چین کے خلاف چُنی جانے والی دیوار

چین کی ابھرتی ہوئی قوت اگر کسی سے نہیں دیکھی جارہی تو وہ بھارت ہے۔ اِدھر چین چاہتا ہے کہ ایشیا کو کسی نہ کسی طور ایک بھرپور بلاک کی شکل میں عالمی معیشت کے بڑے عنصر کے طور پر سامنے لائے اور دوسری طرف نئی دہلی کے پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ چین کی قوت میں اضافے کی رفتار روکی جائے۔ سوال چین کی ترقی روکنے کا ہے مگر اِس کے نتیجے میں خود بھارتی ترقی بھی متاثر ہوسکتی ہے مگر فی الحال اس کا خیال کسی کو نہیں۔

بھارت نے جنوب مشرقی ایشیا کے چند ممالک کے ساتھ مل کر چین کے خلاف اتحاد بنانے کی سمت پیش قدمی شروع کردی ہے۔ سنگا پور کے ساتھ حالیہ فوجی مشقیں اِسی سلسلے کی ایک کڑی تھیں۔ آئیے، دیکھیں کہ اس وقت بھارتی قیادت چین کے خلاف کس حد تک جانا چاہتی ہے اور کیا کرنا چاہتی ہے۔ علاقائی سطح پر اتحاد کے لیے کی جانے والی کوششیں چین کا راستہ روکنے سے متعلق ہیں۔

چین کی تیزی سے پنپتی ہوئی معیشت اور اسٹریٹجک حوالے سے اس کی کوششیں ایشیا کی کئی اقوام کو پریشانی سے دوچار کر رہی ہیں۔ وہ چین کی بڑھتی ہوئی قوت کا سامنا کرنے کے قابل ہونے کے لیے اتحاد کی راہ پر گامزن ہیں۔ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا سے تعلق رکھنے والے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت و سیاست میں چین کی مستحکم ہوتی ہوئی پوزیشن متعدد ممالک کے لیے پریشانی کا سامان کر رہی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ کسی نہ کسی طور چین کو contain کرنے کے حوالے سے کوششوں کا آغاز کیا جائے۔ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چین کا سامنا کرنے کے لیے امریکا پر سپر پاور کے طور پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ چین کی بڑھتی ہوئی قوت کا سامنا کرنے کے لیے متعدد ممالک امریکا اور یورپ پر انحصار کیے ہوئے تھے مگر اب انہیں اندازہ ہوچلا ہے کہ ان دونوں خطوں کے اپنے مسائل ہیں اور اندرونی سطح پر بھی شدید کشمکش پائی جاتی ہے اس لیے ان پر زیادہ بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔

بھارت، جاپان، ویتنام اور آسٹریلیا خاصی خاموشی سے آپس میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔ دفاعی امور کے حوالے اشتراکِ عمل کی بنیادیں وسیع اور مضبوط کی جارہی ہیں مگر یہ سب کچھ اس احتیاط کے ساتھ کیا جارہا ہے کہ چین کو بُرا نہ لگے۔ کسی رسمی اتحاد کی بات فی الحال کوئی نہیں کر رہا۔

ایشیا و بحرالکاہل کے خطے کے مرکزی سیکورٹی فورم ’’شینگری لا ڈائیلاگ‘‘ کا افتتاح کرتے ہوئے آسٹریلیا کے وزیر میلکم ٹرن بُل نے کہا کہ آج کی جری دنیا میں ہم اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے بڑی طاقتوں پر انحصار پذیر نہیں رہ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی سلامتی اور خوشحالی یقینی بنانا خود ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دوستوں اور پارٹنرز کے ساتھ اجتماعی قیادت کے بوجھ کو بانٹنے سے قوت بڑھتی ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم کے یہ الفاظ اتوار ۴ جون کو ختم ہونے والی تین روزہ کانفرنس کے دوران گونجتے رہے اور ان پر تبادلۂ خیال کیا جاتا رہا۔

ایشیا و بحرالکاہل کے خطے سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام اور تجزیہ کاروں نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت کام کرنے والی انتظامیہ کے حوالے سے اور ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ سے امریکا کے الگ ہو جانے پر بداعتمادی کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ رہی سہی کسر ماحول سے متعلق پیرس معاہدے سے امریکا کی علیحدگی نے پوری کردی۔ ایشیا و بحرالکاہل کے خطے میں بہت سوں کو یہ اندیشہ لاحق ہے کہ امریکا خطے کی سلامتی کے حوالے سے اپنے روایتی کردار پر نظرثانی کرتے ہوئے خود کو معاملات سے الگ کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں اس خطے کے لیے سیکورٹی کا معاملہ خطرناک اور پریشان کن صورت اختیار کرجائے گا۔

امریکا فوری طور پر کوئی ایسا تاثر نہیں دینا چاہتا کہ وہ بحرالکاہل کے خطے سے یکسر لاتعلق ہوچکا ہے۔ سنگاپور فورم میں امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے کہا کہ امریکا اب بھی ایشیا و بحرالکاہل کے خطے کی سیکورٹی کو اپنی ذمہ داری کے طور پر دیکھتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا بحیرۂ جنوبی چین کے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے غافل نہیں رہے گا۔

ایشیا و بحرالکاہل کے خطے سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام اور تجزیہ کار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متلوّن مزاجی سے پریشان ہیں۔ اپریل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد انہیں سراہا تھا۔ بہت سے تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ امریکا کا کوئی بھی فیصلہ چین سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے گا۔ ایشیا سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ فوجی افسر کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں جیمز میٹس پر تو بھروسہ ہے اور یو ایس پیسفک کمانڈر ہیری ہیرس پر بھی ہمارا بھروسہ ہے مگر اعلیٰ ترین سطح پر اس معاملے میں اعتماد متزلزل ہوا جارہا ہے۔ ہمارے خوف کی بنیاد یہ حقیقت ہے کہ چین کے سامنے اگر کوئی سرخ لکیر کھینچ سکتا ہے تو وہ صرف امریکا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ امریکی قیادت معاملات میں خاطر خواہ دلچسپی لیتی دکھائی نہیں دے رہی‘‘۔

امریکا کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں چاہتا، یہ کچھ کھلتا نہیں۔ معاملات تذبذب اور اسرار کے پردوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ملائیشیا کے وزیر دفاع ہشام الدین حسین کہتے ہیں کہ ’’ایشیا اب تک یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس خطے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کیا ہے۔ ہم بالکل واضح طور پر جاننا چاہتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کیا چاہتی ہے، اس کے عزائم کیا ہیں‘‘۔

سنگاپور کے وزیر اعظم نیگ اینگ ہین کہتے ہیں کہ پارٹنرز کے درمیان اشتراکِ عمل بڑھتا جارہا ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ انہوں نے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کے خیالات کا بھی خیرمقدم کیا۔ ایک پریس کانفرنس میں نیگ اینگ ہین نے کہا کہ ہر ملک اپنے حالات کے مطابق پالیسیوں میں تبدیلیاں لاتا ہے اور ایسا کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی ملک اس بات کو کسی حالت میں پسند نہیں کرتا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے ہاتھوں کسی الجھن سے دوچار ہو۔

آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ، ملائیشیا اور سنگاپور مل کر عسکری اتحاد تشکیل دینے کی راہ پر گامزن ہیں۔ اس حوالے سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ پانچ ملکی دفاعی اتحاد آگے چل کر وسیع البنیاد عسکری اتحاد میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ پانچوں نے طے کیا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے اور بحری حدود کے موثر دفاع کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ وہ ایک دوسرے سے دیگر بہت سے معاملات میں بھی تعاون کریں گے۔ علاقائی سلامتی سے متعلق امور کے ایک ماہر ٹیم ہکسلے نے ایک اخباری مضمون میں لکھا ہے کہ ان پانچوں ممالک کو تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور طاقت کے توازن کی تبدیلی کے دور میں اپنی آپریشنل صلاحیتیں بڑھانا ہیں۔ اس کے لیے اشتراکِ عمل ناگزیر ہے۔ ٹم ہکسلے نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایک طرف چین مالی اعتبار سے انتہائی مستحکم اور اپنی بات منوانے کے حوالے سے خاصا جارح مزاج ہوتا جارہا ہے اور دوسری طرف امریکا ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے ہاتھوں غیر یقینی حالات کے جال میں پھنستا جارہا ہے۔ ہکسلے کے بقول ایشیا و بحرالکاہل کے خطے کے بیشتر ممالک شدید غیر یقینیت کا شکار ہیں۔ وہ اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لیے امریکا یا یورپ کی طرف دیکھنے کی پوزیشن میں نہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ امریکی قیادت اس وقت تذبذب کا شکار ہے۔ ایسے میں کوئی بھی اونچ نیچ ہوگئی تو پورا خطہ عدم توازن کی نذر ہو جائے گا۔ ایسے میں بہترین آپشن یہی ہے کہ عسکری سطح پر اپنی آپریشن صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جائے اور پارٹنرشپ کے ذریعے علاقائی ممالک سے تعاون کا دائرہ وسیع کیا جائے۔

بھارت نے شینگری لا فورم میں اپنا کوئی وفد نہیں بھیجا مگر وہ اس خطے میں اپنی موجودگی ثابت کرنے کے حوالے سے غیر معمولی حد تک فعال رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ بحر ہند کے خطے میں اس کے مفادات کسی بھی سطح پر، کسی بھی حال میں متاثر نہ ہوں۔ اس نے مئی میں سنگاپور کے ساتھ بحری مشقیں کیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ویت نام سے عسکری سطح کے تعلقات کو وسعت دینے کے لیے بھی بے تاب ہے۔ گزشتہ ماہ سنگاپور میں منعقدہ انٹر نیشنل میری ٹائم ڈیفنس ایگزیبیشن میں متعدد بھارتی کمپنیوں نے بھی حصہ لیا۔ ان میں سے چند ایک کمپنیاں کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی تیار کرتی ہیں۔

بھارت نے گزشتہ ماہ امریکا اور جاپان کے ساتھ مالابار فوجی مشقوں میں حصہ لینے کی آسٹریلوی دعوت مسترد کردی تھی کیونکہ وہ فی الحال چین کو ناراض کرنے کے موڈ میں نہیں۔ چین نے بھارت کو واضح انتباہ کر رکھا ہے کہ اسے بحری مشقوں اور ہتھیاروں کی نمائش کے حوالے سے چند حدود و قیود کا خیال رکھنا ہوگا۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بھارتی قیادت چین کے خوف سے بین الریاستی معاہدوں کو نظر انداز کردے گا۔ بھارت کے آسٹریلیا، سنگاپور اور ویت نام سے دو طرفہ دفاعی معاہدے ہیں جن کی حدود میں رہتے ہوئے دفاعی اشتراکِ عمل بڑھتا جائے گا اور یوں یہ تمام ممالک ایک پیج پر آتے جائیں گے۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“How India, other Asian nations plan to counter an assertive China”. (“Reuters”. June 5, 2017)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*