مصر: دستور پر ریفرنڈم اور بڑھتی خلیج

آئین پر ہونے والے حالیہ ریفرنڈم نے ملک میں مصالحت کی فضا کو پروان چڑھانے کے بجائے معاملات کو مزید خرابی سے دوچار کیا ہے۔

۱۴؍جنوری کو منعقد کیے جانے والے آئینی ریفرنڈم میں کم و بیش ۳۸ فیصد مصریوں نے حصہ لیا اور آئینی اصلاحات کے حق میں ۹۸ فیصد ووٹ آئے۔ صدر محمد مرسی کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہونے والی فوج نے عدلیہ کی مدد سے جس نظام کے خد و خال پیش کیے، اسے مصریوں کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہوا ہے۔ یا کم از کم دعویٰ تو یہی کیا گیا ہے۔ پولیس کے وزیر محمد ابراہیم نے نہایت فخریہ انداز سے اعلان (یا دعویٰ) کیا کہ مصر اپنے مالکوں کے ہاتھ میں واپس آگیا ہے۔

گزشتہ ماہ کے ریفرنڈم کے اعداد و شمار کو مصر میں کم ہی لوگ درست مانتے ہیں۔ مصر کی فوجی حکومت کو انتہائی متمول افراد کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ مخالفین کو برداشت کرنے کا کلچر نہیں۔ ریفرنڈم میں اپوزیشن کے جن کارکنوں نے حکومت کے خلاف ووٹ کاسٹ کرنے کا ارادہ کیا انہیں زنداں میں ڈال دیا گیا۔ ۲۵ جنوری کو مصر میں عوامی انقلاب کی تیسری سالگرہ گزر گئی۔ اس انقلاب کے نتیجے میں قائم ہونے والی عوامی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ فوجی حکومت کو اب تک وہ حمایت نہیں مل سکی جس کا وہ دعویٰ کرتی آئی ہے۔ فوجی حکومت کے قیام کے بعد سے اہم ترین مثبت تبدیلی صرف اسٹاک مارکیٹ میں رونما ہوئی ہے۔ قاہرہ میں اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس ۴۳ فیصد اوپر جاچکا ہے۔

اخوان المسلمون کی طرف سے کسی بھی ممکنہ مزاحمت کو کچلنے کے لیے اس کے رہنماؤں اور ہزاروں کارکنوں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچایا جاچکا ہے۔ خونیں تصادم میں ہزاروں کارکن جاں بحق ہوچکے ہیں۔ فوجی حکومت نے قدم قدم پر اِخوان المسلمون کو دبوچنے کی کوشش کی ہے۔ انقلاب کی تیسری سالگرہ پر اخوان المسلمون نے ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا۔ غیر اسلامی مزاحمت پسند بھی حکومت کے خلاف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ فوجی حکومت انقلاب کے تمام آدرشوں کے سراسر خلاف جارہی ہے۔ وہ کوئی بھی ایسی حقیقی تبدیلی نہیں چاہتی جس کے ذریعے مصری معاشرے میں جمہوری اقدار فروغ پائیں۔ عوام بھی شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ فوجی حکومت کے خلاف دوبارہ سڑکوں پر آئیں یا نہ آئیں۔ حکومت نے پچھلی بار بھی مزاحمت کچلنے کے لیے غیر معمولی قوت استعمال کی تھی۔ سیکڑوں مظاہرین ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔ ہزاروں اب بھی جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ حکومت نے پولیس کو وسیع تر اختیارات دے دیے ہیں۔ صاف لفظوں میں کہا جاچکا ہے کہ اب اگر حکومت کے خلاف مظاہرے ہوئے تو زیادہ سختی سے کچلے جائیں گے۔ پولیس کے وزیر محمد ابراہیم کہہ چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے گولی چلانا پڑے تو ایسا کرنے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

حالیہ ریفرنڈم میں ٹرن آؤٹ ۳۸ فیصد تک تھا۔ دوسری طرف صدر محمد مرسی کے دور میں ہونے والے ریفرنڈم میں ٹرن آؤٹ ۳۳ فیصد سے زائد نہ تھا۔ دیہی آبادی بھی ریفرنڈم سے دور رہی تھی اور نوجوانوں میں بھی زیادہ جوش و خروش دکھائی نہیں دیا تھا۔ صرف ۲۰ فیصد نوجوانوں نے ووٹ کاسٹ کرنے کی زحمت گوارا کی تھی۔ دونوں ریفرنڈم کا موازنہ کیجیے تو ایک طرف تو اسلامی اور غیر اسلامی عناصر کے درمیان وسیع تر ہوتی ہوئی خلیج کا اندازہ ہوتا ہے اور دوسری طرف یہ بھی پتا چلتا ہے کہ مصر کی نئی نسل بھی تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہی ہے۔ تین سال قبل عوامی انقلاب کے برپا کرنے میں سب سے زیادہ اہم کردار نوجوانوں نے ادا کیا تھا۔ ان میں غیر معمولی جوش و خروش تھا۔ مگر اب وہ جوش و خروش ماند پڑچکا ہے۔ نوجوانوں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ خوف کی جس دیوار کو انہوں نے خاصی قربانیوں کے ذریعے گرادیا تھا، وہ اب دوبارہ تعمیر کی جارہی ہے۔

اِخوان المسلمون کے حق میں آواز اٹھانے والے میڈیا کو خاموش کیا جاچکا ہے۔ غیرجانبدار آوازیں بھی اب الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں سنائی نہیں دے رہیں۔ جو میڈیا میدان میں ہے، وہ حکومت کی حاشیہ برداری میں مصروف ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ فوائد بٹور سکے۔ حکومت کے حمایت یافتہ سیاست دان مصطفی باقری نے حال ہی میں امریکا کے ایک ایسے مبینہ منصوبے کا ’’انکشاف‘‘ کیا جس کا مقصد فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کی حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔ مصطفی باقری نے ٹی وی پر یہ بھی کہا کہ اگر جنرل عبدالفتاح السیسی کو کچھ ہوا تو مصر کے عوام امریکیوں کو گھر گھر تلاش کرکے نکالیں گے اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے!

حکومت کی نظر میں صرف اسلامی عناصر ہی دشمن نہیں ہیں بلکہ بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے وہ لوگ بھی ریاست کے مجرم ہیں جنہوں نے تین سال قبل عوامی انقلاب برپا کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ مخالفین کو گرفتار کرنے کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ حکومت اپنے کسی بھی مضبوط مخالف کو کھلا نہیں چھوڑنا چاہتی۔ حال ہی میں بہت سے نوجوانوں کو مظاہرے کرنے، اجتماعات منعقد کرنے اور قومی پرچم جلانے کے الزام میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔ بہت سے مخالفین کے سفر پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ان پر عدلیہ کی توہین کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ ان میں نصف تو اخوان المسلمون کے لوگ ہیں۔ باقی نصف میں سیکولر عناصر نمایاں ہیں جو حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔ پارلیمان کے چند سابق ارکان کو بھی حراست میں لیا جاچکا ہے۔ ان پر ایسے جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے جن کی سزا محض اس لیے نہیں دی جاسکی تھی کہ وہ اس وقت پارلیمان کے رکن تھے۔

انقلابیوں کے لیے زیادہ مایوس کن بات یہ ہے کہ عام مصری اب بگڑتی صورت حال کے حوالے سے قدرے بے حسی کا شکار ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں اس بات سے کچھ غرض ہی نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے اور معیشتی خرابیاں کہاں جاکر دم لیں گی۔ ایک امن پسند سیاسی کارکن اعلیٰ عبدالفتاح نے، جو نومبر سے جیل میں ہیں، لکھا ہے کہ اس وقت ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے حوالے سے عوام کی بے حسی اور لاتعلقی دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے کہ میرا جیل میں رہنا کوئی مفہوم نہیں رکھتا۔

(“Egypt’s referendum: Deepening rifts”…
“The Economist”. Jan. 25, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*