اسرائیل میں ’’مذہبی طبقہ‘‘ معیشت پر بوجھ!

رات کے تین بج چکے ہیں، یہاں ایک ہزار نوجوان بابلی تلمود (Babylonian Talmud) کے اس باب پر غوروفکر میں مصروف ہیں جو شادی کے راہبانہ قوانین کے بارے میں ہے۔سفید بٹن والی قمیض اور سیاہ ٹائی لگائے سب ایک ہی لباس میں ہیں۔یہ سب حبرون یشیوا (Hebron Yeshiva) کے طلبہ ہیں،جو کہ ۱۸۷۷ ء میں لتھوانیا میں قائم کیا گیا تھا،اور اب شمالی یروشلم میں واقع ہے۔یہ سب طلبہ اس رات کی یاد میں یہاں جمع ہیں جب موسیٰؑ پر صنعا کی پہاڑی پر توریت نازل ہوئی تھی،اور یہ رات صدیوں سے منائی جا رہی ہے۔

یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔چھٹیوں کے مخصوص دنوں میں اسرائیل کی اشرافیہ کے لیے مخصوص مذہبی ادارے یشیوا (Yeshiva) کے دارلمطالعہ ان طلبہ سے بھرے ہوتے ہیں جو توریت پر غوروفکر میں مصروف نظر آتے ہیں۔شادی کے بعد زیادہ تر طلبہ کولیل (Kollels) چلے جاتے ہیں جو نسبتاً چھوٹے ادارے ہیں۔ یہاں طلبہ کو حکومت کی طرف سے معمولی وظائف اور دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ ان کی بیویوں کے لیے بھی تنخواہوں کی سہولت میسر ہیں۔

بہت سے مذہبی یہودیوں کے نزدیک اسرائیل میں توریت کی تعلیم کا پھلنا پھولنا یسعیا ہ میں بائبل کی پیشن گوئی کی تکمیل ہے:ـ ــــــ ’’وہ زمین جو پروردگار کے علم کے ساتھ بھر جائے گی‘‘۔تاہم اسرائیلی ماہرینِ اقتصادیات کے نزدیک قدامت پسند (Haredi) مردوں کی کام کرنے سے ہچکچاہٹ اور اس برادری کی بڑھتی ہوئی شرح پیدائش(قومی شرح پیدائش سے دگنی) ایک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔اسرائیل میں ہونے والے ایک مطالعہ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ملک کا سرکاری قرضہ مجموعی ملکی پیداوار کا ۶۷ فیصد ہے اور اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو یہ خسارہ اگلے پچاس سال میں ۱۷۰ فیصد تک پہنچ جائے گا۔وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ صرف۴۵ ء۷ فیصد قدامت پسندمرد (Haredi men) ملازمت کرتے ہیں،اس کے برعکس اسرائیل کی قومی سطح پر ملازمت کی شرح ۶۰ء۴ فیصد ہے۔ قدامت پسند مردوں میں ملازمت کی یہ شرح تمام گروہوں سے کم ہے سوائے اسرائیل میں موجود عرب خواتین کے۔ اِن قدامت پسند مردوں کے ہاں کی خواتین پڑھتی نہیں ہیں اس لیے ان کی شرح ملازمت ۷۱ فیصد ہے۔اعدادوشمار کے مرکزی بیورو کے مطابق قدامت پسندوں کی آبادی ۲۰۰۹ء میں اسرائیل کی آبادی کا ۱۰ فیصد تھی۔ ایک اندازے کے مطابق ۲۰۴۹ء تک یہ بڑھ کر آبادی کا ۲۷ فیصد ہو جائے گی۔ اسرائیلی حکومت اتنے سارے لوگوں کو بغیر کام کیے صرف وظائف دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اسرائیل کے قیام کے بعد پہلے وزیراعظم دائودبن گوریان نے ۱۹۴۸ء میں یہودی ربیّوں کی درخواست پر یورپ میں ہونے والے ہولوکاسٹ کے نتیجے میں تباہ شدہ تمام یشیوا دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دی۔ یشیوا کے ۴۰۰ طلبہ کو لازمی فوجی تربیت سے استثنیٰ بھی دیا گیا۔ ۱۹۷۷ء میں قدامت پسند پہلی دفعہ حکومتی اتحاد میں شامل ہوئے۔ لیکوڈ (Likud) پارٹی کی حکومت میں شامل ہونے کے بعد انہوں نے ۴۰۰ طلبہ والی پابندی ختم کر دی۔ اس کے بعد آنے والی مختلف حکومتوں میں شامل ہو کر انہوں نے یشیوا کے لیے فنڈنگ بہت بڑھا دی۔ اس کے ساتھ ساتھ یشیوا کے وظائف اور سہولیات میں بھی اضافہ کیا۔

سابقہ حکومت میں کوئی قدامت پسند جماعت شامل نہ تھی۔ اس لیے اتحاد میں شامل سیکولر پارٹی یش اتد (Yesh Atid Party) نے قانون منظور کروا کر یشیوا کی امداد میں کٹوتی کر دی۔ گزشتہ ماہ بننے والے حکومتی اتحاد میں دو قدامت پسند پارٹیاں شامل ہیں، جنہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس قانون کو منسوخ کروائیں گی اور تمام مراعات کو سابقہ درجے پر بحال کریں گی۔ وزارت خزانہ، جو ملازمتوں کے حوالے سے پالیسی تشکیل دیتی ہے اور کینیسٹ(اسرائیلی پارلیمان) کی مالی کمیٹی جو تمام اخراجات کی نگرانی کرتی ہے، یہ دونوں قدامت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں۔ نئے وزیر معاشیات اریح ڈیری (Aryeh Deri) نے، جن کا تعلق مذہبی پارٹی شاس (Shas) سے ہے، اس بات پر زور دیا ہے کہ یشیوا کو حاصل مراعات میں کٹوتی کی سخت مخالفت کریں گے۔ اس سے بڑھ کر وہ ان لوگوں کو جو یاشیوا سے نکلے ہوئے لوگوں کو ملازمت پر نہیں رکھتے، ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں، ’’یہاں تک کہ قانون اور حساب کی ڈگری رکھنے والے قدامت پسند مردوں کے ساتھ بھی امتیازی سلوک روا رکھا جاتاہے، یشیوا سے تعلق رکھنے والے امیدوار کی، جن کی درخواست پر مخصوص ٹوپی کا نشان ہوتا ہے، درخواستوں کو رد کر دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے کولیل (Kollels) میں رہنے والے لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے‘‘۔

موشے فرائیڈمین (Moshe Friedman) نے، جو حبرون یشیوا سے گریجویشن کرنے کے بعد کولیل چلے گئے تھے، ۹ سال تک تعلیم حاصل کی، وہ بھی وزیر معاشیات کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک اسرئیلی سرمایہ کار کمپنی کے لیے سوفٹ وئیر بناکر کیرئیر کا آغاز کیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ شروع شروع میں جو بھی مجھ سے ملتا تھا وہ یہی سوال کرتا تھا کہ تم نے فوج میں ملازمت کیوں نہیں کی؟ اس کے ساتھ لوگ تبصرہ کرتے ہیں کہ ایک قدامت پسند کو ٹیکنالوجی کے بارے خاک پتا ہو گا۔

اسرائیل کے ترقی سے بھرپور ہائی ٹیکنالوجی شعبے میں یہ امتیازی سلوک واضح نظر آتا ہے، جہاں لوگ اسکول کے زمانے کی لازمی فوجی تربیت کے دور سے ہی ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور مستقبل میں مختلف شعبہ جات میں ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں۔ موشے فرائیڈمین اب ایک کاما ٹیک پروگرام چلاتا ہے جو کہ مذہبی اداروں کے ساتھ ساتھ گوگل اور مائیکروسوفٹ جیسے بڑے اداروں کے مقامی تحقیقی مراکز کے ساتھ کام کرتا ہے۔ لیکن اب اس کا کام کم ہوتا جا رہا ہے، کیوں کہ سابقہ حکومتوں کی جانب سے مذہبی اداروں پر لگائی جانے والی پابندی کہ وہ طلبہ کو حساب، انگریزی اور سائنس کے مضامین لازمی پڑھائیں گے، موجودہ مذہبی سیاستدانوں کی جانب سے یہ پابندی ہٹائی جارہی ہے۔

(مترجم: حافظ محمد نوید نون)

“Eat, pray, don’t work”. (“Economist”. June 25, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*