جنرل سونتھی بون یاراتگلن

تھائی لینڈ میں ایسے سفاک جنرلوں کی کمی نہیں رہی ہے جو ہوسِ حکمرانی سے مالا مال ہوں۔ ۱۹۳۲ء میں جب فوجی افسروں اور سیاستدانوں کے ایک گروہ نے آخری مطلق العنان بادشاہ کا تختہ الٹ دیا‘ اُس وقت سے اب تک یہ شاہی سلطنت تقریباً ۱۸ بغاوتوں سے دوچار ہو چکی ہے۔ اس کے بعد بھی بینکاک کے گورنمنٹ ہاؤس میں جس آدمی کے ٹینک گھس گئے‘ وہ جنرل سونتھی بون یاراتگلن (General Sonthi Boonyaratglin) ہیں جو روائل تھائی آرمی کے Commander In-chief ہیں اور جنہوں نے کبھی بھی اپنے اس طرح کے عزائم کو خفیہ نہیں رکھا ہے۔ بینکاک کے انسٹی ٹیوٹ آف سیکورٹی اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سے تعلق رکھنے والے Panitan Wattanayagorn کا کہنا ہے کہ ’’وہ ایسے آدمی نہیں ہیں جو سیاسی اقتدار کی ہوس میں مبتلا ہوں‘‘۔ بہت ہی نرم گفتار اور ٹھنڈے مزاج کے حامل ۵۹ سالہ جنرل سونتھی کردار کے حوالے سے اپنی ایک ساکھ رکھتے ہیں اور ایک ایسے باغی جنرل ہیں جو بہت کم کھلتے ہیں۔ لیکن ممکن ہے اقدام کرنے پر انہوں نے اپنے آپ کو مجبور پایا ہو۔ بعض دعووں کے مطابق Thaksin Shinawatra کے متوالے پیروکار مبینہ طور سے بنکاک میں کسی پُرتشدد واقعہ کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ شیناوترا کو ہنگامی حالات کے اعلان‘ آرمی پر براہِ راست کنٹرول اور اپنے حکمنامہ کے ذریعہ حکومت کرنے کا جواز ہاتھ آسکے۔ فوجی بغاوت کر کے سونتھی نے وزیراعظم کو گھونسے مار کر چت کر دیا ہے۔ بعض دیگر کا کہنا ہے کہ فوجی بغاوت تھاسکین کی جانب سے فوجی مناصب میں رد و بدل کلے اُس منصوبے کو ناکام بنانے کی پیشگی کارروائی ہے جس کا مقصد وزیراعظم کی گرفت کو اقتدار پر مضبوط بنانا تھا اور سونتھی اور اس کے اتحادیوں کو کمزور کرنا تھا۔ کوئی بھی وجہ ہو بقول Kasit Piromya جو ایک سابق سفارت کار ہیں اور جنہوں نے کبھی تھاسکین کے پالیسی پیپرز لکھنے میں مدد کی تھی کہ میرے خیال میں سونتھی نے یہ کام بادل ناخواستہ کیا جبکہ حقیقتاً کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا‘‘۔ بعض پہلوؤں سے یہ حیرت انگیز ہے کہ سونتھی کبھی فوج کے سربراہ بھی ہو سکتے تھے۔ بنکاک کے قریب پیدا ہونے والے سونتھی اس بدھ اکثریت ملک میں پہلے مسلمان ہیں‘ جنہیں یہ منصب حاصل ہوا ہے۔ سونتھی تھائی لینڈ کے پہلے اسلامی روحانی پیشوا کی نسل سے ہیں اور ان کی والدہ شاہی دربار میں کنیز تھیں۔ ۱۹۶۹ء میں Chulachomklao روائل ملٹری اکیڈمی سے گریجویٹس کرنے کے بعد سونتھی نے امریکا میں فوجی تربیت حاصل کی‘ تھائی فوج کے ساتھ ویتنام جنگ میں خدمات انجام دیں۔ بغاوت کو کچلنے میں انہوں نے مہارت حاصل کی اور تھائی لینڈ کے اسپیشل فورسز کے سربراہ ہوئے۔ شاہی محل اور تھاسکین کے بیچ ہونے والی ایک صلح کے تحت ۲۰۰۵ء میں ان کو آرمی چیف بنا دیا گیا۔ واضح رہے کہ تھاسکین نے اپنے وفاداروں کو بنکاک کے اطراف میں کلیدی یونٹوں کو کمانڈ کرنے کے لیے تعینات کیا تھا۔ سونتھی نے جب ان وفاداروں کو دور دراز کے علاقوں میں جولائی میں فائز کر دیا تو تھاسکین اور فوج کے مابین کشیدگی پیدا ہوئی۔ حالیہ ہفتوں میں وہ مستقل یہ شکایت کر رہے تھے کہ تھاسکین کے دوستوں کو ترقی دینے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ جنوب میں مسلم بغاوت کو ختم کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کے پیشِ نظر سونتھی نے علیحدگی پسند رہنماؤں سے مذاکرات کی تجویز پیش کی۔ تھاسکین نے ان کے مشورے کو نظرانداز کر دیا اور تشدد کا سلسلہ جاری رہا۔ سابق وزیراعظم تو اسی وقت سونتھی پر اپنا اعتماد کھو بیٹھے تھے‘ جب آرمی چیف نے گذشتہ مارچ میں ہونے والے تھاسکین مخالف مظاہروں کو کچلنے سے انکار کر دیا تھا۔ بنکاک میں مامور اس وقت ایک مغربی سفارت کار نے کہا تھا کہ ’’سونتھی نہیں چاہتے ہیں کہ فوج کا کوئی حصہ سیاست میں ملوث ہو‘‘۔ بہرحال اب وہ اپنے آپ کو تھائی سیاست کے نقطۂ عروج پر پاتے ہیں۔ کوئی یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ سونتھی معاملات کو کس طرح حل کریں گے۔ بنکاک میں موجود حقوقِ انسانی کے ایک وکیل Somchai Homlaor کا کہنا ہے کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ سونتھی سیدھے اور صاف گو آدمی ہیں لیکن اقتدار لوگوں کو بدل دیتا ہے‘‘۔ تھائی عوام یہ دعا کر رہے ہوں گے کہ یہ سونتھی کو نہ بدلے۔

(بشکریہ: ’’ٹائم‘‘ میگزین۔ ۲ اکتوبر ۲۰۰۶ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*