Abd Add
 

مصر کا نیا دستور ۲۰۱۲ء|7

ساتویں قسط

دفعہ ۱۶۱: کابینہ کا کوئی رکن اپنے دائرہ کار میں آنے والے کسی مسئلے سے متعلق ایوان نمائندگان، شوریٰ کونسل، یا ان کی کمیٹیوں کے سامنے کوئی بیان دے سکتا ہے۔

کونسل یا کمیٹی ایسے بیان پر بحث کر سکتی ہے اور اس پر اپنا موقف دے سکتی ہے۔

دفعہ ۱۶۲: وزیر اعظم قوانین کے نفاذ کی غرض سے ضروری ضوابط جاری کر سکے گا لیکن شرط یہ ہو گی کہ ان ضوابط کے نفاذ سے کوئی خلل، ترمیم یا استثنیٰ واقع نہ ہو، اور (وزیراعظم کو) ان کے اجرا کا اختیار کسی کو سونپ دینے کا حق ہو گا، ماسوائے اس کے کہ قانون ہی میں یہ امر درج ہو کہ اس کے نفاذ کے لیے ضروری ضوابط کون جاری کر سکتا ہے۔

دفعہ ۱۶۳: وزیر اعظم عوام کی خدمت اور سہولت کی غرض سے کسی ادارے کے قیام اور انتظام کے لیے درکار قواعد و ضوابط کابینہ کی منظوری سے جاری کرے گا۔ اگر ان قواعد و ضوابط کے نتیجے میں ریاست کے مجموعی بجٹ میں نئے اخراجات وارد ہونے ہوں تو ایوان نمائندگان کی منظوری درکار ہو گی۔

دفعہ ۱۶۴: وزیراعظم انتظامی قواعد و ضوابط کابینہ کی منظوری سے جاری کر سکے گا۔

دفعہ ۱۶۵: سول سرونٹس کے تقرر اور برطرفی، اہم عہدوں کے وظائف اور ذمہ داریوں، اور ملازمین کے حقوق اور تحفظ کا اختیار رکھنے والی مقتدرہ کے ضوابط قانون طے کرے گا۔

دفعہ ۱۶۶: وزیر اعظم یا کابینہ کے کسی رکن پر اپنے عہدے کی مدت کے دوران اپنے فرائض کے حوالے سے ارتکابِ جرم کا الزام عائد کرنے کے لیے ایوان نمائندگان کے ایک تہائی ارکان کو تحریک پر دستخط کرنا ہوں گے، ایسی صورت میں صدر جمہوریہ، پراسیکیوٹر جنرل، اور ایوان نمائندگان کو الزام عائد کرنے کا حق حاصل ہو گا۔

باضابطہ الزام عائد کرنے کے لیے ایوان نمائندگان کے دو تہائی ارکان کی منظوری ہر حالت میں درکار ہو گی۔ کابینہ کا ملزم رکن فیصلہ آنے تک اپنے عہدے سے دستبردار رہے گا۔ قانونی کارروائی ان کے عہدے کی مدت ختم ہونے تک موقوف نہیں رہے گی۔

دفعہ ۱۶۷: کابینہ یا اس کے کسی رکن کو مستعفی ہونا ہو تو استعفیٰ صدر جمہوریہ کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔

باب سوم: عدلیہ کے اختیارات

سیکشن 1: عمومی شرائط و ضوابط

دفعہ ۱۶۸: عدلیہ آزاد ہو گی، عدالتی اختیارات عدالتوں میں مرتکز ہوں گے، جو قانون کے مطابق اپنے فیصلے جاری کریں گی۔ عدلیہ کے اختیارات کی تشریح قانون میں کی گئی ہے۔ عدلیہ کے معاملات میں مداخلت جرم ہے اور یہ جرم ہی تسلیم کیا جائے گا خواہ کتنا وقت کیوں نہ گزر جائے۔

دفعہ ۱۶۹: ہر عدالتی ادارہ اپنے معاملات خود چلائے گا، ہر ادارے کا اپنا الگ بجٹ ہو گا اور اس کے معاملات سے متعلق قوانین کے مسودے پر اس کے ساتھ مشاورت کی جائے گی، اس مشاورت کے طریقے قانون وضع کرے گا۔

دفعہ ۱۷۰: جج غیر جانب دار ہوں گے، انہیں برطرف نہیں کیا جا سکے گا، وہ قانون کے سوا کسی کے آگے جواب دہ نہیں ہوں گے، تمام ججوں کے حقوق اور ذمہ داریاں برابر ہوں گی۔

ججوں کے تقرر اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی شرائط و ضوابط اور طریقہ کار قانون میں درج ہے۔ جب انہیں ذمہ داری سونپ دی جائے گی تو مکمل طور پر اور مطلق ذمہ داری سونپی جائے گی۔ ان کا مقامِ تقرر اور عہدہ قانون بتائے گا، یہ سب اس انداز میں ہو گا کہ عدلیہ کی آزادی برقرار رہے اور وہ اپنے فرائض کی بجا آوری کر سکے۔

دفعہ ۱۷۱: عدالتی کارروائی سب کے لیے کھلی ہو گی، ماسوائے اس کے کہ نظمِ عامہ اور عوام کے اخلاق کو پیش نظر رکھتے ہوئے عدالت کسی کارروائی کو خفیہ رکھنا مناسب سمجھے۔ تمام صورتوں میں عدالتی فیصلہ کھلے سیشن میں سنایا جائے گا۔

سیکشن 2: عدلیہ اور سرکاری استغاثہ

دفعہ ۱۷۲: عدلیہ تمام تنازعات اور جرائم میں اپنا فیصلہ قانونی طور پر صادر کرے گی ماسوائے ان معاملات کے جن کا فیصلہ کسی اور عدالتی ادارے کو کرنا ہو۔ عدلیہ اپنے ارکان کے امور سے متعلق تنازعات بھی طے کرائے گی۔

دفعہ ۱۷۳: تمام فوجداری مقدمات میں تفتیش کرنے، معاملات کو آگے بڑھانے اور الزامات کی پیروی کے سلسلے میں سرکاری استغاثہ عدلیہ کا لازمی جزو ہے، ماسوائے ان مقدمات کے جنہیں قانون نے مستثنیٰ قرار دیا ہو۔ استغاثہ کے دیگر فرائض قانون بتائے گا۔

سرکاری استغاثہ پراسیکیوٹر جنرل چلائے گا، جسے صدر جمہوریہ مقرر کرے گا، اس تقرر کے لیے چنائو سپریم جوڈیشل کونسل کرے گی، وہ کورٹ آف کیسیشن کے سربراہ کے نائبین، کورٹ آف اپیلز کے سربراہوں اور اسسٹنٹ پراسیکیوٹر جنرل میں سے مناسب شخص کو منتخب کرے گی، پراسیکیوٹر جنرل چار سال، یا ریٹائرمنٹ کی عمر تک کا عرصہ اس عہدے پر فائز رہ سکے گا، ان میں سے جو بھی مدت پہلے آئے گی اس کی پابندی کی جائے گی۔ کوئی جج اپنے کیریئر میں صرف ایک بار پراسیکیوٹر جنرل بن سکے گا۔

سیکشن 3: اسٹیٹ کونسل

دفعہ ۱۷۴: اسٹیٹ کونسل ایک آزاد عدالتی ادارہ ہے جسے یہ امتیازی حیثیت حاصل ہے کہ وہ انتظامی تنازعات اور اپنے فیصلوں پر عمل درآمد سے متعلق تنازعات میں فیصلہ صادر کرے گی۔ یہ تادیبی کارروائی اور اپیلیں بھی نمٹائے گی، قانون کے زیر غور امور میں عدالتی رائے دے گی، بلوں کا مسودہ تیار کرے گی اور ان کا جائزہ لے گی، اور دستوری نوعیت کی موصولہ قراردادوں پر نظرثانی کرے گی، اور ان معاہدات کا جائزہ لے گی جن میں ایک فریق ریاست ہو۔

دیگر وظائف قانون طے کرے گا۔

سیکشن 4: آئینی عدالت عظمیٰ

دفعہ ۱۷۵: آئینی عدالت عظمیٰ آزاد اور غیر جانبدار عدالتی ادارہ ہے، اس کا دفتر قاہرہ میں ہے، قوانین اور ضوابط کی آئینی حیثیت پر عدالتی تصرّف اس کی مخصوص ذمہ داری ہو گی۔

اس عدالت کے دیگر امور اور طریقہ کار کے ضوابط قانون طے کرے گا۔

دفعہ ۱۷۶: آئینی عدالت عظمیٰ کا ایک سربراہ اور دس ارکان ہوں گے۔ قانون اس امر کا تعین کرے گا کہ کون سے عدالتی یا دیگر ادارے ان ارکان کو نامزد کریں گے، قانون ہی ان کے تقرر کا طریقہ کار اور ان کی شرائط طے کرے گا۔ صدر جمہوریہ کے جاری کردہ حکم نامے سے ان ارکان کا تقرر ہو گا۔

دفعہ ۱۷۷: صدارتی، قانون ساز یا مقامی انتخابات کے حوالے سے قوانین کا مسودہ تشہیر سے قبل صدر جمہوریہ یا پارلیمنٹ آئینی عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کریں گی، آئینی عدالت عظمیٰ ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ یہ مسودہ آئین کے مطابق ہے یا نہیں۔ عدالت معاملہ پیش کیے جانے کے ۴۵ دن کے اندر فیصلے پر پہنچ جائے گی، بصورت دیگر مجوزہ قانون کو منظور شدہ سمجھا جائے گا۔

اگر عدالت یہ تصور کرے کہ متن کے کوئی ایک یا زائد حصے آئینی شرائط کی تعمیل نہیں کرتے تو اس کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

اس دفعہ کے پہلے پیرا گراف میں جن قوانین کا حوالہ دیا گیا ہے وہ آئین کی دفعہ ۱۷۵؍ میں بیان کیے گئے تصرّف کی ذیل میں نہیں آتے۔

دفعہ ۱۷۸: آئینی عدالت عظمیٰ کے جاری کردہ فیصلے اور صدارتی، قانون ساز، یا مقامی انتخابات سے متعلق قوانین کے مسودے پر تصرّف کے بارے میں اس کے فیصلے سرکاری گزٹ شائع کرے گا۔

کسی قانون ساز متن کی غیر آئینی حیثیت پر کسی فیصلے کے اثرات کی ضابطہ سازی قانون کرے گا۔

سیکشن 5: عدالتی ادارے

دفعہ ۱۷۹: ’ریاستی امور‘ (State Affairs) ایک غیر جانبدار عدالتی ادارہ ہے، یہ تنازعات میں ریاست کی قانونی نمائندگی کرے گا، اور ریاستی انتظامیہ میں قانونی امور کے شعبوں کی تکنیکی نگرانی بھی انجام دے گا۔

یہ معاہدوں کا متن تیار کرنے، اور ان تنازعات کو طے کرنے کا ذمہ دار ہو گا جن میں ریاست بھی ایک فریق ہو، ان امور کے ضوابط قانون طے کرے گا۔

قانون ہی دیگر وظائف طے کرے گا۔

اس کے ارکان کو بھی ویسی ہی مامونیت، تحفظ، حقوق اور فرائض دیے جائیں گے جیسے عدلیہ کے دیگر ارکان کو حاصل ہیں۔

دفعہ ۱۸۰: ’انتظامی استغاثہ‘ ایک آزاد عدالتی ادارہ ہے، یہ مالی اور انتظامی بے قاعدگیوں کی تحقیقات کرے گا، اسٹیٹ کونسل کی عدالتوں کے سامنے تادیبی کارروائی پیش کرے گا، اور ان کی پیروی کرے گا، یہ ادارہ سرکاری سہولیات میں آنے والے نقائص دور کرنے کے لیے قانونی اقدام کرے گا۔ دیگر وظائف قانون طے کرے گا۔

اس کے ارکان کو بھی ویسی ہی مامونیت، تحفظ، حقوق اور فرائض دیے جائیں گے جیسے عدلیہ کے دیگر ارکان کو حاصل ہیں۔

(ترجمہ: منصور احمد)

○○○

Leave a comment

Your email address will not be published.


*