Abd Add
 

ترکی، سوڈان اور قطر کے بڑھتے تعلقات

حالات اور واقعات یہ بتا رہے ہیں کہ سوڈان اپنا نقطہ نظر تبدیل کرتے ہوئے ترکی اور قطر کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوجائے گا، مستقبل میں سیاسی ہم آہنگی کے لیے اس اتحاد میں ایران کی شمولیت بھی ممکن ہے۔ عربوں کے استحکام کے لیے دوحہ سوڈان کے ساتھ اتحاد کی کوششیں کررہا ہے، اس کی کوششوں سے ہی ترکی، قطر اور سوڈان ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں اور اس سے تہران کو بھی ایک مثبت پیغام ملاہے۔

اسی مقصد کے تحت رجب طیب ایردوان نے۲۴ سے ۲۷ دسمبر ۱۵۰ تاجروں کے ایک وفد کے ہمراہ سوڈان، چاڈ اور تیونس کا دورہ کیا۔ اس دورے کے مقاصد میں تجارتی اور اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ عربوں کا ایک نیا اتحاد اور عرب دنیا کا استحکام ہی تھا۔ دوحہ اور خرطوم کے اور بھی حل طلب مسئلے ہیں لیکن بنیادی مسئلہ انتہا پسند اسلامی تحریکوں کی امداد اور عربوں کا نیا اتحاد ہی ہے۔

ترک صدر نے اپنے دورے میں ترکی کے آرمی چیف کے ہمراہ قطر کے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل غنیم بن شاہین الغنیم، سوڈان کے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل عماد الدین مصطفی ادوی اور جنرل حلوسی اکر سے بھی ملاقات کی، اپنے دورے میں انہوں نے یہ چند مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔

طاقت کی جنگ

ترکی ان عرب ریاستوں کوکمزور کرنا چاہتاہے، جو عرب خطے میں اس کے منصوبوں اور اس کی بالادستی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہوئے خطے میں اثر انداز ہونا چاہتی ہیں، ترکی ان عرب ممالک میں اپنا اثر ورسوخ بڑھا رہا ہے جو کہ خطے کی سرحدوں سے قریب ہیں، سوڈان اور چاڈ کے علاوہ ترکی، لیبیا اور غزہ میں عسکریت پسندوں کی مدد کے حوالے سے اپنا اثرورسوخ رکھتا ہے، وہ اپنا اثر دریائے احمر تک بڑھانا چاہتا ہے، اس کے علاوہ ترکی بین الاقوامی نقل وحمل کے راستوں باب المندیب اور سوئز کنال تک پہنچنا چاہتا ہے۔

دریائے احمر کی اہمیت

سوڈان کی بندرگاہ سواکین آئس لینڈ میں ترقی اور انتظامی امور، فوجی اور ملکی سلامتی کے معاہدے اور عسکری اور تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں ترکی کے تیز ترین تعاون کے لیے دریائے احمر ایک اہمیت رکھتا ہے،سوڈان کے وزیر خارجہ کا بیان اس پیش رفت کی طرف اشارہ کرتا ہے، انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم ایک ایسے معاہدہ پر دستخط کر چکے ہیں، جس کے تحت ہم ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور عسکری تعاون بھی کریں گے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ سوڈان کے ساتھ عسکری ترقی و تعاون میں افریقا کی سلامتی اور بحر احمر کے پانیوں میں ترک افواج کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ مشرقی افریقا یعنی صومالیہ میں ۳۰ سمبر ۲۰۱۷ء کو ترکی نے ایک فوجی اڈا قائم کیا تھا، جو ترکی کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس دورے کے دوران ترکی اور سوڈان کے درمیان قومی سلامتی کے معاہدے طے پاچکے ہوں، لیکن ایردوان کی خواہش کے تحت ابھی اس کا اعلان نہیں کیا گیا۔ طیب ایردوا ن کی خواہش پر سواکین میں سوڈان اور ترکی کے تاجروں نے ایک اقتصادی فورم کا انعقاد کیا، اس دوران ایردوان نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اس کی تفصیلات سے وقت آنے پر آگاہ کریں گے۔

اخوان المسلمون کی حامی ریاستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات

یہ ایک قابل ذکر بات ہے کہ ایردوان نے اخوان المسلمون کے حامی اور مددگار ممالک کے بھی دورے کیے ہیں، سوڈان میں ۱۹۸۹ء میں یعنی عمر البشیر کی حکومت کے قیام کے بعد سے اخوان المسلمون کے دفاتر قائم ہیں، ان ممالک میں ایردوان کا دورہ انتہا پسندی کے فروغ کے لیے ہے، وہ انتہا پسندی کو شمالی افریقا اور ساحل کے علاقے کی طرف منتقل کرنا چاہتے ہیں تاکہ آنے والے وقتوں میں مشرق وسطیٰ میں ایردوان ایک قوت کے طور پر ابھر کر آئے اور مشرق وسطیٰ کے استحکام کو ممکن بنایا جاسکے۔

ترکی کے اس دورے سے بہت سی باتیں واضح ہوئی ہیں، جن میں ایک تو یہ کہ ترکی اخوان المسلمون کی ہر طرح سے امداد کرے گا،سوڈان کے دورے میں عمر البشیر کے ساتھ کھڑے ہو کر ایردوان نے چار انگلیوں کے ذریعے رابعہ کا نشان بنایا، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ترکی انقرہ کی زمین کو اخوان المسلمون کی اخلاقی اور علاقائی حمایت کے لیے کھل کر استعمال کرے گا، اس میں ایک پیغام یہ بھی ہے کہ دو ریاستیں انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہیں۔

قطر پر سے دباؤ کم کرنا

ترکی قطر پر سے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو عرب ملکوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے قطر برداشت کر رہا ہے۔ اس نے دوحہ کے لیے علاقائی طور پر کئی راستے کھولے ہیں تاکہ انتہا پسندی کی مدد اور علاقے کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت ممکن ہوسکے۔ ترکی، سوڈان اور قطر کے ساتھ اپنے عسکری تعلقات و تعاون بھی استوار کرنا چاہتاہے۔ اس کے علاوہ ترکی کے دورے کے فوراً بعد قطر کے وزیر خارجہ محمد عبد الرحمن الثانی نے ۱۰ دسمبر کو تیونس کا دورہ کیا،انقرہ نے ۲۳؍اگست ۲۰۱۷ سے پہلے (جب چاڈ نے قطر پر لیبیا کو غیر مستحکم کرنے کا الزام لگنے کے بعد اپنا سفارت خانہ قطر میں بند کیا تھا) قطر اور چاڈ میں سمجھوتے کی کوشش کی تھی۔

ایران کے تنازعے کے ذریعے اپنا اثر قائم کرنا

ترکی خطے کے نئے علاقوں میں اپنے اثرو رسوخ کے لیے اس معاملے کو استعمال کررہا ہے، خصوصاً جب سے ایران کو شام، لیبیا، یمن اور عراق میں بدامنی کا ذمہ دار قرار دے کر عرب ریاستوں نے اس سے اپنے تعلقات ختم کیے ہیں، ایران کے بین الاقوامی طور پر ان ریاستوں سے بھی تعلقات خراب ہوئے ہیں، جو مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اپنے تحفظات رکھتے ہیں۔ ان ممالک میں فرانس اور امریکا سرفہرست ہیں، یہ ایران کے میزائل پروگرام، ایٹمی پروگرام اورخطے میں ایرانی مداخلت پر نالاں ہیں۔

اپنے اثرورسوخ کے ذریعے لیبیا کے معاملات پر اثر ڈالنا

قطر، چاڈ اور سوڈان کے ذریعے ترکی اپنایہ مقصد حاصل کر چکا ہے کیونکہ یہی تین ممالک ہیں جو کہ لیبیا میں اپنا اثرورسوخ رکھتے ہیں، تجزیاتی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگلے مرحلے میں جب کہ بین الاقوامی طور پر لیبیا کے سیاسی نظام کو بحال کرنے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے، ترکی لیبیا کے سیاسی نظام کے قیام اور ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ساحل کے علاقے میں اپنی موجودگی کو فروغ دینا

یہ ایک ایسا علاقہ ہے، جو وسیع پیمانے پرعلاقائی اور بین الاقوامی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے یہاں پرانتہا پسند تنظیموں کی کارروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے،دنیا کے طاقتور ممالک انتہا پسند تنظیموں کی روک تھام کے لیے اس علاقے میں کنٹرول چاہتے ہیں اور انھوں نے ۱۳ دسمبر ۲۰۱۷ کوپیرس میں ہونے والی کانفرنس میں عسکری اتحادی فورس کے لیے ۱۳۰؍ملین ڈالر مختص کیے ہیں،یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے میں دو طاقتیں ابھر رہی ہیں، ایک ترکی قطر اور ایران جو مشرق وسطیٰ کے بھڑکتے الاؤ کو ایندھن فراہم کریں گے جبکہ دوسری اتحادی فورس جو اس کا سدباب چاہتی ہے۔

تحریک حزمت کے گرد گھیرا تنگ

انقرہ نے چاڈ کے لیے بہت سے ایسے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت و ہ چاڈ کو معاشی و اقتصادی مراعات فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ تیل کے کنوؤں کی تلاش میں مدد،کھیل و ثقافت اور سلامتی کے معاملات میں سرمایہ کاری فراہم کر رہا ہے۔ان مراعات کا مقصد چاڈ کی سرزمین سے تحریک حزمت کی کارروائیوں کو ختم کرنا ہے، چاڈ کے صدر ادریس ڈیبے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم اپنی سرزمین پر اب مزید دہشت گردی برداشت نہیں کریں گے، ان کا یہ بیان واضح طور پر تحریک حزمت کی کارروائیوں کی طرف ہی ہے۔

طیب ایردوان کی حکمت عملی

مجموعی طور پر یہ تجزیہ کیا جاسکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی روایتی جنگ اور تنازعے سے بہت دور سوڈان، چاڈ اور تیونس کی طرف ترکی کا یہ دورہ خطے میں ایک نئے سفارتی، فوجی اور اقتصادی دور کا آغاز ہوگا، یہاں اس بات کا مکمل ادراک ہونا چاہیے کہ ترکی مشرق وسطیٰ میں اپنا وہ مقام حاصل کرنا چاہتا ہے، جو کہ شام میں بدامنی اور داعش جیسی انتہا پسند تنظیموں کی کارروائیوں سے پہلے اسے حاصل تھا، وہ امریکا سے کشیدہ تعلقات کے ساتھ ساتھ داعش کوختم کرنا چاہتا ہے، حقیقت میں ترکی خلافتِ عثمانیہ کا کردار ادا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

(ترجمہ: سمیہ اختر)

“How does Turkey manage its relations with Sudan and Qatar?”.
(“futureuae.com”.January 01, 2018)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*