ہولوکاسٹ کارٹون مقابلے کا آغاز

تہران میں گذشتہ دنوں ایک نادر واقعہ پیش آیا‘ جب یہاں ایک آرٹ میوزیم میں ہولوکاسٹ کارٹون عالمی مقابلے کا آغاز ہوا۔ اس عالمی مقابلے کا اہتمام کرنے والے مسعود شوجائی نے بتایا‘ اس عالمی مقابلے کے ذریعہ ہم دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مغرب کا تصورِ آزادی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کا حال یہ ہے کہ وہاں مسلمانوں کے مقدسات کو نشانۂ تضحیک بنایا جاتا ہے‘ یہاں تک کہ آنحضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے بارے میں مغربی مصنفین‘ مفکرین اور آرٹسٹوں کے جو جی میں آتا ہے‘ کہنے سے گریز نہیں کرتے اور ایسا کرتے ہوئے انہیں اس کا چنداں خیال نہیں رہتا کہ اس سے کس کی دل آزاری ہو رہی ہے۔ لیکن اگر کوئی ہولوکاسٹ کے بارے میں معمولی شک و شبہ کا اظہار بھی کر دے تو اس کے خلاف پوری دنیا چراغ پا ہو جاتی ہے اور اس کے خلاف کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس عالمی مقابلے کے لیے ساٹھ ملکوں سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹوں کے بنائے ہوئے گیارہ سو کارٹون موصول ہوئے‘ ان میں سے دو سو کارٹونوں کی نمائش کی جارہی ہے۔ اس کے مقابلے کے نتیجہ کا اعلان ۲ستمبر کو کیا جائے گا اور اول تین مقام پانے والوں کو انعام بھی دیا جائے گا۔ پہلا انعام بارہ ہزار ڈالر‘ دوسرا انعام آٹھ ہزار ڈالر اور تیسرا انعام پانچ ہزار ڈالر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس سے ہرگز انکار نہیں ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران یہودیوں کا قتل نہیں ہوا تھا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی سزا فلسطینیوں کو کیوں دی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نمائش ایک ماہ تک جاری رہے گی۔

(بحوالہ اسرائیلی ویب سائٹ: haaretz.com)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*