Abd Add
 

رومن کیتھولک چرچ پاپائے اعظم (Pope) کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

VATICAN CITY

دنیا بھر میں نصف سے زائد مسیحی آبادی، رومن کیتھولک چرچ سے وابستہ ہے۔ ان کا مرکز اٹلی کے شہر روم میں واقع ’’ویٹی کن سٹی‘‘ (Vatican City) ہے، جسے ۱۱فروری ۱۹۲۹ء کو اٹلی کے آمر مطلق بینیٹو مسولینی نے الگ ریاست کا درجہ دے دیا تھا۔ ویٹی کن کا کُل رقبہ ۱۱۰؍ایکڑ اور آبادی آٹھ سو سے کچھ زیادہ ہے۔ اس کی سرکاری زبان اطالوی اور مذہبی زبان لاطینی ہے۔ ویٹی کن سٹی اور Holy See دو الگ الگ حیثیتیں رکھنے والے وجود ہیں۔ ویٹی کن سٹی آزاد ریاست ہے اور Holy See ریاست نہیں، مذہبی ادارہ ہے جو ویٹی کن سٹی میں ہی موجود ہے۔

’’ویٹی کن سٹی‘‘ گویا شہر ہی نہیں، ایک ریاست بھی ہے اور دنیا بھر کی اکثریتی مسیحی آبادی کا مقدس ترین مرکز بھی۔ اس مرکز اور ریاست کا سربراہ پاپائے اعظم (POPE) کہلاتا ہے، یعنی سب سے بڑا پادری۔ عیسائی مذہب کو ماننے والوں کے دعوے کے مطابق پہلے ’’پاپائے اعظم‘‘ حواری، پطرس (St.Peter) تھے، جنہیں خود حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے مقرر فرمایا تھا۔ بعد میں کسی وقت اس منصب پر تقرر بذریعہ انتخاب کا طریقہ رائج ہو گیا۔ حالیہ دنوں میں رومن چرچ کے ۲۶۵ویں پاپائے اعظم بینی ڈِکٹ XVI نے ۸۵ سال کی عمر میں، ازخود معذرت کرلی، جو رومن چرچ کی سابقہ ۶۰۰ سالہ تاریخ کا پہلا واقعہ ہے۔

مستعفی پوپ کی جگہ لینے کے لیے حال ہی میں نئے پوپ (۲۶۶ویں) کا انتخاب عمل میں آگیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار جنوبی امریکا سے کوئی پوپ منتخب ہوا ہے۔ ورنہ پچھلے ہزار سال میں منتخب ہونے والے ہر پوپ کا تعلق یورپ سے رہا ہے۔ ۱۳؍مارچ ۲۰۱۳ء کو تمام اندازوں اور قیاسات کے برعکس، ایک غیرمعروف پادری، ارجنٹائن کے بشپ (سب سے بڑے پادری)، ۷۶ سالہ کارڈینل جارج ماریو برگوگلیو کو ۲۶۶واں پوپ منتخب کر لیا گیا ہے۔ ان کا پاپائی نام (Papal Name) فرانسس اول (Francis-I) ہوگا اور وہ دنیا بھر کے ایک ارب بیس کروڑ کیتھولک عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی قائد ہوں گے۔

پوپ کے انتخاب کا طریقہ بڑا دلچسپ ہے، ملاحظہ فرمایئے:

۱۔ تمام سینئر پادری (Cordinals) ویٹی کن کے مرکزی چرچ ہال (Sistine Chapel) میں جمع ہو جاتے ہیں۔ باہر سے ہال کو تالا لگا دیا جاتا ہے۔

۲۔ ووٹ دینے کے اہل یہ پادری (Cordinals) خفیہ رائے دہی سے اگلے پوپ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس وقت ایسے پادریوں (Cordinals) کی تعداد ۱۱۵ ہے۔ ان کی دو تہائی تعداد (۱۱۵ میں سے ۷۷) کے ووٹ لینے والا رومن کیتھولک چرچ کا اگلا پاپائے اعظم بنا۔ موجودہ ۱۱۵ پادریوں میں سے ۶۰ کا تعلق یورپ سے ہے، ۱۹ کا جنوبی امریکا سے، ۱۴ کا شمالی امریکا سے، ۱۱ کا افریقا سے، ۱۰ کا ایشیا اور ایک کا آسٹریلیا سے تعلق ہے۔ کارڈینلز کا تقرر خود پوپ کرتا ہے۔

۳۔ ہال میں ’’مقید‘‘ پادری سب سے پہلے حلف اٹھاتے ہیں کہ تمام امور خفیہ رہیں گے، کوئی فرد کسی بھی طریقے سے باہر کی دنیا سے رابطہ نہیں کرے گا، تاآں کہ پوپ کا چنائو عمل میں آجائے۔

۴۔ کارڈینل صاحبان میں سے تین، پرچہ ہائے رائے دہی (Votes) کی گنتی کے لیے چُنے جاتے ہیں، تین ہی کارڈینل، انتخاب کے اعداد و شمار چیک کرنے کے لیے مقرر ہوتے ہیں اور مزید تین کا تقرر، بہت زیادہ ضعیف یا بیمار پادریوں کو رائے دہی میں مدد فراہم کرنے کے لیے ہوتا ہے۔

۵۔ ہر کارڈینل، اپنی تحریر کو چُھپا کر اور بدل کر، کسی ایک فرد کا نام بیلٹ پیپر پر درج کرتا ہے۔ پرچہ کو دو تہہ دے کر قربان گاہ تک لے جاتا ہے۔ وہاں وہ مسیح سے عہد کرتا ہے اور اپنا ووٹ ایک پلیٹ میں رکھ کر اسے ایک بڑے صندوق میں گرا دیتا ہے۔

۶۔ اب تین شمار کنندہ پادری اپنا کام شروع کرتے ہیں۔ ایک پادری صندوق کو اس طرح ہلاتا ہے کہ بیلٹ گڈمڈ ہو جائیں۔ دوسرا پادری پرچے گن کر اطمینان کر لیتا ہے کہ ہال میں موجود تمام پادریوں نے اپنا ووٹ استعمال کر لیا ہے۔ پھر تیسرا کارڈینل ایک ایک بیلٹ پر موجود نام اونچی آواز میں پڑھتا جاتا ہے۔ یہ نام ایک کاغذ پر درج کرلیے جاتے ہیں۔

۷۔ پہلے روز ایک ہی بار رائے دہی کا عمل کیا جاتا ہے۔ اگر کسی فرد کو دو تہائی آرا نہ ملی ہوں، تو ووٹنگ اگلے روز تک کے لیے ملتوی کر دی جاتی ہے۔ اگلے روز پھر اسی طرح رائے دہی اور رائے شماری کا عمل دہرایا جاتا ہے۔ یہ عمل اُس وقت تک بار بار دہرایا جاتا ہے، جب تک کہ کسی ایک پادری کو دو تہائی ووٹ نہ مل جائیں۔ بعض اوقات کئی روز یا کئی ہفتے بھی لگ جاتے ہیں۔ لیکن ایک دن میں زیادہ سے زیادہ چار مرتبہ رائے دہی اور رائے شماری کی جاتی ہے۔ ۱۸۰۰ء میں Pius-VII کو ۱۰۵ دن بعد پوپ منتخب کیا جاسکا تھا۔ جبکہ ماضی قریب میں عموماً تین روز میں یہ چُنائو مکمل ہوتا رہا ہے۔ اس بار صرف دو دنوں میں پوپ کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

۸۔ جب کسی پادری کو مطلوبہ تعداد میں رائے مل جاتی ہے تو پادریوں کے ادارے کا رئیس (Dean of the College of Cordinals) اُس سے استفسار کرتا ہے کہ آیا وہ یہ عہدہ قبول کر رہا ہے؟ جس لمحے وہ ’’قبول ہے‘‘ کی آواز بلند کرتا ہے، اسی لمحے نیا پوپ مقرر ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے پاپائی نام (Papal Name) کا اعلان کرتا ہے، جو دنیا بھر کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے۔ نئے پوپ نے فرانسس کا نام اختیار کیا ہے۔

۹۔ پادریوں کے بیلٹ پیپرز ہر رائے شماری کے بعد جلا دیے جاتے ہیں۔ جلتے کاغذ کا دھواں، آتش دان کی چمنی سے باہر جاتا ہے۔ کسی کیمیائی مادّے سے اس کا رنگ سیاہ یا سفید بنایا جاتا ہے تاکہ باہر کی دنیا کو اندر ’’مقید‘‘ پادریوں کے فیصلے سے آگاہ کیا جاسکے۔ چمنی سے نکلنے والا دھواں اگر سیاہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی کسی کو دوتہائی اکثریت نہیں ملی ہے۔ پوپ کا چُنائو ہو جانے پر جو بیلٹ پیپرز جلائے جاتے ہیں، اس کا دھواں سفید ہوتا ہے، جسے دیکھ کر باہر منتظر لوگوں کو خبر ہو جاتی ہے کہ پاپائے اعظم کا تقرر عمل میں آگیا ہے۔ پھر کلیسائے اعظم کی گھنٹی بجائی جاتی ہے۔

۱۰۔ اس کے بعد نیا پوپ مخصوص پاپائی لباس پہن کر ویٹی کن سٹی کے سینٹ پیٹرز کلیسا کی بالکونی میں دیگر پادریوں کے ساتھ آجاتا ہے۔ باہر چوک میں ہزاروں منتظر مسیحی عقیدت مند، نئے پوپ کا پہلی بار دیدار کرتے اور نعرے لگاتے ہیں۔

۱۱۔ ہر پوپ کی مخصوص انگوٹھی ہوتی ہے، جو وہ اہم دستاویزات کی منظوری کے وقت بطور مہر بھی استعمال کرتاہے۔ پوپ کے مرنے یا مستعفی ہونے کی صورت میں وہ انگوٹھی بِلاتاخیر ضائع کر دی جاتی ہے، تاکہ بعد میں کسی دستاویز میں جعلسازی کا امکان نہ رہے۔

☼☼☼

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.