Abd Add
 

کوالالمپور سمٹ: ڈاکٹر مہاتیر محمد کاافتتاحی خطاب

سب سے پہلے میں مسلم قائدین اور اسکالرز اور ان کے پیروکاروں کی اس سمٹ میٹنگ میں آپ کی موجودگی کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

میں اس سربراہی اجلاس کے مقاصد کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہتا ہوں، ہم یہاں مذہب کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کے لیے نہیں بلکہ مسلم دنیا میں اُمور کی صورتحال پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ مسلمان، ان کے مذہب اور ان کے ممالک بحران کی حالت میں ہیں۔ ہم جہاں بھی مسلمان ممالک کو تباہ ہوتے دیکھتے ہیں، ان کے شہری اپنے ممالک سے بھاگنے اور غیر مسلم ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں لڑائی کے دوران ہی مر جاتے ہیں اور بہت سے افراد کو سیاسی پناہ دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔

دوسری طرف ہم مسلمان متشدد کارروائیوں کا ارتکاب کرتے ہوئے، بے گناہ متاثرین مرد، خواتین، بچوں، بیماروں اور معذور افراد کو ہلاک کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ کام اس لیے کیا ہے کہ ان کے اپنے ممالک ان کو سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہیں یا دوسروں کے قبضے والی اراضی پر قبضہ کرنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ مایوس اور ناراض، وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی طرح پُرتشدد ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ بدلہ لیتے ہیں لیکن وہ جو بھی کام کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہی مذہب اسلام کو بدنام کریں۔ انہوں نے اپنے عمل سے خوف پیدا کیا ہے، اور اب اس اسلامو فوبیا، اسلام کے اس بلاجواز خوف نے ہمارے مذہب کو دنیا کی نظر میں بدنام کر دیا ہے۔ لیکن ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ خوف کس طرح پیدا ہوتا ہے، چاہے یہ سچ ہے یا محض ہمارے مخالفین کا پروپیگنڈا ہے یا دونوں کا مجموعہ۔

پھر ہمیں خانہ جنگیوں اور ناکام حکومتوں سے نمٹنا ہے، جنہوں نے امتِ مسلمہ کو تباہی سے دوچار کیا ہے، ان کو ختم کرنے، کم کرنے یا مذہب کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔ ہاں اسلام، مسلمان اور ان کے ممالک بحران کی حالت میں ہیں، بے بس اور اس عظیم مذہب سے ناواقف ہیں جس کا مقصد بنی نوع انسان کے لیے بھلائی ہے۔

ان وجوہات کی بنا پر سمٹ میٹنگ کا اہتمام کیا گیا ہے کہ کم سے کم اپنی گفتگو کے ذریعے ہمیں معلوم ہو سکے کہ کیا غلط ہوا ہے۔ اگرچہ عالم اسلام کو بیدار کرنے کے لیے ان تباہیوں کا خاتمہ نہ کیا گیا، تاہم اس کا حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔ امت کو مسائل اور ان کے اسباب کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے، جو درپیش آفات سے نمٹنے یا اس کے خاتمے کے راستے پر روشنی ڈال سکتا ہے۔

ہم نے دیکھا ہے کہ دوسری عالمی جنگ سے تباہ حال دیگر ممالک نہ صرف تیزی سے ترقی کر رہے ہیں بلکہ ترقی پذیر ہونے کے لیے مضبوطی سے بڑھ رہے ہیں، لیکن کچھ مسلمان ممالک اچھی طرزِ حکمرانی سے قاصر نظر آتے ہیں، ترقی یافتہ اور خوشحالی کے امکانات کم ہیں۔

کیا اسلام دنیاوی کامیابی اور ترقی یافتہ ملک بننے کے خلاف ہے؟ یا یہ خود مسلمان ہیں جو اپنے ممالک کو ترقی یافتہ ہونے سے روکتے ہیں۔

ان امور پر ریاست کے اعلیٰ سطح پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، لیکن اس کے لیے صرف چند ممالک ہی شامل ہوں گے۔ پوری دنیا کے مسلم ممالک کو سنبھالنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ یہ ناجائز ہوگا کہ فیصلے کیے جاتے ہیں اور تجویز کردہ حل قابل عمل نہیں ہوسکتے ہیں۔

ہم کسی کو امتیازی سلوک یا الگ تھلگ نہیں کر رہے ہیں، ہم شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر یہ نظریات، تجاویز اور حل قابل قبول ہیں اور قابل عمل ثابت ہوتے ہیں تو ہم امید کرتے ہیں کہ اس پر غور وفکر کے لیے بڑے پلیٹ فارم تک لے جائیں۔ اس کے باوجود ہم نے تقریباً تمام مسلم اقوام کو بھی مختلف سطح پر اس سمٹ میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

ہم ممتاز شرکا کے خیالات اور دانشمندی کو سننے کے منتظر ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اس سربراہی اجلاس کے ذریعے ہم اپنے مسائل حل کرنے کی طرف تھوڑا آگے بڑھیں۔

اللہ تعالیٰ اس شان کو بحال کرنے کی اس چھوٹی سی کوشش میں ہمیں کامیابی سے نوازے، جو ہمارے دین ’اسلام‘ کی حیثیت سے پیش کی جاتی تھی۔ آمین!

(بحوالہ: ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ۔ جنوری ۲۰۲۰ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.