طیب اردغان کو ’’مشکلات‘‘ کا سامنا!

ترک وزیراعظم رجب طیب اردغان کو اندرونی اور بیرونی محاذ پر نئے دشمنوں کا سامنا ہے۔ ۹ برسوں کے دوران اردغان نے کئی محاذوں پر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انتخابات میں انہیں پہلے سے زیادہ ووٹ ملتے رہے ہیں۔ کسی زمانے میں انتہائی طاقتور گردانے جانے والے جرنیلوں نے ان کی حکومت کا تختہ الٹنے اور ان کی پارٹی اے کے پی (جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی) پر پابندی عائد کرانے کی سازش اور کوشش بارہا کی مگر ہر بار اردغان نے ان کا بھرپور انداز سے سامنا کیا اور ان کے تمام عزائم ناکام بنا دیے۔ ترک معیشت اب تک عالمگیر معاشی بحران کے شدید منفی اثرات سے مجموعی طور پر محفوظ رہی ہے۔ یورپی یونین کی رکنیت کا معاملہ اب تک طے نہیں ہوسکا مگر امریکا سے ترکی کے تعلقات ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو کے بقول سنہرے دور میں ہیں۔

کسی زمانے میں ترک بیورو کریسی شدید کرپشن کی زد میں تھی مگر اب فلسفہ یہ ہے کہ ریاست شہریوں کی خدمت کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ شہری ریاست کی خدمت کے لیے وجود رکھتے ہیں۔ ایک زمانے تک یہ محاورہ لوگوں کے ذہنوں میں نصب رہا کہ ترکوں کا بہترین دوست کوئی ترک ہی ہوسکتا ہے مگر اب خارجہ پالیسی میں تبدیلی رونما ہوئی ہے اور ترکوں نے علاقائی سطح پر دوست تلاش کرلیے ہیں۔ اردغان کے حریفوں کو اندرونی لڑائی سے مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک حالیہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر آج انتخابات کرا دیے جائیں تو اردغان کو ۵۴ فیصد یعنی ۲۰۱۱ء کے انتخابات کے مقابلے میں ۴ فیصد زائد ووٹ ملیں گے۔

اردغان کے لیے مشکلات پیدا کرنے والی چیز طاقت کی وہ کشمکش ہے جو ان کی پارٹی اور امریکی ریاست پنسلوانیا سے تعلق رکھنے والے امام کی سربراہی میں کام کرنے والی تحریک ہے۔ امام کا نام فتح اللہ گلین ہے۔ فتح اللہ گلین کے پیرو اب میڈیا ایمپائر کے ذریعے عدلیہ اور پولیس فورس میں اپنے اثرات کا دائرہ غیر معمولی حد تک وسیع کرچکے ہیں۔ ان کا اگلا ہدف ترکی کا خفیہ ادارہ ایم آئی ٹی ہے۔ معاملے کو گزشتہ ماہ اس وقت ہوا ملی جب ایم آئی ٹی کے سربراہ حکم فدان کو علیٰحدگی پسند کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے خلاف ایک کیس میں گواہی کے لیے عدالت میں طلب کیا گیا۔ پبلک پروسیکیوٹر نے کہا کہ ایم آئی ٹی کے بعض اہلکار اور افسران اب پی کے کے کا حصہ ہیں۔

یہ سب اردغان کے لیے شدید اشتعال کا باعث تھا۔ انہوں نے اے کے کی اکثریت والی پارلیمنٹ سے فوری طور پر ایک قانون منظور کرایا جس کا مقصود ایم آئی ٹی کے سربراہ یا کسی بھی افسر کو عدالت میں طلب کرنے کے لیے وزیراعظم کی رضامندی کو یقینی بنانا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ ایم آئی ٹی چیف کو طلب کرنے والے پروسیکیوٹر کو ہٹادیا گیا اور استنبول پولیس فورس میں فتح اللہ گلین سے ہمدردی رکھنے والے افسران کے تبادلے کر دیے گئے۔

اردغان بظاہر پہلا راؤنڈ جیت گئے ہیں مگر ان کے لیے سیاسی سطح پر خاصی مشکلات بھی پیدا ہوسکتی ہیں کیونکہ گلین کے ہم نوا عناصر مدد سے ہاتھ کھینچ لیں تو تھوڑی بہت بحرانی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ اردغان کی صحت نے معاملات کو مزید الجھا دیا ہے۔ تھوڑی سی مدت میں ان کے دو آپریشن ہوچکے ہیں اور یہ افواہ بھی گرم ہے کہ وہ کولون کینسر میں مبتلا ہیں۔ خود وزیراعظم اور ان کے معالجین اس افواہ کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں تاہم سچ یہ ہے کہ اس افواہ ہی کے زیر اثر اب اردغان کے ممکنہ جانشینوں نے فتح اللہ گلین کے پیروؤں سے راہ و رسم بڑھانا شروع کردیا ہے۔ ایسے میں فریقین کے لیے ایک دوسرے کا احترام ہی صورت حال کو قابو میں رکھنے کی بہتر صورت رہ گئی ہے۔

گلین نواز افسران اور اے کے مل کر فوج کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ فتح اللہ گلین کی طرف نظریاتی جھکاؤ رکھنے والے اخبارات اور چینلوں ہی نے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے سے متعلق دستاویز طشت از بام کیں اور اردغان کے لیے جرنیلوں کے خلاف کیس بہتر انداز سے تیار کرنا ممکن ہوسکا۔ ہزاروں فوجی افسران اب سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ اب جبکہ حکومت کا تختہ الٹنے کا خطرہ نہیں رہا، اے کے اور گلین نواز عناصر کا اتحاد بھی ختم ہوچکا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا بنیادی سبب پالیسیوں میں اختلاف ہے۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ گلین نواز عناصر چاہتے ہیں کہ انہیں زیادہ طاقت دی جائے، اقتدار میں حصہ بڑھایا جائے۔ ایم آئی ٹی چیف کی عدالت میں طلبی کے معاملے سے قبل بھی وزیراعظم بعض صحافیوں کی گرفتاری کا فیصلہ کرچکے تھے۔ ایسا کوئی بھی اقدام ترکی کی پوزیشن کو عالمی سطح پر کمزور کرے گا۔ ترکی میں ۷۰ سے زائد صحافی جیل میں ہیں جن میں سے بعض پر تو دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ جو صحافی سلاخوں کے پیچھے ہیں ان میں احمد سک اور ندیم سینر فتح اللہ گلین اور ان کے پیروؤں کے شدید ناقد رہے ہیں۔

جمہوریت کے حوالے سے اردغان کی پوزیشن بہت اچھی نہیں۔ سیکڑوں طلباء جیل میں ہیں یا ڈیم کی تعمیر کے خلاف احتجاج کرنے کی پاداش میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو میڈیا مالکان اس ڈر سے فارغ کردیتے ہیں کہ کہیں ان کی وجہ سے بزنس متاثر نہ ہو۔ ملیت اخبار کے نرے مرت کی مثال تازہ ترین ہے۔ انہوں نے کرد باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کی تھی اور اس حوالے سے اردغان کی پالیسیوں کو خامیوں سے مزین قرار دیا تھا۔ ایک کارروائی میں اسمگلروں کے دھوکے میں بم برسائے اور ۳۴ کرد باشندے مارے گئے جن میں کئی بچے بھی شامل تھے۔ اردغان پر تنقید کرنے والوں میں ری پبلکن پیپلز پارٹی کے قائد کمال کلکداروغلو نمایاں ہیں۔ خفیہ ادارے کے سربراہ اور دیگر افسران کو عدالت جانے سے قبل وزیراعظم کی منظوری لینا لازم قرار پایا مگر اب تک انہوں نے کرد باغیوں کے حوالے سے ایسی پالیسی ترتیب نہیں دی جسے سب قبول کرسکیں۔ پارلیمنٹ کے ۹ ارکان سمیت ہزاروں منحرفین جیل میں ہیں۔

نئے آئین کا وعدہ انتخابی مہم میں کیا گیا تھا مگر اب تک اس حوالے سے پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ اردغان صدر کے منصب کو مضبوط کرنا چاہتے اور ممکنہ طور پر اس کا مقصد اپنے لیے زیادہ اختیارات یقینی بنانا ہے۔ اردغان صدر کا الیکشن لڑنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ نئے آئین کی تیاری کے سلسلے میں سب سے بڑی کرد پارٹی سے رضامندی لینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جارہی۔ اردغان چاہتے ہیں کہ نئے آئین کے مسودے میں پی کے کے کو مسترد کردیا جائے۔

پڑوسی ملک شام میں خانہ جنگی بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھری ہے۔ ترکی کے لیے شام کی صورت حال انتہائی دشوار ہوتی جارہی ہے۔ بشارالاسد کو برسوں مستحکم رکھنے کے بعد اب ترکوں نے انہیں مسترد کردیا ہے۔ ترکی چاہتا ہے کہ امریکا اب شام میں مداخلت کرکے بشارالاسد انتظامیہ کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرے مگر انتخابی سال میں امریکی کوئی بڑی مہم جوئی کرنے کے موڈ میں نہیں۔ بشارالاسد جس قدر اقتدار میں رہیں گے، ترکی کے لیے اتنا ہی بڑا خطرہ بن کر ابھریں گے۔ وہ پی کے کے کی حمایت کے ذریعے یا پھر علویوں کو اکساکر ترکی میں حالات خراب کرسکتے ہیں۔

معیشت کے میدان میں ترکی نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بجٹ خسارہ خام قومی پیداوار کا صرف ۲ فیصد ہے۔ قرضے صرف ۴۰ فیصد ہیں جبکہ معاشی نمو کی شرح ۸ فیصد تک ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا ۱۰ فیصد خسارہ البتہ اوور ہیٹنگ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ معیشت کی رفتار دھیمی پڑتی جارہی ہے۔ اردغان کو اس میدان میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘ لندن۔ ۲۵ فروری ۲۰۱۲ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*