Abd Add
 

کامیاب کیریئر کے چار مراحل۔۔۔

پہلا مرحلہ: اپنے من میں ڈوب کر۔۔۔

اور کوئی خواب یا خیال ہو یا نہ ہو، ہر نوجوان کی آنکھوں میں ایک خواب ضرور ہوتا ہے … یہ کہ کسی ایک شعبے میں بھرپور کامیابی حاصل ہو۔ اِسی کو کیریئر کہتے ہیں۔ ہر انسان کو کسی نہ کسی شعبے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنا ہوتی ہے۔ بھرپور کامیابی ہی انسان کو بامقصد زندگی کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے کی منزل تک لاتی ہے۔

ہر دور میں نئی نسل کو مختلف مسائل کا سامنا رہا ہے۔ جب کوئی بچہ لڑکپن کی حدود سے گزرتا ہوا عنفوانِ شباب کی دہلیز تک پہنچتا ہے تب اُس میں بہت سی جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں۔ یہ تمام تبدیلیاں اُس پر غیر معمولی حد تک اثر انداز ہوتی ہیں۔ نئی نسل کا بنیادی مقصد ہوتا ہے، زندگی کا کوئی مقصد متعین کرنا اور اُس کے حصول کی تیاری کرنا۔ زندگی کو اگر ڈھنگ سے بسر کرنا ہے تو کسی نہ کسی بڑے مقصد کا ہونا لازم ہے۔ کوئی بڑا مقصد یا ہدف نہ ہو تو زندگی کی کشتی ہچکولے کھاتی رہتی ہے اور توجہ نہ دی جائے تو ڈوب بھی جاتی ہے۔

ہر دور کے انسان کو مسائل کا سامنا رہا ہے۔ مسائل کی نوعیت ہی اس بات کا بھی تعین کرتی ہے کہ ہم کس طور زندگی بسر کرسکیں گے۔ دنیا بھر میں کروڑوں یا اربوں افراد اپنی آنکھوں میں بہتر زندگی کے بہت سے خواب سموئے رہتے ہیں۔ یہ حقیقت ہر انسان پر منکشف رہتی ہے کہ زندگی کو اگر گزارنا ہے تو ڈھنگ سے گزارنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی مقصد ہونا ہی چاہیے۔ مقصد کے بغیر زندگی کو ڈھنگ سے بسر کرنے کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔

ویسے تو خیر ہر انسان کو اعلیٰ معیار کی زندگی بسر کرنے کے حوالے سے مختلف النوع مسائل کا سامنا رہتا ہے مگر اس حوالے سے سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا نئی نسل کو کرنا پڑتا ہے۔ نئی نسل چونکہ دو راہے پر کھڑی ہوتی ہے اس لیے اُسے ایک ایک قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے۔ کوئی ایک قدم بھی غلط پڑا تو سمجھ لیجیے سب کچھ داؤ پر لگ گیا۔

کسی بھی نوجوان لڑکے یا لڑکی کے لیے ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہے کیریئر کا انتخاب۔ بالخصوص لڑکوں کو طے کرنا ہوتا ہے کہ اُنہیں باقی زندگی کیا کرنا ہے۔ کیریئر کے حوالے سے پختہ سوچ کا اپنایا جانا انتہائی ناگزیر ہے۔ جو نوجوان اس معاملے میں لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہیں اُن کے لیے قدم قدم پر مسائل ابھرتے رہتے ہیں اور وہ زندگی بھر بہت سے چھوٹے مسائل میں الجھ کر بہت تیزی سے ناکامی کی طرف چل دیتے ہیں۔

نئی نسل کو بہت سے معاملات میں غیر معمولی راہ نمائی درکار ہوا کرتی ہے۔ ویسے تو اُن کے لیے اخلاقیات اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے بھی بہت سے مسائل ابھرتے ہیں اور اُنہیں راہنمائی درکار ہوتی ہے تاہم کیریئر کا معاملہ سب سے بڑھ کر ہے۔ ہر نوجوان چاہتا ہے کہ اٹھتی جوانی میں اپنے لیے ایسا راستہ منتخب کرے، جس پر باقی زندگی ڈھنگ سے چلا جاسکے۔ کیریئر کے انتخاب میں اِسی لیے بہت سے نوجوان خود کو بہت الجھا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اور یہ کوئی انوکھی یا افسوسناک بات نہیں۔

فی زمانہ کیریئر کاؤنسلنگ عام ہے۔ جن نوجوانوں کو کیریئر کے انتخاب میں مشکلات کا سامنا ہو وہ کیریئر کے حوالے سے مشوروں سے نوازنے والے ماہرین سے رابطہ کرتے ہیں۔ ماہرین اُن سے تفصیلی گفتگو کرکے اُن کی شخصیت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ رجحانات اور میلانات کا درست اندازہ لگانے کے بعد ماہرین مختلف شعبے اور اُن میں بھی مختلف کردار تجویز کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی نوجوان تعلیم کے شعبے کو کیریئر کے طور پر اپنانا چاہتا ہے تو ماہرین اُسے بتاتے ہیں کہ وہ استاد بننے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نصابی مواد ضبطِ تحریر میں لانے کی۔ بہت سے نوجوان تعلیم کے شعبے میں آتے ہیں مگر یہ طے نہیں کر پاتے کہ اُنہیں کیا کرنا چاہیے۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ وہ ایک مدت تک تعلیم کے مختلف شعبوں میں اپنے آپ کو آزماتے رہتے ہیں مگر ڈھنگ سے کچھ کرنے کے قابل نہیں ہو پاتے۔ سوال صرف مشاہرے کا نہیں، کارکردگی کے حوالے سے ذاتی تشفّی کا بھی ہے۔ کیریئر محض کمانے کے شعبے کو منتخب کرنے کا نام نہیں۔ انسان کسی بھی شعبے کو در حقیقت اس لیے اپنانا ہے کہ اپنے میلان یا رجحان کے مطابق کام کرے۔ اِسی صورت وہ اپنے کام سے پوری طرح مطمئن ہوسکتا ہے۔ بہت سے لوگ کسی شعبے سے وابستہ ہوکر کما تو بہت لیتے ہیں مگر دل کو سکون نہیں ملتا۔ جب انسان اپنی مرضی کے مطابق اور جی بھر کے کام نہ کر پائے تو اُس کے دل کی بہت سی خواہشیں ادھوری رہ جاتی ہیں۔

کیریئر کا انتخاب نئی نسل سے غیر معمولی توجہ کا متقاضی ہوا کرتا ہے۔ اس مرحلے پر طے کیے ہوئے معاملات زندگی بھر چلتے ہیں۔ بہت چھوٹی عمر سے کسی بھی شعبے میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کرنے والے جب عنفوانِ شباب کی منزل تک پہنچتے ہیں تب اُنہیں اندازہ ہونے لگتا ہے کہ باقی زندگی اُنہیں کیا کرنا ہے، کس طرف جانا ہے۔ اور سوال محض چلنے کا نہیں، چلتے رہنے کا ہوتا ہے۔

ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جس میں قدم قدم پر بحران ہیں، مشکلات ہیں، پریشانیاں ہیں، پیچیدگیاں ہیں۔ بھرپور کامیابی کی طرف قدم بڑھانا آجر کے لیے آسان ہے نہ اجیر کے لیے۔ عملی زندگی میں اس قدر مسابقت ہے کہ ہم کسی بھی لغزش کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ کوئی معمولی سی لغزش ہمیں دوسروں سے میلوں پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔ ’’گلا کاٹ‘‘ مقابلے کی دنیا میں ہم اُسی وقت بھرپور کامیابی سے ہم کنار ہوسکتے ہیں، جب اپنی صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہوں، شعبے کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں، اپنے کردار کے حوالے سے واضح ذہن رکھتے ہوں اور عمل کے معاملے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے ہوں۔

کیریئر کے انتخاب کا مرحلہ بھی غیر معمولی تیاری کا طالب ہوا کرتا ہے۔ نئی نسل کو کیریئر کے انتخاب کے حوالے سے ذہن بنانے کے لیے متعلقہ امور کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جن شعبوں میں زیادہ دلچسپی ہے اُن سے وابستہ کامیاب افراد اور ماہرین سے رابطہ کرکے اپنے لیے راستہ بنانا چاہیے۔ اب کیریئر کے حوالے سے ہزاروں کتابیں اور مضامین انٹر نیٹ پر مفت دستیاب ہیں۔ تقریریں بھی سنی جاسکتی ہیں۔ سیمینار اور ویب کاسٹ بھی راہ نمائی کے لیے حاضر ہیں۔

کیریئر کا انتخاب انتہائی اہم مرحلہ اس لیے ہے کہ بیشتر نوجوان یہ سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ اُن کی حقیقی دلچسپی کس شعبے میں ہے۔ ابھرتی ہوئی عمر میں بہتر زندگی بسر کرنے کے حوالے سے بہت سے شعبے بہت پرکشش دکھائی دے رہے ہوتے ہیں۔ نئی نسل عام طور پر اُن شعبوں کی طرف زیادہ متوجہ ہوتی ہے، جن میں غیر معمولی آمدن کا امکان توانا ہو ہر نوجوان فطری طور پر زیادہ سے زیادہ کمانے کا خواب دیکھتا ہے تاکہ پرتعیّش زندگی بسر کرنے کے قابل ہوسکے۔ اس مرحلے میں یہ نکتہ نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ کیریئر کا مطلب محض آمدن نہیں، اور بھی بہت کچھ ہے۔ جو شعبہ زندگی بھر کے لیے پسند کرنا ہے، اُس میں اتنا دم خم ہونا چاہیے کہ آگے چل کر آمدن کے محدود ہو جانے کا خطرہ نہ ہو۔ بیشتر نوجوان کسی شعبے کو محض لالچ کے ہاتھوں یا پھر جذباتی ہوکر منتخب کرتے ہیں اور پھر باقی زندگی اپنے آپ سے ہی نہیں، دوسروں سے بھی الجھتے رہتے ہیں۔

(۔۔۔ جاری ہے!)

1 Comment on کامیاب کیریئر کے چار مراحل۔۔۔

  1. This is very good rechsacrh

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.