہنے کے بعد جب ابراہیم سے خاندان کے لوگ ملے تو اس کی حالت بہت زیادہ خراب تھی، اس پر بری طرح تشدد کیاگیاتھا۔ ابراہیم کی ماں تہانی نے بتایا کہ انہوں نے تشدد چھپانے کے لیے میرے بیٹے کا ہاتھ آستین سے ڈھک دیاتھا، لیکن ہم پھر بھی اس کے ہاتھوں پر جلنے کے نشانات دیکھ سکتے تھے، اس کاچہرہ پیلا پڑگیاتھا، اس کے بال بھی مونڈ دیے گئے تھے۔ابراہیم پر ملٹری اکیڈمی کے تین طلبہ کو سڑک کنارے بم دھماکے میں قتل کرنے کا الزام تھا۔ ابراہیم نے اپنی بے گناہی کی قسم بھی کھائی۔ اس کے خاندان کا کہنا ہے کہ ابراہیم کے وکیل کے پاس بم دھماکے کے اصل مجرموں کا اعتراف جرم بھی موجود ہے، لیکن وکیل کو گرفتار کرلیا گیا اور متعلقہ حکام نے اعترافِ جرم کو نظرانداز کردیا، بہرحال میڈیا کو کسی قسم کا اعتراف جرم نہیں دکھایا گیا ہے۔ ۲۰۱۶ء کے آغاز میں فوجی عدالت نے ابراہیم کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنادی۔ ابراہیم نے جیل سے اپنے اہل خانہ کو ایک خط لکھا، جس میں بم دھماکے میں ہلاک ایک طالب علم کے والد کے لیے پیغام بھی تھا۔ اس نے لکھا ’’سب جانتے ہیں کہ میں نے آپ کے بیٹے کا خون نہیں کیا، میرے لیے دعا کیجیے گا، میں نے آپ کو معاف کردیا‘‘۔ ابراہیم کی ماں نے بتایا کہ جب وہ خط لکھ چکا تو اس کو پھانسی کے پھندے تک لے جایا گیا۔ ابراہیم کو جنوری ۲۰۱۸ء میں پھانسی دی گئی، پھانسی سے چند ماہ قبل اس کے وکیل کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی عرب تنظیم ’’نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس انفارمیشن‘‘ کے مطابق ۲۰۱۴ء میں سیسی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مصر کی عدالتیں ۳ ہزار افراد کو سزائے موت سنا چکی ہیں۔

tfy Ibrahim was sentenced to death on charges of murdering three military academy students in a roadside bombing.

اس کے مقابلے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سیسی سے قبل کے چھ برسوں میں۸سو افراد کو موت کی سزا سنائی گئی۔ موت کی سزائیں زیادہ تر اپیل میں کالعدم قرار دے دی جاتی ہیں۔ کتنے لوگوں کو پھانسی دی گئی، مصدقہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، اس حوالے سے مصری سرکاری سطح پر کچھ نہیں بتاتے۔ اخبارات اور حکومت کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے ہی معلومات کا اہم ذریعہ ہے۔اس حوالے سے رائٹرز نے گزشتہ دس برس کے اخبارات کاجائزہ لیا، انسانی حقوق کے مصری اورعالمی محققین سے بات چیت کی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعداد وشمار کابھی جائزہ لیا، رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ ۲۰۱۴ء سے مئی ۲۰۱۹ء تک کم ازکم۱۷۹؍افراد کو پھانسی دی گئی۔ اس کے برعکس ۲۰۱۴ء سے قبل کے چھ برسوں میں دس سے زائد افراد کو پھانسی دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے خلاف چلائے جانے والے مقدمات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، جہاں فوجی ججوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر عام شہریوں کو سزائے موت سنائی جارہی ہے۔ ۲۰۱۵ء کے بعد کم ازکم ۳۳ شہریوں کو فوجی عدالتوں میں مقدمات کے بعد پھانسی دی گئی، اس کے برعکس ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۴ء کے دوران کسی بھی شہری کو فوجی عدالت میں مقدمے کے بعدسزائے موت نہیں دی گئی۔ مصر میں دہشت گرد تنظیم تشکیل دینے، بارودی مواد استعمال کرنے اور عصمت دری پر بھی موت کی سزا دی جاتی ہے۔ سزائے موت دینے کے واقعات میں حالیہ اضافہ سیسی حکومت کے اسلام پسندوں کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔

سابق جنرل سیسی نے ۲۰۱۴ء میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے صدر مرسی کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا، مرسی مصر کی تاریخ میں پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر تھے۔ السیسی نے صدر بننے کے بعداخوان المسلمون پر پابندی لگادی، جس کے بعد تنظیم کے ارکان زیر زمین چلے گئے۔ عرب ’’نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس انفارمیشن‘‘ کے بانی سید جمال کا کہنا ہے کہ ’’اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جانب سے روپوشی اختیار کرنے کی ماضی میں مثا ل نہیں ملتی، یہ سیاسی انتقام ہے۔اس حوالے سے مصری حکومت نے رائٹرز کے بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ مصر کا مستقل ایک ہی موقف ہے کہ ’’ہم دہشت گردی کا مقابلہ کررہے ہیں‘‘۔ فروری میں سیسی نے مصر کا دورہ کرنے والے یورپی یونین کے رہنماؤں کو بتایا کہ ’’مشرق وسطیٰ اور یورپ کی ثقافت مختلف ہے، یہاں جب کو ئی دہشت گرد کسی کو قتل کردیتا ہے، تو متاثرہ خاندان قصاص کا مطالبہ کرتا ہے اور لوگوں کو یہ حق قانون کے ذریعے دینا بہت ضروری ہے، یورپ کی ترجیح اپنے عوام کی فلاح وبہبود کا خیال رکھنا ہے، جبکہ ہماری ترجیح اپنے ملک کو محفوظ بنانا اور دہشت گردوں کو تباہی اور بربادی پھیلانے سے روکنا ہے‘‘۔ لطفی ابراہیم کے والدین کا کہنا تھا کہ اس کا اخوان المسلمون سے کوئی تعلق نہیں تھا، ہاں باپ ضرور تنظیم کا ممبر تھا۔ زیر حراست مصریوں کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ ملزمان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ وکلا تک رسائی بھی نہیں دی جاتی،ہفتوں اور مہینوں تک پتا ہی نہیں لگتا کہ ان کے پیارے کہاں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کاکہنا ہے کہ ’’زیادہ تر سزائے موت نقائص سے بھرپور عدالتی کارروائی کے بعد دی گئی ہے، اس حوالے سے مصری حکام نے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔ایسابھی ہوا کہ کسی حملے کے بعد لوگوں کو پھانسیاں دے دی گئیں، حکومت کے بقول حملے اسلام پسندوں نے کیے تھے۔

مشرق وسطیٰ کے ’’تحریر انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے غیر رہائشی ممبر’’ٹموتھی کلڈاس‘‘ کا کہنا ہے کہ ’’حکومت کی جانب سے پھانسیاں دینے کا وقت پریشان کن رجحان کی نشاندہی کرتا ہے‘‘۔ قاہرہ میں موجود انسانی حقوق کے کارکن محمدظہیر کاکہنا ہے کہ’’حکام کا خیال ہے کہ انہیں عوامی رائے عامہ کے لیے کچھ تو کرنا ہوگا، انہیں لوگوں کی لاشیں دکھانا ہوں گی، پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اصل مجرم ہیں بھی یا نہیں‘‘۔ ابراہیم اور دیگر تین نوجوانوں کو سڑک کنارے بم دھماکے کے جرم میں پھانسی دیے جانے کے چار دن بعد داعش کے مسلح افراد نے قاہرہ میں چرچ اور دکان پر حملہ کرکے گیارہ افراد کو قتل کردیا۔ ۲۰۱۵ء کے موسم گرما میں السیسی نے مصر کے فوجداری قوانین کو اپنے مقاصد پورے کرنے میں ناکام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’مصر کو دہشت گردی کا سامنا ہے، ہمیں تیز انصاف فراہم کرنے والی قابل عدالتوں کی ضرورت ہے، ہم قاتلوں پر مقدمات چلانے میں دس یا پانچ برس ضائع نہیں کرسکتے، جب کسی کو موت کی سزا سنائی جاتی ہے تواس پرعمل بھی کیا جانا چاہیے، ہم قوانین میں ترمیم کریں گے‘‘۔ ان خیالات کا اظہار السیسی نے پبلک پراسیکیوٹر ہاشم برکات کے جنازے میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ہاشم کو کار بم دھماکے میں قتل کیا گیا تھا، جس کا الزام حکام نے اخوان المسلمون اور فلسطینی گروپ حماس پر عائد کیا۔ ۲۰۱۶ء میں حکومت نے دعویٰ کیا کہ اخوان المسلمون کے ۱۴ کارکنان نے ہاشم کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔ اخوان المسلمون نے حکومتی الزام کی تردید کرتے ہوئے بیان دیا کہ ہم ایک پُرامن تنظیم ہیں۔ ہاشم برکات کے قتل نے حکومت کو حیران کردیا تھا، وہ کئی دہائیوں بعد قتل ہونے والے اعلیٰ ترین حکومتی عہدے دار تھے۔ ہاشم کے قتل کے ایک ماہ بعد ہی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے لیے نیا قانون متعارف کروایا، جس میں دہشت گرد تنظیم بنانے، اس کو منظم کرنے اور اس کی مالی معاونت کرنے کے مرتکب شخص کے لیے موت اور عمر قید کی سزا تجویز کی گئی۔

فوجی عدالتوں کے خلاف قائم تنظیم کی شریک بانی مونا سیف کاکہنا ہے کہ ’’اگرچہ پبلک پراسیکیوٹر کے قتل سے پہلے ہی سزائے موت پر عمل درآمد شروع کردیا گیا تھا، لیکن ہاشم برکات کے قتل کے بعد اس رجحان میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔ ۲۰۱۶ء کا آخر آتے آتے ہر ماہ لوگوں کو پھانسیاں دی جانے لگیں، اس طرح حکام نے عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی، حکام جو کچھ بھی کرتے ہیں مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ان سے کوئی جواب طلبی نہیں کی جاتی، تو پھر وہ ایساکیوں نہ کریں‘‘۔ ۲۰۱۷ میں حکومت نے قانون میں ایک اور ترمیم کرکے عدالتوں کو ملزمان کے حق میں پیش ہونے والے تمام یا کچھ گواہوں کو نہ سننے کااختیار دے دیا، اس کے ساتھ ہی سزا یافتہ افراد کا اپیل کا حق بھی محدود کردیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ’’قوانین میں تبدیلیوں نے بڑے پیمانے پر پھانسیوں کا راستہ کھول دیا‘‘۔ حالیہ برسوں میں درجنوں ججوں کو جبری ریٹائر کردیا گیا، فوجداری عدالتوں سے ہٹا دیا گیا اور کچھ کے خلاف تو باقاعدہ مقدمات بھی قائم کیے گئے۔ اپریل میں آئین میں ترمیم کرکے سیسی کو ججوں اور پبلک پراسیکیوٹر کی تقرری کے وسیع اختیارات سونپ دیے گئے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی زری کاکہنا ہے کہ ’’سیسی کا نظام انصاف کے ساتھ رویہ مجھے گاڈ فادر کے عدالتوں پر کنٹرول کی یاد دلاتا ہے، مصر میں گاڈ فادر جیسا عدالتی نظام ہی کام کررہا ہے۔ ہاشم برکات کے قتل کے بعد چند ہفتوں میں درجنوں افراد کو زیر حراست لیا گیا، جن میں انجینئرنگ کا طالب علم احمد ال ڈیگوی بھی شامل تھا، ان کو وکیل تک رسائی دیے بنا حراست میں رکھا گیا۔ احمد اخوان المسلمون کے حمایتی تھے۔ احمد کی والدہ غدہ محمد کا کہنا ہے کہ ’’میرے بیٹے کو بجلی کے جھٹکے دیے گئے، تشدد کیا گیا، ذیابیطس کا مریض ہونے کے باوجود ان کو دواؤں سے محروم کردیا گیا، میرے بیٹے کا واحد قصور یہ تھا کہ وہ قاہرہ میں برکات کا پڑوسی تھا۔ بہرحال آزاد ذرائع سے ان باتوں کی تصدیق نہیں کرائی جاسکی۔ برکات کے قتل کے ایک اور ملزم محمد الاحمدی نے مقدمے کی سماعت کے دوران بھری عدالت میں گواہی دی کہ تمام ملزمان کو شدید تشددکا نشانہ بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمیں بُری طرح بجلی کے جھٹکے دیے گئے، ہمارے اندر موجود بجلی مصر کی ۲۰ برس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے‘‘۔

۲۰۱۷ء میں ۲۸؍افراد کو ہاشم برکات کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی، جس میں احمد ال ڈیگوی اور الاحمدی بھی شامل تھے۔ ۲۰۱۸ء کے آخر میں عدالت نے دو افراد کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔ رواں برس فروری میں قاہرہ میں خودکش دھماکے میں تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے دو دن بعد حکام نے احمد ال ڈیگوی، الاحمدی اور دیگر سات افراد کو پھانسی دے دی۔ خاندان کے لوگ اور دوست پھانسی کی خبر سننے کے بعد قاہرہ میں زین ہوم کے علاقے میں جمع ہوئے اور آسمان کی طرف انگلیاں اٹھا کر دعائیں کرنے لگے۔ وہاں میڈیا بھی موجود تھا، ال ڈیگو ی کے والد مسلسل مردہ خانے کے دروازے کی جانب گھور رہے تھے، سفید کفن میں لپٹی ان کے بیٹے کی لاش ان کے سامنے زمین پر پڑی تھی، ال ڈیگو ی کی بہن قریب ہی بے چینی سے ٹہل رہی تھی، لوگ اس کو تسلیاں دے رہے تھے، ایک تسلی دینے والے نے کہا ’’پریشان نہ ہو تم اسے ضرور دیکھو گی‘‘۔ کسی بھی فرد کے خاندان کو پھانسی سے قبل آگاہ نہیں کیا گیا تھا، جو مصر کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ سزائے موت پانے والے لوگوں کو پھانسی سے ایک دن قبل خاندان سے ملنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کو خدشہ ہے کہ ملنے کی اجازت دینے پر قیدی خاندان کے لوگوں کے ذریعے کوئی پیغام بھیج سکتا ہے۔ مردہ خانے میں کام کرنے والے پولیس افسر نے بتایا کہ ’’حکام سیکورٹی وجوہات کی بنا پر پھانسی سے قبل خاندان کے لوگوں کو آگاہ نہیں کرتے، ہم لوگوں کو پھانسی کی تاریخ نہیں بتاسکتے، یہاں تک کہ ہم قیدی کوبھی پھانسی کی تاریخ نہیں بتاتے،کیوں کہ وہ سزا پر عمل سے قبل خودکشی کرسکتے ہیں، یہاں ہر قانون پر عمل نہیں ہوتا، یہی ریاستی پالیسی ہے، جو آپ اور مجھ سے بڑ کر ہے‘‘۔ ال ڈیگوی کے خاندان نے ان کو ایک برس سے نہیں دیکھا تھا۔ ان کی والدہ نے آبدیدہ لہجے میں بتایا کہ ’’ہمیں انتہائی اعلیٰ درجے کی سیکورٹی جیل میں رسائی فراہم کرنے سے انکار کر دیا گیا، ال ڈیگوی وہاں سزائے موت پر عمل درآمد تک قید تھے، ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں انسانوں کی کوئی قیمت نہیں، یہاں سیاسی اور قانونی انتشار ہے، ملک ایک تاریک سرنگ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ال ڈیگوی جنوبی قاہرہ میں موجود بدنام زمانہ تورا جیل میں قید تھے، جو ’’بچھو جیل‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

مصر کی فارنزک اتھارٹی نے ایک اور مشتبہ طالب علم عصام عطا پر تشدد کا ثبوت عدالت میں پیش کیا، جو اس کے خلاف مقدمے کی سماعت کررہی تھی،لیکن اس سے عصام کو مقدمے میں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔جس دن عطا نے ایک افسر کو گولی مارنے کے معاملے میں تفتیش کے لیے خود کو پولیس کے حوالے کیا، ان کے والد محمد ان کے لیے گھر سے کھانا لے کر پولیس اسٹیشن آئے۔ان کے والد محمد نے بتایا کہ عطا اسماعیلیہ یونیورسٹی میں گرافک ڈیزائنگ کورس کے چوتھے سال کے طالب علم تھے، ان کو سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں۔ عطا نے خاندان کے لوگوں کوبتایا کہ وہ بے گناہ ہے۔ عطا نے والد کے کہنے پر ہی خود کو پولیس کے حوالے کیا تھا، محمد کو یقین تھا کہ ان کا بیٹا جلد جیل سے باہر آجائے گا۔ لیکن کھانا لے کر جانے پر ان کو پولیس اسٹیشن سے دور کر دیا گیا، اگلے دن محمد دوبارہ کھانا لے کر پولیس اسٹیشن گئے۔ محمد نے بتایا کہ ’’مجھے پولیس افسران نے کہا کہ آپ کا بیٹا پولیس اسٹیشن میں موجود نہیں، نہ ہی وہ جانتے ہیں کہ عطا کو کہاں رکھا گیا ہے، لیکن میں عمارت کے اندر سے اپنے بیٹے کی دلخراش چیخیں سن سکتا تھا، میں ٹوٹ ساگیا، میرے لیے یہ چیخیں ناقابل برداشت تھیں‘‘۔ کئی دن بعد عطا اور دیگر چھ افراد کا پولیس افسر کو قتل کرنے کا اعترافی بیان حکومت کے حمایتی چینل پر نشر کیا گیا، ویڈیو میں تمام افراد انتہائی زخمی، کمزور اور خراب حالت میں نظر آرہے تھے۔ ان کے خاندان کے افراد نے ان کو ٹی وی چینل پر تو دیکھا، لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ سب کہاں قید رکھے گئے ہیں۔ مصر کی فارنزنک اتھارٹی نے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج کے لیے ایک رپورٹ تیار کی، جو میڈیا نے بھی دیکھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تکنیکی طور پر ممکن ہے کہ عطا اور اس کے ساتھی ملزمان پر لکڑی کی چھڑی، بانس، بجلی کے جھٹکوں کے ذریعے تشدد کیا گیا ہو، انہیں سگریٹ سے جلایا گیا ہو، ان کو طویل عرصے تک ہتھکڑیوں سے باندھ کر رکھا گیا ہو، جس کی اطلاع پہلے عدالت کو نہیں دی گئی۔ اب عطا کا ساتھی ملزم حازم محمد صلاح العبادیہ جیل میں سزائے موت پر عمل درآمد کا منتظر ہے۔ حازم کی بہن دینا نے بتایا کہ ’’حازم نے ہمیں بتایا کہ اس پر کئی دنوں تک تشدد کیا گیا، پھر اس کو پراسیکیوٹر آفس لے جایا گیا، پراسیکیوٹر نے اس کو بیٹھنے کے لیے کہا اور جوس کا ایک گلاس پیش کیا، جس کے بعد حازم کو بغیر کوئی سوال پوچھے اعتراف جرم پر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا۔

بقول دینا یہ انصاف کا قتل ہے، ایک جوس کا گلاس پیش کیا اور اعتراف جرم پر دستخط کروالیے‘‘۔ اس مقدمے سے منسلک وکیل شیبل ابوالمحسن نے حازم کے بیان کی تصدیق بھی کی ہے۔ اب عطا بھی سزائے موت پانے والوں کی لائن میں کھڑا ہے، اس کی عمر بمشکل بیس برس سے کچھ زائد ہوگی، اس کو ۲۰۱۷ء میں سزائے موت سنائی گئی۔ نومبر ۲۰۱۸ء میں سزائے موت کے خلاف اپیل بھی مسترد کردی گئی۔ ایمنسٹی کے ایک محقق کے مطابق یہاں ۶۱؍افراد سزائے موت کے منتظر ہیں، جن میں اکثریت سیاسی قیدیوں کی ہے۔ عطا کے خاندان کا کہنا ہے کہ اس سے شدید تشدد اور دباؤ کے بعد اعترافِ جرم پر دستخط کروائے گئے اور کسی وکیل کے بغیر تفتیش کی گئی۔ عطا کے والد کا کہنا ہے کہ ’’مجھے افسوس ہے کہ میں نے اس کو پولیس کے حوالے کیا، میرا خیال تھا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہے اور پولیس واقعہ سے متعلق عطا کا موقف بھی سنے گی، مگر میرے بیٹے کو مارا گیا، بجلی کے جھٹکے دیے گئے، رسوا کیا گیا‘‘۔

(ترجمہ: سید طالوت اختر)

“Egypt prisoners’ families: Humans have no value here”. (“middleeastmonitor.com”. August 1, 2019)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.