Abd Add
 

افغانستان میں بدلتی امریکی حکمت عملی

نوٹ: نئے سال کے آغاز کے موقع پر Enhancing Security and Stability in Afghanistan کے عنوان سے ایک رپورٹ امریکی وزارت دفاع کی جانب سے کانگریس کو پیش کی گئی ہے ۔یہ رپورٹ ۱۱۵صفحات مشتمل ہے۔اس کی ایگزیکٹو سمری اور رپورٹ میں دیے گئے کچھ اعداد و شمار پیش کیے جارہے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پاک افغان مسائل پر نئی امریکی حکمت عملی کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کرائی جائے۔


۲۱؍اگست ۲۰۱۷ء کو صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کیاتھا ۔ایک جانب اوباما انتظامیہ نے افغانستان سے فوج نکالنے کی مدت دی تھی جب کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ حکمت عملی اس سے بالکل مختلف ہے۔

۲۰۰۱ء سے لے کر اب تک افغانستان میں امریکی مہم جوئی کا بنیادی مقصد ’’امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی سرزمین کو دہشت گردوں کے مزید حملوں سے بچانا‘‘ ہے۔ہم اس بات کو گوارہ نہیں کریں گے کہ جنوبی ایشیا دہشت گردوں کے لیے تربیت اور منصوبہ بندی کے مرکز کے طور پر استعمال ہو اور اس مقصد میں کامیاب ہونے کے لیے ہمیں مستحکم افغانستان کی ضرورت ہے۔مستحکم،آزاد اور پڑوسیوں کے ساتھ پُرامن تعلقات کا حامل، افغانستا ن ہی دراصل ہمارا مقصد ہے۔

امریکا اس مقصد کے حصول کے لیے افغانستان کی قومی فوج (Afghanistan National Defense and Security Forces) کی باغیوں کے خلاف جاری جنگ میں ان کی مدد کرے گا۔ اس نئی حکمت عملی کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ امریکا لڑاکا کارروائیوں کی قیادت کرے گا بلکہ افغان فوج کی اہلیت میں اضافہ ہی کامیابی کی کُنجی ہے۔ہم دشمنوں کو شکست دینے کے لیے افغان فوج کی ہر قسم کی مدد جار ی رکھیں گے۔ اس مہم کا مقصد یہ بھی ہے کہ طالبان کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ یہ جنگ میدان میں لڑ کر نہیں جیت سکتے۔اس جنگ کا خاتمہ صرف اور صرف سیاسی حل کی صورت میں نکلے گا اور اس حل میں طالبان سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا کردار ہوگا۔

ہمارے پاس کام کرنے کا جذبہ رکھنے والا ،اور اہل شراکت دار صدر اشرف غنی کی صورت میں موجود ہے۔صدر غنی نے نئی امریکی حکمت عملی کے تناظر میں کابل میں موجود امریکی سفارت خانے اور افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ مل کر ایک منصوبے کا آغاز کیا ہے جس کے تحت ترجیحی بنیادوں پر چار شعبہ جات میں اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں ۔وہ چار شعبہ جات یہ ہیں۔نظام حکومت،معاشی ترقی،سیکورٹی اور امن عمل۔اور صدر کا کہنا ہے کہ وہ خود اس سارے عمل کی نگرانی کریں گے۔اس کابل معاہدے کے تحت افغان صدر نے افغان فوج کی اہلیت اور قابلیت میں اضافے اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے ان شعبہ جات میں نئے اور قائم مقام مشیران کا تقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں بڑی عمر کے فوجی جنرلوں کو فارغ کرنے کے لیے ایک باعزت ’’مکینزم ‘‘ بھی تیار کیا ہے ،تاکہ یہ طویل عمر کے لوگ ریٹائر ہوں اور نئے لوگ ان کی جگہ سنبھالیں جن کا تقرر میرٹ پر کیا گیا ہو۔ان چار ترجیحی شعبہ جات میں ہونے والی اصلاحات میں افغان صدر کی دلچسپی اور ’’کمٹمنٹ ‘‘دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ افغانستان اپنے استحکام کی جانب گامزن ہے۔

افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کی تعداد (نومبر ۲۰۱۷ تک)
البانیا ۸۳ لتھووینیا ۲۸
آرمینیا ۱۷۶ لیکسمبرگ ۲
آسٹریلیا ۲۵۰ منگولیا ۱۲۰
آسٹریا ۱۲ مونٹی نیگرو ۱۸
آزربائیجان ۴۹ نیدرلینڈ ۱۰۲
بلجیم ۶۵ نیوزی لینڈ ۱۱
بوسنیا ۵۶ ناروے ۴۶
بلغاریہ ۱۰۹ پولینڈ ۲۱۸
کروشیا ۹۸ پرتگال ۱۱
چیک ریپبلک ۲۵۱ رومانیہ ۶۲۹
ڈنمارک ۸۶ سلوواکیہ ۸۳
استونیا ۵ سلوینیہ ۷
فن لینڈ ۱۹ اسپین ۲۹
جارجیا ۸۶۹ سوئیڈن ۴۹
جرمنی ۸۷۴ مقدونیہ ۳۹
یونان ۴ ترکی ۵۵۲
ہنگری ۱۱۰ یوکرائن ۱۰
آئس لینڈ ۲ برطانیہ ۵۳۷
اٹلی ۹۳۱ امریکا ۸۴۷۵
لٹویا ۳۲ کل ۱۵۰۴۶

افغان نیشنل فوج نے گزشتہ تین سالوں میں تمام مشکل حالات کا سامنا کیا اور سیکورٹی کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔صدر اشرف غنی کی طرف سے کی جانے والی مزید اصلاحات ان فورسز کی صلاحیتوں کو مزید نکھاریں گی۔۲۰۱۷ء کے آغاز میں اشرف غنی نے فوج میں اصلاحات کا ایک مکمل لا ئحہ عمل تشکیل دیا تھا۔اس لائحہ عمل کے تحت افغان فوج کی اہلیت میں اضافہ کرنا تھا تاکہ وہ طالبان کے خلاف کارروائیاں کر کے ان کو مذاکرات پر مجبور کر دے۔

اس رپورٹ کے دورانیے میں امریکا ،اتحادیوں اور افغان حکومت نے افغان فوج کے لیے تیار کردہ روڈ میپ کی چار بنیادی ترجیحات پر توجہ صرف کی ہے۔ وہ چار ترجیحات یہ ہیں:افغان خصوصی فوج کی استعداد اور تعداد کو دگنا کرنا،افغان ائیر فورس کوترقی دینا اور ان کوجدید بنانا،قیادت سازی اور انسداد بد عنوانی۔جنوبی ایشیا کے لیے تر تیب دی گئی اس نئی حکمت عملی کے تحت امریکی فوج میں اضافہ ہوگا،اور یہ حکمت عملی افغان فوج کی تربیت اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ان کی مدد کرے گی۔امریکی فوج برائے افغانستان اس وقت ۱۴۰۰۰ جوانوں پر مشتمل ہے۔

افغان فوج کے لیے یہ عرصہ گزشتہ سالوں سے کافی بہتر رہا۔ نہ ہی طالبان کسی صوبائی مرکز پر قبضے کر سکے اور نہ ہی وہ کسی بڑے حملے میں کامیاب ہوئے ،بلکہ ہلمند کی کچھ تحصیلوں کا کنٹرول بھی کھو دیا۔اس کے ساتھ افغان فوج نے امریکی فوج اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر نہ صرف طالبان کا مقابلہ کیا بلکہ داعش کا بھی قلع قمع کیا۔اس کے علاوہ امریکی فوج نے افغانستان حکومت کی چند وزارتوں میں بھی مکمل مدد کی ۔اگر چہ مندرجہ بالا تمام کامیابیوں کے بعد بھی ہم مکمل طور فتح حاصل نہیں کر سکے۔ لیکن اب ہم افغانستان کی مدد اسی صورت میں کریں گے جب وہ دیے گئے مکینزم پر عملدرآمد کریں گے۔اور یہ بات بھی طے ہے کہ طالبان کو میدان جنگ میں کامیابی نہیں ملے گی ،ان کو ہر صورت میں مذاکرات کی میز پرآنا ہی ہوگا۔

Leave a comment

Your email address will not be published.


*