فضائی گیس اسٹیشن

افغانستان کے مشرقی سرحدی صوبے پکتیکا کے آسمانوں میں نیٹو نشریات کی گھن گھرج سنائی دیتی ہے۔

امریکی اسٹریٹو ٹینکرجہاز، جو فضا میں لڑاکا طیاروں کو ایندھن فراہم کرتا ہے، نے بلندیوں پر سفر کرتے ہوئے ریڈیو نشریات منقطع کردیں تو افغانستان کی پاکستان سے ملحقہ سرحد پر خاموشی چھا جاتی ہے لیکن نیٹو کی فضائی ٹریفک ایک مختلف کہانی سناتی ہے۔

ایک کے بعد ایک لڑاکا طیارہ کے C-135 ٹینکر جہاز سے آکر جڑتا ہے اور اپنی ضرورت کے مطابق پانچ ہزار پاؤنڈ (۲۳۰۰ کلوگرام) ایندھن لینے کے بعد اپنے گشت پر روانہ ہو جاتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اسٹریٹو ٹینکر چوبیس گھنٹے فضا میں جہازوں کو ایندھن فراہم کرتا ہے، جس کے باعث زمین پہ مار کرنے والے F-16 اور A-10 طیارے چند منٹوں میں افغانستان میں کسی بھی جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ جہاز کا عملہ ایندھن فراہم کرنے والے اس ٹینک کو ’’فضائی گیس اسٹیشن‘‘ کہتے ہیں۔

ایک درجن کے قریب طیارے روزانہ مناس ایئربیس سے افغانستان کے لیے پرواز کرتے ہیں۔ یہ ایئربیس کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک کے مضافات میں واقع ہے۔ افغانستان پر پرواز کرتے جنگی جہازوں کی ۳۰ فیصد ایندھن کی ضروریات مناس ایئربیس پوری کرتا ہے۔ امریکی بیس سالانہ ۲۰۰ ملین ڈالر طیاروں کے ایندھن پر خرچ کرتا ہے۔ (اس رقم کا بڑا حصہ ایک بڑی روسی پیٹرولیم کمپنی ’’گیز پروم‘‘ کی ذیلی شاخ کو جاتا ہے)۔ اگلے موسم گرما تک، یعنی نیٹو افواج کے افغانستان سے ممکنہ انخلا سے چھ ماہ قبل ہی، نیٹو افواج کو مناس ایئربیس چھوڑ کر کہیں اور جانا ہے کیونکہ کرغیزستان نے انہیں جانے کا کہہ دیا ہے۔

اسٹریٹو ٹینکر (فضائی گیس اسٹیشن) دو لاکھ پاؤنڈ ایندھن لیے پرواز بھرتا ہے۔ یہ مقدار اتنی زیادہ ہے کہ ایک ہزار سے زائد کھیلوں میں استعمال کی جانے والی گاڑیاں بھری جاسکتی ہیں۔ مذکورہ ٹیکنالوجی اتنی ہی متاثر کن ہے، جتنی پرانی ہے۔ بوئنگ نے ۱۹۵۰ء میں B-52 بمبار طیاروں کو ایندھن کی فراہمی کے لیے یہ جہاز تیار کیے تھے۔ امریکا نے ۴۰۰ سے زائد جہاز اپنے زیر استعمال رکھے، جو کہ ہالینڈ کی قومی ایئر لائن (کے ایل ایم) اور ایئر فرانس کے مشترکہ تجارتی بیڑوں کی تعداد سے بھی زائد ہے۔

چھوٹی کھڑکی سے باہر بغور دیکھیں تو فضائی ٹینکر، زرد پہاڑوں کی آڑ میں دائرہ بنا رہے ہیں۔ یہ بیڑہ پشتون ملک کے وسیع رقبہ پر چھ گھنٹے سے زائد پرواز کرتا رہا۔ یہ فضائی مدد جاری رہے گی، اگر افغانستان امریکا کے ساتھ متفقہ دوطرفہ سلامتی کے معاہدے پر دستخط کردیتا ہے۔ جیسے جیسے سورج کی روشنی کمزور پڑتی گئی، پہاڑوں کی وادیوں میں روشنی جگمگانے لگی۔ نہیں معلوم بارہ برس قبل کیا منظر تھا، جب نیٹو کی قیادت میں افغانستان پر حملہ کیا گیا۔ جہاز کی لائٹوں سے آسمان روشن ہوگیا۔ نیٹو کے جانے کے بعد کتنا کچھ تبدیل ہوگا، کوئی نہیں جانتا۔

(“Filling station in the Sky”…
“The Economist”. Dec. 7, 2013)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*