افریقا میں مسلمانوں کی نسلی تطہیر

انسانی حقوق کے علم بردار ایک بین الاقوامی گروپ کا کہنا ہے کہ وسط افریقی ریاست میں عالمی امن فوج مسلمانوں کی نسلی تطہیر روکنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ وسط افریقی ریاست میں پے در پے مظالم کے باعث مسلمان اِتنے بڑے پیمانے پر انخلا کر رہے ہیں کہ اِسے آسانی سے تاریخی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اِس ملک میں چونکہ تَھوک اور پرچون کا دھندا بہت حد تک مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا، اس لیے معاشی حالات کی خرابی کے باعث اب خوراک کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام نے اب طیاروں سے خوراک پہنچانا شروع کی ہے۔ یہ منصوبہ ایک ماہ تک جاری رہے گا۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے ترجمان الیگسز مسکیریلی نے بی بی سی کو بتایا کہ سڑک کے راستے خوراک پہنچانا انتہائی خطرناک ہے، اس لیے خوراک گرانے کا آپشن اپنایا گیا ہے۔ خوراک پہنچانے کے پروگرام پر زیادہ رقم خرچ ہو رہی ہے اور یہ پروگرام پڑوسی ملک کیمرون کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے، جس نے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی ہے۔ پہلی کھیپ ۸۲ ٹن چاول کی تھی، جس کے بعد ۱۸۰۰؍ٹن دلیہ پہنچایا گیا۔ بڑے پیمانے پر خوراک کی فراہمی جاری رہے گی تاکہ کوئی بڑا انسانی المیہ رونما نہ ہو۔

اب تک جتنی خوراک پہنچائی گئی ہے، وہ ڈیڑھ لاکھ افراد کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی تھی جبکہ پورے ملک میں مجموعی طور پر بارہ لاکھ پچاس ہزار سے زائد بے گھر افراد کو خوراک پہنچانا ناگزیر ہے کیونکہ ان کے پاس خوراک حاصل کرنے کے ذرائع انتہائی محدود ہوچلے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بحران سے دوچار ہونے والے افراد میں ۹۰ فیصد صرف ایک وقت کا کھانا حاصل کر پارہے ہیں۔ دارالحکومت بانگوئی سے بیشتر مسلم تاجر نقل مکانی کرگئے ہیں، جس کے باعث خوراک کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کرکے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے بانگوئی ہوائی اڈے پر پناہ لے رکھی ہے۔ ترجیحی بنیاد پر انہیں خوراک فراہم کی جائے گی۔ ملک بھر میں لوگوں نے مساجد، گرجوں اور اسکولوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ انہیں بھی ترجیحی بنیاد پر خوراک دی جائے گی۔

وسط افریقی ریاست میں ایک سال سے بھی زائد مدت سے سیاسی بحران چل رہا ہے، جو اَب غیر معمولی شدت اختیار کر چکا ہے۔ فرانس نے امن فوج کے لیے ایک ہزار چھ سو اور افریقی ممالک نے مل کر ساڑھے پانچ ہزار فوجی فراہم کیے ہیں۔ فرانس کے وزیر دفاع ژاں ویز لے دریاں نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ ہفتے وسط افریقی ریاست کے دارالحکومت بانگوئی کا دورہ کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک مسلم اور عیسائی علاقوں میں تقسیم ہوسکتا ہے۔ ایک بیان میں بانکی مون نے کہا کہ مسلم اور عیسائی دونوں ہی منظم طریقے سے، بڑے پیمانے پر قتل کیے گئے ہیں تاکہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو۔ ملک کا باضابطہ جغرافیائی طور پر منقسم ہونا تو دور کی بات لگتا ہے مگر حالات نے بڑے پیمانے پر آبادیوں کی نقل مکانی کو ایک تلخ حقیقت بنادیا ہے۔

وسط افریقی ریاست میں گزشتہ سال مسلم باغی فورس ’’سلیکا‘‘ نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا، جس کے باعث مبینہ طور پر عیسائیوں کو قتل کیا گیا اور بڑے پیمانے پر زیادتی کے واقعات بھی ہوئے۔ ’’سلیکا‘‘ گروپ نے جنوری میں اقتدار چھوڑ دیا تھا مگر اس کے باوجود عیسائیوں نے مختلف گروپوں کی شکل میں اب تک مسلمانوں سے انتقام لینا ترک نہیں کیا ہے۔ ملک بھر میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بتایا ہے کہ بعض علاقوں میں امن فوج نے بھی تشدد کو راہ دی ہے۔ ’’سلیکا‘‘ کے دستبردار ہونے سے طاقت کا جو خلا پیدا ہوا ہے، اُسے پُر کرنے کے لیے عیسائی گروپوں کو کھل کر من مانی کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ ایمنسٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اینٹی بلاکا (عیسائی) گروپوں کو کنٹرول کیا جائے اور ان علاقوں میں امن فوج کے مزید دستے تعینات کیے جائیں، جہاں مسلمانوں کو مسلسل دھمکایا جارہا ہے۔ وسط افریقی ریاست میں فرانسیسی مشن کے سربراہ جنرل فرانسسکو سوریانو نے کہا ہے کہ اینٹی بلاکا فورسز امن کی دشمن ہیں۔ ایمنسٹی نے یہ بھی بتایا ہے کہ دارالحکومت بانگوئی سے فرار ہوجانے کے بعد بھی مسلم سلیکا ملیشیا کے ارکان عیسائیوں پر حملے کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی میں سینئر کرائسز ریسپانس ایڈوائزر جوآن میرینر کا کہنا ہے کہ وسط افریقی ریاست میں صورت حال فوری توجہ کا تقاضا کر رہی ہے۔ ان کے خیال میں امن فوج کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ ایک طرف تو اسے امن برقرار رکھنا ہے، ساتھ ہی ساتھ زیادہ حساس اداروں میں لوگوں کو تحفظ دینا ہے اور مختلف علاقوں سے بڑے پیمانے پر آبادی کا انخلا روکنا ہے۔

(“Central African Republic: ‘Ethnic cleansing’ of Muslims”… “bbc”. Feb. 12, 2014)

سوڈان: داخلی مفاہمتی پیش رفت

سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر نے اختلافات ختم کرنے کے لیے اپوزیشن پارٹیوں کو ’’جامع قومی مذاکرات‘‘ کی پیشکش کی ہے، تاکہ ملک کو درپیش چیلنجوں کا حل تلاش کیا جاسکے۔ ایک تقریب میں سوڈانی صدر نے کہا کہ یہ مذاکرات ملک میں امن و امان کی صورتحال، آزاد سیاسی معاشرے کی تشکیل، عوامی مشاورت، غربت سے نکلنے، مقدور بھر طاقت کے حصول اور سوڈان کی تاریخی شناخت کے احیا جیسے اہم امور پر مشتمل ہوں گے۔ تقریب میں ڈاکٹر حسن ترابی اور اُمّہ پارٹی کے سربراہ صادق المہدی بھی شریک تھے۔ ڈاکٹر حسن ترابی سے اختلافات کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ وہ اور صدر کسی تقریب میں اکٹھے اور باقاعدہ شریک تھے۔ اس سے پہلے اپنی حکومت میں تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے صدر بشیر نے کئی اہم افراد تبدیل کر دیے ہیں۔ حکومت کے اصل فکری رہنما کی حیثیت رکھنے والے نائب صدر علی عثمان طٰہٰ نے بھی عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے نئے افراد کے لیے راستہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ شیخ علی عثمان طٰہٰ کی تبدیلی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، وہی حکومت کی طرف سے دیگر اسلامی تحریکات سے رابطے کے ذمہ دار تھے۔

صدر عمر حسن البشیر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پوری سوڈانی قوم ملک کے وسیع تر مفاد میں اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر کام کرے۔ یاد رہے کہ سوڈانی صدر نے گزشتہ دنوں ملک کی کشیدہ صورتحال میں جامع اصلاحی پروگرام پیش کرنے کا عندیہ دیا تھا، جس میں اپنے اختیارات میں کمی کرنا بھی شامل تھا۔

☼☼☼

Leave a comment

Your email address will not be published.


*