بھارت میں ابتدائی تعلیم

بھارت میں ابتدائی تعلیم کا معیار ہر دور میں غیر تسلی بخش رہا ہے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی اس حوالے سے اس قدر مایوس تھے کہ جب کبھی ان کے سامنے ابتدائی تعلیم کا ڈھانچا اور معیار بہتر بنانے کی بات کی گئی وہ انتہائی مایوسی کے عالم میں یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ کم از کم سو سال میں تو بھارت اس قابل نہیں ہو پائے گا کہ ابتدائی تعلیم کا وہ معیار یقینی بنائے جو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ۱۹۳۱ء میں جب گاندھی کے سامنے بھارت کی ابتدائی تعلیم کا معیار بلند کرنے کے لیے مختلف تجاویز رکھی گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے لیے اس حوالے سے اپنی تمام زنجیریں توڑنا انتہائی دشوار ہے۔ اس کے لیے بہت بڑی قربانیاں درکار ہوں گی۔

۱۹۸۰ء کے بعد سے بھارت میں اسکول کی تعلیم سے محروم بچوں کا تناسب ۵۰ فیصد سے گھٹ کر اب صرف ۱۰ فیصد رہ گیا ہے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ان تین عشروں کے دوران کم و بیش ۲۶ کروڑ بچوں کو اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کی پوزیشن میں پہنچادیا گیا ہے۔ یہ بہت خوش آئند بات سہی مگر حقیقت یہ ہے کہ ان بچوں کو بہتر تعلیم دے پانا اب تک ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ بچوں کو اسکول تک لانا بھی بڑی کامیابی ہے مگر اس سے بڑی کامیابی یہ ہوگی کہ ان کی زندگی میں بنیادی نوعیت کی مثبت تبدیلیاں یقینی بنانے والی تعلیم بھی ان کے حصے میں آئے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا (تعداد کے لحاظ سے) اسکول سسٹم خراب ترین سسٹم میں سے ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں دنیا بھر میں بھارت کے تیار کردہ نالج ورکر کام کر رہے ہیں۔ بھارت کے ڈاکٹر اور انجینئر دنیا بھر میں نمایاں انداز سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر یہ لوگ تو اپنی محنت سے کچھ بن پائے ہیں۔ اسکول سسٹم جو کچھ دے رہا ہے وہ تو بہت پست معیار ہے۔ اس وقت بھارت بھر میں نو سال کی عمر کے نصف بچے حساب کا معمولی سا سوال بھی حل نہیں کرسکتے۔ تامل ناڈو اور ہماچل پردیش میں ۱۵ سال کی عمر کے لڑکے تعلیم کے معاملے میں چینی بچوں سے کم و بیش پانچ سال پیچھے ہیں۔ اگر بھارت کی ان دونوں ریاستوں کے ۱۵ سالہ لڑکوں کو امریکا بھیجا جائے تو وہ کلاس میں سب سے نچلے ۲فیصد لڑکوں میں شمار ہوں گے۔ بھارت کی آبادی میں لڑکوں کا تناسب ۱۳ فیصد ہے۔ چین میں یہ تناسب ۸ فیصد اور یورپ میں ۷ فیصد ہے۔ بھارت اگر چاہے تو بہت کچھ حاصل کرسکتا ہے۔ نوجوانوں کی معقول تعداد سے فائدہ اسی وقت اٹھایا جاسکتا ہے، جب اسے بامقصد انداز سے تربیت فراہم کی جائے۔ بھارت کا اسکولنگ سسٹم اگر بہتر نہ ہوا تو نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد سے کسی بھی طور خاطر خواہ استفادہ نہ کیا جاسکے گا۔

بھارت میں اسکولنگ سسٹم پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ برطانوی راج کے دور میں تعلیمی نظام سرکاری نوکر تیار کرنے کے لیے تھا۔ آزادی کے بعد بھارت میں چند بڑے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں نے صنعتوں کے لیے انجینئر تیار کرنے کی خاطر اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو غیر معمولی فنڈ سے نوازا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ فنڈنگ نہیں کریں گے تو انہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت میسر نہیں ہوسکے گی۔ تائیوان، جنوبی کوریا اور دوسری بہت سی ابھرتی ہوئی ایشیائی معیشتوں نے اسکولنگ سسٹم پر خاطر خواہ توجہ دی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ افرادی قوت کو حقیقی معنوں میں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اسکول کی سطح پر بہتر تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جانا لازم ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت میں اسکول کی سطح پر فنڈنگ میں محض چار برس کے دوران ۸۰ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ ۱۹۹۱ء میں خواندگی کی شرح ۵۲ فیصد تھی۔ ۲۰۱۱ء میں یہ شرح ۷۴ فیصد تک پہنچ گئی۔ بھارت میں غریب طلبہ کو دوپہر کا کھانا بھی مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ اگر ان غریب بچوں کو دوپہر کا کھانا نہ ملے تو ان کی پڑھنے اور سیکھنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوگی۔

فنڈنگ تو بڑھ گئی ہے مگر معیار اب تک بلند نہیں ہوسکا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ابتدائی تعلیم فراہم کرنے کے لیے معیاری اساتذہ کی تیاری کا مرحلہ اب تک مشکلات کے مرحلے میں ہے۔ بھارت نے ابتدائی سطح کے بہترین اساتذہ تیار کرنے کا ایک پروگرام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت خصوصی ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔ ہر سال اس ٹیسٹ میں ناکام ہونے والے امیدواروں کا تناسب ۹۹ فیصد ہے! بھارت میں ابتدائی تعلیم کا ڈھانچا اب تک عشروں پرانا ہے۔ بچے اگلی جماعتوں کی طرف بڑھتے جاتے ہیں اور اساتذہ کو بظاہر اس بات سے کچھ غرض نہیں کہ وہ اپنا سبق ڈھنگ سے سمجھ پاتے بھی ہیں یا نہیں۔

اساتذہ کی انجمنیں بھی مزدور انجمنوں کی طرح خاصی طاقتور ہیں۔ بعض ریاستوں میں تو یہ سیاسی جماعتوں کے لیے ووٹ بینک ضمانت کا درجہ بھی رکھتی ہیں۔ ان طاقتور انجمنوں نے اساتذہ کی تنخواہ میں تو غیر معمولی اضافہ کیا ہے مگر اب تک تعلیم کا معیار بلند کرنے کے حوالے سے کچھ ایسا نہیں کیا جسے قابل ذکر قرار دیا جاسکے۔ بہت سے اساتذہ نوکری کے حصول کے لیے خاصی تگڑی رشوت دیتے ہیں۔ ایسے میں اُن سے اخلاص کی توقع رکھنا فضول ہوگا۔ وہ نوکری کو مال بٹورنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اِسی سوچ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

بھارت بھر میں نچلے طبقے کے والدین اپنی اولاد کو انگریزی میں مہارت حاصل کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کے گرتے ہوئے معیار کے باعث وہ اپنے بچوں کو کم لاگت کے نجی اسکولوں میں داخل کراتے ہیں اور یوں سرکاری اسکولوں پر اعتماد کا گراف گر رہا ہے۔ پانچ سال کے عرصے میں بھارت بھر کے نجی اسکولوں میں پرائمری کے اندراج میں ایک کروڑ ۷۰ لاکھ کا اضافہ ہوا ہے اور سرکاری اسکولوں میں ایک کروڑ ۳۰ لاکھ کی کمی آئی ہے۔ معاملات کس حد تک بگڑے ہوئے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایے کہ اترپردیش میں نجی اسکولوں میں پڑھانے کا رجحان اتنا زور پکڑ چکا ہے کہ بعض اسکولوں میں اندراج برائے نام رہ گیا ہے۔ کہیں کہیں تو درجن بھر طلبہ کے لیے نصف درجن اساتذہ بھی ہیں۔ اور اگر حکومت خالی ہوجانے والے سرکاری اسکولوں سے اساتذہ کو دوسرے، زیادہ اندراج والے اسکولوں میں تعینات کرنا چاہتی ہے تو احتجاج شروع کردیا جاتا ہے اور حکومت کو فیصلہ واپس لینا پڑتا ہے۔

بھارت میں ابتدائی تعلیم پر خام قومی پیداوار کا صرف ۷ء۲ فیصد خرچ کیا جاتا ہے جو کئی ممالک کے متعلقہ تناسب سے بہت کم ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ وہ ابتدائی تعلیم پر خرچ کیے جانے والے وسائل کو خام قومی پیداوار کا ۶ فیصد کرنا چاہتے ہیں۔ اگر منصوبہ بندی کے بغیر ایسا کیا گیا تو اضافی فنڈ صرف ضائع ہوں گے۔ سب سے پہلے تو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ نصاب آسان ہو تاکہ طلبہ جو کچھ پڑھیں وہ ان کی سمجھ میں بھی آئے۔ بچوں کو محض پاس کرکے اگلی جماعتوں تک پہنچادینا تعلیمی نظام کا بنیادی مقصد نہیں۔ انہیں بہتر زندگی کے لیے تیار کرنا اصل مقصد ہے، جو ہر حال میں حاصل کیا جانا چاہیے۔ روایتی طریقوں سے ہٹ کر بھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ مخیر افراد کی مدد سے بچوں کو بہتر تعلیم دینے کے لیے خصوصی پروگرام بھی تیار کیے جاسکتے ہیں۔

بچوں کو بہتر تعلیم اسی وقت دی جاسکتی ہے جب اساتذہ کو اہلیت (Merit) کی بنیاد پر بھرتی کیا جائے اور ان سے جواب طلبی بھی کی جائے۔ اگر محض تعلقات یا رشوت کی بنیاد پر کسی کو بھرتی کیا جائے گا تو اس سے بہتر کارکردگی کی توقع فضول ہے۔ رشوت دے کر معلم بننے والا نئی نسل کو بہتر مستقبل کے لیے تیار کر ہی نہیں سکتا۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ جو کچھ بھی بچوں کو پڑھایا جارہا ہے اُس کے بارے میں اساتذہ سے جواب طلبی بھی کی جانی چاہیے۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا تب تک ابتدائی تعلیم کا معیار بلند کیا ہی نہیں جاسکتا۔

اساتذہ کی بہتر تربیت کی جانی چاہیے تاکہ وہ نئی نسل کو بہتر انداز سے بہت کچھ سکھانے کی پوزیشن میں ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ اگر انہوں نے اچھا پڑھایا تو انعام ملے گا اور اچھی طرح نہ پڑھایا تو سزا دی جائے گی۔

تعلیم جیسے اہم معاملے کو بیورو کریٹک الجھنوں کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے کہ اگر کوئی غیر سرکاری تنظیم یا کوئی مخیر شخصیت بچوں کی تعلیم کا معیار بلند کرنے کے حوالے سے حکومت کی مدد کرنا چاہے تو اس کی راہ میں بیورو کریٹک بکھیڑے نہ ہوں۔

نریندر مودی ابتدائی تعلیم کا معیار بلند کرنا چاہتے ہیں تو ملک بھر میں پھیلی ہوئی اساتذہ انجمنوں سے بھی بہتر طور پر ڈیل کرنا ہوگا۔ یہ انجمنیں ہر حال میں معاملات کو جوں کا توں رکھنا چاہتی ہیں۔ اگر اس معاملے میں غیر دانش مندانہ روش اپنائی جائے تو محض خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ نریندر مودی کو اس معاملے میں بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ انہیں یہ بات یاد رکھنا ہوگی کہ وہ تمام معاملات پر متصرف نہیں ہوسکتے۔ ہر شعبے میں کچھ لوگ مافیا کا سا کردار ادا کرتے ہیں۔ ابتدائی تعلیم کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ جن کے مفادات کسی بڑے سرکاری فیصلے سے متاثر ہوتے ہیں وہ اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر کسی بھی حد تک جانے پر بضد رہتے ہیں۔

بھارت کے وزیراعظم اور کچھ یاد رکھیں یا نہ رکھیں، ایک بات انہیں ضرور یاد رکھنی چاہیے۔ اور وہ بات یہ ہے کہ بھارت کو حقیقی ترقی سے ہمکنار کرنے کے لیے لازم ہے کہ ابتدائی تعلیم کا ڈھانچا انیسویں صدی کا نہ ہو۔ ابتدائی تعلیم کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے کے لیے بھارتی قیادت کو انتھک محنت کرنا ہوگی۔ جن لوگوں کے مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں اُن سے نپٹنے کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“India has made primary education universal, but not good”. (“The Economist”. June 8, 2017)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*