Abd Add
 

بھارت کا دیوقامت دفاعی بجٹ

جس طرح پہلے امریکی رہنماؤں نے منرو ڈاکٹرائن (Monroe Doctrine) میں مغربی نصف کرّہ ارض میں امریکا کے خصوصی کردار کا تصور پیش کیاتھا، اسی طرح بھارت نے بحرہند کے خطے میں ایسٹ انڈیز اور ہارن آف افریقا کے درمیان عملی طور پر ایک خصوصی پوزیشن قائم کر لی ہے۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں یورپ میں برطانیہ کی طرح، بھارت کرہ ارض کے اس وسیع خطے میں کسی غالب طاقت کے ظہور کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس طرح پہلے امریکی رہنماؤں نے منرو ڈاکٹرائن میں مغربی نصف کرۂ ارض کے ممالک کی رضامندی کی کوشش نہیں کی تھی، اسی طرح بھارت نے اپنے خصوصی تزویراتی مفادات والے خطے میں ساؤتھ ایشیئن آرڈر کی اپنی اصطلاح کی بنیاد پر اپنی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔

(ہنری کسنجر)

بھارت کے دفاعی بجٹ اور فوجی اخراجات نے پچھلے کئی برسوں سے پوری دنیا کی توجہ حاصل کر رکھی ہے۔ ہر سال جب بھی بھارتی حکومت دفاع کے نام پر اربوں ڈالر مختص کرتی ہے تو دنیا بھر کے تھنک ٹینکس اس کا نہایت دلچسپی اور مختلف زاویوں سے بغور جائزہ لیتے ہیں۔

اس مرتبہ بھی جب بھارت کی وزیرخزانہ نرملا ستھرامن نے سال ۲۱۔۲۰۲۰کے لیے ۸۶ء۶۵ بلین ڈالر (۴۷۱،۳۷۸ کروڑ روپے) کا دیوقامت دفاعی بجٹ پیش کیا۔ اور اس طرح کل بجٹ میں پچھلے سال کی نسبت ۴۰،۳۶۷،۲۱ کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا، دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت نے اپنے بجٹ میں دفاع کے لیے اصل مختص رقم سے کئی گنا کم رقم ظاہر کی ہے۔ کیونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ بھارتی حکومت اپنی ویب سائٹس پر جو دفاعی بجٹ ظاہر کرتی ہے، اس میں پھر چپکے سے ’’نظرثانی شدہ بجٹ‘‘ اور ’’اصل اندازوں‘‘ کے نام پر بڑے اضافے کیے جاتے ہیں جو عالمی میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوتے۔

ابھی یہ بحث جاری تھی کہ ۲۸؍اپریل کو اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) نے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت گزشتہ برس امریکا اور چین کے بعد دنیا میں تیسرا بڑا فوجی بجٹ مختص کرنے والا ملک رہا، جس کے فوجی اخراجات ۱ء۷۱ بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اس میں ۱۹۹۰ء سے ۲۰۱۹ء تک پچھلے ۳۰ برسوں میں ۲۵۹ فیصد کا اضافہ ہواہے۔

بھارت کے دفاعی اخراجات اور مختلف ممالک کے ساتھ ہتھیاروں کے معاہدوں پر عالمی میڈیا میں بحث تقریباً سال بھر چلتی رہتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ آخر اس شعبے میں اتنی تگ ودو کیوں کر رہا ہے اور اس پر ہتھیاروں اور اسلحے کے ڈھیر لگانے کا اتنا جنون کیوں سوار ہے؟ اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہم بھارتی حکمت عملی کاتین زاویوں سے جائزہ لیں گے۔ (۱) جنگجویانہ خارجہ پالیسی، (۲) اشتعال انگیز دفاعی پالیسی اور (۳) پہلی دونوں پالیسیوں کو مدد دینے والی اقتصادی پالیسی۔

بھارت کی خارجہ پالیسی کے متعلق بھارتی اسکالر راج موہن لکھتے ہیں، ’’بھارت کی وسیع حکمت عملی دنیا کو تین دائروں میں تقسیم کرتی ہے۔ پہلے دائرے میں، جو قریب ترین پڑوسیوں پر محیط ہے، بھارت برتری اور بیرونی طاقتوں کے اقدامات کو ناکام بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

دوسرے دائرے میں جہاں ایشیا اور بحر ہند کے ساحل پر پھیلے نام نہاد قدرے دور کے پڑوسی شامل ہیں، بھارت دوسری طاقتوں کے ساتھ توازن قائم کرنے اور انھیں اپنے مفادات کو نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔

تیسرے دائرے میں، جس میں پوری دنیا شامل ہے، بھارت بڑی طاقتوں میں سے ایک کا مقام پانا چاہتا ہے جو عالمی امن و سلامتی میں ایک اہم کھلاڑی ہو‘‘۔

ہم اگر ایشیا میں بھارتی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیں تو وہ اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ کسی نہ کسی محاذ آرائی میں مصروف ہے۔ اس نے اپنے قیام کے فوری بعد حیدرآباد دکن، سکم، گوا اور جوناگڑھ کا الحاق کیا اور پھر مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرلیا۔ اس کی پاکستان کے ساتھ ۱۹۴۸ء، ۱۹۶۵ء، ۱۹۷۱ء، ۱۹۹۹ء کی جنگوں سمیت کئی چھوٹی بڑی جھڑپیں ہوچکی ہیں اور یہ ابھی تک لائن آف کنٹرول پر امن کو تہہ و بالا کیے ہوئے ہے۔ اس نے چین کے ساتھ ۱۹۶۲ء میں جنگ لڑی اور اب بھی سرحدی تنازع رکھتا ہے۔

۲۰۱۷ء میں ڈوکلام کشمکش میں ہزیمت اٹھانی پڑی لیکن پھر بھی سرحدی جھڑپوں میں مصروف ہے، جس میں تازہ ترین جھڑپ ۱۰ مئی کو ہوئی ہے۔بھارت نے ۱۹۸۰ء کی دہائی میں سری لنکا میں فوجی مداخلت کی تھی۔ ۱۹۸۸ء میں مالدیپ کے سیاسی معاملات میں بھی ٹانگ اڑائی۔ بھارت نے اس کے علاوہ بھوٹان میں اپنے مستقل فوجی تعینات کیے ہیں۔ جبکہ پاکستان، بنگلادیش اور نیپال کے ساتھ سرحدی تنازعات بھی رکھتا ہے۔

بھارت کی خارجہ پالیسی میں جارحیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے ایک ماہ کے اندر اندر مئی میں پاکستانی علاقوں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو اپنی نیوز بلیٹن کا حصہ بنایا، چین کے ساتھ سرحدی تصادم کیا، جس میں دونوں جانب کے متعدد فوجی اہلکار زخمی ہوئے اور اس نے چین کے مقام منساروور (Manasarovar) تک سڑک بنانے کے لیے نیپالی علاقے لپولیخ (Lipulekh) پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جہاں سے یہ سڑک گزارنا چاہتا ہے، اس پالیسی پر نیپال نے شدید ردعمل دکھا یا ہے۔

امریکا کے سابق نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر زبگنیو برزیز نسکی (Zbigniew Brzezinski) اپنی کتاب ’’اسٹریٹجک وژن: امریکا اینڈ دی کرائسس آف گلوبل پاور‘‘ میں لکھتے ہیں،

’’بھارتی حکمت عملیاں ایران سے لے کر تھائی لینڈ تک کے علاقے میں گریٹر بھارت کی پوزیشن کا کھلا اظہار ہیں۔ بھارت بحرہند پر فوجی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ قریبی ممالک بنگلادیش اور برما میں مضبوط ٹھکانے قائم کرنے کے لیے سیاسی کوششوں کی طرح اس کے بحری اور فضائیہ کے پروگرام اس رجحان کی جانب واضح اشارہ کرتے ہیں‘‘۔

بھارتی دفاعی پالیسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی حکومت نے مختص سالانہ دفاعی بجٹ کے علاوہ تینوں سروسز چیفس کو فوجی سازوسامان حاصل کرنے کے لیے پانچ سالہ ماڈل منصوبہ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ بھارتی بحریہ ۲۰۲۷ء تک ۲۰۰ جہازوں پر مشتمل بیڑہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ چھ نئی آبدوز اور ۱۱۱؍نیول یوٹیلٹی ہیلی کاپٹرکا حصول ممکن بنائے۔ بھارت ۲۰۱۵ء میں ۳۶ رافیل طیاروں کا آرڈر دینے کے علاوہ ۱۱۴ نئے لڑاکا طیارے بھی حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔بھارت فوجی ٹیکنالوجی درآمد کرنے کے لیے کئی ممالک سے معاہدے کر رہا ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۹ء میں پینٹاگان نے کہا تھا کہ واشنگٹن اور دہلی کے درمیان دوطرفہ دفاعی تجارت سال کے اختتام تک ۱۸بلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اسی سال امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ وہ بھارت کو ۶ء۲ بلین ڈالر کے عوض ایم ایچ ۶۰-آر سی ہاک ہیلی کاپٹر، ۳ء۲بلین ڈالر مالیت کے اپاچی ہیلی کاپٹر، ۳بلین ڈالر کے پی-۸آئی میری ٹائم پیٹرول ائیرکرافٹ اور ۷۳۷ ملین ڈالر کے ایم ۷۷۷ ہاوٹزر فروخت کرے گا۔اس کے بعد فروری ۲۰۲۰ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ۳ بلین ڈالر کا دفاعی معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت امریکا بھارتی فوج کو ہیلی کاپٹر اور دیگر فوجی سازوسامان فراہم کرے گا۔اس کے علاوہ رواں سال کے اوائل میں امریکا نے بھارت کو Integrated Air Defence Weapon System (IADWS) کی فروخت کی منظوری دی تھی، جس کی مالیت ۸۷ء۱بلین ڈالر ہوگی۔ اس نظام میں لانچر، ٹارگٹنگ اینڈ گائیڈنس سسٹمز، درمیانی فاصلے کے فضا سے فضا تک مار کرنے والے جدید میزائل (AMRAAM) اور اسٹنگر میزائل، تھری ڈی سینٹنل ریڈارز، فائر ڈسٹری بیوشن سنٹرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول یونٹس شامل ہوں گے۔ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنے والے بھارت کے دارالحکومت دہلی کے لیے ایک فضائی دفاعی منصوبہ بنایا جارہا ہے جس میں کئی پرتوں کا حامل میزائل دفاعی نظام قائم کیا جائے گا۔

اس نظام میں اندرون دہلی کی حفاظت National Advanced Surface to Air Missile System کے ذریعے کی جائے گی۔ اس کے اوپر آکاش دفاعی میزائل نظام نصب کیا جائے گاجس کی رینج ۲۵کلومیٹر تک ہوگی۔ اکتوبر ۲۰۲۰ء سے اپریل ۲۰۲۳ء کے درمیان حاصل کیے جانے والے روسی ساختہ ایس ۴۰۰ میزائل نظام دوسری پرت بنائے گا، جس میں ۱۲۰، ۲۰۰، ۲۵۰؍اور ۳۸۰ کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل شامل ہوں گے۔ اگلی پرت میں اسرائیل کے اشتراک سے بنائے گئے زمین سے فضا تک درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے براک -۸میزائل نصب کیے جائیں گے۔ ایڈوانسڈ ائیر ڈیفنس (اے اے ڈی) اور پرتھوی ائیر ڈیفنس (پی اے ڈی) انٹرسیپٹر میزائل دہلی کے میزائل شیلڈ کی سب سے بیرونی پرت میں نصب کیے جائیں گے۔

بحرہند کی تزویراتی اہمیت کے بارے میں امریکی بحریہ کے ایڈمرل الفرڈ ٹی۔ ماہن نے کہا تھا کہ، ’’جس کسی نے بھی بحرہند میں میری ٹائم برتری حاصل کرلی وہ عالمی منظرنامے پر ایک بڑا کھلاڑی بن جائے گا‘‘۔ اور بھارت اس شعبے میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ بھارتی بحریہ کا آبدوز بیڑہ نیوکلئیر بیلسٹک میزائل آبدوز (ایس ایس بی این) آئی این ایس، چار فرانسیسی ساختہ سکورپین کلاس آبدوزوں اور روس سے حاصل کی گئیں اکولا کلاس آبدوزوں پر مشتمل ہے، لیکن وہ اس میں مسلسل اضافہ کررہا ہے۔اس وقت بحرہند میں بھارت کے لگ بھگ ۱۴۰ جنگی جہاز لنگر انداز ہیں اور وہ ۲۰۲۷ء تک یہ تعداد ۲۰۰ تک بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ بھارت خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے بحر ہند میں مختلف طریقوں سے اپنی طاقت بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیراہے۔ وہ چاہتا ہے کہ بحرہند کے ممالک سری لنکا، مالدیپ، ماریشیئس اور سے شلزمیں چین کے اثرورسوخ کو قابو کرے، کیونکہ ان ممالک میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے سے وہ ان کے پانیوں میں کاروباری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے راستوں تک چین کی رسائی محدود کرنے کی پوزیشن میں آجائے گا اوراس سے جڑے اپنے مفادات حاصل کرسکے گا۔ بھارت انڈیمان اور نکوبار جیسے جزائر پر اپنے فوجی انفرااسٹرکچر کو مضبوط کر رہا ہے، یہ جزیرے آبنائے ملاکا تک ہونے والے بحری سفر پر نگاہ رکھنے کے لیے عمدہ جگہیں ہیں۔ بھارت نے یہاں بڑے سمندری گشتی طیاروں کے لیے وسیع میدان قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اسلحے کے گودام بنائے ہیں اور بڑے جہازوں کے لیے لنگراندازی کی بہترین سہولت کا بندوبست کرلیا ہے۔ بھارتی افواج بحرہند میں امریکا کے ساتھ Communications, Compatibility and Security Agreement کے تحت امریکی فوج کے ساتھ سمندر میں مشترکہ آپریشنزاور سالانہ مشقیں کرتی ہیں۔ بھارت اور امریکا دونوں اس سمندر میں چین کا اثرورسوخ محدود کرنے کا مشترکہ مقصد رکھتے ہیں اور بھارت بحرہند میں چین کی سرگرمیوں کا توڑ کرنے کے لیے بحیرہ جنوبی چین میں ’ایکٹ ایسٹ‘ پالیسی کے تحت چین کے خلاف اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے۔

اقتصادی شعبے میں دیکھا جائے توبھارت چین کے منصوبے Belt and Road Initiative (BRI) کی مخالفت کرتا رہا ہے، لیکن اب وہ اس کے خلاف قائم ہونے والے نئے محاذکا بھی رکن بن گیا ہے۔ نومبر ۲۰۱۹ء میں تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں آسٹریلیا، امریکا اور جاپان نے بلیو ڈاٹ نیٹ ورک (بی ڈی این) کے قیام کا اعلان کیا۔امریکا کی سربراہی میں شروع ہونے والے اس منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ مختلف بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے چین میں ہونے والی سرمایہ کاری کو وہاں سے اٹھا کر نئے صنعتی مراکز میں لایا جائے، جس کے لیے زمین بھارت فراہم کرے گا۔ اس نے ملک کے مختلف علاقوں میں بی ڈی این منصوبے میں امریکا کو ۴۶۱،۵۸۹ ہیکٹرزمین کی پیشکش کی ہے۔ یہ چین کے صنعتی مراکز کو تباہ کرنے کی ایک بہت جارحانہ کوشش ہے۔ اب بھارت اقتصاد ی میدان میں بھی چین کے مفادات سے براہ راست ٹکرا رہا ہے۔

بھارت کی جنگجویانہ خارجہ پالیسی، دفاعی اور اقتصادی پالیسیوں کا جائزہ لینے کے بعد ہر سال تیزی سے بڑھتے ہوئے اس کے فوجی اخراجات کا مقصد واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ بھارت ہر صورت میں ایشیا کا ٹھیکیداربننا چاہتا ہے اور اس کے لیے مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ بھارت کو اندازہ ہے کہ اس کی اشتعال انگیز پالیسیاں کسی بھی وقت خطے میں جنگ چھیڑ سکتی ہیں اور اس وجہ سے وہ ہتھیاروں کے انبار لگا کر ہر وقت بڑی جنگ کے لیے تیار رہنے کی کوششوں میں مگن ہے۔

(بحوالہ: “hilal.gov.pk”)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.