ژی جن پنگ چین کے نئے صدر منتخب

چین کی پارلیمان نے ۵۹ سالہ ژی جن پنگ (Xi Jin Ping) کو دس سال کے لیے نیا چینی صدر منتخب کرلیا ہے۔ ژی جن پنگ نے ۴ ماہ قبل کمیونسٹ پارٹی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ چین کے عوامی ’’کورونوس گریٹ ہال‘‘ میں ۳۰۰۰ افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ یہ لوگ سرخ رنگ کا بیلٹ پیپر، سرخ رنگ کے جھنڈے کے سامنے رکھے سرخ بیلٹ باکس میں ڈال رہے تھے۔ نتائج غیر یقینی نہیں تھے، یعنی ژی جن پنگ نے ۲۹۵۲ ووٹ حاصل کیے، صرف ایک ووٹ ہی مخالفت میں ڈالا گیا۔ اس طرح نتائج کی شرح ۸۶ء۹۹ فیصد تھی۔

لی ین شان (Liu Yunshan) جو پارلیمان کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، نے ژی جن پنگ کی صدارت کا اعلان کیا۔ ژی اصلاح پسند سابق نائب وزیراعظم اور پارلیمانی کے وائس چیئرمین ژی زونگ ژن کے صاحب زادے ہیں۔ ژی نے Tsinghua یونیورسٹی بیجنگ سے کیمیکل انجینئرنگ کی ہے، جب کہ اسی یونیورسٹی سے آپ نے قانون میں ڈاکٹریٹ اور Marxist Theory میں سند بھی حاصل کی۔

ژی کو ۱۹۹۹ء میں Fujian صوبے کا گورنر بنایا گیا، مارچ ۲۰۰۷ء میں شنگھائی میں اعلیٰ عہدہ پر فائز Chenlian Gyu کی کرپشن کے الزام میں گرفتاری کے بعد ژی کو چائنا کے تجارتی دارالحکومت شنگھائی میں اعلیٰ اختیارات تفویض کیے گئے۔ ژی کی شادی معروف گلوکارہ پینگ لیون سے ہوئی جو کہ اپنے پیشہ میں مہارت کی وجہ سے چین میں بہت مقبول ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’ڈان‘‘۔ ۱۵ مارچ ۲۰۱۳ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*