Abd Add
 

مصر: مغربی نقطۂ نظر سے۔۔۔

تھوماس ایل فرائیڈمین… حالات حاضرہ کے ایک امریکی مبصر ہیں، ان کے تبصرے نیویارک ٹائمز میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ انہوں نے مصر میں اخوان المسلمون کے رہنما ڈاکٹر محمد مرسی کے انتخاب پر لکھا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس انتخاب سے وہاں راتوں رات تبدیلی آجائے گی اور شہریوں کی تمام جمہوری امنگیں پوری ہو جائیں گی، وہ سادہ لوح ہیں لیکن وہ لوگ بھی اندھے اور بہرے سمجھے جائیں گے جن کا خیال ہے کہ فوجی آمریت کے جانے اور جمہوریت کے آنے سے شہریوں کی حالت میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوگی۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے جسے ہر کسی کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اس تبدیلی کے اثرات گردوپیش کی مملکتوں پر یقینا پڑیں گے۔ البتہ دیکھنا ہے کہ ڈاکٹر مرسی عوامی امنگوں پر کس طرح پورے اترتے ہیں۔ وہ اپنے دوسرے دورِ انتخاب کے اس اعلان پر کہ ’’مصر تمام مصریوں کا ہے‘‘ پر عمل کرتے ہیں یا پہلے دور کے نعرے ’’قرآن ہمارا دستور ہے‘‘ کے مطابق کام کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے مؤخرالذکر پالیسیوں پر زور دیا تو اس سے اُس پورے خطے میں ایک خوفناک نظیر قائم ہو جائے گی۔
اہل الرائے کی تین قسمیں

مغربی دنیا کے اہل علم اور مبصروں میں اسلام اور امت مسلمہ کے تعلق سے رائے رکھنے والوں کی عموماً تین قسمیں پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقہ تو صہیونیت زدہ ہے جو امت کو بدنام کرنے اور اسلام کی کردار کشی کی کوششوں میں ہمہ وقت سرگرم رہتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو اگرچہ ’’اسلام بمقابلہ مغرب‘‘ کے نظریے ہی کا حامل ہے لیکن تبصروں میں کسی قدر معروضیت کا قائل ہے۔ ایک تیسرا مختصر گروہ اُن لوگوں کا ہے جو اسلام اور مغرب کی بحث میں کھلا ذہن رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اہل اسلام سے گفتگو خالی الذہنی کے ساتھ پرسکون ماحول میں ہو اور اُن کی بات بھی توجہ سے سنی جائے۔ تھوماس کا تعلق ثانی الذکر طبقے سے ہے۔ لیکن وہ اسلامی نظریۂ حیات کا گہرا مطالعہ نہیں رکھتے اس لیے اسلامی طرزِ زندگی کے بارے میں ان کی رائے وہی ہے جو مغربی باشندوں کی اکثریت کی ہے اور اپنی تحریروں میں وہ اُسی اکثریت کی ذہنی نمائندگی کرتے ہیں۔ یعنی یہ کہ اگر اسلام کا اجتماعی نظام کسی جگہ اپنی اصل کے مطابق قائم ہوا تو وہ انسانیت کے لیے مسائل پیدا کرے گا، عورتوں اور اقلیتوں کی حق تلفی ہوگی اور وہ مملکت جدید دنیا کی ترقی کا ساتھ نہیں دے سکے گی۔

ظاہر ہے کہ یہ طرزِ فکر صرف اسلامی نظام حیات سے ناواقفیت ہی کا نتیجہ نہیں، خود انسانی زندگی کے مقصد پر غور و تدبر کے فقدان کا نتیجہ بھی ہے۔ اہل مغرب ویسے تو روحانیت کے قائل ہیں، یسوع مسیح پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ حیاتِ انسانی کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر سراسر مادی ہے۔ مادہ پرستوں، ملحدوں، دہریوں اور فطرت پرستوں کی طرح وہ بھی عملاً اسی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ ایسا سمجھنے میں ان کا یہ عقیدہ بھی ان کی مدد کرتا ہے کہ حضرت مسیح نے ان کے گناہوں کا بوجھ اپنے سر لے کر ان کی نجات کا سامان پہلے ہی کر رکھا ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ جب سوچ یہ ہے تو اسلام آسانی کے ساتھ ان کی سمجھ میں نہیں آسکتا… لہٰذا اب یہ اہل ایمان بالخصوص مغربی ملکوں میں آباد مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ان دانشوروںکو اسلام کے دیانتدارانہ مطالعہ کی ترغیب دیں اور بتائیں کہ اسلام کا نظام حیات کیا ہے۔ انسانوں کے لیے عقیدۂ توحید اور آخرت میں جوابدہی کے تصور کی کیا کلیدی اہمیت ہے، الکحل، عریانیت، فحاشی، عورت کی بے پردگی اور سودی معیشت جیسی برائیوں سے بچنا انسانی معاشرے کے لیے کیوں ضروری ہے۔

(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی۔ ۱۹؍جولائی ۲۰۱۲ء)




Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.