Abd Add
 

’’تاریخی تحقیق‘‘ کیوں؟ اور کیسے؟

گزشتہ دنوںاسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی کے شعبۂ تحقیق کے تحت ’’ریسرچ میتھوڈولوجی‘‘ کے کورس کا دوسرا لیکچر ہوا۔ جس کا عنوان ’’تاریخی تحقیق‘‘ تھا۔ جامعہ کراچی شعبہ ابلاغ عامہ کے استاد پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد زبیری نے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوںنے اس لیکچر میں بتایا کہ تاریخی تحقیق افسانہ (Myth)نہیں ہے اور کسی بھی محقق کو ایسی باتیں اپنے مقالے میں شامل نہیں کرنی چاہئیں، اور یہ کہ تاریخی تحقیق کے دوران جذبات، تعصب اور جانبداری کو مکمل طور پر نہ سہی صرف تحقیق کے دوران الگ رکھنا چاہیے لیکن بہر طور پر ایک محقق کو غیر جانبدار ہی ہونا چاہیے۔ تاریخی تحقیق میں خطِ زمانی (Time line) کی اہمیت بتاتے ہوئے ڈاکٹر نثار احمد زبیری نے کہا کہ اس کے بغیر Historiography نامکمل ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر ماضی بعید یا قریب کے ماخذات کو استعمال کرتے ہوئے حال کے لیے کوئی روشنی یا رہنمائی حاصل کی جائے اور یہ بات واضح رہے کہ ماضی کی تحقیق بیان برائے بیان نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح خطِ زمانی کے بغیر تاریخ نامکمل ہے اسی طرح خط زمانی کو قابلِ معیار یا قابلِ سند بنانے کے لیے داخلی و بیرونی جائزہ بھی ضروری ہے۔ جس کے لیے ابتدائی اور ثانوی ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے یہاں پر بعض مقامات پر ثانوی ذریعہ ابتدائی ذریعہ پر حاوی نظر آتا ہے لیکن اصل چیز معیار اور سند ہے جس کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ آخر میں انہوں نے ’’تاریخی تحقیق‘‘ کی ابتداء سے پہلے بنیادی نکات ۱۔ موضوع کا انتخاب ۲۔ ذرائع کی فہرست ۳۔ تصدیق ۴۔ طریقۂ کار ۵۔ نتائج اور ۶۔تجزیہ و تبصرہ کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر اکیڈمی کے ڈائریکٹر سید شاہد ہاشمی بھی موجود تھے اورشعبہ تحقیق کے سیکریٹری علی حسین نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

(رپورٹ: محمد آفتاب احمد)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.