Abd Add
 

مالی میں فرانس کی فوجی کارروائی

مالی کے معاملات درست کرنے کے حوالے سے فرانس کی فوجی کارروائی اب تک تو کام کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

چاول کے کھیتوں اور ماہی گیروں کی کشتیوں سے گھرا ہوا شہر ڈایا بیلی (Diabaly) در اصل مالی کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور مرکزی محلِ وقوع کا حامل ہے۔ ایک شاہراہ ماریطانیہ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جاتی ہے اور اسی شاہراہ پر دریائے نائیجر کا ایک مشہور پل بھی واقع ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس شہر سے ایک شاہراہ مشہور زمانہ شہر ٹمبکٹو بھی جاتی ہے۔ ڈایا بیلی دراصل کئی اہم راستوں کے سنگم پر واقع ہے جس سے اس کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔ ۱۴؍جنوری کو باغیوں نے، جو ۹ ماہ سے ملک کے شمالی علاقوں پر متصرف ہیں، جنوبی کی طرف بڑھ کر ڈایابیلی پر بھی قبضہ کرلیا۔ انہوں نے بڑی پک اپس میں سوار ہوکر شہر کا گشت کیا۔ ان گاڑیوں پر بھاری مشینری نصب تھی۔ راستے میں آنے والے فوجیوں کو انہوں نے بلا دریغ قتل کیا۔

باغیوں کی یہ پیش قدمی دراصل ۱۱؍ جنوری کو فرانس کی جانب سے مالی میں زمینی و فضائی کارروائی کا جواب تھی۔ فرانس کے صدر فرانکوا اولاند کے الفاظ میں یہ کارروائی مالی کی علاقائی سالمیت برقرار رکھنے کے لیے ہے۔ یہ کارروائی دراصل باغیوں اور مسلم عناصر کے اشتراک سے اقتدار پر قبضے کی کوشش ناکام بنانے کی خاطر ہے۔ فرانس نے گزشتہ برس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک قرارداد منظور کرائی جس کا مقصد مالی میں شمالی علاقوں سے باغیوں کا قبضہ ختم کرانا اور افریقی اتحاد کی فوج کو وہاں تعینات کرنا تھا مگر جب افریقی اتحاد کی فوج کو مالی میں کارروائی کے حوالے سے دیر ہوئی تو فرانس نے یہ کام خود کرنے کا بیڑا اٹھالیا۔

فرانس ابھی تیاریاں کر ہی رہا تھا کہ باغیوں نے جنوب کی طرف بڑھنے کا فیصلہ کیا اور ۱۵۰ ؍گاڑیوں میں سوار ہوکر ۶۰۰ سے زائد باغیوں نے بڑھتے ہوئے کونا (Konna) شہر پر قبضہ کیا اور اس کے بعد وہ ملک کے دوسرے بڑے شہر اور دریائی بندرگاہ موپٹی (Mopti) کی طرف بڑھے۔ موپٹی میں دھاک بٹھانے کے بعد انہوں نے ملک کے دارالحکومت باماکو کا رخ کیا۔ یہ خاصا دور تھا۔ باغیوں کو کم و بیش ۶۰۰ کلومیٹر (۴۰۰ میل) کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ فرانس نے محسوس کرلیا کہ بروقت اور بھرپور اقدام ہی سے جہادیوں کو دارالحکومت کی طرف بڑھنے سے روکا جاسکے گا۔

فرانس نے مالی کے باغیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز فضائی حملوں سے کیا۔ میراج طیاروں کے علاوہ ہیلی کاپٹروں سے بھی بمباری کی گئی۔ یہ ہیلی کاپٹر چاڈ کے شہر جامینا اور برکینا فاسو کے شہر اوآگاڈوگو میں تعینات تھے۔ موپٹی میں تو باغیوں کی پیش قدمی روک دی گئی مگر اس سے آگے جاکر مغرب میں باغیوں کی قوت ختم کرنا گیزیلیز ہیلی کاپٹروں کے بس کی بات نہ تھی۔ فرانس نے جدید طرز کے رافیل جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے باغیوں کو مغربی مالی میں عمدگی سے نشانہ بنایا۔

برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک اور امریکا کے مال بردار طیاروں کی معاونت سے اب مالی میں فرانسیسی فوج اپنی پوزیشن مستحکم کر رہی ہے۔ ٹائیگر ہیلی کاپٹروں کو مختلف علاقوں میں لے جانے کے لیے سی۔۱۷؍ کارگو طیارے ناگزیر تھے۔ ۲۳ جنوری تک مالی میں فرانس کے ۲۳۰۰ سے زائد فوجی تعینات کیے جاچکے تھے۔ ۲۱ جنوری کو فرانسیسی فوج نے لڑائی کے بغیر ڈایابیلی شہر باغیوں سے چھین لیا۔ شہری بظاہر اس بدلی ہوئی صورت حال سے خوش ہیں۔ باغیوں کی تباہ شدہ گاڑیوں کو دیکھ کر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔

بڑے گیم کا چھوٹا ورژن

پیرس کی فاؤنڈیشن فار اسٹریٹجک ریسرچ کے خصوصی مشیر فرانکوئی ہائبورگ کہتے ہیں کہ جنوبی مالی کو بچانے اور باغیوں کا زور توڑنے کے ابتدائی مقصد کے حوالے سے فرانسیسی فوج کی کارروائی اب تک کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ باغی منظم اور تربیت یافتہ ہیں۔ انہیں ملک کے ہر خطے کے بارے میں بنیادی باتیں معلوم ہیں مگر وہ کاندھے پر رکھے جانے والے اینٹی ایئر کرافٹ میزائل لانچر کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے اس لیے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنانے سے قاصر ہیں۔ ابتدا میں رپورٹس ملی تھیں کہ باغیوں نے جن علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے، ان قصبوں اور دیہاتوں میں لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم اب تک ایسی کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ مالی کی فوج نے موپٹی کے نزدیک سیوارے شہر میں باغیوں کی موجودگی کی اطلاع دی ہے۔ اس شہر میں ایک ایئر فیلڈ بھی ہے۔ بہت سے علاقوں سے باغی اگرچہ نکل گئے ہیں یا نکالے جاچکے ہیں، تاہم بیشتر کسان اب تک خوفزدہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باغی کسی بھی وقت واپس آ سکتے ہیں۔

شمال کے صحرا میں باغیوں کے لیے چھپنا قدرے مشکل ہے۔ میدانی علاقوں اور جنگلوں میں تو وہ پناہ گاہیں بنالیتے ہیں، صحرا میں ان کی موجودگی دور ہی سے محسوس کی جاسکتی ہے۔ ایسے میں فضائی کارروائی بھی آسان ہو جاتی ہے۔ لندن کے تھنک ٹینک رائل یونائٹیڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے جوناتھن ایئل کہتے ہیں کہ مالی میں بعض مقامات پر علاقہ اس قدر ہموار اور بنجر ہے کہ اگر دس پندرہ باغی بھی لڑائی کی تیاری کر رہے ہوں تو انہیں سیٹلائٹ کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے۔ امریکا کے لانگ رینج جاسوس ڈرون بھی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ گاؤ، کڈل اور ٹمبکٹو کے نزدیک بعض مقامات پر حملے کیے گئے ہیں۔ ڈایا بیلی میں بمباری کے ساتھ ساتھ زمینی فوج کی کارروائی بھی باغیوں کا صفایا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

فرانس چاہتا ہے کہ مالی میں جہادیوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں ہلاک کردیا جائے تاکہ وہ حکومت کے لیے کوئی بڑا اور حقیقی خطرہ نہ بن سکیں۔ فرانسیسیوں کا خیال ہے کہ جہادیوں نے چونکہ مالی کے دیہی علاقوں میں لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے اس لیے ممکن ہے کہ بہت سے شہری ان سے انتقام لینے کے معاملے میں فرانس کے فوجیوں سے مدد لیں۔ اکنامک کمیونٹی آف ویسٹ افریقن اسٹیٹس (Ecowas) لڑائی رکوانے میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکی تھی مگر اب اس کے ۱۴؍ارکان اور چاڈ (جس کی فوج کو فرانس منظم قوت کے طور پر تسلیم کرتا ہے) مل کر مالی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ حالات قابو میں آئیں اور خطہ متاثر نہ ہو۔ ٹولوگو اور نائیجیریا کے کچھ فوجی باماکو پہنچ بھی چکے ہیں۔ ایکو واس نے مالی میں پانچ ہزار فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ فرانسیسی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ مالی اور نائیجر میں افریقی ممالک کے ۱۶۰۰ ؍فوجی موجود ہیں۔ مغربی قوتیں فنڈنگ، لاجسٹک اور ٹرانسپورٹیشن کے ذریعے اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔ فرانس نے ایتھوپیا کی افریقین یونین کانفرنس میں کہا ہے کہ مالی کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جانی چاہیے۔ غیر ملکی فوج کے لیے فوری طور پر ۴۵ کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے۔

یورپی یونین نے ۵۰۰؍ارکان پر مشتمل ایک تربیتی گروپ فروری میں مالی بھیجنے کا اعلان کیا ہے مگر نیٹو اور یورپی یونین کی طرف سے اب تک مالی کے لیے کوئی کومبیٹ گروپ بھیجنے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ فرانس، جرمنی اور پولینڈ کے فوجیوں پر مشتمل ایک ریپڈ ایکشن فورس یورپی یونین کے پاس ہے جس کے ۱۵۰۰؍ ارکان ہیں۔ فرانس نے اپنے طیاروں کی حفاظت کے لیے امریکا سے تین ٹینک مانگے ہیں، جو اب تک فراہم نہیں کیے گئے۔ امریکیوں نے سی۔۱۷؍ طیارے کی خدمات کا معاوضہ طلب کرکے معاملات کو مزید الجھا دیا ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ لارینٹ فبیس کا کہنا ہے کہ مالی میں فرانسیسی فوج کی کارروائی چند ہفتوں کا معاملہ ہے مگر ایسا لگتا نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ مالی میں حقیقی استحکام پیدا کرنے میں مزید کچھ وقت لگ جائے۔

(“The French Action in Mali”… “The Economist”. Jan. 26th, 2013)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*