Abd Add
 

کیا دشمن فوج کا عزم و حوصلہ جانچنا ممکن ہے۔۔۔

جون ۲۰۱۴ء میں داعش کے تقریباً ڈیڑھ ہزار جنگجو ؤں نے عراقی شہر موصل پر حملہ کردیا۔شہر کی حفاظت پر مامور سرکاری فوجیوں کی تعداد ان جنگجوؤ ں سے پندرہ گنا زیادہ تھی۔ لڑائی کا نتیجہ شرمناک پسپائی کی صورت میں نکلا۔ لیکن یہ پسپائی داعش کے جنگجوؤں کی نہیں بلکہ سرکاری فوجیوں کی تھی۔اس پسپائی نے یہ بات ظاہر کردی کہ امریکا اس لڑائی کے نتیجے کی پیش بینی میں ناکام رہا۔امریکا کے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ کسی فوج میں موجود لڑنے کے جذبے (Will to Fight) کی پیش گوئی کرنانا ممکن ہے۔

دنیا کی عسکری تاریخ، افواج میں موجود لڑائی کے جذبے سے متعلق غلط قیاسات سے بھری پڑی ہے۔مثال کے طور پر ساٹھ اور ستّر کی دہائی میں ویت نام کی خانہ جنگی میں دخل اندازی سے پہلے امریکا نے وہاں کی نیشنل لبریشن فرنٹ کے جذبے کو بہت کم جانا۔ اسی طرح ۱۹۱۶ء میں ویرڈن کی جنگ کے دوران جرمنی نے بھی فرانسیسی فوج کے جذبے کو کم جانا۔ اس جنگ میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد دونوں جانب تین لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔

نیو یارک یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے بروس بوینو کہتے ہیں، جنگی حکمت عملی بناتے وقت دشمن کے جذبے کو جانچنا بہت ضروری ہوتا ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ اگر کسی کمزور حریف میں جنگ لڑنے کا حوصلہ اور جذبہ بلند ہو تو وہ دس میں سے چار جنگیں جیت سکتا ہے۔ سماجی علوم کے ماہرین نے افواج کے عزم و حوصلے کو جانچنے کا کام کمپیوٹر سے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔دفاعی منصوبہ ساز ایک عرصے سے افواج کی تعداد، ان کے زیر استعمال ہتھیار اور دیگر سازو سامان کا تجزیہ کر کے کسی بھی جنگ کے ممکنہ نتیجے تک پہنچتے تھے۔ اب اس پورے عمل میں فوجیوں کے عزم و حوصلے کو شامل کر کے اس بات کا بھی تجزیہ کیا جائے گا کہ آیا یہ فوجی ڈٹ کر لڑیں گے یا پھر میدانِ جنگ سے بھاگ جائیں گے۔

امریکی ریاست اریزونا میں واقع آرٹِس انٹرنیشنل Morale Research کے شعبے میں صفِ اول کے اداروں میں شامل ہے۔اسے امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے امداد بھی ملتی ہے۔ آرٹِس انٹرنیشنل نے عراق میں متحرک عسکری گروپوں کا حوصلہ جانچنے کے لیے ایک سروے کیا۔ اس سروے میں انھوں نے عراقی فوجیوں، سنّی ملیشیا کے جنگجوؤں، کُرد جنگجوؤں اور داعش کے گرفتار لوگوں کا انٹرویو کیا۔ ان افراد کا حوصلہ جانچنے کے لیے ان سے مختلف نوعیت کے سوال کیے گئے، جن میں سڑکوں پر احتجاج کرنے، مالی عطیات دینے، کسی شخص پر تشدد کرنے یا اسے قتل کرنے اورخود کش حملہ آور بننے سے لے کر اپنے خاندان کی قربانی دینے جیسے سوالات شامل تھے۔

شرکا کے جوابات سے محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ جن افراد کی نظر میں مادّی آسائش کی اہمیت کم تھی، وہی لوگ سب سے زیادہ قربانی دینے کے لیے تیار تھے۔اس کے بعد محققین ان شرکا کے ساتھ رہے تاکہ شرکا کے جوابات کا ان کے عمل سے موازنہ کیا جا سکے۔محققین نے یہ مشاہدہ کیا کہ شرکا کے جوابات اوران کی عملی زندگی میں تضاد نہیں تھا۔

اس تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ کس قسم کے نقصانات برداشت کرنے کے بعد کسی فوجی یونٹ کا حوصلہ ٹوٹتا ہے۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ کسی یونٹ کے ایک تہائی فوجیوں کے ہلاک ہونے کے بعد باقی ماندہ فوجی حوصلہ ہار جاتے ہیں، تاہم عراق میں کچھ کرد جنگجو اس سے کہیں زیادہ نقصانات برداشت کرنے کے بعد بھی منظم طریقے سے لڑتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

اس تحقیق کے حاصلات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ بلند عزم و حوصلے والے فوجیوں کی ترجیحات میں ان کا خاندان دوسرے یا تیسرے نمبر پر تھا جبکہ پہلے نمبر پر وہ نظریہ تھا جس کے لیے وہ لڑ رہے تھے۔ کرد جنگجوؤ ں کے لیے پہلی ترجیح ان کا وطن اور ثقافت تھی، اسی طرح داعش کے جنگجوؤں کے لیے ترجیح خلافت، شریعت اور پھر تیسرے نمبر پر ان کا خاندان تھی۔ تحقیق کے مطابق ان ترجیحات کے حامل جنگجو تب بھی لڑتے رہتے ہیں، جب ان کے ہر دس میں سے سات ساتھی ہلاک ہو گئے ہوں۔

آرٹس انٹرنیشنل کے تقریباً ۴۵ سائنس دانوں نے اپنے اس کام کو ۲۱ ممالک تک پھیلا دیا ہے۔ ان کی تحقیقات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ایک ویڈیو گیم میں ڈالا جاتا ہے جس میں فرضی جنگیں ترتیب دی جاتی ہیں۔ اس ویڈیو گیم کو ایسے کیڈٹ کھیلتے ہیں جنھوں نے اب تک حقیقی جنگ کا سامنا نہیں کیا ہوتا۔ اس تجربے سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ فوجیوں کے رویے پر ان کا تجربہ، جنس، عمر اور دیگر عوامل کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔

(ترجمہ: محمد عمید فاروقی)

“How to forecast armies’ will to fight”.(“The Economist”. September 9, 2020)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.