بھارت پڑوسیوں سے بہتر تعلقات کا خواہاں!

بھارت کی قیادت کے لیے علاقائی سطح پر بہتر تعلقات استوار رکھنا آسان نہیں۔ ایک طرف پاکستان ہے اور دوسری طرف چین۔ چین کے عزائم سے بھارت ہمیشہ تشویش میں مبتلا رہا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں چین کا بڑھتا ہوا عمل دخل بھارت کی تسلط پسند پالیسی کی راہ میں دیوار ثابت ہوتا جارہا ہے۔ چین آبادی اور معاشی قوت میں بھارت سے کہیں آگے ہے۔ وہ ایک بڑی مارکیٹ ہے جسے امریکا اور یورپ نظر انداز نہیں کرسکتے۔ پاکستان بھی بھارتی عزائم کی راہ میں کسی حد تک دیوار ہے۔ ایسے میں بھارتی قیادت کے پاس یہی ایک راستہ رہ گیا ہے کہ سری لنکا، نیپال اور دیگر پڑوسیوں کو لبھانے کی کوشش کرے اور وہ یہی کر رہی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے سری لنکا کو یاد دلایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پرانے تہذیبی اور ثقافتی روابط ہیں۔ اور یہ کہ سری لنکا میں سیاحت کو فروغ دینے میں بھارت کا اہم کردار ہے۔ بھارت نے سری لنکا میں اچھی خاصی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ خانہ جنگی میں بے گھر ہونے والے ۵۰ ہزار تاملوں کے لیے بھارت نے ۳۰ کروڑ ڈالر دیے ہیں۔ اس رقم سے کلینوچی اور جافنا میں تامل باشندوں کے لیے مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔ بھارت کے ادارے سری لنکا میں بجلی گھر، ریلوے ٹریک اور دوسرا بہت سا انفرا اسٹرکچر تعمیر کر رہے ہیں۔

دو عشروں سے بھی زیادہ مدت جاری رہنے اور لاکھوں جانوں کا نذرانہ وصول کرنے والی خانہ جنگی میں بھارتی کردار کو سری لنکا کے لوگ اب بھولتے جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ حالات کے تقاضوں کے تحت ہے۔ بھارت سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے تو چین بھی میدان میں کود رہا ہے۔ جس طرح سری لنکن حکومت اور عوام خانہ جنگی میں بھارتی کردار بھول گئے ہیں بالکل اسی طرح بھارت بھی سری لنکا میں چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور سرمایہ کاری پر تشویش میں مبتلا نہیں۔ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کی بندرگاہ کو توسیع دینے کے منصوبے میں چین کا حصہ ۸۵ فیصد ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی سلامتی کے لیے سری لنکا کی سلامتی بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے سری لنکا کے لوگوں کو یہ یاد دلانے کی بھی کوشش کی ہے کہ ان کی سب سے زیادہ تجارت بھارت ہی کے ساتھ ہے۔

بھارت اپنے پڑوسیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اب وہ مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں اور چاہتا ہے کہ معاملات کسی بھی قسم کی مداخلت کے بغیر ہی درست کرلیے جائیں۔ گزشتہ ماہ مالدیپ میں ایک منتخب صدر کو ہٹادیا گیا مگر صدر محمد نشید کی مدد کے لیے بھارت نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جس سے اس پر مداخلت کا الزام عائد کیا جاتا۔

بھارت میں جو لوگ خارجہ پالیسی کے حوالے سے عقابی طریقہ اپنانے پر یقین رکھتے ہیں انہیں قیادت کی نیم دلی پر حیرت اور غصہ ہے۔ خارجہ پالیسی میں انتہا پسندی کو پسند کرنے والے تجزیہ کار برہما چیلانی کا کہنا ہے کہ مالدیپ کے معاملے میں بھارت نے کچھ بھی نہیں کیا۔ اگر عدم مداخلت کی پالیسی برقرار رہی تو علاقائی امور میں بھارت کا عمل دخل کم ہوتا جائے گا اور اس کی پوزیشن رفتہ رفتہ بے حد کمزور ہو جائے گی۔ خارجہ پالیسی کے میدان میں بھارت پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے۔ یہ حکمت عملی اسے زیادہ مضبوط پوزیشن بخش سکتی ہے۔ اگر پڑوسیوں کو یقین ہوگیا کہ وہ کسی کے معاملات میں مداخلت پر یقین نہیں رکھتا تو یقیناً اس پر اعتماد بڑھتا جائے گا۔

سری لنکا میں بھارت کے حوالے سے خاصی گرم جوشی پائی جاتی ہے۔ سری لنکا کے وزیر تجارت باسل راجا پکسا نے بھارت کی پالیسی کو سراہا ہے۔ سری لنکا کی معیشت ۷ فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ خطے میں بھارتی سرمایہ کاری کا نصف سری لنکا کو ملتا ہے۔ بھارت کی ہوٹل انڈسٹری اور دیگر شعبے سری لنکا کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں۔ سری لنکا میں تامل آبادی والے علاقوں میں بھارت صنعتی علاقے قائم کر رہا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دیا جارہا ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ سری لنکا کی معیشت کو اس حد تک مستحکم کردیا جائے کہ وہ خطے میں اس حوالے سے اہم کردار ادا کرے۔ باسل کا دوسرا بھائی گوتبایا راجا پکسا وزیر دفاع ہے۔ تیسرا بھائی صدر ہے۔ باسل نے حال ہی میں بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ اور بہار میں بدھ مت کے مقدس ترین مقامات کی زیارت کی ہے۔ سری لنکن کو اندازہ ہے کہ جس طرح ان پر بھارت مہربان ہو رہا ہے بالکل اسی طرح چین بھی نواز رہا ہے۔ وہ دونوں کو خوش رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک تو یہ اچھا بیلینسنگ ایکٹ ثابت ہوا ہے۔

بھارت جنوبی ایشیا میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ دوسروں پر عسکری دباؤ ڈالا جائے۔ دوسرا، نسبتاً کم نقصان دہ اور بہتر طریقہ معاشی قوت استعمال کرنے کا ہے۔ بھارت اب سری لنکا میں سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے تاکہ اس کے مفادات مستحکم اور محفوظ رہیں۔ کولمبو کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ڈشنی ویراکون کہتے ہیں کہ بھارت کی طرف سے کی جانے والی ہر پیشکش اس قدر پرکشش ہے کہ سیاسی دباؤ اس کے آگے کچھ نہیں۔ بھارت نے سری لنکا کو فری ٹریڈ زون قائم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ بھارت نے بنگلہ دیش کی گارمنٹ انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے برآمدات کی منظوری دی ہے اور دوسری طرف افغانستان سے خام لوہا نکالنے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ تمام اقدامات اس امر کے غماز ہیں کہ بھارت اب اپنے پڑوسیوں کو جیتنا چاہتا ہے اور اس کے لیے معاشی راہ پر گامزن رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تعلقات بہتر بنانے کی خواہش سری لنکا، نیپال، بنگلہ دیش، بھوٹان اور مالدیپ تک محدود نہیں۔ بھارتی قیادت اب پاکستان سے بھی بہتر تعلقات کی خواہاں ہے۔ تجارت کو اولین ترجیح دی جارہی ہے۔ پاکستان نے بھی بھارت کے اقدامات کا مثبت جواب دیا ہے۔ تجارت کو فروغ دینے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ دونوںممالک میں وفود کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کے وزیر تجارت کے حالیہ دورہ بھارت کے جواب میں بھارتی وفد بھی حال ہی میں اسلام آباد ہو آیا ہے۔ پاکستان میں بھارت کو تجارت کے لیے سب سے پسندیدہ ملک قرار دینے کے لیے اقدامات ہو رہے ہیں۔ بھارتی قیادت چاہتی ہے کہ تجارت کے لیے تعلقات کو معمول پر لایا جائے اور اس کے بعد دوستی کو مزید وسعت دی جائے۔

معاملات درست کرنے کی تمام کوششیں مثبت نتائج پیدا کر رہی ہیں۔ پاکستان کے لیے بھارتی برآمدات میں ہر سال ۳۰ فیصد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ نئی دہلی میں کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مد میں پائی جانے والی تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں اور متعلقہ سہولتیں فراہم کردی جائیں تو جو سالانہ تجارت اس وقت ۷ء۲ ارب ڈالر تک ہے وہ ۲۰۱۵ء تک ۱۰ ارب ڈالر کی حد کو چھو لے گی۔ بعض ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو ٹیکسٹائل، کیمیکل، کاروں اور دیگر اشیا کے حوالے سے دوطرفہ تجارت ۲۵ ارب ڈالر سالانہ تک جاسکتی ہے۔

بھارتی قیادت نیپال کے دور افتادہ دیہاتوں میں زندگی کا معیار بلند کرنے کے لیے بھی امداد دے رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے بارے میں تاثر درست کرنا چاہتی ہے۔ افغانستان کو امداد فراہم کرنے والے پانچ بڑے ممالک میں بھارت بھی شامل ہے جو افغان پولیس افسران کو تربیت فراہم کر رہا ہے۔ بھارت ہر سال بیرون ملک سے آئے ہوئے ساڑھے پانچ ہزار سے زائد سول سرونٹس کی تربیت پر بھی ۱۰ کروڑ ڈالر خرچ کرتا ہے۔ ان میں سے بیشتر سول سرونٹس کا تعلق پڑوسی ممالک سے ہوتا ہے۔ یہ لوگ تربیت پانے کے بعد جب اپنے ممالک میں خدمات انجام دیتے ہیں تو یقینی طور پر بھارتی قیادت کی نیک نیتی کا چلتا پھرتا اشتہار ہوتے ہیں۔

بھارت نے پڑوسی ممالک میں سفارتی موجودگی بھی بڑھائی ہے۔ ۲۰۰۰ء سے اب تک اس نے افغانستان میں مزید چار اور سری لنکا و نیپال میں ایک ایک قونصل جنرل کھولا ہے۔ یہ تمام تبدیلیاں کیوں رونما ہو رہی ہیں؟ کسی بھی بھارتی اعلیٰ افسر اور سفارت کار سے بات کیجیے تو اندازہ ہو جائے گا۔ نئی دہلی میں ایک بھارتی سفارت کار کا کہنا ہے ’’ہم استحکام اور جمہوریت چاہتے ہیں۔ جب استحکام ہوگا تو جمہوریت آئے گی اور جمہوریت مستحکم ہوگی تو استحکام آئے گا۔‘‘ بھارتی حکام اب اس بات کا برملا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ ماضی میں چند ایک بڑی غلطیاں ہوئی ہیں۔ پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک سے تعلقات بہتر بنائے رکھنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں چین کو آگے بڑھنے، سرمایہ کاری کرنے اور دیگر اقدامات کرنے کا موقع ملا ہے۔

چین کے حوالے سے بھارت میں چند ایک خدشات اب بھی پائے جاتے ہیں۔ چین کے لیے تجارت کے حوالے سے بحر ہند بہت اہم ہے۔ بھارت بھی اس بات کو سمجھتا ہے۔ حال ہی میں بھارتی شہر چنائی (مدراس) میں ایک سیمینار کے دوران ماہرین نے کہا کہ چین کا مفاد اس بات میں ہے کہ بحر ہند کے تجارتی راستے محفوظ رہیں، کھلے رہیں۔ مگر اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ چین اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بھارت کو بھی کسی حد تک Contain رکھنا چاہے گا۔ ایسی کسی بھی صورت حال کے تدارک کے لیے بھارت کو تیار رہنا ہوگا۔

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘ لندن۔ ۱۸؍فروری ۲۰۱۲ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*