Abd Add
 

اسلحہ کی عالمی تجارت میں چین کا نمایاں کردار

دہائیوں کی معاشی ترقی اور فوج کو جدید ہتھیاروں سے آراستہ کرنے کے بعد اب چین ہتھیاروں کی عالمی تجارت میں ایک اہم کردار بن چکا ہے۔گزشتہ کئی سالوں تک چین اپنے برآمد شدہ ہتھیاروں سے کئی گنا زیادہ روایتی ہتھیار درآمد کرتا رہا، لیکن ۲۰۱۳ء کے بعد سے چین کی ہتھیاروں کی برآمدات اس کی درآمدات سے بڑھ چکی ہیں۔۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۷ء کے درمیان چین نے دنیا بھر میں۴ء۱۴ ؍ارب ڈالر کے روایتی ہتھیار برآمد کیے۔جس کی وجہ سے یہ امریکا،روس،فرانس اور جرمنی کے بعداسلحہ برآمد کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑاملک بن چکا ہے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق چین کی روایتی ہتھیاروں کی فروخت ۲۰۰۸ء میں ۶۵۰ ملین ڈالر سے بڑھ کر ۲۰۱۷ء میں ۱۳ء۱ ؍ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اس برآمدات کا ۷۴ فی صد حصہ ایشیا اور ۲۱ فی صد افریقا برآمد کیا گیا۔اگرچہ چین ہتھیاروں کی برآمدات میں ایک مقام حاصل کر چکا ہے، لیکن ابھی بھی چین کی تجارتی حیثیت امریکا کہ مقابلے میں کم ہے۔گزشتہ دس سال سے امریکا کی سالانہ اوسط برآمدات ۹؍ارب ڈالر ہے۔

چین کی زیادہ تر برآمدات قریبی ممالک کو ہی فروخت کی جاتی ہیں۔گزشتہ دہائی تک ہتھیاروں کی برآمدات کم ہونے کے باوجود ان کا ایک بڑا حصہ (۸۲.۸ فی صد) ایشیائی ممالک کو برآمد کیا گیا۔یہ رجحان برقرار رہا اور ۲۰۰۸ء کے بعد سے چین کی اسلحے کی برآمدات کا ۴ء۶۲ فی صد پاکستان ، بنگلادیش اور میانمار بھیجا جاتا ہے۔

گزشتہ دہائی سے جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں چین کی اسلحے کی برآمدات۲۰۰۸ء میں ۳۸۶ ملین ڈالر سے بڑھ کر ۲۰۱۶ء میں۵ء۱ ؍ارب ڈالر ہو گئی، تاہم ۲۰۱۷ء میں یہ کم ہو کر ۹۴۸ ملین ڈالر رہ گئی۔ چین ابھی بھی خطے میں اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک سے پیچھے ہے۔۲۰۰۸ء سے امریکا ایشیا (مشرق وسطیٰ کے علاوہ ) میں ۲ء۲۷ بلین ڈالر کا روایتی اسلحہ برآمد کر چکا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان فوجی تعاون کی وجہ سے چین پاکستان کو کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ ہتھیارمہیا کرتا ہے۔اکثر اس کی وجہ سیاسی مقاصد کا حصول ہوتی ہے۔چین اور پاکستان کے درمیان انسداد دہشت گردی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے تعاون کی وجہ سے ہتھیاروں کی فروخت ۲۰۰۸ء میں ۲۵۰ ملین ڈالر سے بڑھ کر ۲۰۰۹ء میں ۷۵۰ ملین ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔جنوری کے وسط میں بھارت کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بلیسٹک میزائل اگنی ۵ کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔کچھ ہفتوں بعد مارچ میں چین نے پاکستان کوایک سے زائد وارہیڈ کے حامل جوہری میزائل میں استعمال ہونے والے آپٹیکل ٹریکنگ سسٹم کی فروخت کا اعلان کردیا۔اس کے علاوہJF-17 کی تیاری پاکستان اور چین کے درمیان باہمی اشتراک کو ظاہر کرتی ہے۔

بنگلادیش بھی چینی اسلحے کا ایک بڑا خریدار ہے۔۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۷ء کے درمیان چین نے بنگلادیش کو ۸۶ء۱ ؍ارب ڈالر کے ہتھیار فراہم کیے۔یہ اُس عرصے میں بنگلادیش کی عسکری خریداری کا ۷۱.۹فی صد تھا۔اس خریداری نے چین کو بنگلا دیش کا سب سے بڑا اسلحہ سپلائر بنا دیا۔چین ہتھیاروں کے حصول کو آسان بنانے کے لیے قرضوں اور کم قیمت کی پیش کش کرتا ہے۔۲۰۱۳ ء میں چین نے بنگلادیش کو دو استعمال شدہ آبدوزیں فروخت کیں اور ہر ایک آبدوز کی قیمت ۱۰۰ ملین ڈالر سے کچھ زائد تھی ۔چین بنگلادیش کو ۱۶؍ہزار سے زیادہ رائفلیں اور ۴ ہزار سے زیادہ پستولیں فراہم کر چکا ہے۔

میانمار ایشیا میں چین کی دفاعی برآمدات کی تیسری بڑی منڈی ہے۔۲۰۱۰ء میں میانمار پر عائد پابندیوں میں نرمی کے بعد اس نے ہتھیاروں کے حصول میں تیزی سے اضافہ کیا، جس کا چین نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔گزشتہ ۶ سال میں میانمار نے چین سے ۹۵۴ ملین ڈالر کے روایتی ہتھیار درآمد کیے۔ مہنگے ترین ہتھیاروں میں JF-۱۷ ہوائی جہاز، ۱۲ ڈرون، ۲ بحری جنگی جہاز اور ۷۶ بکتربند گاڑیاں شامل ہیں۔

۲۰۱۷ء ایشیا میں چینی اسلحے کی فروخت

ملک برآمدات
(ملین ڈالر)
فی صد
پاکستان ۶۰۷۴ ۵۲ء۸
بنگلادیش ۲۱۰۶ ۱۸ء۳
میانمار ۱۲۷۵ ۱۱ء۱
ایران ۳۶۷ ۳ء۲
انڈونیشیا ۳۱۳ ۲ء۷

ایشیا کے دیگر ممالک :۱۱:۱۳۶۰ء۸

۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کی دہائی میں چین کی اسلحے کی برآمدات میں افریقی ممالک کا حصہ ۱۵ فی صد تھا۔لیکن خطے میں چین کااثر ورسوخ بڑھنے کے بعد اس میں اضافہ ہو ا ہے۔ ۲۰۰۸ء کے بعد سے افریقی ممالک نے تقریباََ ۳ ؍ارب ڈالر کا اسلحہ چین سے خریدا جو کہ چین کی ہتھیاروں کی برآمدات کا ۲۱ فیصدہے۔ افریقا میں چین کے اسلحے کی برآمدات کا ۴۲ فیصد حصہ شمالی افریقا کے ممالک ،۲۹ فی صدمشرقی افریقا کے ممالک اور باقی ۲۹ فی صددیگر افریقی ممالک کو جاتا ہے۔

اس طرح کی نسبتاََ پھیلی ہوئی منڈی اسلحہ فروخت کرنے والے بڑے ممالک کے لیے غیر معمولی بات ہے۔امریکا نے پچھلی ایک دہائی میں ۹ء۴ ؍ارب ڈالر کا اسلحہ افریقا برآمد کیا، جس میں سے ۸۷ فی صد صرف مصر اور مراکش نے ہی خرید لیا۔ اسی عرصے میں الجیریا اور مصر نے افریقا برآمد کیے گئے روسی اسلحے کا ۸۴ فی صد اسلحہ خریدا۔گزشتہ ایک دہائی میں افریقی ممالک کو روس ۴ء۱۲ ؍ارب ڈالر، امریکا ۹ء۴ ؍ارب ڈالر اور چین تقریباََ ۳ ؍ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کر چکے ہیں ۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چینی اسلحہ اگرچہ دیگر ممالک کے ہتھیاروں کے مقابلے میں کم درجے کا ہوتا ہے لیکن یہ اپنی کم قیمت کی وجہ سے مقبول ہو رہے ہیں۔ چینی محکمہ دفاع کے مطابق چینی ساختہ اسلحہ قیمت میں دیگر ممالک کے اسلحے سے کم ہونے کے باوجود جدید خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر افریقا میں موجود تربیتی طیاروں کا ۸۰ فی صد کم قیمت K-8تربیتی طیاروں پر مشتمل ہے۔

چین الجیریا جیسی منڈی میں اپنے قدم جمانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔الجیریا کو چینی برآمدات کا حجم ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۴ء تک۴۸۳ملین ڈالر رہا لیکن صرف ۲۰۱۵ء میں ہی یہ ۲۴۷ ملین ڈالر تک پہنچ گیااور ۲۰۱۶ء میں ۴۹۹ ملین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔اس خریداری میں  C-28A۳ بحری جنگی جہاز بھی شامل تھے جن کی خریداری کا معاہدہ ۲۰۱۲ء میں ہوا تھا۔

چین نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے داخلی قوانین اور پالیسیوں کو تبدیل کرنے میں کامیاب رہا۔جس کی وجہ سے چین نے دیگر اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک کی جانب سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کیا۔امریکا جو کہ ڈرونز کی تیاری میں سب سے آگے ہے،اِن کی برآمدات کو محدود کیے ہوئے ہے۔امریکی قوانین کے مطابق یہ ڈرونز جو کروز میزائل جیسی خصوصیات کے حامل ہیں،اس وجہ سے ان کی برآمدات محدود ہے ۔ان عوامل کی وجہ سے چین کو اپنے ڈرونز فروخت کرنے کا موقع ملا اور وہ نائیجیریا اور مصر جیسے ممالک کو ڈرونز فروخت کرنے کی پیشکش کر چکا ہے۔

یہ بات بھی غور طلب ہے کہ چینی ساختہ اسلحہ کئی شورش زدہ علاقوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اسلحہ کانگو، آئیوری کوسٹ،سوڈان اور صومالیہ میں جاری کشیدگی میں استعمال ہوا۔ جوالائی ۲۰۱۴ء میں China North Industries Corporation نے جنوبی سوڈان کی حکومت کو ۱۰۰ گائیڈڈ میزائل، ۹ ہزار سے زیادہ خود کار رائفلیں اور ۲۴ ملین گولیاں فراہم کیں۔تاہم جنوبی سوڈان کی حکومت کے اقدامات عالمی برادری کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔

گزشتہ دس سالوں میں امریکا میں چینی اسلحے کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔۲۰۰۸ ء میں چین نے مغربی ممالک کو صرف ۴۱ ملین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا ۔یہ اعداد ۲۰۱۵ء میں ۱۷۸ ملین ڈالر تک پہنچ گئے ۔لیکن ۲۰۱۶ء میں یہ صرف ۳۶ ملین ڈالر رہ گئے۔ چین نے ۲۰۱۷ ء کے دوران اس خطے میں ہتھیار فروخت نہیں کیے۔شمالی اور جنوبی امریکا کی اسلحے کی کل درآمدات میں سب سے بڑا حصہ( ۱۹ فی صد)امریکی اسلحے کا ہے، دوسرے نمبر پر روس (۱۴ فی صد) اور تیسرے نمبر پر جرمنی (۱۲ فی صد) ہیں۔چین کے روایتی ہتھیار اس درآمدات کا صرف ۳ فی صد ہیں۔

خطے میں چین کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ (۸۷.۴ فیصد) صرف وینزویلابھیجا جاتا ہے۔چین نے وینزویلا کو ۲۰۱۰ ء میں ۱۸ K-8 تربیتی طیارے، ۲۰۱۲ ء میں ۱۲۱ VN-4 بکتر بند گاڑیاں اور ۲۰۱۷ء میں نامعلوم تعداد میں C-802 میزائل فروخت کیے۔

۲۰۰۸ء تا۲۰۱۷ء شمالی و جنوبی امریکا میں چینی اسلحے کے پانچ بڑے خریدار

ملک برآمدات
(ملین ڈالر)
فی صد
وینزویلا ۵۹۲ ۸۷
بولیویا ۴۵ ۷
ٹرینیڈا ڈوٹوباگو ۱۶ ۲
پیرو ۱۵ ۲
ایکواڈور ۸ ۱

یورپ کو چینی اسلحے کی برآمدات صرف ۱۶ ملین ڈالر کی ہے ۔اس کے بر عکس چین کی اسلحے کی کل درآمدات (۸ء۱۲ بلین ڈالر) کا تقریباً ۹۹ فی صد حصہ یورپ سے آتا ہے۔ اس رجحان کی وجہ روس ہے جو چین کو اس کے بیرونی اسلحہ کی کل خریداری کا ۶۷ فی صد فراہم کرتا ہے۔لیکن اب یہ رجحان تبدیل ہو رہا ہے۔۲۰۰۶ء تک چین کو روسی ہتھیاروں کی فروخت اوسطاََ ۵ء۲؍ارب ڈالر رہی لیکن گزشتہ چند سالوں میں یہ صرف ۹۰۰ ملین ڈالر رہ گئی ہے۔

غیر ملکی ہتھیاروں کی خریداری میں کمی آنا چین کی ملکی سطح پر اسلحہ سازی کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا مظہر ہے۔جس کا ثبوت جدید ٹیکنالوجی کی ریورس انجینئرنگ کے ذریعے J-11ہوائی جہاز اور HQ- 9 میزائل کی تیاری ہے ۔ چین کی معاشی ترقی بھی اس سلسلے میں مدد گار ثابت ہوئی۔چین امریکا کے بعد ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر سب سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔

چین کی اسلحہ درآمد کر نے کی پالیسی تبدیل ہورہی ہے۔ماضی میں چین مکمل wepon system خریدا کرتا تھا لیکن اب وہ صرف کچھ خاص پرزے خریدتا ہے اور انھیں اپنے ملک میں تیار کردہ ہتھیاروں میں استعمال کرتا ہے۔۲۰۱۲ء سے ۲۰۱۶ء کے درمیان چین نے روس سے جنگی جہازوں کے ۴۲۰ انجن اور ۴ SU-35 جہاز خریدے، یہ ماضی میں ہونے والی اس خریداری کا بالکل بر عکس ہے کہ جب ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۱ء کے درمیان چین نے روس سے ۷۹ مکمل ہوائی جہاز اور صرف ۴ انجن خریدے تھے۔

چین کی روس سے جنگی جہازوں اور انجنوں کی خریداری

سال جنگی جہاز جہازوں کے انجن
۲۰۱۲ ء تا ۲۰۱۶ء ۴ ۴۲۴
۲۰۰۷ ء تا ۲۰۱۱ء ۱۱ ۲۰۲
۲۰۰۲ء تا ۲۰۰۶ء ۱۴۵ ۷۰
۱۹۹۷ ء تا ۲۰۰۱ء ۷۹ ۴
۱۹۹۲ ء تا ۱۹۹۶ء ۴۵
۱۹۸۷ء تا۱۹۹۱ء ۳

یوکرین بھی چین کوانجن اور اس طرح کے دیگر ضروری پرزے فراہم کرتا ہے۔۲۰۱۱ء میں چین نے یوکرین سے ہوائی جہازوں کے لیے ۲۵۰ ٹربوفین اور فوجی ٹینکوں کے لیے۵۰ انجن خریدے۔چین فرانس سے بھی اپنے بحری جہازوں کے لیے 16PC2.5 اور 12PC6 انجن خرید رہا ہے۔کچھ ایسے اشارے بھی موجود ہیں کہ چین فرانس سے غیر فوجی ہیلی کاپٹروں کے انجن خرید کر انھیں فوجی استعمال میں لانا چاہتا ہے۔

(ترجمہ و تلخیص: محمد عمید فاروقی)

“How dominant is China in the global arms trade?” (“chinapower.csis.org”. April 30, 2018)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*