پروفیسر غلام اعظم کا بنگلا دیش کی جیل سے پیغام

۱۱جنوری ۲۰۱۲ء کو ’انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل‘ ڈھاکا نے پروفیسر غلام اعظم کی ضمانت کی درخواست خارج کردی اور انہیں گرفتار کر کے جیل بھجوادیا۔ ٹریبونل کے سامنے پیش ہونے سے پہلے انھوں نے قوم کے نام اپناایک تحریری پیغام، اپنے معاونِ خصوصی جناب نجم الحق کے سپردکرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے گرفتار کرلیا جائے تو میرا یہ پیغام پریس کے ذریعے قوم تک پہنچا دیاجائے۔(ترجمہ: ایس اے جہاں/ ابن حیدر)


۲۰۰۹ء میں بنگلا دیش میں جو حکومت برسراقتدار آئی ہے، وہ خوفِ خدا رکھنے والے اہلِ ایمان کے سخت خلاف ہے۔ اسی لیے وہ بنگلا دیش میں اسلامی جماعتوں کو کالعدم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اس گھناؤنے مقصد کے حصول کے لیے ۱۹۷۳ء میں طے پا نے والے معاملات کوپھر زندہ کیاجارہا ہے۔ جماعت اسلامی کے سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ نام نہاد ’انٹرنیشنل ٹریبونل ‘کے ذریعے،ایک خودساختہ’ جنگل کے قانون ‘کے تحت انھیں کڑی سزا ئیں دینے کی سازش کی جارہی ہے۔ اسی قانون کے تحت ایک تفتیشی ادارہ بنایا گیا، جس نے میرے خلاف بھی ۶۲؍الزامات تیار کیے ہیں۔ مجھے اندازہ ہے کہ جیل بھیجنے کے بعد میرے خلاف یک طرفہ جھوٹے پروپیگنڈا کا طومار باندھا جائے گا، جب اپنی بات عوام تک پہنچانے کا کوئی ذریعہ میرے پاس نہیں رہے گا۔ اس لیے میں نے پیغام لکھ دیا ہے تا کہ گرفتار ہونے سے پہلے میں اپنا موقف اپنے ہم وطنوں کے سامنے پیش کردوں۔ حال ہی میں یہاں کے کئی ٹیلی ویژن چینلوں نے میرا انٹرویو نشر کیا ہے، لیکن میں اس کے علاوہ بھی کچھ کہنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔

نومبر ۲۰۱۱ء میں،مَیں ۸۹ سال کی عمر کو پہنچ گیا تھا اور اب میں ۹۰ سال کے پیٹے میں ہوں۔ بڑھاپا سو بیماریوں کو ساتھ لاتا ہے اور میرے دائیں پاؤں اور بائیں گھٹنے میں مسلسل تکلیف رہتی ہے۔ اس مرض پر قابو پانے کے لیے مجھے دن میں دو مرتبہ ورزش کرنا پڑتی ہے، جس کے لیے میں کسی دوسرے فرد کا سہارا لینے پر مجبور ہوتاہوں۔ میں اکیلا چل پھر بھی نہیں سکتا لہٰذا میں دائیں ہاتھ میں بیساکھی کا سہارالے کر اور اپنا بایاں ہاتھ کسی کے کندھے پر رکھ کر نماز کے لیے مسجد جاتاہوں۔اس حالت میں غیر ضروری طور پر کہیں آجا بھی نہیں سکتا۔ پھربلڈ پریشر اور دیگر متعدد بیماریوں کے حوالے سے مجھے روزانہ کئی بار باقاعدگی سے دوائیاں لینی پڑتی ہیں۔ اس حال میں بھی حکومت مجھے جیل بھیج رہی ہے۔ میں اس سے پہلے چار بار جیل جاچکا ہوں۔ مجھے جیل یا موت سے کوئی خوف نہیں۔ الحمدللہ میں اللہ تعالیٰ کے سواکسی سے ڈرتا نہیں۔ میں شہید ہونے کی تمنّا لے کر ہی اسلامی تحریک میں شامل ہوا تھا۔اب اگر اس جھوٹے مقدمے میں مجھے پھانسی پر بھی لٹکا دیا گیا تو مجھے شہادت کا درجہ ملے گا، جو یقیناً میرے لیے خوش قسمتی کا باعث ہوگا۔ اس عمر رسیدگی اور بیماریوں کی بھرمار کے ساتھ، جیل میں میرا و قت کس طرح گزرے گا، اس کو میں اپنے اللہ پر چھوڑتا ہوں۔ آپ لوگوں کو یاد ہوگاکہ ۱۱ برس پہلے یعنی ۲۰۰۰ء میں رضاکارانہ طور پر جماعت اسلامی کے امیر کی ذمہ داری سے ازخود فراغت لینے کے بعد میں نے کبھی کوئی سیاسی بیان نہیں دیا۔ لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے میرے خلاف میڈیا میں جو جھوٹا،بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، میں سمجھتاہوں کہ اس سلسلے میں سچائی کو سامنے لانے کے لیے مجھے کچھ کہنا چاہیے۔

میں پیدائشی لحاظ سے اس ملک کا باشندہ ہوں۔ ۱۹۲۲ء میں، لکشمی بازار ڈھاکا میں اپنے ننھیال میں پیدا ہوا۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان بھی ڈھاکا ہی کے تعلیمی اداروں سے پاس کیا اور پھر ڈھاکا یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے (سیاسیات) مکمل کیا اور طلبہ سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ ۱۹۴۷ء اور ۱۹۴۹ء میں لگاتار دوبار میں ڈھاکا یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ یونین کا جنرل سیکرٹری منتخب ہوا۔ میں فضل الحق مسلم ہال کی اسٹوڈنٹس یونین کا سیکرٹری جنرل بھی رہا۔ نومبر ۱۹۴۸ء میں بنگلا زبان کو بھی پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دلانے کا میمورنڈم، میں نے خود اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نواب زادہ لیاقت علی خاں کو پیش کیا تھا۔ اسی تحریک کی قیادت کرنے کی وجہ سے ۱۹۵۲ء اور ۱۹۵۵ء میں دو دفعہ گرفتار ہوا اور جیل کاٹی۔ میں نے ۱۹۵۴ء میں، جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اوریوں میری سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

سیاسی جدوجہد: متحدہ پاکستان میں ۱۹۵۵ء سے ۱۹۷۱ء تک، میں نے تمام جمہوری تحریکوں میں حصہ لیا۔ سی او پی (کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز)،پی ڈی ایم (پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ)، ڈی اے سی (ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی) کی سرگرمیوں میں میرا بڑا مؤثر کردار رہا۔ شیخ مجیب الرحمن اوردیگرسیاسی لیڈرشپ کے شانہ بشانہ میں نے جمہوریت کے لیے کام کیا۔ ۱۹۶۴ء میں حکومت سے سیاسی اختلاف کے باعث میں گرفتار ہو گیا۔ ۱۹۷۰ میں جب عوامی لیگ نے عام انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کی تو میں نے شیخ مجیب الرحمن اوراس کی پارٹی کو مبارک باد کا پیغام بھیجا اور ساتھ ہی ساتھ صدر پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اقتدار بلاتاخیر کامیاب پارٹی کو منتقل کیا جائے۔ اس کے بعد مارچ ۱۹۷۱ء میں افراتفری کا ایک عالم برپا ہو گیا۔ صدر پاکستان کے ساتھ شیخ مجیب الرحمن کے سیاسی مذاکرات ہوئے۔ اس وقت شیخ مجیب الرحمن کے بہت قریبی ساتھی اور ان کی پارٹی کے مرکزی لیڈر سید نذر الاسلام اور عبدالصمد آزاد کے ساتھ میرا مسلسل رابطہ رہا۔ دونوں نے مجھے یہ بتایا کہ صدر پاکستان کے ساتھ ہمارے مذاکرات ہورہے ہیں، لہٰذا پاکستان ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہیں۔ عبدالصمد آزاد سے ۲۵ مارچ کو بھی ٹیلی فون پر میری گفتگو ہوئی اور انھوں نے مجھے تسلی دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے اتحاد اور خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ لیکن اسی رات ڈھاکا میں ہونے والے فوجی آپریشن سے واضح ہو گیا کہ یحییٰ مجیب مذاکرات مکمل طور پر ناکام رہے تھے۔ فوجی آپریشن کے نتیجے میں عوامی لیگ کے پارلیمان ممبران اورپارٹی لیڈروں کی بڑی تعداد نے بھارت میں جاکرپناہ لے لی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ شیخ مجیب الرحمن نے بھارت جانے کی کوشش تک نہیں کی اور رضاکارانہ طور پر خود کو پاکستانی فوج کے سامنے پیش کردیا۔ اگروہ چاہتے توبآسانی بھارت جاسکتے تھے لیکن وہ نہیں گئے۔کیوں نہیں گئے؟ آج تک اس کی کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ لیکن یہ ضرورمعلوم ہواکہ عوامی لیگ کے جوذمہ دار بھارت چلے گئے تھے، وہ اس کی مددسے مشرقی پاکستان کو، پاکستان سے کاٹ کر، ایک الگ ملک بنانا چاہتے تھے۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے عوامی لیگ کے ارکان اسمبلی بھارت چلے گئے تو اس وجہ سے ملک میں ایک خلا پیدا ہوگیا۔ اس سے عوام میں مایوسی اور بے بسی کی فضا تھی اوروہ اپنے مسائل لے کر ہمارے پاس آنا شروع ہوگئے۔

۱۹۴۷ء سے ۱۹۷۰ء تک ہندوستان نے ہمارے ساتھ جو توسیع پسندانہ رویّہ روا رکھا، اس سے ہمیں یہ پورا یقین ہو گیا تھا کہ اگر مشرقی پاکستان، بھارت کی مدد سے بنگلا دیش بنتاہے تو اس کی حیثیت بھارت کی ایک طفیلی ریاست سے زیادہ نہ ہوگی۔ اس خدشے کے تحت بائیں بازو کے کچھ لوگ، دائیں بازو کی تمام جماعتیں اور شخصیات، علیحدگی کی اس تحریک میں شامل نہیں ہوئیں۔ اگر یہاں بھارت کی مداخلت نہ ہوتی توشاید ہمیں اس تحریک میں شریک ہونے پر کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ اس وقت مشرقی پاکستان میں جو بھارت مخالف جماعتیں تھیں، ان سب نے مل کر نور الامین کی رہائش گاہ پر حالات کے جائزے کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا۔ طویل تبادلۂ خیالات کے بعد طے پایا کہ جنرل ٹکا خان کے ساتھ ملاقات کرکے فوجی کارروائیوں کو رکوایا جائے تاکہ بے سہارا اور مظلوم لوگوں کی دادرسی ہو سکے۔ اس مشاورت کی روشنی میں ہم سات آٹھ افراد کا ایک وفد لے کر جنرل ٹکاخان سے ملے۔ اس وفد میں، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) کے نورالامین، جماعت اسلامی کی طرف سے راقم، نظام اسلام پارٹی کے مولوی فرید احمد، مسلم لیگ کی طرف سے خواجہ خیرالدین اور کسان مزدور عوامی پارٹی (KSP) کی طرف سے ایس ایم سلیمان شامل تھے۔ آج اسی میٹنگ کی تصویر کو عوامی لیگ میرے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کررہی ہے جو اس وقت پریس کو جاری کی گئی تھی۔ ان کاکہنا ہے کہ تصویر بھی بولتی ہے ؟اگر ایسا ہی ہے تو پھرخودشیخ مجیب کے ساتھ مولانا مودودیؒ اور میری جو میٹنگ ہوئی تھی، اس کی تصویر بھی تو موجودہے۔ ہماری اس میٹنگ میں شیخ مجیب کے ساتھ کیا گفتگو ہوئی ؟وہ شاید ان لوگوں کو معلوم بھی نہ ہو۔ جنرل ٹکا خان کے ساتھ ہماری تصویر کو ہتھیار بنا کرہمارے خلاف جو ایک جھوٹا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، اس میں دراصل کوئی جان نہیں ہے۔ ہم نے اس وقت عوامی جذبات کی بالکل صحیح نمائندگی کی تھی۔

۱۹۷۱ء میں جن سیاسی لیڈروں نے اپنے اصولی موقف کی بنا پر، بھارت میں پناہ نہیں لی، انھوں نے اس مشکل گھڑی میں مشرقی پاکستان ہی میں رہ کر اپنے آپ کو عوام کی خدمت میں کھپا دیا۔ عوام کے منتخب نمائندے جب عوام کو بے یارو مدد گارچھوڑ کر بھارت چلے گئے تو ہم لوگ ہی عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے رہے۔ میں نے ۱۴؍اگست ۱۹۷۱ء کو ڈھاکا یونیورسٹی کے کارجن ہال میں منعقدہ ایک میٹنگ میں فوجی آپریشن پر سخت تنقید کی اور فوری طور پر اس کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ اس طرح ’ڈھاکا بیت المکرم مسجد کے سامنے بھی ایک جلسے میں اس بات کو دہرایا تھا، لیکن میری یہ بات پریس میں چھپنے نہیں دی گئی، کیونکہ اس وقت اس طرح کی خبروں پر پابندی لگی ہوئی تھی۔

جنگی جرائم کی حقیقت: ان جنگی جرائم کا جو مسئلہ اس وقت اٹھایا جا رہا ہے، اسے خود شیخ مجیب الرحمن نے حل کر دیا تھا۔ شیخ مجیب حکومت نے کڑی تفتیش کے بعد پاکستانی فوج کے ۱۹۵؍افسروں اور دیگر فوجی عہدے داروں کو جنگی مجرم قرار دیا تھا۔ ان لوگوں پر مقدمہ چلانے کے لیے ۱۹؍جولائی ۱۹۷۳ء کو پارلیمنٹ میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل ایکٹ پاس کروایا گیا۔ لیکن ۹؍اپریل ۱۹۷۴ء کو دہلی میں بنگلا دیش، بھارت اور پاکستان کے وزراے خارجہ کے سہ فریقی مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں ان ۱۹۵؍مجرم قرار دیے جانے والے افراد کو معاف کردیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ شیخ مجیب نے کبھی بھی کسی سویلین کو جنگی مجرم قرار نہیں دیا۔ جو لوگ بنگلا دیش بنانے کی مہم میں شامل نہ تھے، بلکہ اس کے مخالف تھے اور پاکستانی فوج کے ساتھ تھے، مجیب حکومت نے ان لوگوں کو تعاون کرنے والا Collaborator یعنی تعاون کرنے والا قرار دیا تھا۔ یہاں میں اس بات کا ذکرکرنا ضروری سمجھتاہوں کہ ۱۹۷۱ء میں پاکستان آرمی نے اپنی مدد کے لیے مقامی لوگوں پر مشتمل کئی تنظیمیں تشکیل دیں، ان عسکری تنظیموں میں البدر، الشمس اور رضاکار کے نام شامل ہیں۔ ان کی تشکیل رضاکارانہ اور اس وقت کی حکومت کی رضامندی سے ہوئی تھی۔ ان تنظیموں کے افراد کو بھی شیخ مجیب حکومت نے Collaborator قرار دیا اور ان پر مقدمہ چلانے کے لیے ۲۴ جنوری ۱۹۷۲ء کو Collaborator’s Order جاری کیا گیا۔ جس کے تحت ایک لاکھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے ۴۷۱,۳۷؍ افراد پر الزامات عائد کیے گئے۔ لیکن ان میں سے بھی ۶۲۳,۳۴ کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مقدمہ دائر کرنا ممکن نہ ہوسکا۔ آخرکار صرف ۸۴۸,۲؍افراد کے خلاف مقدمات بنے اور عدالت نے ان میں سے ۷۵۲ کے خلاف جرم ثابت ہونے پر، مختلف سزاؤں کے فیصلے دیے، جب کہ ۰۹۶,۲؍افراد کو باعزت طور پر بری کردیا گیا۔ بعدازاں نومبر ۱۹۷۳ء میں حکومت کی طرف سے عام معافی کا اعلان کر دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں مذکورہ بالا مختلف سزا یافتہ بھی رہا ہوگئے۔ لیکن وہ لوگ جو قتل، عصمت دری، لوٹ مار اور آگ لگانے جیسے جرائم میں سزا یافتہ تھے، ان کو عام معافی کا فائدہ نہ دیا گیا۔ پھراس عام معافی کو بھی دوسال گزرنے کے باوجود ان میں سے بھی کسی پر مقدمہ قائم نہ ہوا تھااوراس طرح عام معافی کا یہ استثنا بھی خود بخود ختم ہوگیا۔

اس وقت جن لوگوں کے خلاف کسی قسم کے جرم کے الزامات بھی نہیں لگائے گئے تھے اور وہ گرفتار بھی نہیں کیے گئے تھے، حکومت آج ۴۰برس گزرنے کے بعد ان بے گناہ لوگوں کو جنگی مجرم ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔

جماعت اسلامی ہی ہدف کیوں؟ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ۱۹۸۰ء کے عشرے میں جمہوریت کی بحالی کے لیے جنرل حسین محمد ارشاد کی حکومت کے خلاف، جماعت اسلامی اور عوامی لیگ نے مل کر جدوجہد کی۔ اس کے بعد ۱۹۹۴ء سے ۱۹۹۶ء تک خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی کی حکومت کے خلاف جماعت اسلامی نے عوامی لیگ کے ساتھ مل کر عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے جدوجہد کی جس کا مقصد بنگلا دیش میں شفاف انتخابات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اس وقت جماعت اسلامی اور عوامی لیگ کی اس جدوجہد میں چھوٹی بڑی دیگر پارٹیاں بھی شامل تھیں۔ ان تمام جماعتوں کے سربراہان پر مشتمل ایک مشاورتی کمیٹی بنائی گئی تھی، جو اس پوری تحریک کے پروگرامات کا شیڈول طے کرتی تھی۔ جماعت اسلامی اور عوامی لیگ کی قیادت اکٹھے بیٹھ کر اجلاس کرتی تھیں۔ اس دوران کبھی کسی نے نہیں کہا کہ ہمارے درمیان کوئی جنگی مجرم بھی بیٹھے ہیں۔ فروری ۱۹۹۱ء میں بنگلا دیش میں جو عام انتخابات ہوئے تھے، ان میں بی این پی اور عوامی لیگ میں سے کسی کو بھی اتنی سیٹیں نہیں ملی تھیں کہ وہ تنہا اپنے بل بوتے پر حکومت تشکیل دے لیں۔ عوامی لیگ کی قیادت حکومت قائم کرنے کی غرض سے جماعت اسلامی کے ووٹوں کی بھیک مانگنے ہمارے پاس آئی تھی۔ عوامی لیگ کے ایک سینئر مرکزی رہنما امیرحسین عامو نے جماعت اسلامی کے سیکرٹر ی جنرل علی احسن مجاہد کو پیغام دیا کہ ہم لوگ پروفیسر غلام اعظم کو وزیر بنانے کے لیے تیار ہیں۔ کیا اس وقت عوامی لیگ کی نظر میں ہم جنگی مجرم نہیں تھے؟ اس کے بعد عوامی لیگ کی طرف سے بنگلا دیش کی صدارت کے امیدوار جسٹس بدرالحیدر چودھری، جماعت اسلامی کا تعاون حاصل کرنے کے لیے میرے پاس آئے تھے۔ اس وقت بھی کسی نے نہیں کہاکہ یہ لوگ ہمیں جنگی مجرم سمجھتے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اب ایسا کون سا واقعہ ہوگیا کہ ہم راتوں رات جنگی مجرم بن گئے۔

اکتوبر ۲۰۰۱ء میں ملک کے آٹھویں عام انتخابات منعقد ہوئے۔ ۳۰۰کی پارلیمنٹ میں عوامی لیگ کو ۵۸؍اور بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کو ۱۹۷ سیٹیں ملیں۔ بی این پی کی اس کامیابی کا راز جماعت اسلامی اور دوسری دو چھوٹی پارٹیوں کا اس سے اتحاد تھا۔ اس اتحاد کی وجہ سے بی این پی کو ۲۰فیصد زیادہ ووٹ ملے۔ اس الیکشن کے نتائج دیکھ کر عوامی لیگ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر جماعت اسلامی کو ختم نہ کیا گیا تو مستقبل میں ان کے لیے اقتدار تک پہنچنا ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔ عوامی لیگ نے جماعت اسلامی کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات لگانا اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنا شروع کردیا۔ بنگلا دیش بننے کے بعد جن لوگوں پر محض پاکستان کا ساتھ دینے کا الزام تھا، اب وہی لوگ جنگی مجرم قرار دیے جانے لگے۔ ۲۰۰۱ء سے پہلے عوامی لیگ نے کبھی بھی جماعت اسلامی کے لوگوں کو جنگی مجرم نہیں کہا لیکن ۱۹۷۳ء میں پاکستان کے فوجی افسروں اور دیگر فوجی عہدے داروں کے خلاف ٹرائل کرنے کے لیے جو قانون بنایا گیا تھا، اب اسی کو جماعت اسلامی کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ عوامی لیگ ۱۹۷۱ء اور ۱۹۹۶ء میں دو دفعہ برسراقتدار آئی، اس دوران بھی عوامی لیگ نے جماعت اسلامی کی قیادت کو نہ تو جنگی مجرم قرار دیا اور نہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ ہی بنایا۔ عوامی لیگ کے اس اقتدار کا دورانیہ ساڑھے آٹھ سال بنتا ہے۔ اس طویل دورانیے کے اقتدار میں بھی جماعت اسلامی کے خلاف جنگی جرائم کا الزام کیوں نہ لگایا گیا؟ کیا عوامی لیگ کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟

حکومت کے ناپاک عزائم: حکومت نے اب جو قدم اٹھایا ہے اس کے پیچھے کوئی نیک مقاصد نہیں بلکہ ناپاک سیاسی مقاصد ہیں۔ عوامی لیگ چاہتی ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت کو ختم کرکے ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ آئندہ الیکشن میں جماعت اسلامی کوئی مؤثر کردار ادا نہ کرسکے اور عوامی لیگ کو ۲۰۰۱ء کی طرح شرمناک شکست کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

بغاوت کے اس مقدمے کو جس کالے قانون کے تحت آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے، انٹرنیشنل لائرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس میں ۱۷؍کمزوریاں پائی گئی ہیں۔ ’سونار گاؤں ہوٹل ڈھاکا‘ میں وکلا کی اس تنظیم کی جوکانفرنس ہوئی ہے، اس میں بزرگ قانون دان جسٹس ٹی ایچ خان نے کہا تھا: ’’ یہ قانون سراسر جنگل کا قانون ہے۔ جس طرح کسی جانور کو باندھ کر ذبح کیا جاتا ہے، اس قانون کے تحت ملزمان کے ساتھ یہی سلوک کیا جائے گا۔ انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے نام کے ساتھ ’انٹرنیشنل‘ کا لفظ ہی ایک کھلا مذاق ہے کیونکہ اس کا کسی انٹرنیشنل معیار کے ساتھ دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے‘‘۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی وزیراعظم شیخ حسینہ کو خط لکھ کر متوجہ کیا ہے کہ اس قانون میں ترمیم کرکے اس کو حقیقی طور پر انٹرنیشنل معیار پر لایا جائے، لیکن شیخ حسینہ حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ کیونکہ اگر اس ٹریبونل کے قوانین کو انٹرنیشنل معیار کے مطابق بنایا جائے تو جماعت اسلامی کے کسی لیڈر کو کوئی سز ا نہیں دی جاسکے گی، کوئی جرم ثابت ہی نہیں کیا جا سکے گا اور جماعت کے ذمہ داران میں سے کوئی مجرم ہی قرار نہیں پائے گا۔

۱۳؍اکتوبر۲۰۱۰ء ’سونارگاؤں ہوٹل ڈھاکا‘ میں بنگلا دیش سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن نے بھی ایک سیمینار کا اہتمام کیا تھا۔ اس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے، برطانیہ کے مشہور قانون دان اسٹیفن نے، جو انٹرنیشنل کرائمز کورٹ یوگوسلاویہ اور روانڈا کے وکیل بھی رہے ہیں، کہا تھا کہ جس قانون کے تحت یہ مقدمہ چلایا جارہا ہے، وہ بنگلا دیش کے دستور اور انٹرنیشنل قانون کے سراسر خلاف ہے، لہٰذا انٹرنیشنل کمیونٹی اس کو غیر جانب دارانہ تسلیم نہیں کرے گی۔ انھوں نے مزید کہاکہ جنگی جرائم کے مقدمے کو انٹرنیشنل معیار کے مطابق کرنے کے لیے شفاف دلائل درکار ہوں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس مقدمے کے ججوں کے تقرر میں فریقین کی رضامندی شامل ہونا لازمی ہے اوران ججوں کا عالمی معیار کا ہونا بھی ضروری ہے۔ انھوں نے کہاکہ انٹرنیشنل قانون میں اس بات کو بالکل واضح کیاگیاہے کہ کسی شخص کو ایسے جرم کی سزا نہیں دی جاسکتی کہ جس کی نشان دہی قانون کے مطابق اس وقت نہ کی گئی ہو،جب کہ یہ جرم سرزد ہوا تھا۔

مکارانہ ٹرائل: اس کیس کی مدعی موجودہ حکومت ہے۔ ملزمان کے خلاف تفتیش کے لیے جو ادارہ بنایا گیاہے، وہ بھی سرکاری پارٹی کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس ٹریبونل کے لیے حکومت نے اپنے من پسند ججوں کا تقرر کیا ہے۔ ایک طرف کمزور اور جانبدار کالا قانون ہے اور دوسری طرف اپنے ہی لوگوں کے ذریعے تحقیقات اور پھر من پسند ججوں کا تقرر۔ ان حالات میں اگر کوئی یہ کہے کہ انصاف ہوگا یا انصاف کیا جائے گا تو اس سے بڑی حماقت اور دھوکا اور کوئی نہیں ہوگا۔ عملاً جو ہو رہاہے، وہ یہ ہے کہ تفتیشی ٹیم اپنی پسند کے لوگوں کو اکٹھا کرکے،انھیں جھوٹی گواہی دینے کی مشق کرارہی ہے۔ واقفانِ حال اور غیر جانبدار گواہوں کو تویہ ٹیم پوچھتی بھی نہیں، بلکہ پولیس کے ذریعے ان کو ہراساں کرکے بھگانے کے لیے کوشاں رہتی ہے۔ یہ سب واقعات اخبارات میں بھی چھپ چکے ہیں۔ اس طرح ٹریبونل کی یہ کارروائی پہلے دن سے عوام کے نزدیک ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ حکومت کسی غیر جانبدارانہ انکوائری کے حق میں نہیں ہے۔ حکومت نے جو فیصلہ کرناہے، وہ ہوچکا ہے۔ بس اس کو لاگو کرنے کے لیے یہ سب ڈرامہ کیا جارہا ہے، لہٰذا ان مقدمات کا کیا فیصلہ ہوگا اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔

میرے خلاف تفتیشی عمل: تفتیشی ٹیم نے کچھ دن پہلے میرے خلاف ایک چارج شیٹ تیار کرکے ٹریبونل میں پیش کی۔ اس میں ایک الزام یہ ہے کہ میں نے ’باہمن بریا‘ میں قتل عام کا حکم دیاتھا۔ حالانکہ میں ۱۹۷۱ء میں کبھی ’براہمن بریا‘ گیا ہی نہیں۔ ایک دوسرا الزام یہ ہے کہ فوجی حکومت، رضاکار اور امن کمیٹی میری تجویز پر بنائی گئی تھیں۔ اسی طرح میرے خلاف ایک الزام یہ بھی ہے کہ میں نے بنگلا دیش بننے کے بعد ’بحالی مشرقی پاکستان کمیٹی‘ بنائی تھی۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب باتیں کس دلیل کی بنیاد پر کی جارہی ہیں؟ ان تمام الزامات سے میرے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا، یہ محض تہمت ہیں۔ سراسر جھوٹ، بے بنیاد، خودساختہ، خیالی اور تصوراتی باتیں ہیں۔ ان کے پیچھے وہ لوگ ہیں جو سیاسی طور پر میرا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے۔اب وہی لوگ اپنا گھناؤنا مقصد پورا کرنے کے لیے یہ سب کچھ کررہے ہیں۔ میں بار بار اور پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ دو ٹوک الفاظ میں کہتاہوں کہ یہ سب الزامات جھوٹے ہیں۔ اگر غیر جانب دارانہ ٹرائل ہو تو یہ سب الزامات ہوا میں اْڑ جائیں گے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں اپنی پوری زندگی میں جان بوجھ کر کبھی کسی غلط کام میں مبتلا نہیں ہوا، نہ میں نے کبھی ایسا سوچا۔ مرحوم شیخ مجیب الرحمن سمیت اس زمانے کے جو سیاسی قائدین میرے ہم عصرتھے، وہ میرے کردار کے شاہد ہیں۔ آج جو لوگ میرے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، وہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بول رہے ہیں۔ اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف لوگ بھی میرے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ لہٰذا اس ٹریبونل سے انصاف کی کوئی امید نہیں ہے۔

بنگلا دیش میں بھارتی کردار: بنگلا دیش بنانے میں، بھارت نے جو کردار اداکیا، اس میں بھارت کے نقطۂ نظر سے بھارتی فوج کے کردار کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ بھارت خود بھی اس بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتاہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ بنگلا دیش کی آزادی کا حصول بھارت کا مرہونِ منت ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کا کہناہے کہ ۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء کو پاکستانی فوج نے بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے، بنگالیوں کے سامنے نہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ خود ’بنگلا دیش فریڈم فائٹرز‘ کی اعلیٰ قیادت جنرل عثمانی کو بھی ہتھیار ڈالنے کی تقریب میں آنے سے روک دیا گیا۔ اسے وہاں پہنچنے ہی نہیں دیا گیا۔ تقریباً ایک لاکھ جنگی قیدیوں کو بنگلا دیش میں رکھنے کے بجاے بھارت میں لے جا کر رکھاگیااور پاکستانی فوج کا اسلحہ اور دیگر جنگی سازو سامان انڈین آرمی لوٹ کر لے گئی۔ حالانکہ یہ سب کچھ پاکستان اوربعد ازاں بنگلا دیش کا اثاثہ تھا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بھارت نے پورے ملک میں لوٹ مار کی۔ بنگلا دیش ریلوے کا سامان لوٹ کر اسے کھوکھلا کردیا۔ یہاں تک کہ ڈھاکا یونیورسٹی کے ہالوں کا سامان تک بھارت نے لوٹ لیا۔ اصل میں بھارت ۱۹۷۱ء کی جنگ میں، بنگلا دیش کی آزادی کے لیے نہیں کودا تھا، بلکہ مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان کو الگ کرکے، اپنے سب سے بڑے دشمن پاکستان کو کمزور اور بنگلا دیش کو اپنا غلام بنانے کے لیے لپکا تھا۔ گزشتہ ۶۵سال کا بھارتی رویّہ اس حقیقت کا ثبوت ہے۔

آپ ذرا غور کریں اور دیکھیں کہ ہم بھارت کے اس سامراجی کردار کے بارے میں، جن خدشات کا اظہار ۱۹۷۱ء میں مسلسل کر رہے تھے، کیا وہ آج حقیقت بن کر سب کی آنکھوں کے سامنے نہیں آگئے ہیں؟ گزشتہ ۴۰برس میں بھارت نے بار بار ثابت کیا ہے کہ وہ ہمارا دوست نہیں، دشمن ہے۔ اپنے دعوے کے مطابق بھارت اگر ہماری آزادی کاحامی ہوتا تو چٹاگانگ Hill Track کے لوگوں کو بنگلا دیش کے خلاف نہ اکساتا۔انھیں بھارت لے جا کر عسکری تربیت نہ دیتا اور پھر مسلح کرکے بنگلا دیش کے خلاف استعمال نہ کرتا۔ اسی طرح بھارت اگر ہمارا دوست ہوتا تو پانی کے معاملے میں ہمارے ساتھ انصاف کرتا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بھارت کی آبی پالیسی اتنی ظالمانہ اور خودغرضانہ ہے کہ اس کی وجہ سے بنگلادیش ایک ریگستان بنتا جارہاہے۔ وہ اگر ہمارا ہمدرد ہوتا تو بارشوں کے موسم میں اپنے دریاؤں کے پانی کو بنگلا دیش کی طرف کھول کر ہماری فصلوں، مویشیوں اور زمینوں کو غارت نہ کرتا، قیمتی انسانی جانوں کو ضائع نہ کرتا۔ یہ ہمارا کیسا دوست ہے! ہر روز انڈین بارڈر سیکورٹی فورس، بنگلا دیش کے لوگوں کو جانوروں کی طرح گولیوں کا نشانہ بناتی ہے۔ لیکن بھارت نواز شیخ حسینہ حکومت، بھارت کے اس وحشیانہ عمل کے خلاف حرفِ شکایت تک زبان پر نہیں لاتی۔ اس کے برعکس اسے بنگلا دیشی بری، بحری اور فضائی راستوں سے سازو سامان کی رسد کی سہولیات فراہم کررکھی ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کو چٹاگانگ اور منگلا بندرگاہ کے استعمال کی اجازت دی ہوئی ہے۔ اپنا سب کچھ بھارت کے سپرد کر دینے کے بعد بھی کیا بنگلا دیش کی آزادی اور خودمختاری محفوظ رہ سکتی ہے؟ یہ وہ حقائق ہیں جن کی بنیاد پر بنگلا دیش کے محب وطن لوگ بھارت کو اپنا دوست نہیں سمجھتے۔ منصفانہ طور پر اگر عوامی رائے معلوم کی جائے تو عوام کی بھاری اکثریت بھارت کے خلاف ہے۔ بنگلا دیش کے تقریباً چاروں جانب بھارت ہے۔ بنگلا دیش پر جارحانہ حملے کا امکان اور خطرہ صرف اور صرف بھارت ہی کی طرف سے ہے۔ افسوس کامقام ہے کہ بھارت تو ہمارا دوست نہیں، لیکن شیخ حسینہ حکومت کا رویّہ بھارت کے حق میں عاشقانہ ہے۔ بھارت کے اس حریفانہ رویّے کی عملی مزاحمت تو کجا، زبانی مذمت بھی نہیں کرتی۔ بنگلا دیش پر قبضہ جمانے کے لیے جو سہولیات درکارہیں،شیخ حسینہ حکومت نے وہ ساری کی ساری بھارت کی جھولی میں ڈال دی ہیں۔ اس کی نظیر دنیا میں شاید ہی کہیں اور ملے۔ ہماری حکومت کو اپنے ملک و قوم کے مفاد سے زیادہ بھارتی مفاد عزیز ہے۔

تحریکِ پاکستان کے چند حقائق: میں نہیں جانتا کہ آئندہ کبھی مجھے آپ سے مخاطب ہونے کا موقع ملے گا یا نہیں۔ میں آج اس موقع کو مناسب اور غنیمت سمجھتے ہوئے تحریکِ پاکستان کے متعلق بھی کچھ حقائق بتانا چاہتاہوں۔

۱۹۴۰ء کے عشرے میں جب دوسری جنگ عظیم برپا ہوئی تھی، اس وقت برطانوی حکومت نے یہ اعلان کیا تھاکہ جنگ ختم ہوتے ہی ہندوستان کو آزاد کر دیا جائے گا۔ مسٹر گاندھی اور مسٹر نہرو نے انڈین کانگریس کی طرف سے اعلان کیا کہ انڈین نیشنلزم اور سیکولر ڈیموکریسی کی بنیاد پر ہندوستان ایک ریاست ہے۔ بھارت میں جتنے بھی مذاہب کے ماننے والے لوگ ہیں، وہ سب ہندوستانی ہیں اور ایک قوم ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں، ہندوستان کے مسلمان ایک الگ قوم اور ہندو دوسری قوم ہیں۔ قائداعظم کی اس بات پر جن لوگوں نے لبیک کہا تھا، ان میں بنگال سے حسین شہید سہروردی اور مسلم لیگ کے سرگرم کارکن شیخ مجیب الرحمن بھی شامل تھے۔ ان لوگوں کا موقف یہ تھاکہ ہندوستان کی ۴۰کروڑ آبادی میں سے ۱۰؍کروڑ مسلمان اگرانگریزوں کی غلامی سے نکل کر باقی ۳۰کروڑ ہندوؤں کی غلامی میں چلے جائیں گے توآخر مسلمانوں کو ہندوستان کی آزادی کا کیا فائدہ پہنچے گا۔

آخرکار مسلم قوم پرستی کی بنیاد پر مسلم اکثریتی علاقوں کو ساتھ ملا کر، علیحدہ ’پاکستان‘ کے نام سے ایک مسلم ریاست قائم کرلی گئی۔ ۱۹۴۶ء کے انتخابات میں پاکستان کے حق میں ۱۰؍کروڑ مسلمانوں کے ووٹ دینے کے باعث ۱۹۴۷ء میں پاکستان آزاد ہوا۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان قائم ہونے کے بعد، پاکستان کو اس کی اسلامی نظریاتی بنیادوں سے ہٹادیا گیا۔ اس سے مختلف علاقوں میں نا انصافی کے سبب محرومی پروان چڑھی۔ مشرقی پاکستان بھی اسی محرومی کا شکار ہوا۔ ایسی ہی ناانصافیوں اور محرومیوں کے باعث علیحدگی پسند تحریکیں وجو دمیں آتی ہیں۔ یہی اسباب بنگلا دیش کی آزادی کی تحریک کی وجہ بنے اور ایک خوں ریزلڑائی کے بعد،مشرقی پاکستان،مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلا دیش کی شکل میں آزاد ہوگیا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ ۶۵ سال میں بھارت نے خود بھارتی مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و جبر روا رکھا ہوا ہے، اگر پاکستان نہ ہوتاتو بنگلا دیش کے مسلمانوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتا۔ پاکستان بننے ہی کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے میں بے مثال ترقی ہوئی۔ ۱۹۴۷ء میں اگر پاکستان نہ بنتا تو بنگلا دیش میں جو ترقی ہم آج دیکھ رہے ہیں یہ کبھی نہ ہوتی۔

بنگلا دیش کا بحران اور اسلامی فلاحی ریاست: بنگلا دیش کے کروڑو ں انسان، اللہ پر یقین رکھتے ہیں۔ آخری نبی محمدؐ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اللہ کی کتاب قرآن مجید کو مقدس جانتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ حضرت محمدؐ نے قرآن کی تعلیمات کو مکمل طور پر عملی زندگی میں نافذ کیا اور یوں ایک مثالی،اسلامی، فلاحی ریاست وجود میں آئی۔ حضرت محمدؐ نے جو اسلام پیش کیا وہ محض رسم و رواج پر مشتمل نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب، انسانیت کی دنیا وی بھلائی اور آخرت کی نجات کے لیے نازل فرمائی ہے۔ اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو بنگلا دیش میں لادین سیکولر نظام کو اگر نافذ کرلیا گیا تو پھر اس میں اور انڈین کانگریس کے ہندوستانی قوم پرستی میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ ۱۹۴۷ء میں ہندوستان کی تقسیم اور ۱۹۷۱ء میں بنگلا دیش کی آزادی سب کچھ بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ اس لیے بنگلا دیش کے وجود کی بقا کی خاطر ہم لوگ بنگلا دیش کو ایک آزاد، خوشحال اور اسلامی فلاحی ریاست بنانااور دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد ہی بنگلا دیش کی آزادی با معنی ہوسکے گی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو بھارت، بنگلا دیش کو اپنا ایک صوبہ بناکر چھوڑے گا۔ اس وقت بنگلا دیش کی سیکولر حکومت، مسلم قوم پرستی کی بنیاد اسلام کو ختم کرکے، انڈین کانگریس کے انڈین نیشنلزم کو فروغ دے رہی ہے۔ میں اپنی قوم کے مسلم بھائیوں سے اپیل کرتاہوں کہ آپ لوگ نظم و ضبط، صبر وتحمل اور اپنے جان و مال کے ساتھ اپنی یہ جدوجہد جاری رکھیں تاکہ بنگلا دیش ایک اسلامی فلاحی ریاست بن جائے۔ یاد رکھیے کہ یہ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے اور بنگلا دیش کی آزادی کی واحد ضمانت بھی۔

بنگلا دیش اس وقت شدید بحران سے گزر رہاہے۔ قوم کے جو اہم مسائل ہیں، اگر ان پر اتفاق واتحاد نہ ہو تو قوم کی ترقی ناممکن ہوتی ہے۔ اس لیے میں تمام پارٹیوں اور تمام گروہوں کو یہ کہنا ضروری سمجھتاہوں کہ سب مل کر بنگلا دیش کو ان بحرانوں سے نکالنے کی کوشش کریں۔ بحران کے اس دور میں انتشار نہیں، اتحاد چاہیے۔ اگر ہم صحیح معنوں میں کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں پیچھے مڑکر دیکھنے کے بجائے آگے کی طرف دیکھنا اور بڑھنا چاہیے۔ میری دعا ہے کہ موجودہ حکومت اور مستقبل میں جو لوگ اس ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے، وہ اپنے اندر اتحاد پیدا کریں،ملکی ترقی کے لیے کام کریں اور بنگلا دیش کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائیں۔ میں یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ حکمران طبقہ اپنے پارٹی اور ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر،باہمی حسد و بغض سے چھٹکارا پا کر، ملک و قوم کی بھلائی اور بہتری کے لیے کام کرے۔ ’’قانون سب کے لیے ایک‘‘، کا ماٹو اپنا کر سماجی انصاف قائم کرنے کے لیے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے جو بھی جدوجہد ہو سکتی ہے، وہ ضرور کریں۔ اسی طرح سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔ بزرگوں، غریبوں اور یتیموں کا خاص خیال رکھا جائے۔ آپ لوگوں کو یہ ذمہ داری بھی ادا کرنا ہوگی کہ اس ملک کے لوگ جدید،اعلیٰ تعلیم یافتہ اور محب وطن کی حیثیت سے پروان چڑھیں۔

میں یہ بات ایک دفعہ پھر واضح الفاظ میں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی انسانیت کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔ معاشرے کے ایک خاص گروہ کے لوگ جو اندھے بن کر اور خود غرضانہ سوچ کے تحت، مجھے سیاسی اور سماجی طور پر نیچا دکھانے کے لیے، گزشتہ ۴۰ سال سے گھناؤنا پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں، ان کا مقصد سادہ لوح عوام کے دل میں میرے خلاف نفرت پیدا کرکے سیاسی فائدہ سمیٹنا ہے۔ انسانیت کے خلاف اگر میں سرگرم رہا ہوتا تو اس لمبے عرصے میں کسی نہ کسی عدالت میں میرے خلاف کوئی مقدمہ ضرور درج ہوتا۔ ۱۹۷۳ء میں شیخ مجیب حکومت نے غیرقانونی طور پر میری شہریت ضبط کی۔ لیکن ۱۹۹۴ء میں سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اپنے متفقہ فیصلے کے ذریعے میرا یہ حق مجھے واپس دلایا، کیونکہ میرے خلاف لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ ثابت ہوئے تھے۔ عجیب تماشا یہ ہے کہ اب نئے سرے سے انہی پرانے الزامات کو دہرایا جارہاہے۔

میں پہلے بھی کہہ چکاہوں کہ میں جیل، ظلم، اذیت اور موت سے نہیں ڈرتا۔ موت اٹل ہے۔ اس سے فرار ممکن نہیں۔ ہر ایک کو، ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہی ہوتا ہے۔ میرا اللہ پر ایمان، آخرت پر یقین ہے اور میں تقدیر کو بھی مانتا ہوں۔ میرا یہ بھی ایمان ہے کہ مشیّت الٰہی کے خلاف کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اللہ اپنے بندوں کے بارے میں جو بھی فیصلے کرتاہے، وہ یقیناً کسی نہ کسی حکمت پر مبنی ہوتے ہیں، لہٰذا مجھے موت کی دھمکیوں کی بالکل پروا نہیں۔ مجھے اپنے آپ پر اعتماد ہے کہ میں نے ہمیشہ عوام کے مفاد کے لیے کام کیا ہے۔ کبھی بھی ان کے مفادات کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا۔ ایسا لگ رہاہے اور جس انداز سے یہ عدالتی کارروائی چلائی جارہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ انتہائی فیصلہ پہلے ہی سے کر لیا گیا ہے اور اب محض الزام تراشی کے ذریعے اس کے حق میں فضا تیار کی جا رہی ہے۔ اپنی ۵۰سالہ سیاسی زندگی میں، مَیں نے ملک میں بہت سارے سفر کیے ہیں۔ میں عوام ہی میں رہاہوں۔ میں نے اپنے اخلاق سے لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے مجھے معلوم ہے کہ یہ حکومت میرے خلاف جو بھی الزام لگا رہی ہے، عوام اس کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ اگر یہ لوگ مجھے پھانسی بھی دیتے ہیں، جو اُن کی خواہش ہے، تو بھی ہمارے عوام، مجھے اللہ کی راہ کا ایک سپاہی سمجھیں گے۔

آخر میں یہ کہنا چاہتاہوں کہ اس ملک کے باشندوں کی دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لیے، میں نے اپنی پوری زندگی کھپا دی۔ میں نے کسی خودستائی اور خودنمائی سے اپنے آپ کو ہمیشہ بالاتر رکھاہے۔میں اس ملک کی سیاسی تاریخ میں واحد سیاست دان ہوں جس نے مکمل سرگرم زندگی گزارنے کے باوجود، جماعت اسلامی کی امارت سے ازخود فراغت لینے کی مثال قائم کی۔ میں نے خدمتِ خلق کا صلہ نہ دنیا میں کسی سے مانگاہے اور نہ کبھی مانگوں گا۔ میں ہمیشہ اس بات پر ڈٹا رہا ہوں کہ میرے لیے میرا اللہ ہی کافی ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ میں نے اس قوم کی بھلائی کے لیے جو کچھ سوچا تھا اور جس کے حصول کے لیے سرتوڑکوشش بھی کی ہے، نہ معلوم میں اس کو دیکھ بھی پاؤں گا یا نہیں۔ میں یہ دعا کرتاہوں کہ اس ملک اور اس کے عوام کی اللہ تعالیٰ حفاظت کرے اور بنگلا دیش کی آزادی، استحکام اور خودمختاری کو محفوظ رکھے۔ اللہ تعالیٰ اس ملک کے لوگوں کو اس دنیا میں شر سے بچائے اور آخرت میں سرخروئی عطا فرمائے۔ میں اپنے عزیز اہلِ وطن سے اس دعا کی اپیل کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے نیک اعمال قبول فرمائے اور میری خطاؤں سے درگزر فرمائے اور آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرے۔ (اب میں جماعت اسلامی کا کسی سطح کا بھی ذمہ دار نہیں ہوں، لہٰذا میرا یہ بیان میرا ذاتی بیان ہے۔ اس کا جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔)

☼☼☼

Leave a comment

Your email address will not be published.


*