بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت

بنگلہ دیش کے معروف اخبار ’’نیو ایج‘‘ کے ایڈیٹر انچیف نورالکبیر نے کہا ہے کہ بھارت نے بنگلہ دیش میں اپنی مرضی کی حکومت کے قیام کے حوالے سے ارادہ اور خواہش دونوں کو اب بے نقاب کردیا ہے۔ ایک ٹی وی ٹاک شو میں نورالکبیر نے کہا کہ بھارت کی سیکرٹری خارجہ سجاتا سنگھ نے ڈھاکا کے حالیہ دورے میں بھارتی قیادت کی اس خواہش کو کھل کر بیان کیا کہ وہ عوامی لیگ کی حکومت کو برقرار دیکھنا چاہتی ہے۔ نورالکبیر کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت اپنی مرضی کی حکومت چاہتی ہے اور اسے اس بات سے قطعی کوئی غرض نہیں کہ بنگلہ دیش کے عوام کیا چاہتے ہیں۔

سجاتا سنگھ کی جانب سے عوامی لیگ کو اقتدار میں دیکھنے کی خواہش کے اظہار کو جماعتِ اسلامی نے بنگلہ دیش کی خود مختاری پر حملے سے تعبیر کیا ہے۔

سجاتا سنگھ کے بیانات سے بنگلہ دیش میں کئی سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ ڈھاکا میں سجاتا سنگھ کی مصروفیات نے بھارتی قیادت کے عزائم کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں۔ ۱۸؍جماعتوں کی جانب سے سپریم کورٹ کے گھیراؤ کی حمایت کے لیے نکالی جانے والی وکلا کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اور جاتیابادی اینجیبی فورم کے سیکرٹری جنرل بیرسٹر محبوب الدین خوکون نے کہا کہ سجاتا سنگھ کے والد انٹیلی جنس افسر تھے اور انہوں نے بھارت کی شمال مشرقی ریاست سکم میں گورنر کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیے تھے۔ انہوں نے ایک سازش کے تحت سکم کو بھارت کا حصہ بنایا تھا۔ یہ علاقہ خودمختار ریاست کی حیثیت سے کام کرنے کی راہ پر گامزن تھا۔ سجاتا سنگھ کے والد نے سکم کے لوگوں میں سازش کے تحت پھوٹ ڈالی اور ایک طبقے کو بھاری رشوت دے کر نئی دہلی کا ہم نوا بنایا۔

بیرسٹر محبوب الدین خوکون نے اپنی تقریر میں خدشہ ظاہر کیا کہ سجاتا سنگھ بھی کہیں کسی سازش کے حوالے سے ہی تو ڈھاکا نہیں آئیں۔ کہیں وہ بھی سکم کی طرح بنگلہ دیش کو بھارت کا حصہ بنانے کی راہ پر تو گامزن نہیں؟

(“Sujatha Expresses Indian Design to keep AL in Power: Nurul Kabir”… “rtnn.net”. Dec. 5, 2013)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*