Abd Add
 

بھارتی و امریکی دفاعی معاہدہ

بائیں بازو کی جماعتوں نے ابھی حال ہی میں یوپی اے حکومت کی خارجہ پالیسی پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ لیکن گزشتہ دنوں ’’ہندوستان اور امریکا کے درمیان دفاعی تعلقات کے لیے جس نئے فریم ورک‘‘ پر معاہدہ کیا گیا ہے وہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے تعلق سے ایک نئی تصویر پیش کرتا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے یو پی اے حکومت کی بعض معاشی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ تو کیا ہے۔ لیکن بھارت اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون کا جو ناقابل قیاس اور غیرمعمولی بے مثال معاہدہ کیا ہے اس پر ابھی تک کسی خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ تاہم سی پی آئی اور فارورڈ بلاک نے اس معاہدے کی مخالفت کی ہے اور اسے بھارت کی آزاد مقتدر خارجہ پالیسی کے موقف سے انحراف قرار دیا ہے اور بھارت کے قومی مفاد کے منافی قرار دیا۔

یہ حقیقت ہے کہ سوویت یونین کے زوال کے بعد صورتحال میں یکسر تبدیلی آئی ہے اور نئی صورتحال امریکا کے تعلق سے ہندوستان کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی متقاضی ہے۔ ہندوستان نے اس احسان کے ساتھ کہ ہندوستان ایک بڑی مارکیٹ ہے، دنیا کی تبدیل شدہ حالت میں امریکا نے اپنا اورایشیاء بالخصوص جنوبی ایشیاء میں ہندوستان کی اہمیت کا اندازہ کیا ہے۔ یہ ایک سچائی ہے کہ بھارت اور امریکا دو بڑی جمہوریتیں ہیں اور دونوں ہی ہمہ تہذیبی نظام پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن جہاں تک امریکا کا تعلق ہے وہ اپنی خارجہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ایسی باتوں پربہت کم ہی توجہ دیتا ہے۔ صدام حسین اقتدارکے آخری دنوں میں امریکا کے لئے بدترین ڈکٹیٹر تھے، لیکن جب وہ ایران سے لڑرہے تھے تو اس کے بہت قریبی تھے۔ ایسی کئی ایک مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتاہے کہ امریکا کی خارجہ پالیسی کا کوئی نظریہ نہیں ہے بلکہ صرف مفادات کے تحت اس میں تبدیلی لائی جاتی ہے۔ ایسے کئی مسائل ہیں جن پر ہندوستان اور امریکا ایک دوسرے سے مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ بھارت اور امریکا نے اگرچہ دس سالہ دفاعی معاہدہ کرلیا ہے۔ لیکن اس نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ایران، عراق اور فلسطین کے بارے میں ہندوستان کی جو پالیسی ہے کیا وہ امریکا کی خارجہ پالیسی سے ہم آہنگ ہے۔ ہندوستان نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اس معاہدے کے ذریعہ کیا طاقت اور سہولت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم اپنے تعلقات کو اپنے مشترکہ اصولوں اور مشترکہ قومی مفادات کی عکاسی کے لئے تبدیل کررہے ہیں۔ وہ کون سے مشترکہ اصول اور قومی مفادات ہیں جو دونوں ممالک حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی کوئی نشاندہی تو نہیں کی گئی ہے۔ کیا اسرائیل سے دوستی اور فلسطینیوں کے جائز حقوق کو نظرانداز کردینا اور مسلم دنیا میں شکوک و شبہات پیدا کرنا یہ مشترکہ مفادات ہیں۔ معاہدہ میں کہا گیا ہے کہ دفاعی تعاون کا مقصد، سلامتی اور استحکام کی برقراری ہے اوردہشت گردی کو شکست دینا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عام تباہی کے ہتھیاروں کو پھیلنے سے روکناہے۔ کیا ہندوستان کو عراق میں استحکام نظر آرہا ہے۔ کیا وہ اس ملک میں جنگ کو ختم ہوتے دیکھ رہا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو وہ اس نتیجہ پر کیسے پہنچ گیا کہ اس نے امریکا سے جو معاہدہ کیا ہے اس کے سبب سلامتی اور استحکام قائم ہوجائے گا۔ کیا وہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے عراق میں ہندوستانی افواج کو لے جانے کا خواہشمند ہے۔ جب کہ ہندوستان، این ڈی اے حکومت کے دور سے اس پالیسی کی مخالت کرتا رہا ہے۔ کیا ہندوستان یہ سمجھتا ہے کہ سرحد پار سے وہ جس دہشت گردی کا واویلا کرتا رہا ہے اس کے خاتمہ کے لئے امریکا خودمیدان میں اترے گا۔

(بشکریہ: بھارتی روزنامہ ’’المنصف‘‘۔ حیدرآباد دکن)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.